سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۳۷۱۷

حدیث #۳۳۷۱۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ فَالْتَفَتَ إِلَىَّ وَعَلَىَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِالْعُصْفُرِ فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَعَرَفْتُ مَا كَرِهَ فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورَهُمْ فَقَذَفْتُهَا فِيهِ ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ ‏"‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا فَعَلَتِ الرَّيْطَةُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ فَإِنَّهُ لاَ بَأْسَ بِذَلِكَ لِلنِّسَاءِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم اذاخر ۱؎ کے موڑ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے، آپ میری طرف متوجہ ہوئے، میں باریک چادر پہنے ہوئے تھا جو کسم کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟ میں آپ کی اس ناگواری کو بھانپ گیا، چنانچہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، وہ اس وقت اپنا تنور گرم کر رہے تھے، میں نے اسے اس میں ڈال دیا، دوسری صبح میں آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ! چادر کیا ہوئی ؟ میں نے آپ کو ساری بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دی؟ اس لیے کہ اسے پہننے میں عورتوں کے لیے کوئی مضائقہ نہیں ۔
راوی
عمرو ابن شعیب
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۶۰۳
درجہ
Hasan
زمرہ
باب ۳۲: لباس
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث