قسامہ
ابواب پر واپس
۰۱
مؤطا امام مالک # ۴۴/۱۵۹۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ رِجَالٌ، مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ أَنَّ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرِ بِئْرٍ أَوْ عَيْنٍ فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ . فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ . فَأَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُمْ ذَلِكَ ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لِيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَبِّرْ كَبِّرْ " يُرِيدُ السِّنَّ فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ " . فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ فَكَتَبُوا إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ " أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ " . فَقَالُوا لاَ . قَالَ " أَفَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ " قَالُوا لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ . فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عِنْدِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ . قَالَ سَهْلٌ لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ .
سہل بن ابی حثمہ کو خبر دی کچھ لوگوں نے جو اس کی قوم کے معزز تھے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ فقر اور افلاس کی وجہ سے خبیر کو گئے محیصہ کے پاس ایک شخص آیا اور بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل کو کسی نے قتل کر کے کنوئیں میں یا چشمے میں ڈال دیا ہے محیصہ یہ سن کر خیبر کے یہودیوں کے پاس آئے اور کہا قسم اللہ کی تم نے اس کو قتل کیا ہے یہودیوں نے کہا قسم اللہ کی ہم نے قتل نہیں کیا اس کو، پھر محیصہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا بعد اس کے محیصہ اور ان کے بھائی حویصہ جو محیصہ سے بڑے تھے اور عبدالرحمن بن سہل (جو عبداللہ بن سہل مقتول کے بھائی تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے محیصہ نے چاہا کہ میں بات کروں کیونکہ وہی خبیر کو گئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بزرگی کی رعایت کر۔ حویصہ نے پہلے بیان کیا پھر محیصہ نے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو یہودی تمہارے قتل کی دیت دیں یا جنگ کریں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کو اس بارے میں لکھا انہوں نے جواب میں لکھا کہ قسم اللہ کی ہم نے اس کو قتل نہیں کیا تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حویصہ اور محیصہ اور عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا تم قسم کھاؤ کہ یہودیوں نے اس کو مارا ہے تو دیت کے حقدار ہو گے انہوں نے کہا ہم قسم نہ کھائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اچھا اگر یہودی قسم کھالیں کہ ہم نے نہیں مارا انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ مسلمان نہیں ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاس سے دیت ادا کی سہل کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پاس سو اونٹ بھیجے ان کے گھروں پر ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۴۴/۱۵۹۷
قال يحيى؛ عن مالك، عن [يحيى بن سعيد]، عن [بوصير بن يسار] أنه أخبره أن عبد الله بن سهل الأنصاري ومحيشة بن مسعود خرجا إلى خيبر، فتفرقا في حاجتهما. حتى قُتل عبد الله بن سهل على يد أحدهم. فقدم محيشة (المدينة)، ثم مثل هو وإخوانه حويشة وعبد الرحمن بن سهل أمام النبي صلى الله عليه وسلم. بدأ عبد الرحمن الحديث لأنه شعر وكأنه شقيق الضحية. لكن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "الكبيرة الكبيرة". ثم روى حويشة ومحيشة ما حدث لعبد الله بن سهل. فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أتحلفون خمسين مرة، ويكون لكم حق في دماء أصحابكم؟" أجابوا؛ "يا رسول الله، لم نشهده ولا شهدنا ذلك الوقت". فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم مرة أخرى: "أيفلت اليهود منك بالحلف خمسين مرة؟" أجابوا؛ "يا رسول الله كيف نقبل يمين الكفار؟" وقال يحيى بن سعيد؛ "ثم قال بصير بن يسار أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أدى الدية من ماله."
یحییٰ نے کہا: مالک کی سند سے، [یحییٰ بن سعید] کی سند سے، [بصیر بن یسار] کی سند سے کہ انہوں نے ان سے کہا کہ عبداللہ بن سہل الانصاری اور محیشہ بن مسعود خیبر گئے، اور اپنی ضرورت کے لیے الگ ہوگئے۔ یہاں تک کہ عبداللہ بن سہل کو ان میں سے ایک نے قتل کر دیا۔ وہ محیشہ (مدینہ منورہ) تشریف لائے، پھر وہ اپنے بھائی حویشہ اور عبدالرحمٰن بن سہل کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عبدالرحمن نے بات شروع کی کیونکہ اسے لگتا تھا کہ وہ مقتول کا بھائی ہے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں نازل ہوئیں "بڑا،" اس نے کہا۔ پھر حویشہ اور محیشہ نے عبداللہ بن سہل کا واقعہ بیان کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم پچاس بار قسم کھاتے ہو اور اپنے ساتھیوں کے خون کا حق رکھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہم نے اس کا مشاہدہ نہیں کیا اور نہ ہی ہم نے اسے دیکھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: کیا یہود پچاس بار قسم کھا کر تم سے بھاگ سکتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا؛ یا رسول اللہ ہم کافر کی قسم کیسے قبول کریں؟ یحییٰ بن سعید نے کہا: پھر فرمایا بصیر بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خون کی رقم اپنے پیسے سے ادا کی۔