صحیح بخاری — حدیث #۵۸۲۳

حدیث #۵۸۲۳
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَعِيدِ بْنِ فُلاَنٍ ـ هُوَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ـ عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ، أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ صَغِيرَةٌ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ تَرَوْنَ نَكْسُو هَذِهِ ‏"‏‏.‏ فَسَكَتَ الْقَوْمُ قَالَ ‏"‏ ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ ‏"‏‏.‏ فَأُتِيَ بِهَا تُحْمَلُ فَأَخَذَ الْخَمِيصَةَ بِيَدِهِ فَأَلْبَسَهَا وَقَالَ ‏"‏ أَبْلِي وَأَخْلِقِي ‏"‏‏.‏ وَكَانَ فِيهَا عَلَمٌ أَخْضَرُ أَوْ أَصْفَرُ فَقَالَ ‏"‏ يَا أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سَنَاهْ ‏"‏‏.‏ وَسَنَاهْ بِالْحَبَشِيَّةِ حَسَنٌ‏.‏
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن سعید نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے سعید بن فلاں یعنی عمرو بن سعید بن عاص نے اور ان سے ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کپڑے لائے گئے جس میں ایک چھوٹی کالی کملی بھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے یہ چادر کسے دی جائے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام خالد کو میرے پاس بلا لاؤ۔ انہیں گود میں اٹھا کر لایا گیا ( کیونکہ بچی تھیں ) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر اپنے ہاتھ میں لی اور انہیں پہنایا اور دعا دی کہ جیتی رہو۔ اس چادر میں ہرے اور زرد نقش و نگار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام خالد! یہ نقش و نگار ”سناہ“ ہیں۔ ”سناہ“ حبشی زبان میں خوب اچھے کے معنی میں آتا ہے۔
راوی
ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہ
ماخذ
صحیح بخاری # ۷۷/۵۸۲۳
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۷۷: لباس
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث