سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۲۰۹۵

حدیث #۳۲۰۹۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا عَلِمْتُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَىَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذْنٍ وَهِيَ غَضْبَى ‏.‏ ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَسْبُكَ إِذَا قَلَبَتْ لَكَ بُنَيَّةُ أَبِي بَكْرٍ ذُرَيْعَتَيْهَا ‏.‏ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَىَّ فَأَعْرَضْتُ عَنْهَا حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ دُونَكِ فَانْتَصِرِي ‏"‏ ‏.‏ فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا وَقَدْ يَبِسَ رِيقُهَا فِي فِيهَا مَا تَرُدُّ عَلَىَّ شَيْئًا فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ ‏.‏
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے معلوم ہونے سے پہلے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا میرے گھر میں بغیر اجازت کے آ گئیں، وہ غصہ میں تھیں، کہنے لگیں: اللہ کے رسول! کیا آپ کے لیے بس یہی کافی ہے کہ ابوبکر کی بیٹی اپنی آغوش آپ کے لیے وا کر دے؟ اس کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئیں، میں نے ان سے منہ موڑ لیا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تو بھی اس کی خبر لے اور اس پر اپنی برتری دکھا تو میں ان کی طرف پلٹی، اور میں نے ان کا جواب دیا، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ ان کا تھوک ان کے منہ میں سوکھ گیا، اور مجھے کوئی جواب نہ دے سکیں، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ کا چہرہ کھل اٹھا تھا ۱؎۔
راوی
عروہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۹/۱۹۸۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۹: نکاح
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث