سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۱۸۱۰
حدیث #۳۱۸۱۰
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ:
" لاَ يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ مِنْ سُحُورِهِ. فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ لِيَنْتَبِهَ نَائِمُكُمْ، وَلِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ. وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا. وَلَكِنْ هَكَذَا، يَعْتَرِضُ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ " .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے نہ روکے، وہ اذان اس لیے دیتے ہیں کہ تم میں سونے والا ( سحری کھانے کے لیے ) جاگ جائے، اور قیام ( یعنی تہجد پڑھنے ) والا اپنے گھر چلا جائے، اور فجر اس طرح سے نہیں ہے، بلکہ اس طرح سے ہے کہ وہ آسمان کے کنارے عرض ( چوڑان ) میں ظاہر ہوتی ہے ۱؎۔
راوی
ابن مسعود (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۷/۱۶۹۶
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۷: روزہ