سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۰۹۴۶

حدیث #۳۰۹۴۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ ‏.‏ قَالَ جُبَيْرٌ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمَّا سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ ‏{أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ }‏ كَادَ قَلْبِي يَطِيرُ ‏.‏
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں «والطور» پڑھتے سنا۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری حدیث میں کہا کہ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ الطور میں سے یہ آیت کریمہ «أم خلقوا من غير شيء أم هم الخالقون» سے«فليأت مستمعهم بسلطان مبين»، یعنی: کیا یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خودبخود پیدا ہو گئے ہیں؟ کیا انہوں نے ہی آسمانوں و زمینوں کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا ان خزانوں کے یہ داروغہ ہیں، یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں؟ ( اگر ایسا ہے ) تو ان کا سننے والا کوئی روشن دلیل پیش کرے ، ( سورۃ الطور: ۳۵ -۳۸ ) تک پڑھتے ہوئے سنا تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے گا ۱؎۔
راوی
محمد بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۵/۸۳۲
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۵: نماز قائم کرنا
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother #Quran

متعلقہ احادیث