سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۴۲۵۹

حدیث #۳۴۲۵۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الشَّهْرُ مَا يُرَى فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ الدُّخَانُ ‏.‏ قُلْتُ فَمَا كَانَ طَعَامُهُمْ قَالَتِ الأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنَ الأَنْصَارِ جِيرَانُ صِدْقٍ وَكَانَتْ لَهُمْ رَبَائِبُ فَكَانُوا يَبْعَثُونَ إِلَيْهِ أَلْبَانَهَا ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَكَانُوا تِسْعَةَ أَبْيَاتٍ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کبھی کبھی آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر پورا مہینہ ایسا گزر جاتا تھا کہ ان کے گھروں میں سے کسی گھر میں دھواں نہ دیکھا جاتا تھا، ابوسلمہ نے پوچھا: پھر وہ کیا کھاتے تھے؟ کہا: دو کالی چیزیں یعنی کھجور اور پانی، البتہ ہمارے کچھ انصاری پڑوسی تھے، جو صحیح معنوں میں پڑوسی تھے، ان کی کچھ پالتو بکریاں تھیں، وہ آپ کو ان کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نو گھر تھے۔
راوی
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۳۷/۴۱۴۵
درجہ
Hasan Sahih
زمرہ
باب ۳۷: زہد
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث