سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۰۱۹۷
حدیث #۳۰۱۹۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ يُخَاصِمُونَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الْقَدَرِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ * إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ } .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ مشرکین قریش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے تقدیر کے سلسلے میں جھگڑنے لگے، تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:«يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» یعنی: جس دن وہ اپنے منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے، اور ان سے کہا جائے گا: جہنم کی آگ لگنے کے مزے چکھو، بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے پر پیدا کیا ہے ( سورۃ القمر: ۴۹ ) ۱؎۔
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۸۳
درجہ
Sahih
زمرہ
باب : Introduction