سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۳۴۵۴

حدیث #۳۳۴۵۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ السُّلَمِيُّ أَبُو الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَوَّلُ مَا سَمِعْنَا بِالْفَالُوذَجِ، أَنَّ جِبْرِيلَ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ تُفْتَحُ عَلَيْهِمُ الأَرْضُ فَيُفَاضُ عَلَيْهِمْ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الْفَالُوذَجَ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ وَمَا الْفَالُوذَجُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَخْلِطُونَ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ جَمِيعًا ‏.‏ فَشَهَقَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِذَلِكَ شَهْقَةً ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ہم نے «فالوذج» کا نام اس وقت سنا جب جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے، اور عرض کیا: تمہاری امت ملکوں کو فتح کرے گی، اور اس پر دنیا کے مال و متاع کا ایسا فیضان ہو گا کہ وہ لوگ «فالوذج» کھائیں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: «فالوذج» کیا ہے ؟ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: لوگ گھی اور شہد ایک ساتھ ملائیں گے، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
راوی
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۳۴۰
درجہ
Mawdu
زمرہ
باب ۲۹: کھانا
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث