سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۱۵۳۱
حدیث #۳۱۵۳۱
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُومُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ - أَوْ قَالَ إِلَى جِذْعٍ - ثُمَّ اتَّخَذَ مِنْبَرًا . قَالَ فَحَنَّ الْجِذْعُ - قَالَ جَابِرٌ - حَتَّى سَمِعَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ حَتَّى أَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَمَسَحَهُ فَسَكَنَ . فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَوْ لَمْ يَأْتِهِ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کی جڑ، یا یوں کہا: ایک تنے کے سہارے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منبر بنوا لیا، تو وہ تنا سسکیاں لے لے کر رونے لگا، یہاں تک کہ اس کے رونے کی آواز مسجد والوں نے بھی سنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے، اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تو وہ خاموش ہو گیا، بعض نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس نہ آتے تو وہ قیامت تک روتا رہتا۔
راوی
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۵/۱۴۱۷
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۵: نماز قائم کرنا
موضوعات:
#Mother