سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۱۲۴۹
حدیث #۳۱۲۴۹
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ مَا كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلاَّ مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ. فَإِذَا خَرَجَ أَذَّنَ، وَإِذَا نَزَلَ أَقَامَ. وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ كَذَلِكَ. فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ، وَكَثُرَ النَّاسُ، زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَى دَارٍ فِي السُّوقِ، يُقَالُ لَهَا الزَّوْرَاءُ. فَإِذَا خَرَجَ أَذَّنَ، وَإِذَا نَزَلَ أَقَامَ .
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف ایک ہی مؤذن تھے ۱؎، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( خطبہ کے لیے ) نکلتے تو وہ اذان دیتے، اور جب منبر سے اترتے تو اقامت کہتے، ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں بھی ایسا ہی تھا، جب عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور لوگ زیادہ ہو گئے، تو انہوں نے زوراء نامی ۲؎ بازار میں ایک مکان پر، تیسری اذان کا اضافہ کر دیا، چنانچہ جب عثمان رضی اللہ عنہ ( خطبہ دینے کے لیے ) نکلتے تو مؤذن ( دوبارہ ) اذان دیتا، اور جب منبر سے اترتے تو تکبیر کہتا ۳؎۔
راوی
It was
narrated that Sa’ib bin Yazid said
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۵/۱۱۳۵
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۵: نماز قائم کرنا
موضوعات:
#Mother