سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۲۵۶۲
حدیث #۳۲۵۶۲
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَى لَوْنَكَ مُنْكَفِئًا . قَالَ
" الْخَمْصُ " . فَانْطَلَقَ الأَنْصَارِيُّ إِلَى رَحْلِهِ فَلَمْ يَجِدْ فِي رَحْلِهِ شَيْئًا فَخَرَجَ يَطْلُبُ فَإِذَا هُوَ بِيَهُودِيٍّ يَسْقِي نَخْلاً فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ لِلْيَهُودِيِّ أَسْقِي نَخْلَكَ قَالَ نَعَمْ . قَالَ كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ . وَاشْتَرَطَ الأَنْصَارِيُّ أَنْ لاَ يَأْخُذَ خَدِرَةً وَلاَ تَارِزَةً وَلاَ حَشَفَةً وَلاَ يَأْخُذَ إِلاَّ جَلْدَةً . فَاسْتَقَى بِنَحْوٍ مِنْ صَاعَيْنِ فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ میں آپ کا رنگ بدلا ہوا پاتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھوک سے ، یہ سن کر انصاری اپنے گھر گئے، وہاں انہیں کچھ نہ ملا، پھر کوئی کام ڈھونڈنے نکلے، تو دیکھا کہ ایک یہودی اپنے کھجور کے درختوں کو پانی دے رہا ہے، انصاری نے یہودی سے کہا: میں تمہارے درختوں کو سینچ دوں؟ اس نے کہا: ہاں، سینچ دو، کہا: ہر ڈول کے بدلے ایک کھجور لوں گا، اور انصاری نے یہ شرط بھی لگا لی کہ کالی، سوکھی اور خراب کھجوریں نہیں لوں گا، صرف اچھی ہی لوں گا، اس طرح انہوں نے دو صاع کے قریب کھجوریں حاصل کیں، اور انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔
راوی
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۱۶/۲۴۴۸
درجہ
Very Daif
زمرہ
باب ۱۶: گروی
موضوعات:
#Mother