۴۴ حدیث
۰۱
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۵۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ فِي الْكِتَابِ الَّذِي، كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الْعُقُولِ أَنَّ فِي النَّفْسِ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ وَفِي الأَنْفِ إِذَا أُوعِيَ جَدْعًا مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ وَفِي الْجَائِفَةِ مِثْلُهَا وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ وَفِي كُلِّ أُصْبُعٍ مِمَّا هُنَالِكَ عَشْرٌ مِنَ الإِبِلِ وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ ‏.‏
ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن محمد بن عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ جو کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ بن حزم کے واسطے لکھی تھی دیتوں کے بیان میں اس میں یہ تھا کہ جان کی دیت سو اونٹ ہیں اور ناک کی جب پوری کاٹی جائے سو اونٹ ہیں اور مامومہ میں تیسرا حصہ دیت ہے اور جائفہ میں بھی تیسرا حصہ دیت کا ہے اور آنکھ کی دیت پچاس اونٹ ہیں اور ہاتھ کے بھی پچاس اور پیر کے بھی پچاس اور ہر انگلی کے دس اونٹ ہیں اور ہر دانت کے پانچ اونٹ اور موضحہ کی دیت پانچ اونٹ ہیں ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۵۳
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَوَّمَ الدِّيَةَ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى فَجَعَلَهَا عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَىْ عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَأَهْلُ الذَّهَبِ أَهْلُ الشَّامِ وَأَهْلُ مِصْرَ وَأَهْلُ الْوَرِقِ أَهْلُ الْعِرَاقِ ‏.‏ وَحَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَّ الدِّيَةَ تُقْطَعُ فِي ثَلاَثِ سِنِينَ أَوْ أَرْبَعِ سِنِينَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالثَّلاَثُ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لاَ يُقْبَلُ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فِي الدِّيَةِ الإِبِلُ وَلاَ مِنْ أَهْلِ الْعَمُودِ الذَّهَبُ وَلاَ الْوَرِقُ وَلاَ مِنْ أَهْلِ الذَّهَبِ الْوَرِقُ وَلاَ مِنْ أَهْلِ الْوَرِقِ الذَّهَبُ ‏.‏
مالک نے مجھ سے بیان کیا کہ اس نے سنا ہے کہ عمر بن الخطاب نے دیہات کے لوگوں سے خون کا حساب لیا اور سونا رکھنے والوں پر ایک ہزار دینار اور کاغذ والوں پر بارہ ہزار درہم عائد کئے۔ مالک نے کہا: سونے کے لوگ شام کے لوگ ہیں اور مصر کے لوگ ہیں اور کاغذ کے لوگ عراق کے لوگ ہیں۔ یحییٰ نے مجھے ملک کے حکم پر بتایا کہ اس نے سنا ہے کہ خون کا پیسہ تین یا چار سال میں کٹ جانا ہے۔ مالک نے کہا: جو کچھ میں نے سنا ان میں تین سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ اس میں میرے نزدیک۔ ملک نے کہا کہ ہمارے درمیان جس بات پر اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ نہ دیہات کے لوگوں سے اونٹوں کے خون کے عوض قبول کیا جاتا ہے اور نہ ہی لوگوں سے۔ ستون سونا ہے، کاغذ نہیں، نہ سونے والوں میں کاغذ ہے، نہ کاغذ والوں میں سونا ہے۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۵۴
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، كَانَ يَقُولُ فِي دِيَةِ الْعَمْدِ إِذَا قُبِلَتْ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً وَخَمْسُ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً ‏.‏
یحییٰ نے مالک کی سند سے مجھ سے بیان کیا کہ ابن شہاب ایک ستون کے لیے خون کی رقم کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ اگر مقد کی پچیس بیٹیاں مان لیں اور پچیس بنت لبون، پچیس حقہ اور پچیس جدہ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۵۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ أُتِيَ بِمَجْنُونٍ قَتَلَ رَجُلاً ‏.‏ فَكَتَبَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ أَنِ اعْقِلْهُ وَلاَ تُقِدْ مِنْهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَى مَجْنُونٍ قَوَدٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ إِذَا قَتَلاَ رَجُلاً جَمِيعًا عَمْدًا أَنَّ عَلَى الْكَبِيرِ أَنْ يُقْتَلَ وَعَلَى الصَّغِيرِ نِصْفُ الدِّيَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَكَذَلِكَ الْحُرُّ وَالْعَبْدُ يَقْتُلاَنِ الْعَبْدَ فَيُقْتَلُ الْعَبْدُ وَيَكُونُ عَلَى الْحُرِّ نِصْفُ قِيمَتِهِ ‏.‏
اس نے مجھ سے مالک کی سند سے یحییٰ بن سعید کی سند سے بیان کیا کہ مروان بن الحکم نے معاویہ بن ابی سفیان کو لکھا کہ ایک پاگل لایا گیا ہے جس نے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔ پھر معاویہ نے اسے لکھا کہ اسے ہوش میں لاؤ اور اس پر حملہ نہ کرو کیونکہ وہ پاگل نہیں ہے۔ انہوں نے تمام مردوں کو جان بوجھ کر قتل کیا، یہ شرط عائد کی کہ سب سے بڑے کو قتل کیا جائے اور چھوٹے کو خون کی آدھی رقم ادا کرنی ہوگی۔ مالک نے کہا: اسی طرح آزاد آدمی اور غلام غلام کو قتل کرتے ہیں۔ غلام مارا جاتا ہے، اور آزاد آدمی کو اس کی آدھی قیمت ملتی ہے۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۵۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ لَيْثٍ أَجْرَى فَرَسًا فَوَطِئَ عَلَى إِصْبَعِ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ فَنُزِيَ مِنْهَا فَمَاتَ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلَّذِي ادُّعِيَ عَلَيْهِمْ أَتَحْلِفُونَ بِاللَّهِ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا مَاتَ مِنْهَا فَأَبَوْا وَتَحَرَّجُوا وَقَالَ لِلآخَرِينَ أَتَحْلِفُونَ أَنْتُمْ فَأَبَوْا فَقَضَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِشَطْرِ الدِّيَةِ عَلَى السَّعْدِيِّينَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَى هَذَا ‏.‏
عراک بن مالک اور سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جو بنی سعد میں سے تھا اپنا گھوڑا دوڑایا اور ایک شخص کی انگلی جو جہینہ کا تھا کچل دی اس میں سے خون جاری ہوا اور وہ شخص مر گیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہلے کچلنے والے کی قوم سے کہا کہ تم پچاس قسمیں کھاتے ہو اس امر پر کہ وہ شخص انگلی کچلنے سے نہیں مرا انہوں نے انکار کیا اور رک گئے پھر میت کے لوگوں سے کہا تم قسم کھاتے ہو انہوں نے بھی انکار کیا آپ نے آدھی دیت بنی سعد سے دلائی ۔ کہا مالک نے اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۵۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، وَرَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَانُوا يَقُولُونَ دِيَةُ الْخَطَإِ عِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَعِشْرُونَ ابْنَ لَبُونٍ ذَكَرًا وَعِشْرُونَ حِقَّةً وَعِشْرُونَ جَذَعَةً ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لاَ قَوَدَ بَيْنَ الصِّبْيَانِ وَإِنَّ عَمْدَهُمْ خَطَأٌ مَا لَمْ تَجِبْ عَلَيْهِمُ الْحُدُودُ وَيَبْلُغُوا الْحُلُمَ وَإِنَّ قَتْلَ الصَّبِيِّ لاَ يَكُونُ إِلاَّ خَطَأً وَذَلِكَ لَوْ أَنَّ صَبِيًّا وَكَبِيرًا قَتَلاَ رَجُلاً حُرًّا خَطَأً كَانَ عَلَى عَاقِلَةِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصْفُ الدِّيَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ قَتَلَ خَطَأً فَإِنَّمَا عَقْلُهُ مَالٌ لاَ قَوَدَ فِيهِ وَإِنَّمَا هُوَ كَغَيْرِهِ مِنْ مَالِهِ يُقْضَى بِهِ دَيْنُهُ وَيُجَوَّزُ فِيهِ وَصِيَّتُهُ فَإِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ تَكُونُ الدِّيَةُ قَدْرَ ثُلُثِهِ ثُمَّ عُفِيَ عَنْ دِيَتِهِ فَذَلِكَ جَائِزٌ لَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُ دِيَتِهِ جَازَ لَهُ مِنْ ذَلِكَ الثُّلُثُ إِذَا عُفِيَ عَنْهُ وَأَوْصَى بِهِ ‏.‏
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ نابالغ لڑکوں سے قصاص نہ لیا جائے گا اگر وہ کوئی جنایت قصداًبھی کریں تو خطا کے حکم میں ہوگی ان سے دیت لی جائے گی جب تک کہ بالغ نہ ہوں اور جب تک ان پر حدیں واجب نہ ہوں اور احتلام نہ ہونے لگے اسی واسطے اگر لڑکا کسی کو قتل کرے تو وہ قتل خطا سمجھا جائے گا اگر لڑکا اور ایک بالغ مل کر کسی کو خطاءً قتل کریں تو ہر ایک کے عاقلے پر نصف دیت ہوگی ۔ کہا مالک نے جو شخص خطاءً قتل کیا جائے اس کی دیت مثل اس کے اور اس کے مال کے ہوگی اس سے اس کا قرض ادا کیا جائے گا اور اس کی وصیتیں پوری کی جائیں گی اگر اس کے پاس اتنا مال ہو جو دیت سے دوگنا ہو اور وہ دیت معاف کردے تو درست ہے اور اگر اتنا مال نہ ہو تو ثلث کے موافق معاف کرسکتا ہے کیونکہ باقی وارثوں کا بھی حق ہے۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۵۸
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ تُعَاقِلُ الْمَرْأَةُ الرَّجُلَ إِلَى ثُلُثِ الدِّيَةِ إِصْبَعُهَا كَإِصْبَعِهِ وَسِنُّهَا كَسِنِّهِ وَمُوضِحَتُهَا كَمُوضِحَتِهِ وَمُنَقِّلَتُهَا كَمُنَقَّلَتِهِ ‏.‏
کہا مالک نے ہمارے نزدیک خطا میں یہ حکم اتفاقی ہے کہ زخم کی دیت کا حکم نہ ہوگا جب تک مجروح اچھا نہ ہوجائے ۔ اگر ہاتھ یا پاؤں کی ہڈی ٹوٹ جائے پھر جڑ کر اچھی ہوجائے پہلے کے موافق تو اس میں دیت نہیں ہے اور اگر کچھ نقص رہ جائے تو اس میں دیت ہے نقصان کے موافق ۔ اگر وہ ہڈی ایسی ہو جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دیت ثابت ہے تو اسی قدر دیت لازم ہوگی ورنہ سوچ سمجھ کر جس قدر مناسب ہو دیت دلائیں گے۔ کہا مالک نے اگر بدن میں خطاءً زخم لگ کر اچھا ہوجائے نشان نہ رہے تو دیت نہیں ہے اگر دھبہ یا عیب رہ جائے تو اس کے موافق دیت دینی ہوگی مگر جائفہ میں تہائی دیت لازم ہوگی اور منقلہ جسد میں دیت نہیں ہے جیسے موضحہ جسد میں ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اگر جراح نے ختنہ کرتے وقت خطاء سے حشفے کو کاٹ ڈالا تو اس پر دیت ہے اور یہ دیت عاقلے پر ہوگی اسی طرح طبیب سے جو غلطی ہوجائے بھول چوک کر اس میں دیت ہے (اگر قصداًہو تو قصاص ہے)۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۵۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَبَلَغَهُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولاَنِ مِثْلَ قَوْلِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فِي الْمَرْأَةِ أَنَّهَا تُعَاقِلُ الرَّجُلَ إِلَى ثُلُثِ دِيَةِ الرَّجُلِ فَإِذَا بَلَغَتْ ثُلُثَ دِيَةِ الرَّجُلِ كَانَتْ إِلَى النِّصْفِ مِنْ دِيَةِ الرَّجُلِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنَّهَا تُعَاقِلُهُ فِي الْمُوضِحَةِ وَالْمُنَقَّلَةِ وَمَا دُونَ الْمَأْمُومَةِ وَالْجَائِفَةِ وَأَشْبَاهِهِمَا مِمَّا يَكُونُ فِيهِ ثُلُثُ الدِّيَةِ فَصَاعِدًا فَإِذَا بَلَغَتْ ذَلِكَ كَانَ عَقْلُهَا فِي ذَلِكَ النِّصْفَ مِنْ عَقْلِ الرَّجُلِ ‏.‏
سعید بن مسیب کہتے تھے کہ مرد اور عورت کی دیت ثلث دیت تک برابر ہے مثلام عورت کی انگلی جیسے مرد کی انگلی اور دانت عورت کا جیسے دانت مرد کا اور موضحہ عورت کی مثل مرد کے موضحہ کے اس طرح منقلہ عورت کا مثل مرد کے منقلے کے ہے ۔ ابن شہاب اور عروہ بن زبیر کہتے تھے جیسے سعید بن مسیب کہتے تھے کہ عورت ثلث دیت تک مرد کے برابر ہوگی پھر وہاں سے اس کی دیت مرد کی آدھی ہو گی۔ کہا مالک نے تو موضحہ اور منقلہ میں عورت اور مرد ونوں کی دیت برابر ہوگی اور مامومہ اور جائفہ جس میں ثلث دیت واجب ہے عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہوگی۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۶۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ مَضَتِ السُّنَّةُ أَنَّ الرَّجُلَ، إِذَا أَصَابَ امْرَأَتَهُ بِجُرْحٍ أَنَّ عَلَيْهِ عَقْلَ ذَلِكَ الْجُرْحِ وَلاَ يُقَادُ مِنْهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْخَطَإِ أَنْ يَضْرِبَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَيُصِيبَهَا مِنْ ضَرْبِهِ مَا لَمْ يَتَعَمَّدْ كَمَا يَضْرِبُهَا بِسَوْطٍ فَيَفْقَأُ عَيْنَهَا وَنَحْوَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الْمَرْأَةِ يَكُونُ لَهَا زَوْجٌ وَوَلَدٌ مِنْ غَيْرِ عَصَبَتِهَا وَلاَ قَوْمِهَا فَلَيْسَ عَلَى زَوْجِهَا إِذَا كَانَ مِنْ قَبِيلَةٍ أُخْرَى مِنْ عَقْلِ جِنَايَتِهَا شَىْءٌ وَلاَ عَلَى وَلَدِهَا إِذَا كَانُوا مِنْ غَيْرِ قَوْمِهَا وَلاَ عَلَى إِخْوَتِهَا مِنْ أُمِّهَا إِذَا كَانُوا مِنْ غَيْرِ عَصَبَتِهَا وَلاَ قَوْمِهَا فَهَؤُلاَءِ أَحَقُّ بِمِيرَاثِهَا وَالْعَصَبَةُ عَلَيْهِمُ الْعَقْلُ مُنْذُ زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْيَوْمِ وَكَذَلِكَ مَوَالِي الْمَرْأَةِ مِيرَاثُهُمْ لِوَلَدِ الْمَرْأَةِ وَإِنْ كَانُوا مِنْ غَيْرِ قَبِيلَتِهَا وَعَقْلُ جِنَايَةِ الْمَوَالِي عَلَى قَبِيلَتِهَا ‏.‏
ابن شہاب کہتے تھے کہ یہ سنت چلی آتی ہے کہ مرد اپنی عورت کو اگر زخمی کرے تو اس سے دیت لی جائے گی اور قصاص نہ لیا جائے گا ۔ کہا مالک نے یہ جب ہے کہ مردخطا سے اپنی عورت کو زخمی کرے عمداً یہ کام نہ کرے (اگر عمداً کرے تو قصاص واجب ہوگا)۔ کہا مالک نے جس عورت کا خاوند یا لڑکا اس کی قوم سے نہ ہو تو عورت کی جنایت کی دیت میں وہ شریک نہ ہوگا اسی طرح اس کا لڑکا یا اخیافی بھائی جب اور قوم سے ہوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے دیت کنبے والوں پر ہوتی ہے مگر میراث لڑکے اور اخیافی بھائیوں کو ملے گی جیسے عورت کے موالی (غلامان آزاد) کی میراث اس کے لڑکے کو ملے گی اگرچہ اس کی قوم سے نہ ہو مگر اس کی جنایت کی دیت عورت کے کنبے والوں پر ہو گی۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۶۱
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ، مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ دو عورتیں ہذیل کی آپس میں لڑیں ایک نے دوسرے کے پتھر مارا اس کے پیٹ کا بچہ نکل پڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیت میں ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا حکم کیا ۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۶۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي الْجَنِينَ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ كَيْفَ أَغْرَمُ مَا لاَ شَرِبَ وَلاَ أَكَلْ وَلاَ نَطَقَ وَلاَ اسْتَهَلّ وَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلْ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ ‏"‏ ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم کیا پیٹ کے بچے میں جو قتل کیا جائے ایک غلام یا لونڈی دینے کا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیت دینے کا حکم کیا وہ بولا کیونکر میں تاوان دوں اس بچے کا جس نے نہ پیا نہ کھایا نہ بولا نہ رویا ایسے شخص کا خون ہدر ہے یعنی لغو ہے اس میں دیت نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ شخص کاہنوں کا بھائی ہے ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۶۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ الْغُرَّةُ تُقَوَّمُ خَمْسِينَ دِينَارًا أَوْ سِتَّمِائَةِ دِرْهَمٍ وَدِيَةُ الْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ الْمُسْلِمَةِ خَمْسُمِائَةِ دِينَارٍ أَوْ سِتَّةُ آلاَفِ دِرْهَمٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَدِيَةُ جَنِينِ الْحُرَّةِ عُشْرُ دِيَتِهَا وَالْعُشْرُ خَمْسُونَ دِينَارًا أَوْ سِتُّمِائَةِ دِرْهَمٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يُخَالِفُ فِي أَنَّ الْجَنِينَ لاَ تَكُونُ فِيهِ الْغُرَّةُ حَتَّى يُزَايِلَ بَطْنَ
ربیعہ بن ابوعبدالرحمن کہتے تھے کہ غلام یا لونڈی کی قیمت جو پیٹ کے بچے کی دیت میں دی جائے پچاس دینار ہونے چاہئے یا چھ سو درہم اور عورت مسلمان آزاد کی دیت پانچ سو دینار ہیں یا چھ ہزار درہم۔ کہا مالک نے آزاد عورت کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کی دیت عورت کی دیت کا دسواں حصہ ہے اور وہ پچاس دینار ہے یا چھ سو درہم اور یہ دیت پیٹ کے بچے میں اس وقت لازم آتی ہے جب کہ وہ پیٹ سے نکل پڑے مردہ ہو کر میں نے کسی کو اس میں اختلاف کرتے نہیں سنا اگر پیٹ سے زندہ نکل کر مرجائے تو پوری دیت لازم ہوگی۔ کہا مالک نے جنین یعنی پیٹ کے بچے کی زندگی اس کے رونے سے معلوم ہوگی اگر رو کرمرجائے تو پوری دیت لازم آئے گی اور لونڈی کے جنین میں اس لونڈی کی قیمت کا دسواں حصہ دینا ہو گا۔ کہا مالک نے اگر ایک عورت حاملہ نے کسی مرد یا عورت کو مار ڈالا تو اس سے قصاص نہ لیا جائے گا جب تک وضع حمل نہ ہو اگر عورت حاملہ کو کسی نے مار ڈالا عمداً یا خطاءً تو اس کے جنین کی دیت واجب نہ ہوگی بلکہ اگر عمداً مارا ہے تو قاتل قتل کیا جائے گا اور اگر خطاءً مارا ہے تو قاتل کے عاقلہ پر عورت کی دیت واجب ہو گی۔ سوال ہوا مالک سے اگر کسی نے یہودیہ یا نصرانیہ کے جنین کو مار ڈالا تو جواب دیا کہ اس کی ماں کی دیت کا دسواں حصہ دینا ہوگا۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۶۴
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ كَامِلَةً فَإِذَا قُطِعَتِ السُّفْلَى فَفِيهَا ثُلُثَا الدِّيَةِ ‏.‏
سعید بن مسیب کہتے تھے کہ دونوں ہونٹوں میں پوری دیت ہے اگر صرف نیچے کا ہونٹ کاٹ ڈالے تو ثلث دینی ہوگی ۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۶۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الرَّجُلِ الأَعْوَرِ، يَفْقَأُ عَيْنَ الصَّحِيحِ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ إِنْ أَحَبَّ الصَّحِيحُ أَنْ يَسْتَقِيدَ، مِنْهُ فَلَهُ الْقَوَدُ وَإِنْ أَحَبَّ فَلَهُ الدِّيَةُ أَلْفُ دِينَارٍ أَوِ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ ‏.‏ وَحَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ فِي كُلِّ زَوْجٍ مِنَ الإِنْسَانِ الدِّيَةَ كَامِلَةً وَأَنَّ فِي اللِّسَانِ الدِّيَةَ كَامِلَةً وَأَنَّ فِي الأُذُنَيْنِ إِذَا ذَهَبَ سَمْعُهُمَا الدِّيَةَ كَامِلَةً اصْطُلِمَتَا أَوْ لَمْ تُصْطَلَمَا وَفِي ذَكَرِ الرَّجُلِ الدِّيَةُ كَامِلَةً وَفِي الأُنْثَيَيْنِ الدِّيَةُ كَامِلَةً ‏.‏ وَحَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ فِي ثَدْيَىِ الْمَرْأَةِ الدِّيَةَ كَامِلَةً ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَأَخَفُّ ذَلِكَ عِنْدِي الْحَاجِبَانِ وَثَدْيَا الرَّجُلِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا أُصِيبَ مِنْ أَطْرَافِهِ أَكْثَرُ مِنْ دِيَتِهِ فَذَلِكَ لَهُ إِذَا أُصِيبَتْ يَدَاهُ وَرِجْلاَهُ وَعَيْنَاهُ فَلَهُ ثَلاَثُ دِيَاتٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي عَيْنِ الأَعْوَرِ الصَّحِيحَةِ إِذَا فُقِئَتْ خَطَأً إِنَّ فِيهَا الدِّيَةَ كَامِلَةً ‏.‏
کہا مالک نے میں نے ابن شہاب سے پوچھا کہ اگر کانا کسی اچھے آدمی کی آنکھ پھوڑ ڈالے تو انہوں نے کہا کہ اس کو اختیار ہے خواہ کانے کی آنکھ پھوڑے خواہ دیت لے ہزار دیناربارہ ہزار دینار۔ کہا مالک نے مجھے پہنچا کہ جو چیزیں انسان کے جسم میں دو دو ہیں اگر دونوں کو کوئی تلف کردے تو پوری دیت دینی ہو گی۔ اسی طرح زبان میں پوری دیت دینی ہو گی۔ اگر کانوں پر ایسی ضرب لگائے جس کی وجہ سے دونوں کی سماعت جاتی رہے اگرچہ کانوں کو نہ کاٹے تب بھی پوری دیت دینی ہوگی۔ اسی طرح ذکر (عضوتناسل) اور انیثین (فوطوں) میں پوری دیت لازم ہوگی۔ کہا مالک نے مجھے پہنچا جب عورت کی دونوں چھاتیاں کاٹ ڈالے تو اس میں پوری دیت ہوگی لیکن ابروؤں کے اور مرد کی دونوں چھاتیاں کاٹ ڈالنے میں پوری دیت لازم نہ آئے گی۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص کے دونوں ہاتھ کاٹ ڈالے اور دونوں پاؤں اور دونوں آنکھیں بھی اس کی پھوڑ ڈالیں تو اس کو پوری دیت ملے گی ہاتھوں کی الگ اور پاؤں کی الگ اور آنکھوں کی الگ یعنی تین دیتیں دینی ہوں گی۔ کہا مالک نے اگر کانے کی جو آنکھ اچھی تھی اس کو کسی نے پھوڑ ڈالاخطا سے تو پوری دیت لازم ہوگی۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۶۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، كَانَ يَقُولُ فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ إِذَا طَفِئَتْ مِائَةُ دِينَارٍ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ شَتَرِ الْعَيْنِ وَحِجَاجِ الْعَيْنِ فَقَالَ لَيْسَ فِي ذَلِكَ إِلاَّ الاِجْتِهَادُ إِلاَّ أَنْ يَنْقُصَ بَصَرُ الْعَيْنِ فَيَكُونُ لَهُ بِقَدْرِ مَا نَقَصَ مِنْ بَصَرِ الْعَيْنِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ الْعَوْرَاءِ إِذَا طَفِئَتْ وَفِي الْيَدِ الشَّلاَّءِ إِذَا قُطِعَتْ إِنَّهُ لَيْسَ فِي ذَلِكَ إِلاَّ الاِجْتِهَادُ وَلَيْسَ فِي ذَلِكَ عَقْلٌ مُسَمًّى ‏.‏
زید بن ثابت کہتے تھے کہ جب آنکھ قائم رہے اور روشنی جاتی رہے تو سو دینار ہوں گے ۔
۱۶
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۶۷
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يَذْكُرُ أَنَّ الْمُوضِحَةَ، فِي الْوَجْهِ مِثْلُ الْمُوضِحَةِ فِي الرَّأْسِ إِلاَّ أَنْ تَعِيبَ الْوَجْهَ فَيُزَادُ فِي عَقْلِهَا مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ عَقْلِ نِصْفِ الْمُوضِحَةِ فِي الرَّأْسِ فَيَكُونُ فِيهَا خَمْسَةٌ وَسَبْعُونَ دِينَارًا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ فِي الْمُنَقَّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ فَرِيضَةً ‏.‏ قَالَ وَالْمُنَقَّلَةُ الَّتِي يَطِيرُ فِرَاشُهَا مِنَ الْعَظْمِ وَلاَ تَخْرِقُ إِلَى الدِّمَاغِ وَهِيَ تَكُونُ فِي الرَّأْسِ وَفِي الْوَجْهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الْمَأْمُومَةَ وَالْجَائِفَةَ لَيْسَ فِيهِمَا قَوَدٌ ‏.‏ وَقَدْ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ لَيْسَ فِي الْمَأْمُومَةِ قَوَدٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالْمَأْمُومَةُ مَا خَرَقَ الْعَظْمَ إِلَى الدِّمَاغِ وَلاَ تَكُونُ الْمَأْمُومَةُ إِلاَّ فِي الرَّأْسِ وَمَا يَصِلُ إِلَى الدِّمَاغِ إِذَا خَرَقَ الْعَظْمَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَيْسَ فِيمَا دُونَ الْمُوضِحَةِ مِنَ الشِّجَاجِ عَقْلٌ حَتَّى تَبْلُغَ الْمُوضِحَةَ وَإِنَّمَا الْعَقْلُ فِي الْمُوضِحَةِ فَمَا فَوْقَهَا وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْتَهَى إِلَى الْمُوضِحَةِ فِي كِتَابِهِ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَجَعَلَ فِيهَا خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ وَلَمْ تَقْضِ الأَئِمَّةُ فِي الْقَدِيمِ وَلاَ فِي الْحَدِيثِ فِيمَا دُونَ الْمُوضِحَةِ بِعَقْلٍ ‏.‏
مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا، مالک کی سند سے، یحییٰ بن سعید سے، کہ انہوں نے سلیمان بن یسار کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ مدح، چہرے پر، مدح کی طرح ہے۔ سر میں، جب تک کہ اس کے چہرے میں کوئی عیب نہ ہو، اس کی عقل اس کے اور سر میں آدھی وضاحت کی عقل کے درمیان بڑھے گی، اس صورت میں پانچ ہوں گے۔ اور ستر دینار۔ مالک نے کہا اور ہمارا معاملہ یہ ہے کہ منقرہ میں پندرہ فرض نمازیں ہیں۔ آپ نے فرمایا اور منقرہ جس کے بستر سے اڑتا ہے وہ ہڈی میں داخل نہیں ہوتا اور دماغ تک نہیں جاتا جب کہ سر اور چہرے میں ہوتا ہے۔ ملک نے کہا کہ ہمارے درمیان جو معاملہ طے پایا وہ یہ ہے۔ ماں اور غیر شادی شدہ عورت میں کوئی نجاست نہیں ہے۔ ابن شہاب نے کہا: ماں کی نماز میں کوئی نجاست نہیں ہے۔ مالک نے کہا کہ نماز میں ماں نجس نہیں ہوتی۔ دماغ تک ہڈی، اور ماں کی دعا صرف سر میں ہوتی ہے اور اگر ہڈی چھید جائے تو دماغ تک کیا پہنچتا ہے۔ مالک نے کہا: معاملہ ہمارے پاس ہے۔ درحقیقت تصریح کے ذیل میں اختلاف کی کوئی وجہ نہیں ہے جب تک کہ وہ وضاحت تک نہ پہنچ جائے، بلکہ وجہ وضاحت میں ہے اور جو کچھ اس کے اوپر ہے، اور وہ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم کے نام اپنے خط میں واضح کیا ہے، چنانچہ آپ نے اس میں پانچ اونٹ ڈالے، اور ائمہ نے اس میں حکم نہیں دیا۔ نہ قدیم اور نہ ہی جدید، سوائے اس کے جو عقل کے ساتھ بیان کی گئی ہو۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۶۸
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ كُلُّ نَافِذَةٍ فِي عُضْوٍ مِنَ الأَعْضَاءِ فَفِيهَا ثُلُثُ عَقْلِ ذَلِكَ الْعُضْوِ ‏.‏
سعید بن مسیب نے کہا کہ جو زخم پار ہو جائے کسی عضو میں تو اس کی دیت دینی ہوگی ۔ کہا مالک نے ابن شہاب کی یہ رائے نہ تھی۔
۱۸
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۶۹
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، كَانَ ابْنُ شِهَابٍ لاَ يَرَى ذَلِكَ وَأَنَا لاَ، أَرَى فِي نَافِذَةٍ فِي عُضْوٍ مِنَ الأَعْضَاءِ فِي الْجَسَدِ أَمْرًا مُجْتَمَعًا عَلَيْهِ وَلَكِنِّي أَرَى فِيهَا الاِجْتِهَادَ يَجْتَهِدُ الإِمَامُ فِي ذَلِكَ وَلَيْسَ فِي ذَلِكَ أَمْرٌ مُجْتَمَعٌ عَلَيْهِ عِنْدَنَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْمَأْمُومَةَ وَالْمُنَقَّلَةَ وَالْمُوضِحَةَ لاَ تَكُونُ إِلاَّ فِي الْوَجْهِ وَالرَّأْسِ فَمَا كَانَ فِي الْجَسَدِ مِنْ ذَلِكَ فَلَيْسَ فِيهِ إِلاَّ الاِجْتِهَادُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَلاَ أَرَى اللَّحْىَ الأَسْفَلَ وَالأَنْفَ مِنَ الرَّأْسِ فِي جِرَاحِهِمَا لأَنَّهُمَا عَظْمَانِ مُنْفَرِدَانِ وَالرَّأْسُ بَعْدَهُمَا عَظْمٌ وَاحِدٌ ‏.‏
مالک نے مجھ سے کہا: ابن شہاب نے اسے نہیں دیکھا اور میں نے نہیں دیکھا۔ میں کھڑکی میں دیکھتا ہوں کہ جسم کے اعضاء میں سے کسی چیز پر اجماع ہے، لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس میں اجتہاد ہے، اور امام اس معاملے میں اپنا اجتہاد کرتا ہے، اور ہمارے درمیان اس بات پر اجماع نہیں ہے۔ ملک نے کہا کہ ہمارے درمیان معاملہ یہ ہے۔ ساس، منقولہ عورت اور نماز ادا کرنے والا صرف چہرے اور سر پر لگ جاتا ہے، اس لیے اس کے جسم میں جو کچھ ہے اس میں کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ اس نے کہا۔ ملک صاحب مجھے ان کے زخموں میں نچلی داڑھی اور سر کی ناک نظر نہیں آتی کیونکہ وہ دو الگ الگ ہڈیاں ہیں اور ان کے بعد کا سر ایک ہڈی ہے۔ ایک...
۱۹
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۷۰
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَقَادَ مِنَ الْمُنَقَّلَةِ ‏.‏
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قصاص لیا منقلہ کا
۲۰
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۷۱
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ كَمْ فِي إِصْبَعِ الْمَرْأَةِ فَقَالَ عَشْرٌ مِنَ الإِبِلِ ‏.‏ فَقُلْتُ كَمْ فِي إِصْبَعَيْنِ قَالَ عِشْرُونَ مِنَ الإِبِلِ ‏.‏ فَقُلْتُ كَمْ فِي ثَلاَثٍ فَقَالَ ثَلاَثُونَ مِنَ الإِبِلِ ‏.‏ فَقُلْتُ كَمْ فِي أَرْبَعٍ قَالَ عِشْرُونَ مِنَ الإِبِلِ ‏.‏ فَقُلْتُ حِينَ عَظُمَ جُرْحُهَا وَاشْتَدَّتْ مُصِيبَتُهَا نَقَصَ عَقْلُهَا فَقَالَ سَعِيدٌ أَعِرَاقِيٌّ أَنْتَ فَقُلْتُ بَلْ عَالِمٌ مُتَثَبِّتٌ أَوْ جَاهِلٌ مُتَعَلِّمٌ ‏.‏ فَقَالَ سَعِيدٌ هِيَ السُّنَّةُ يَا ابْنَ أَخِي ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي أَصَابِعِ الْكَفِّ إِذَا قُطِعَتْ فَقَدْ تَمَّ عَقْلُهَا وَذَلِكَ أَنَّ خَمْسَ الأَصَابِعِ إِذَا قُطِعَتْ كَانَ عَقْلُهَا عَقْلَ الْكَفِّ خَمْسِينَ مِنَ الإِبِلِ فِي كُلِّ إِصْبَعٍ عَشَرَةٌ مِنَ الإِبِلِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَحِسَابُ الأَصَابِعِ ثَلاَثَةٌ وَثَلاَثُونَ دِينَارٍ وَثُلُثُ دِينَارٍ فِي كُلِّ أَنْمُلَةٍ وَهِيَ مِنَ الإِبِلِ ثَلاَثُ فَرَائِضَ وَثُلُثُ فَرِيضَةٍ ‏.‏
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا کہ عورت کی انگلی میں کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ دس اونٹ ہیں میں نے کہا دو انگلیوں میں تو انہوں نے کہا بیس اونٹ ہیں میں نے کہا تین انگلیوں میں تو انہوں نے کہا تیس اونٹ میں نے کہا چار انگلیوں میں تو انہوں نے کہا بیس اونٹ میں نے کہا کیا خوب جب زخم زیادہ ہو گیا اور نقصان زیادہ ہو تو دیت کم ہوگئی سعد نے کہا کیا تو عراقی ہے میں نے کہا نہیں بلکہ مجھے جس چیز کا علم ہے اس پر جما ہوا ہوں اور جو چیز نہیں جانتا اس کو پوچھتا ہوں سعید نے کہا کہ سنت میں ایسا ہی ہے اے میرے بھائی کے بیٹے کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اجماعی ہے کہ جب پوری ایک ہتھیلی کی انگلیاں کاٹ ڈالی جائیں تو دیت لازم ہوگی اس حساب سے کہ ہر انگلی میں دس اونٹ تو پچاس اونٹ لازم ہوں گے اور ہتھیلی بھی اگر اس کی کاٹی جائے تو اس میں حاکم کی رائے کے موافق دینا ہو گا۔ دنانیر کے حساب سے ہر انگلی کے سو دینار اور ہر ایک پور کے تینتیس دینار ہوئے اور ہر ایک پور کے تین اونٹ اور ثلث اونٹ ہوئے۔
۲۱
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۷۲
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنْ أَسْلَمَ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَضَى فِي الضِّرْسِ بِجَمَلٍ وَفِي التَّرْقُوَةِ بِجَمَلٍ وَفِي الضِّلَعِ بِجَمَلٍ ‏.‏
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم کی ڈاڑھ میں ایک اونٹ کا اور ہنسلی کی ہڈی میں ایک اونٹ کا اور پہلو کی ہڈی میں ایک اونٹ کا ۔
۲۲
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۷۳
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ قَضَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي الأَضْرَاسِ بِبَعِيرٍ بَعِيرٍ وَقَضَى مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ فِي الأَضْرَاسِ بِخَمْسَةِ أَبْعِرَةٍ خَمْسَةِ أَبْعِرَةٍ ‏.‏ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ فَالدِّيَةُ تَنْقُصُ فِي قَضَاءِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَتَزِيدُ فِي قَضَاءِ مُعَاوِيَةَ فَلَوْ كُنْتُ أَنَا لَجَعَلْتُ فِي الأَضْرَاسِ بَعِيرَيْنِ بَعِيرَيْنِ فَتِلْكَ الدِّيَةُ سَوَاءٌ وَكُلُّ مُجْتَهِدٍ مَأْجُورٌ ‏.‏
سعید بن مسیب نے کہا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہر ڈاڑھ میں ایک اونٹ کا حکم کیا اور معاویہ نے ہر ڈاڑھ میں پانچ اونٹ کا حکم کیا تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیت میں کمی کی اور معاویہ نے زیادتی کی اگر میں ہوتا تو ہر ڈاڑھ میں دو دو اونٹ دلاتا اس صورت میں دیت پوری ہو جاتی ۔
۲۳
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۷۴
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أُصِيبَتِ السِّنُّ فَاسْوَدَّتْ فَفِيهَا عَقْلُهَا تَامًّا فَإِنْ طُرِحَتْ بَعْدَ أَنْ تَسْوَدَّ فَفِيهَا عَقْلُهَا أَيْضًا تَامًّا ‏.‏
سعید بن مسیب کہتے تھے کہ جب دانت کو ضرب پہنچے اور وہ کالا ہوجائے تو اس کی پوری دیت لازم ہوگی اگر کالا ہو کر گرجائے تب بھی پوری دیت لازم ہوگی۔
۲۴
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۷۵
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ بْنِ طَرِيفٍ الْمُرِّيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ بَعَثَهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا فِي الضِّرْسِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فِيهِ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ ‏.‏ قَالَ فَرَدَّنِي مَرْوَانُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَتَجْعَلُ مُقَدَّمَ الْفَمِ مِثْلَ الأَضْرَاسِ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ لَوْ لَمْ تَعْتَبِرْ ذَلِكَ إِلاَّ بِالأَصَابِعِ عَقْلُهَا سَوَاءٌ ‏.‏
ابی غطفان بن طریف سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے ان کو بھیجا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس یہ پوچھنے کو کہ ڈاڑھ میں کیا دیت ہے ابن عباس نے کہا کہ پانچ اونٹ ہیں مروان نے پھر ان کو بھیجا اور کہلایا کہ کیا دانت سامنے کے اور ڈاڑھیں دیت میں برابر ہیں ابن عباس نے کہا کہ اگر تو دانتوں کو انگلیوں پر قیاس کر لیتا تو کافی تھا ہر ایک انگلی کی دیت ایک ہی ہے ۔ اگر منفعت کسی سے کم ہے کسی سے زیادہ ایسا ہی دانت اور ڈاڑھ بھی سب یکساں ہیں ۔
۲۵
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۷۶
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يُسَوِّي بَيْنَ الأَسْنَانِ فِي الْعَقْلِ وَلاَ يُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ مُقَدَّمَ الْفَمِ وَالأَضْرَاسِ وَالأَنْيَابِ عَقْلُهَا سَوَاءٌ وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ فِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ ‏"‏ ‏.‏ وَالضِّرْسُ سِنٌّ مِنَ الأَسْنَانِ لاَ يَفْضُلُ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ ‏.‏
عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ اگلے زمانے میں سب دانتوں کی دیت برابر تھی کوئی دوسرے پر زیادہ نہ تھی ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ دانت اور کچلیاں اور داڑھیں سب برابر ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت میں پانچ اونٹ کا حکم کیا داڑھ بھی ایک دانت ہے۔
۲۶
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۷۷
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، كَانَا يَقُولاَنِ فِي مُوضِحَةِ الْعَبْدِ نِصْفُ عُشْرِ ثَمَنِهِ ‏.‏
یحییٰ نے مالک کی سند سے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ سعید بن المسیب اور سلیمان بن یسار غلام کی وضاحت کے بارے میں نصف دسواں حصہ کہا کرتے تھے۔ اس کی قیمت...
۲۷
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۷۸
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، كَانَ يَقْضِي فِي الْعَبْدِ يُصَابُ بِالْجِرَاحِ أَنَّ عَلَى مَنْ جَرَحَهُ قَدْرَ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِ الْعَبْدِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ فِي مُوضِحَةِ الْعَبْدِ نِصْفَ عُشْرِ ثَمَنِهِ وَفِي مُنَقَّلَتِهِ الْعُشْرُ وَنِصْفُ الْعُشْرِ مِنْ ثَمَنِهِ وَفِي مَأْمُومَتِهِ وَجَائِفَتِهِ فِي كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا ثُلُثُ ثَمَنِهِ وَفِيمَا سِوَى هَذِهِ الْخِصَالِ الأَرْبَعِ مِمَّا يُصَابُ بِهِ الْعَبْدُ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهِ يُنْظَرُ فِي ذَلِكَ بَعْدَ مَا يَصِحُّ الْعَبْدُ وَيَبْرَأُ كَمْ بَيْنَ قِيمَةِ الْعَبْدِ بَعْدَ أَنْ أَصَابَهُ الْجُرْحُ وَقِيمَتِهِ صَحِيحًا قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهُ هَذَا ثُمَّ يَغْرَمُ الَّذِي أَصَابَهُ مَا بَيْنَ الْقِيمَتَيْنِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الْعَبْدِ إِذَا كُسِرَتْ يَدُهُ أَوْ رِجْلُهُ ثُمَّ صَحَّ كَسْرُهُ فَلَيْسَ عَلَى مَنْ أَصَابَهُ شَىْءٌ فَإِنْ أَصَابَ كَسْرَهُ ذَلِكَ نَقْصٌ أَوْ عَثَلٌ كَانَ عَلَى مَنْ أَصَابَهُ قَدْرُ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِ الْعَبْدِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْقِصَاصِ بَيْنَ الْمَمَالِيكِ كَهَيْئَةِ قِصَاصِ الأَحْرَارِ نَفْسُ الأَمَةِ بِنَفْسِ الْعَبْدِ وَجُرْحُهَا بِجُرْحِهِ فَإِذَا قَتَلَ الْعَبْدُ عَبْدًا عَمْدًا خُيِّرَ سَيِّدُ الْعَبْدِ الْمَقْتُولِ فَإِنْ شَاءَ قَتَلَ وَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الْعَقْلَ فَإِنْ أَخَذَ الْعَقْلَ أَخَذَ قِيمَةَ عَبْدِهِ وَإِنْ شَاءَ رَبُّ الْعَبْدِ الْقَاتِلِ أَنْ يُعْطِيَ ثَمَنَ الْعَبْدِ الْمَقْتُولِ فَعَلَ وَإِنْ شَاءَ أَسْلَمَ عَبْدَهُ فَإِذَا أَسْلَمَهُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُ ذَلِكَ وَلَيْسَ لِرَبِّ الْعَبْدِ الْمَقْتُولِ إِذَا أَخَذَ الْعَبْدَ الْقَاتِلَ وَرَضِيَ بِهِ أَنْ يَقْتُلَهُ وَذَلِكَ فِي الْقِصَاصِ كُلِّهِ بَيْنَ الْعَبِيدِ فِي قَطْعِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ بِمَنْزِلَتِهِ فِي الْقَتْلِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الْعَبْدِ الْمُسْلِمِ يَجْرَحُ الْيَهُودِيَّ أَوِ النَّصْرَانِيَّ إِنَّ سَيِّدَ الْعَبْدِ إِنْ شَاءَ أَنْ يَعْقِلَ عَنْهُ مَا قَدْ أَصَابَ فَعَلَ أَوْ أَسْلَمَهُ فَيُبَاعُ فَيُعْطِي الْيَهُودِيَّ أَوِ النَّصْرَانِيَّ مِنْ ثَمَنِ الْعَبْدِ دِيَةَ جُرْحِهِ أَوْ ثَمَنَهُ كُلَّهُ إِنْ أَحَاطَ بِثَمَنِهِ وَلاَ يُعْطِي الْيَهُودِيَّ وَلاَ النَّصْرَانِيَّ عَبْدًا مُسْلِمًا ‏.‏
سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار کہتے تھے کہ غلام کے موضحہ میں اس کی قیمت کا بیسواں حصہ دینا ہوگا ۔ مروان بن حکم فیصلہ کرتا تھا اس شخص پر جو زخمی کرے غلام کو کہ جس قدر اس زخم کی وجہ سے اس کی قیمت میں نقصان ہوا وہ ادا کرے ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ غلام کے موضحہ میں اس کی قیمت کا بیسواں حصہ اور منقلہ میں دسواں حصہ اور بیسواں حصہ اور مامومہ اور جائفہ میں تیسرا حصہ دینا ہوگاسوائے ان کے اور طرح کے زخموں میں جس قدر قیمت میں نقصان ہو گیا دینا ہوگا جب وہ غلام اچھا ہوجائے تب دیکھیں گے کہ اس کی قیمت اس زخم سے پہلے کیا تھی اور اب کتنی ہے۔ جس قدر کمی ہوگی وہ دینی ہو گی۔ کہا مالک نے جب غلام کا ہاتھ یا پاؤں کوئی شخص توڑ ڈالے پھر وہ اچھا ہوجائے تو کچھ تاوان نہیں ہوگا البتہ اگر کسی قدر نقصان رہ جائے تو اس کا تاوان دینا ہوگا۔ کہا مالک نے غلاموں میں اور لونڈیوں میں قصاص کا حکم مثل آزادوں کے ہوگا اگر غلام لونڈی کو قصداً قتل کرے تو غلام بھی قتل کیا جائے گا اگر اس کو زخمی کرے وہ بھی زخمی کیا جائے گا ایک غلام نے دوسرے غلام کو عمداً مار ڈالا تو مقتول کے مولیٰ کو اختیار ہوگا چاہے قاتل کو قتل کرے چاہے دیت یعنی اپنے غلام کی قیمت لے لے ۔ قاتل کے مولیٰ کو اختیار ہے چاہے مقتول کی قیمت ادا کرے اور قاتل کو اپنے پاس رہنے دے چاہے قاتل ہی کو حوالے کردے اس سے زیادہ اور کچھ لازم نہ آئے گا۔ اب جب مقتول کا مولیٰ دیت پر راضی ہو کر قاتل کو لے لے تو پھر اس کو قتل نہ کرے ۔ اسی طرح اگر ایک غلام دوسرے غلام کا ہاتھ یا پاؤں کاٹے تو اس کے قصاص کا بھی یہی حکم ہے۔ کہا مالک نے اگر مسلمان غلام کسی یہودی یا نصرانی کو زخمی کرے تو غلام کے مولیٰ کو اختیار ہے چاہے دیت دے یا غلام کو حوالے کردے تو اس غلام کو بیچ کر اس کی دیت ادا کریں گے مگر وہ غلام یہودی یا نصرانی کے پاس رہ نہیں سکتا (کیونکہ مسلمان کو کافر کا محکوم کرنا درست نہیں )۔
۲۸
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۷۹
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَضَى أَنَّ دِيَةَ الْيَهُودِيِّ، أَوِ النَّصْرَانِيِّ - إِذَا قُتِلَ أَحَدُهُمَا - مِثْلُ نِصْفِ دِيَةِ الْحُرِّ الْمُسْلِمِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنْ لاَ يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ إِلاَّ أَنْ يَقْتُلَهُ مُسْلِمٌ قَتْلَ غِيْلَةٍ فَيُقْتَلُ بِهِ ‏.‏
عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ یہودی یا نصرانی کی دیت آزاد مسلمان کی دیت سے نصف ہے ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ کوئی مسلمان کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے گا مگر جب مسلمان فریب سے اس کو دھوکہ دے کر مار ڈالے تو قتل کیا جائے گا۔
۲۹
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۸۰
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، كَانَ يَقُولُ دِيَةُ الْمَجُوسِيِّ ثَمَانِي مِائَةِ دِرْهَمٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهُوَ الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَجِرَاحُ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ وَالْمَجُوسِيِّ فِي دِيَاتِهِمْ عَلَى حِسَابِ جِرَاحِ الْمُسْلِمِينَ فِي دِيَاتِهِمُ الْمُوضِحَةُ نِصْفُ عُشْرِ دِيَتِهِ وَالْمَأْمُومَةُ ثُلُثُ دِيَتِهِ وَالْجَائِفَةُ ثُلُثُ دِيَتِهِ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ جِرَاحَاتُهُمْ كُلُّهَا ‏.‏
سلیمان بن یسار کہتے تھے کہ مجوسی کی دیت آٹھ سو درہم ہے ۔ کہا مالک نے یہودی یا نصرانی کے زخموں کی دیت اسی حساب سے ہے موضحہ میں بیسواں حصہ اور مامومہ اور جائفہ میں تیسرا حصہ وقس علی ہذا۔
۳۰
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۸۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَيْسَ عَلَى الْعَاقِلَةِ عَقْلٌ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ إِنَّمَا عَلَيْهِمْ عَقْلُ قَتْلِ الْخَطَإِ ‏.‏
عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ قتل عمد میں عاقلہ پر دیت نہیں ہے عاقلہ پر خطا کی دیت ہے ۔
۳۱
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۸۲
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ مَضَتِ السُّنَّةُ أَنَّ الْعَاقِلَةَ لاَ تَحْمِلُ شَيْئًا مِنْ دِيَةِ الْعَمْدِ إِلاَّ أَنْ يَشَاءُوا ذَلِكَ ‏.‏ وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، مِثْلَ ذَلِكَ ‏
مجھے یحییٰ نے مالک کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا کہ سنت گزر چکی ہے کہ بے گناہ عورت کے خون میں سے کوئی چیز برداشت نہیں ہوتی جب تک کہ وہ جان بوجھ کر اس کا ارتکاب نہ کرے۔ وہ یہ چاہتے ہیں۔ اور یحییٰ نے مجھ سے، مالک کی سند سے، یحییٰ بن سعید کی سند سے، اسی طرح بیان کیا۔
۳۲
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۸۳
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، كَانَ يَقُولُ دِيَةُ الْمَجُوسِيِّ ثَمَانِي مِائَةِ دِرْهَمٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهُوَ الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَجِرَاحُ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ وَالْمَجُوسِيِّ فِي دِيَاتِهِمْ عَلَى حِسَابِ جِرَاحِ الْمُسْلِمِينَ فِي دِيَاتِهِمُ الْمُوضِحَةُ نِصْفُ عُشْرِ دِيَتِهِ وَالْمَأْمُومَةُ ثُلُثُ دِيَتِهِ وَالْجَائِفَةُ ثُلُثُ دِيَتِهِ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ جِرَاحَاتُهُمْ كُلُّهَا ‏.‏
مجھ سے یحییٰ نے مالک کی سند سے، یحییٰ بن سعید کی سند سے بیان کیا کہ سلیمان بن یسار کہتے تھے کہ مجوسیوں کا خون آٹھ سو درہم ہے۔ اس نے کہا: مالک، اور یہ ہمارا معاملہ ہے۔ ملک نے کہا کہ یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں کے خون کی رقم سے مسلمانوں کے زخموں کی قیمت ہے۔ ان کے خون کی رقم میں، واضح خون کی رقم اس کے خون کی رقم کا نصف دسواں ہے، خاتون پیروکار عورت اس کے خون کی رقم کا ایک تہائی ہے، اور مردہ عورت اس کے خون کی رقم کا ایک تہائی ہے، لہذا اس کی بنیاد پر، ان کے تمام زخم ہیں. .
۳۳
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۸۴
قَالَ مَالِكٌ إِنَّ ابْنَ شِهَابٍ قَالَ مَضَتِ السُّنَّةُ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ حِينَ يَعْفُو أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ أَنَّ الدِّيَةَ تَكُونُ عَلَى الْقَاتِلِ فِي مَالِهِ خَاصَّةً إِلاَّ أَنْ تُعِينَهُ الْعَاقِلَةُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ مِنْهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الدِّيَةَ لاَ تَجِبُ عَلَى الْعَاقِلَةِ حَتَّى تَبْلُغَ الثُّلُثَ فَصَاعِدًا فَمَا بَلَغَ الثُّلُثَ فَهُوَ عَلَى الْعَاقِلَةِ وَمَا كَانَ دُونَ الثُّلُثِ فَهُوَ فِي مَالِ الْجَارِحِ خَاصَّةً ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَنَا فِيمَنْ قُبِلَتْ مِنْهُ الدِّيَةُ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ أَوْ فِي شَىْءٍ مِنَ الْجِرَاحِ الَّتِي فِيهَا الْقِصَاصُ أَنَّ عَقْلَ ذَلِكَ لاَ يَكُونُ عَلَى الْعَاقِلَةِ إِلاَّ أَنْ يَشَاءُوا وَإِنَّمَا عَقْلُ ذَلِكَ فِي مَالِ الْقَاتِلِ أَوِ الْجَارِحِ خَاصَّةً إِنْ وُجِدَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يُوجَدْ لَهُ مَالٌ كَانَ دَيْنًا عَلَيْهِ وَلَيْسَ عَلَى الْعَاقِلَةِ مِنْهُ شَىْءٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءُوا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ تَعْقِلُ الْعَاقِلَةُ أَحَدًا أَصَابَ نَفْسَهُ عَمْدًا أَوْ خَطَأً بِشَىْءٍ وَعَلَى ذَلِكَ رَأْىُ أَهْلِ الْفِقْهِ عِنْدَنَا وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّ أَحَدًا ضَمَّنَ الْعَاقِلَةَ مِنْ دِيَةِ الْعَمْدِ شَيْئًا وَمِمَّا يُعْرَفُ بِهِ ذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ ‏{‏فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَىْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ‏}‏ فَتَفْسِيرُ ذَلِكَ - فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ - أَنَّهُ مَنْ أُعْطِيَ مِنْ أَخِيهِ شَىْءٌ مِنَ الْعَقْلِ فَلْيَتْبَعْهُ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيُؤَدِّ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الصَّبِيِّ الَّذِي لاَ مَالَ لَهُ وَالْمَرْأَةِ الَّتِي لاَ مَالَ لَهَا إِذَا جَنَى أَحَدُهُمَا جِنَايَةً دُونَ الثُّلُثِ إِنَّهُ ضَامِنٌ عَلَى الصَّبِيِّ وَالْمَرْأَةِ فِي مَالِهِمَا خَاصَّةً إِنْ كَانَ لَهُمَا مَالٌ أُخِذَ مِنْهُ وَإِلاَّ فَجِنَايَةُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا دَيْنٌ عَلَيْهِ لَيْسَ عَلَى الْعَاقِلَةِ مِنْهُ شَىْءٌ وَلاَ يُؤْخَذُ أَبُو الصَّبِيِّ بِعَقْلِ جِنَايَةِ الصَّبِيِّ وَلَيْسَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا قُتِلَ كَانَتْ فِيهِ الْقِيمَةُ يَوْمَ يُقْتَلُ وَلاَ تَحْمِلُ عَاقِلَةُ قَاتِلِهِ مِنْ قِيمَةِ الْعَبْدِ شَيْئًا قَلَّ أَوْ كَثُرَ وَإِنَّمَا ذَلِكَ عَلَى الَّذِي أَصَابَهُ فِي مَالِهِ خَاصَّةً بَالِغًا مَا بَلَغَ وَإِنْ كَانَتْ قِيمَةُ الْعَبْدِ الدِّيَةَ أَوْ أَكْثَرَ فَذَلِكَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ وَذَلِكَ لأَنَّ الْعَبْدَ سِلْعَةٌ مِنَ السِّلَعِ ‏.‏
مالک نے کہا کہ ابن شہاب نے کہا کہ پہلے سے سوچے سمجھے قتل کے بارے میں سنت گزر چکی ہے جب مقتول کے سرپرست معاف کر دیتے ہیں کہ خون کی رقم قاتل کو خاص طور پر اپنے مال سے ادا کرنی چاہیے۔ جب تک کہ سمجھدار عورت خوشی سے اس کی مدد نہ کرے۔ مالک نے کہا: ہمارے ہاں معاملہ یہ ہے کہ عاقل عورت پر خون کی رقم واجب نہیں ہے۔ یہ ایک تہائی اور اس سے اوپر تک پہنچتی ہے، اور جو ایک تہائی تک پہنچتی ہے وہ عقیلہ کے ذمہ ہے، اور جو ایک تہائی سے کم ہے وہ خاص طور پر متعصب شخص کے مال میں ہے۔ مالک الامر نے کہا۔ جس میں ہمارے ہاں اس کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ جس سے قصداً قتل کی صورت میں خون بہا لیا جائے یا جس زخم کا بدلہ لیا جائے، وہ عقلی ہے۔ یہ عقلمندوں کی ذمہ داری نہیں ہے جب تک وہ نہ چاہیں، اور اس کی وجہ صرف قاتل یا مجرم کے مال میں ہے، خاص طور پر اگر اس کے پاس مال ہو، اور اگر اس کے پاس کوئی مال نہ ہو جو اس پر قرض ہے، اور عقلی عورت پر اس میں سے کچھ لینا واجب نہیں ہے جب تک کہ وہ نہ چاہیں۔ مالک رحمہ اللہ نے کہا: اور عقلی عورت اس شخص کا حق قبول نہیں کرتی جس نے کچھ غلط کیا ہو۔ اس نے خود جان بوجھ کر یا اتفاقاً کوئی کام کیا اور اس پر ہمارے فقہی علماء کا اتفاق ہے اور میں نے نہیں سنا کہ کسی نے جان بوجھ کر عقیلہ کی ضمانت دی ہو۔ ایک چیز جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدائے بزرگ و برتر نے اپنی کتاب میں فرمایا: اس کے ساتھ نیکی کے ساتھ۔} پس اس کی تعبیر - جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں اور خدا ہی بہتر جانتا ہے - یہ ہے کہ جس کو اس کے بھائی کی طرف سے عقل کی علامت دی گئی ہے وہ اس کی پیروی کرے ۔ اور اس کو احسان سے نوازا جائے۔ مالک نے اس لڑکے کے بارے میں کہا جس کے پاس پیسے نہیں ہیں اور اس عورت کے بارے میں جس کے پاس پیسہ نہیں ہے اگر ان میں سے کوئی جرم کرے تو تیسرا لڑکا اور عورت ان کی جائیداد کے بارے میں ضامن ہے، خاص طور پر اگر ان کے پاس کوئی جائیداد ہو جو اس سے لی گئی ہو۔ ورنہ ان میں سے ہر ایک کا جرم اس پر قرض ہے۔ آزاد عورت اس میں سے کچھ کرنے کی پابند نہیں ہے، اور لڑکے کے والد کو بچے کے جرم کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا، اور یہ اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ملک نے کہا ہمارے ہاں معاملہ جس میں کوئی اختلاف نہیں وہ یہ ہے کہ غلام کو قتل کر دیا جائے تو اس کی قیمت اسی دن ہوگی جس دن وہ مارا جائے گا اور اس کے قاتل کی لونڈی اس کی کوئی قیمت برداشت نہیں کرے گی۔ غلام خواہ کوئی بھی ہو خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، صرف اس کی ذمہ داری ہے جس نے اسے اس کی جائیداد کے ساتھ وصیت کی ہے، خاص طور پر اس کی عمر تک، چاہے غلام کی قیمت خون کی رقم ہو یا خون کی رقم۔ جتنا اس کے مال میں ہے اور وہ اس لیے کہ غلام ایک شے ہے۔
۳۴
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۸۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، نَشَدَ النَّاسَ بِمِنًى مَنْ كَانَ عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الدِّيَةِ أَنْ يُخْبِرَنِي ‏.‏ فَقَامَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلاَبِيُّ فَقَالَ كَتَبَ إِلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ادْخُلِ الْخِبَاءَ حَتَّى آتِيَكَ فَلَمَّا نَزَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ فَقَضَى بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَكَانَ قَتْلُ أَشْيَمَ خَطَأً ‏.‏
ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلایا لوگوں کو منی میں اور کہا کہ جس شخص کو دیت کا مسئلہ معلوم ہو وہ بیان کرے مجھ سے، تو ضحاک بن سفیان کلابی کھڑے ہوئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے لکھ بھیجا تھا کہ اشیم ضبابی کی عورت کو میراث دلاؤں اشیم کی دیت میں سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تو خیمے میں جا جب تک میں آؤں جب تک حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو ضحاک نے یہی بیان کیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی کا حکم کیا ابن شہاب نے کہ اشیم خطا سے مارا گیا تھا ۔
۳۵
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۸۶
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ - يُقَالُ لَهُ قَتَادَةُ - حَذَفَ ابْنَهُ بِالسَّيْفِ فَأَصَابَ سَاقَهُ فَنُزِيَ فِي جُرْحِهِ فَمَاتَ فَقَدِمَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ اعْدُدْ عَلَى مَاءِ قُدَيْدٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ بَعِيرٍ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَيْكَ فَلَمَّا قَدِمَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخَذَ مِنْ تِلْكَ الإِبِلِ ثَلاَثِينَ حِقَّةً وَثَلاَثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً ثُمَّ قَالَ أَيْنَ أَخُو الْمَقْتُولِ قَالَ هَا أَنَا ذَا ‏.‏ قَالَ خُذْهَا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏
عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بنی مدلج میں سے جس کا نام قتادہ تھا اپنے لڑکے کو تلوار ماری وہ اس کے پنڈلی میں لگی خون بند نہ ہوا آخر مر گیا تو سراقہ بن جعشم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا قدید کے پاس ایک سو بیس اونٹ تیار رکھ جب تک میں وہاں آؤں جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں آئے تو ان اونٹوں میں سے تین حقے اور بیس جزعے لئے اور چالیس حقے لئے پھر کہا کون ہے مقتول کا بھائی؟ اس نے کہا کیوں میں موجود ہوں نا! کہا تو یہ سب اونٹ لے لے اس واسطے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قاتل کو میراث نہیں ملتی سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ ماہ حرام میں اگر کوئی قتل کرے تو دیت میں سختی کریں گے انہوں نے کہا نہیں بلکہ بڑھا دیں گے بوجہ ان مہینوں کی حرمت کے پھر سعید سے پوچھا کہ اگر کوئی زخمی کرے ان مہینوں میں تو اس کی بھی دیت بڑھا دیں گے جیسسے قتل کی دیت بڑھا دیں گے سعید نے کہا ہاں ۔
۳۶
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۸۷
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، سُئِلاَ أَتُغَلَّظُ الدِّيَةُ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَقَالاَ لاَ وَلَكِنْ يُزَادُ فِيهَا لِلْحُرْمَةِ ‏.‏ فَقِيلَ لِسَعِيدٍ هَلْ يُزَادُ فِي الْجِرَاحِ كَمَا يُزَادُ فِي النَّفْسِ فَقَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ أُرَاهُمَا أَرَادَا مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عَقْلِ الْمُدْلِجِيِّ حِينَ أَصَابَ ابْنَهُ ‏.‏
مالک نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ سعید بن المسیب اور سلیمان بن یسار سے پوچھا گیا کہ کیا حرمت والے مہینے میں خون کی رقم بڑھائی جائے تو انہوں نے کہا نہیں، بلکہ بڑھانا چاہیے۔ یہ تقدس کی خاطر ہے۔ پھر سعید سے کہا گیا کہ کیا اس سے زخموں میں اضافہ ہوگا اور جانی نقصان بھی؟ اس نے کہا ’’ہاں‘‘۔ مالک نے کہا کہ میں انہیں دیکھ رہا ہوں۔ وہ کچھ ایسا ہی چاہتے تھے جو عمر ابن الخطاب نے المدلجی کے ذہن میں کیا تھا جب اس نے اپنے بیٹے کو زخمی کیا تھا۔
۳۷
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۸۸
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ - يُقَالُ لَهُ أُحَيْحَةُ بْنُ الْجُلاَحِ - كَانَ لَهُ عَمٌّ صَغِيرٌ هُوَ أَصْغَرُ مِنْ أُحَيْحَةَ وَكَانَ عِنْدَ أَخْوَالِهِ فَأَخَذَهُ أُحَيْحَةُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ أَخْوَالُهُ كُنَّا أَهْلَ ثُمِّهِ وَرُمِّهِ حَتَّى إِذَا اسْتَوَى عَلَى عُمَمِهِ غَلَبَنَا حَقُّ امْرِئٍ فِي عَمِّهِ ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَلِذَلِكَ لاَ يَرِثُ قَاتِلٌ مَنْ قَتَلَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّ قَاتِلَ الْعَمْدِ لاَ يَرِثُ مِنْ دِيَةِ مَنْ قَتَلَ شَيْئًا وَلاَ مِنْ مَالِهِ وَلاَ يَحْجُبُ أَحَدًا وَقَعَ لَهُ مِيرَاثٌ وَأَنَّ الَّذِي يَقْتُلُ خَطَأً لاَ يَرِثُ مِنَ الدِّيَةِ شَيْئًا وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي أَنْ يَرِثَ مِنْ مَالِهِ لأَنَّهُ لاَ يُتَّهَمُ عَلَى أَنَّهُ قَتَلَهُ لِيَرِثَهُ وَلِيَأْخُذَ مَالَهُ فَأَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ يَرِثَ مِنْ مَالِهِ وَلاَ يَرِثُ مِنْ دِيَتِهِ ‏.‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ایک شخص انصار کا جس کا نام احیحہ بن جلاح تھا اس سے چھوٹا چچا تھا وہ اپنی ننہیال میں تھا اس کو احیحہ نے لے کر مار ڈالا اس کے ننہیال کے لوگوں نے کہا ہم نے پالا پرورش کیا جب جوان ہوا تو اس کا بھتیجا ہم پر غالب آیا اور اسی نے لے لیا عروہ نے کہا اس وجہ سے قاتل مقتول کا وارث نہیں ہوتا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ قتل عمد کرنے والا مقتول کی دیت کا وارث نہیں ہوتا نہ اس کے مال کا نہ وہ کسی وارث کو محروم کرسکتا ہے اور قتل خطا کرنے والادیت کا وارث نہیں ہوتا لیکن اور مال کا وارث ہوتا ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے میرے نزدیک اور مال کا وارث ہو گا۔
۳۸
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۸۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ جَرْحُ الْعَجْمَاءِ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ ‏"‏ ‏.‏
مجھ سے یحییٰ نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، سعید بن المسیب کی سند سے اور میرے والد سلمہ بن عبدالرحمٰن کی روایت سے، ابوہریرہ کی روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زخم مضبوط ہے اور میری طاقت ہے، مضبوط اور مضبوط ہے۔ پانچ دھاتوں میں طاقتور ہے۔
۳۹
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۹۰
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَتَلَ نَفَرًا خَمْسَةً أَوْ سَبْعَةً بِرَجُلٍ وَاحِدٍ قَتَلُوهُ قَتْلَ غِيلَةٍ وَقَالَ عُمَرُ لَوْ تَمَالأَ عَلَيْهِ أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ جَمِيعًا ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانچ یا سات آدمیوں کو ایک شخص کے بدلے میں قتل کیا انہوں نے دھوکا دے کر اس کو مار ڈالا تھا پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اگر سارے صنعا والے اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کرتا۔
۴۰
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۹۱
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ حَفْصَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَتَلَتْ جَارِيَةً لَهَا سَحَرَتْهَا وَقَدْ كَانَتْ دَبَّرَتْهَا فَأَمَرَتْ بِهَا فَقُتِلَتْ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ السَّاحِرُ الَّذِي يَعْمَلُ السِّحْرَ وَلَمْ يَعْمَلْ ذَلِكَ لَهُ غَيْرُهُ هُوَ مَثَلُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي كِتَابِهِ ‏{‏وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاَقٍ‏}‏ فَأَرَى أَنْ يُقْتَلَ ذَلِكَ إِذَا عَمِلَ ذَلِكَ هُوَ نَفْسُهُ ‏.‏
حضرت ام المومنین حفصہ نے ایک لونڈی کو قتل کیا جس نے ان پر جادو کیا تھا اور پہلے آپ اس کو مدبر کر چکی تھیں پھر حکم کیا اس کے قتل کا تو قتل کی گئیں ۔ کہا مالک نے جو شخص جادو جانتا ہے اور اس کو کام میں لاتا ہے اس کا قتل کرنا مناسب ہے۔
۴۱
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۹۲
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ، مَوْلَى عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ، أَقَادَ وَلِيَّ رَجُلٍ مِنْ رَجُلٍ قَتَلَهُ بِعَصًا فَقَتَلَهُ وَلِيُّهُ بِعَصًا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا ضَرَبَ الرَّجُلَ بِعَصًا أَوْ رَمَاهُ بِحَجَرٍ أَوْ ضَرَبَهُ عَمْدًا فَمَاتَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ الْعَمْدُ وَفِيهِ الْقِصَاصُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَقَتْلُ الْعَمْدِ عِنْدَنَا أَنْ يَعْمِدَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فَيَضْرِبَهُ حَتَّى تَفِيظَ نَفْسُهُ وَمِنَ الْعَمْدِ أَيْضًا أَنْ يَضْرِبَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي النَّائِرَةِ تَكُونُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ عَنْهُ وَهُوَ حَىٌّ فَيُنْزَى فِي ضَرْبِهِ فَيَمُوتُ فَتَكُونُ فِي ذَلِكَ الْقَسَامَةُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ يُقْتَلُ فِي الْعَمْدِ الرِّجَالُ الأَحْرَارُ بِالرَّجُلِ الْحُرِّ الْوَاحِدِ وَالنِّسَاءُ بِالْمَرْأَةِ كَذَلِكَ وَالْعَبِيدُ بِالْعَبْدِ كَذَلِكَ ‏.‏
کہا مالک نے ایک شخص نے دوسرے کو لکڑی سے مار ڈالا عبدالملک بن مروان نے قاتل کو ولی مقتول کے حوالے کیا اس نے بھی اس کو لکڑی سے مار ڈالا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو لکڑی یا پتھر سے قصداً مارے اور وہ ہلاک ہو جائے تو قصاص لیا جائے گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک قتل عمد یہی ہے کہ ایک آدمی دوسرے کو قصداً مارے یہاں تک کہ اس کا دم نکل جائے اور یہ بھی قتل عمد ہے کہ ایک شخص سے دشمنی ہو اس کو ایک ضرب لگا کر چلا آئے اس وقت وہ زندہ ہو بعد اس کے اسی ضرب سے مر جائے اس میں قسامت واجب ہوگی ۔ کہا مالک نے قتل عمد میں ایک شخص آزاد کے عوض میں کئی شخص آزاد مارے جائیں گے کہ جب سب قتل میں شریک ہوں اسی طرح عورتوں اور غلاموں میں بھی حکم ہوگا۔
۴۲
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۹۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ يَذْكُرُ أَنَّهُ أُتِيَ بِسَكْرَانَ قَدْ قَتَلَ رَجُلاً فَكَتَبَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ أَنِ اقْتُلْهُ بِهِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي تَأْوِيلِ هَذِهِ الآيَةِ قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ‏{‏الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ ‏}‏ فَهَؤُلاَءِ الذُّكُورُ ‏{‏وَالأُنْثَى بِالأُنْثَى‏}‏ أَنَّ الْقِصَاصَ يَكُونُ بَيْنَ الإِنَاثِ كَمَا يَكُونُ بَيْنَ الذُّكُورِ وَالْمَرْأَةُ الْحُرَّةُ تُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ كَمَا يُقْتَلُ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالأَمَةُ تُقْتَلُ بِالأَمَةِ كَمَا يُقْتَلُ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْقِصَاصُ يَكُونُ بَيْنَ النِّسَاءِ كَمَا يَكُونُ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالْقِصَاصُ أَيْضًا يَكُونُ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ ‏{‏وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالأَنْفَ بِالأَنْفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ‏}‏ فَذَكَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ فَنَفْسُ الْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ بِنَفْسِ الرَّجُلِ الْحُرِّ وَجُرْحُهَا بِجُرْحِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يُمْسِكُ الرَّجُلَ لِلرَّجُلِ فَيَضْرِبُهُ فَيَمُوتُ مَكَانَهُ أَنَّهُ إِنْ أَمْسَكَهُ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ يُرِيدُ قَتْلَهُ قُتِلاَ بِهِ جَمِيعًا وَإِنْ أَمْسَكَهُ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ إِنَّمَا يُرِيدُ الضَّرْبَ مِمَّا يَضْرِبُ بِهِ النَّاسُ لاَ يَرَى أَنَّهُ عَمَدَ لِقَتْلِهِ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ الْقَاتِلُ وَيُعَاقَبُ الْمُمْسِكُ أَشَدَّ الْعُقُوبَةِ وَيُسْجَنُ سَنَةً لأَنَّهُ أَمْسَكَهُ وَلاَ يَكُونُ عَلَيْهِ الْقَتْلُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَقْتُلُ الرَّجُلَ عَمْدًا أَوْ يَفْقَأُ عَيْنَهُ عَمْدًا فَيُقْتَلُ الْقَاتِلُ أَوْ تُفْقَأُ عَيْنُ الْفَاقِئِ
امام مالک نے کئی اچھے عالموں سے سنا کہ وہ کہتے تھے کہ جب مقتول مرتے وقت اپنے قاتل کو معاف کر دے تو درست ہے قتل عمد میں اس کو اپنے خون کا زیادہ اختیار ہے وارثوں سے ۔ کہا مالک نے جو شخص قاتل کو عمدا معاف کردے تو قاتل پر دیت لازم نہ ہوگی مگر جب کہ قصاص عفو (معاف) کر کے دیت ٹھہرا لے۔ کہا مالک نے اگر قاتل کو مقتول معاف کردے تب بھی قاتل کو سو کوڑے لگائیں گے اور ایک سال تک قید کریں گے۔ کہا مالک نے جب کوئی شخص عمداً مارا گیا اور گواہوں سے قتل ثابت ہوا اور مقتول کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں بیٹوں نے تو معاف کردیا لیکن بیٹیوں نے معاف نہ کیا تو بیٹیوں کے معاف کرنے سے کچھ خلل واقع نہ ہوگا بلکہ خون معاف ہوجائے گا کیونکہ بیٹوں کے ہوتے ہوئے ان کو اختیار نہیں ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو شخص کسی کا ہاتھ یا پاؤں توڑ ڈالے تو اس سے قصاص لیا جائے گا دیت لازم نہ آئے گی۔ کہا مالک نے زخم کا قصاص نہ لیا جائے گا جب تک کہ وہ شخص اچھا نہ ہو لے جب وہ اچھا جائے گا تو قصاص لیں گے اب اگر جارح کا بھی زخم اچھا ہو کر مجروح کے مثل ہوگیا تو بہتر نہیں تو اگر جارح کا زخم بڑھ گیا اور جارح اسی کی وجہ سے مر گیا تو مجروح پر کچھ تاوان نہ ہوگا اگر جارح کا زخم بالکل اچھا ہوگیا اور مجروح کا ہاتھ شل ہوگیا یا اور کوئی نقص رہ گیا تو پھر جارح سے قصاص نہ لیا جائے گا لیکن بقدر نقصان کے دیت اس سے وصول کی جائے گی۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے اپنی عورت کی آنکھ پھوڑ دی یا اس کا ہاتھ توڑ ڈالا یا اس کی انگلی کاٹ ڈالی قصداً تو اس سے قصاص لیا جائے گا البتہ اگر اپنی عورت کو تنبیہاً رسی یا کوڑے سے مارے اور بلاقصد کسی مقام پر لگ کر زخم ہوجائے یا نقصان ہوجائے تو دیت لازم آئے گی قصاص نہ ہوگا۔ امام مالک کو پہنچا کہ ابوبکر بن حزم نے قصاص لیا ران توڑنے کا ۔
۴۳
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۹۴
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَقَادَ مِنْ كَسْرِ الْفَخِذِ ‏.‏
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو شخص کسی کا ہاتھ یا پاؤں توڑ ڈالے تو اس سے قصال لیا جائے گا دیت لازم نہ آئے گی۔ کہا مالک نے زخم کا قصاص نہ لیا جائے گا جب تک کہ وہ شخص اچھا نہ ہولے جب وہ اچھا ہوجائے تو قصاص لیں گے اب اگر جارح کا بھی زخم اچھا ہو کر مجروح کے مثل ہوگیا تو بہتر نہیں تو اگر جارح کا زخم بڑھ گیا اور جارح اسی کی وجہ سے مرگیا تو مجروح پر کچھ تاوان نہ ہوگا اگر جارح کا زخم بالکل اچھا ہوگیا اور مجروح کا ہاتھ شل ہوگیا یا اور کوئی نقص رہ گیا تو پھر جارح سے قصاص نہ لیا جائے گا لیکن بقدر نقصان کے دیت اس سے وصول کی جائے گی۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے اپنی عورت کی آنکھ پھوڑ دی یا اس کا ہاتھ توڑ ڈالا یا اس کی انگلی کاٹ ڈالی قصا تو اس سے قصاص لیا جائے گا البہ اگر اپنی عورت کو تنبیہا رسی یا کوڑے سے مارے اور بلا قصد کسی مقام پر لگ کر زخم ہوجائے یا نقصان ہوجائے تو دیت لازم آئے گی قصاص نہ ہوگا۔ حضرت امام مالک کو پہنچا کہ ابابکر بن حزم نے قصاص لیا ران توڑنے کا
۴۴
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۹۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ سَائِبَةً، أَعْتَقَهُ بَعْضُ الْحُجَّاجِ فَقَتَلَ ابْنَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَائِذٍ فَجَاءَ الْعَائِذِيُّ أَبُو الْمَقْتُولِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَطْلُبُ دِيَةَ ابْنِهِ فَقَالَ عُمَرُ لاَ دِيَةَ لَهُ ‏.‏ فَقَالَ الْعَائِذِيُّ أَرَأَيْتَ لَوْ قَتَلَهُ ابْنِي فَقَالَ عُمَرُ إِذًا تُخْرِجُونَ دِيَتَهُ فَقَالَ هُوَ إِذًا كَالأَرْقَمِ إِنْ يُتْرَكْ يَلْقَمْ وَإِنْ يُقْتَلْ يَنْقَمْ ‏.‏
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ایک سائبہ نے جس کو کسی حاجی نے آزاد کر دیا تھا ایک شخص کے بیٹے کو جو بنی عاذ میں تھا مار ڈالا مقتول کا باپ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس اپنے بیٹے کی دیت مانگنے آیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس کے لئے دیت نہیں ہے وہ شخص بولا اگر میرا بیٹا سائبہ کو مار ڈالتا تو تم کیا حکم کرتے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اس وقت تم کو اس کی دیت ادا کرنی ہوتی وہ شخص بولا پھر تو سائبہ کیا ہے ایک چتلا سانپ ہے اگر چھوڑ دو تو ڈس لے اگر مارو تو بدلہ لے ۔