سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۱۸۹۸
حدیث #۳۱۸۹۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَعْيَنَ، وَجَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، سَمِعَا شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ، يُخْبِرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَا مِنْ أَحَدٍ لاَ يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلاَّ مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ حَتَّى يُطَوِّقَ عُنُقَهُ " . ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى (وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ} الآيَةَ .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا اس کا مال قیامت کے دن ایک گنجا سانپ بن کر آئے گا، اور اس کے گلے کا طوق بن جائے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ثبوت کے لیے قرآن کی یہ آیت پڑھی: «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم الله من فضله» یعنی اور جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ( کچھ ) مال دیا ہے، اور وہ اس میں بخیلی کرتے ہیں، ( فرض زکاۃ ادا نہیں کرتے ) تو اس بخیلی کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں بلکہ بری ہے، ان کے لیے جس ( مال ) میں انہوں نے بخیلی کی ہے، وہی قیامت کے دن ان ( کے گلے ) کا طوق ہوا چاہتا ہے، اور آسمانوں اور زمین کا وارث ( آخر ) اللہ تعالیٰ ہی ہو گا، اور جو تم کرتے ہو ( سخاوت یا بخیلی ) اللہ تعالیٰ کو اس کی خبر ہے ( سورۃ آل عمران: ۱۸۰ ) ۔
راوی
ابن مسعود (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۸/۱۷۸۴
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۸: زکاۃ