سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۳۵۷۶
حدیث #۳۳۵۷۶
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ فَقَالَ
" عَلاَمَ تَدْغَرْنَ أَوْلاَدَكُنَّ بِهَذَا الْعِلاَقِ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ يُسْعَطُ بِهِ مِنَ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ بِهِ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ " .
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِنَحْوِهِ . قَالَ يُونُسُ أَعْلَقْتُ يَعْنِي غَمَزْتُ .
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور اس سے پہلے میں نے «عذرہ» ۱؎ ( ورم حلق ) کی شکایت سے اس کا حلق دبایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: آخر کیوں تم لوگ اپنے بچوں کے حلق دباتی ہو؟ تم یہ عود ہندی اپنے لیے لازم کر لو، اس لیے کہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے، اگر «عذرہ» ۱؎ ( ورم حلق ) کی شکایت ہو تو اس کو ناک ٹپکایا جائے، اور اگر «ذات الجنب» ۲؎ ( نمونیہ ) کی شکایت ہو تو اسے منہ سے پلایا جائے ۔
راوی
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۳۱/۳۴۶۲
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۳۱: طب
موضوعات:
#Mother