سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۲۲۵۵

حدیث #۳۲۲۵۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ فَقَالَ لَهُ بَعْضُنَا نَرَاكَ الْيَوْمَ طَيِّبَ النَّفْسِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَجَلْ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَفَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى فَقَالَ ‏"‏ لاَ بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنِ اتَّقَى وَالصِّحَّةُ لِمَنِ اتَّقَى خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى وَطِيبُ النَّفْسِ مِنَ النِّعَمِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن خبیب کے چچا سے روایت ہے ہم ایک مجلس میں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں اچانک تشریف لے آئے، آپ کے سر مبارک پر پانی کا اثر تھا، ہم میں سے ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا: آپ کو ہم آج بہت خوش دل پا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، بحمداللہ خوش ہوں ، پھر لوگوں نے مالداری کا ذکر چھیڑ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل تقویٰ کے لیے مالداری کوئی حرج کی بات نہیں، اور تندرستی متقی کے لیے مالداری سے بہتر ہے، اور خوش دلی بھی ایک نعمت ہے ۱؎۔
راوی
معاذ بن عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۱۲/۲۱۴۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۲: تجارت
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث