سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۰۹۲۹
حدیث #۳۰۹۲۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَايَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ وَقَلَّمَا رَأَيْتُ رَجُلاً أَشَدَّ عَلَيْهِ فِي الإِسْلاَمِ حَدَثًا مِنْهُ فَسَمِعَنِي وَأَنَا أَقْرَأُ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} فَقَالَ أَىْ بُنَىَّ إِيَّاكَ وَالْحَدَثَ فَإِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ أَسْمَعْ رَجُلاً مِنْهُمْ يَقُولُهُ فَإِذَا قَرَأْتَ فَقُلِ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} .
ابن عبداللہ بن مغفل اپنے والد عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے ایسا آدمی بہت کم دیکھا جس کو اسلام میں نئی بات نکالنا ان سے زیادہ ناگوار ہوتا ہو، انہوں نے مجھے «بسم الله الرحمن الرحيم» ( بآواز ) بلند پڑھتے ہوئے سنا تو کہا: بیٹے! تم اپنے آپ کو بدعات سے بچاؤ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی، لیکن میں نے ان میں سے کسی کو بھی «بسم الله الرحمن الرحيم» بآواز بلند پڑھتے ہوئے نہیں سنا، لہٰذا جب تم قراءت کرو تو «الحمد لله رب العالمين» سے کرو۔
راوی
ابن عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۵/۸۱۵
درجہ
Daif
زمرہ
باب ۵: نماز قائم کرنا