Knowledge کے بارے میں احادیث
۱۲۵۴ مستند احادیث ملیں
صحیح بخاری : ۱۰۱
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ ". قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقَالَ هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ.
ہم سے عبداللہ بن یزید مقری مکی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا، انہوں نے مجھ سے یزید بن عبداللہ بن الہاد نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم بن الحارث نے، ان سے بسر بن سعید نے، ان سے عمرو بن العاص کے مولیٰ ابو قیس نے، ان سے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حاکم کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور جب کسی فیصلہ میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے اکہرا ثواب ملتا ہے ( اجتہاد کا ) بیان کیا کہ پھر میں نے یہ حدیث ابوبکر بن عمرو بن حزم سے بیان کی تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اسی طرح بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ اور عبدالعزیز بن المطلب نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بیان فرمایا۔
صحیح بخاری : ۱۰۲
عبید اللہ رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَىْءٍ، وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحْدَثُ، تَقْرَءُونَهُ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ وَقَدْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ بَدَّلُوا كِتَابَ اللَّهِ وَغَيَّرُوهُ وَكَتَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الْكِتَابَ وَقَالُوا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ. لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلاً، أَلاَ يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مَسْأَلَتِهِمْ، لاَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِنْهُمْ رَجُلاً يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں کیوں پوچھتے ہو جب کہ تمہاری کتاب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ تازہ بھی ہے اور محفوظ بھی اور تمہیں اس نے بتا بھی دیا کہ اہل کتاب نے اپنا دین بدل ڈالا اور اللہ کی کتاب میں تبدیلی کر دی اور اسے اپنے ہاتھ سے از خود بنا کر لکھا اور کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ دنیا کا تھوڑا سا مال کما لیں۔ تمہارے پاس ( قرآن و حدیث کا ) جو علم ہے وہ تمہیں ان سے پوچھنے سے منع کرتا ہے۔ واللہ! میں تو نہیں دیکھتا کہ اہل کتاب میں سے کوئی تم سے اس کے بارے میں پوچھتا ہو جو تم پر نازل کیا گیا ہو۔
صحیح بخاری : ۱۰۳
مسروق رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ وَهْوَ يَقُولُ {لاَ تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ} وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ الْغَيْبَ فَقَدْ كَذَبَ، وَهْوَ يَقُولُ لاَ يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلاَّ اللَّهُ.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے شعبی نے بیان کیا، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اگر تم سے کوئی یہ کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا تو وہ غلط کہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں خود کہتا ہے کہ نظریں اس کو دیکھ نہیں سکتیں اور جو کوئی کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے تھے تو غلط کہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خود کہتا ہے کہ غیب کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں۔
صحیح بخاری : ۱۰۴
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيُّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُ أَصْحَابَهُ الاِسْتِخَارَةَ فِي الأُمُورِ كُلِّهَا، كَمَا يُعَلِّمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ
" إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ لِيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الأَمْرَ ـ ثُمَّ تُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ ـ خَيْرًا لِي فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ ـ قَالَ أَوْ فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ـ فَاقْدُرْهُ لِي، وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ـ أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ ـ فَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ ".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی الموالی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے محمد بن المنکدر سے سنا، وہ عبداللہ بن حسن سے بیان کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ مجھے جابر بن عبداللہ سلمیٰ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو ہر مباح کام میں استخارہ کرنا سکھاتے تھے جس طرح آپ قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا مقصد کرے تو اسے چاہئے کہ فرض کے سوا دو رکعت نفل نماز پڑھے، پھر سلام کے بعد یہ دعا کرے ”اے اللہ! میں تیرے علم کے طفیل اس کام میں خیریت طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے طفیل طاقت مانگتا ہوں اور تیرا فضل۔ کیونکہ تجھے قدرت ہے اور مجھے نہیں ‘، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیوب کا بہت جاننے والا ہے۔ اے اللہ! پس اگر تو یہ بات جانتا ہے ( اس وقت استخارہ کرنے والے کو اس کام کا نام لینا چاہئیے ) کہ اس کام میں میرے لیے دنیا و آخرت میں بھلائی ہے یا اس طرح فرمایا کہ ”میرے دین میں اور گزران میں اور میرے ہر انجام کے اعتبار سے بھلائی ہے تو اس پر مجھے قادر بنا دے اور میرے لیے اسے آسان کر دے، پھر اس میں میرے لیے برکت عطا فرما۔ اے اللہ! اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے۔ میرے دین اور گزراہ کے اعتبار سے اور میرے انجام کے اعتبار سے، یا فرمایا کہ میری دنیا و دین کے اعتبار سے تو مجھے اس کام سے دور کر دے اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے جہاں بھی وہ ہو اور پھر مجھے اس پر راضی اور خوش رکھ۔
صحیح بخاری : ۱۰۵
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
وَقَالَ حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُحْبَسُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُهِمُّوا بِذَلِكَ فَيَقُولُونَ لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَيُرِيحُنَا مِنْ مَكَانِنَا. فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ آدَمُ أَبُو النَّاسِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلاَئِكَتَهُ، وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَىْءٍ، لِتَشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، قَالَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ ـ قَالَ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ أَكْلَهُ مِنَ الشَّجَرَةِ وَقَدْ نُهِيَ عَنْهَا ـ وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ. فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ ـ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ سُؤَالَهُ رَبَّهُ بِغَيْرِ عِلْمٍ ـ وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ. قَالَ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ـ وَيَذْكُرُ ثَلاَثَ كَلِمَاتٍ كَذَبَهُنَّ ـ وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا آتَاهُ اللَّهُ التَّوْرَاةَ وَكَلَّمَهُ وَقَرَّبَهُ نَجِيًّا. قَالَ فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ـ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ قَتْلَهُ النَّفْسَ ـ وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَرُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ. قَالَ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم عَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ. فَيَأْتُونِي فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي فَيَقُولُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَ ـ قَالَ ـ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأَخْرُجُ فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ". قَالَ قَتَادَةُ وَسَمِعْتُهُ أَيْضًا يَقُولُ " فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يَقُولُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَ ـ قَالَ ـ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ـ قَالَ ـ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأَخْرُجُ فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ". قَالَ قَتَادَةُ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ الثَّالِثَةَ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يَقُولُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ ـ قَالَ ـ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ـ قَالَ ـ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأَخْرُجُ فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ". قَالَ قَتَادَةُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ " فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، حَتَّى مَا يَبْقَى فِي النَّارِ إِلاَّ مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ أَىْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ ـ قَالَ ـ ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآيَةَ {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا} قَالَ وَهَذَا الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي وُعِدَهُ نَبِيُّكُمْ صلى الله عليه وسلم ".
اور حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے حمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ بن دعامہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن مومنوں کو ( گرم میدان میں ) روک دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی وجہ سے وہ غمگین ہو جائیں گے اور ( صلاح کر کے ) کہیں گے کہ کاش کوئی ہمارے رب سے ہماری شفاعت کرتا کہ ہمیں اس حالت سے نجات ملتی۔ چنانچہ وہ مل کر آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ انسانوں کے باپ ہیں، اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کو جنت میں مقام عطا کیا، آپ کو سجدہ کرنے کا فرشتوں کو حکم دیا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے۔ آپ ہماری شفاعت اپنے رب کے حضور میں کریں تاکہ ہمیں اس حالت سے نجات دے۔ بیان کیا کہ آدم علیہ السلام کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں وہ اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو باوجود رکنے کے درخت کھا لینے کی وجہ سے ان سے ہوئی تھی اور کہیں گے کہ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ پہلے نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا۔ چنانچہ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی یہ فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں اور اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو بغیر علم کے اللہ رب العزت سے سوال کر کے ( اپنے بیٹے کی بخشش کے لیے ) انہوں نے کی تھی اور کہیں گے کہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے خلیل ہیں۔ بیان کیا کہ ہم سب لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی یہی عذر کریں گے کہ میں اس لائق نہیں اور وہ ان تین باتوں کو یاد کریں گے جن میں آپ نے بظاہر غلط بیانی کی تھی اور کہیں گے کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے بندے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے توریت دی اور ان سے بات کی اور ان کو نزدیک کر کے ان سے سرگوشی کی۔ بیان کیا کہ پھر لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں اور وہ غلطی یاد کریں گے جو ایک شخص کو قتل کر کے انہوں نے کی تھی۔ ( وہ کہیں گے ) البتہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول، اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ چنانچہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے بندے ہیں کہ اللہ نے ان کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے۔ چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے اور میں اپنے رب سے اس کے در دولت یعنی عرش معلی پر آنے کے لیے اجازت چاہوں گا۔ مجھے اس کی اجازت دی جائے گی پھر میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتے ہی سجدہ میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے جب تک چاہے گا اسی حالت میں رہنے دے گا۔ پھر فرمائے گا کہ اے محمد! سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، جو مانگو گے دیا جائے گا۔ بیان کیا کہ پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی حمد و ثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ بیان کیا کہ پھر میں شفاعت کروں گا۔ چنانچہ میرے لیے حد مقرر کی جائے گی اور میں اس کے مطابق لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ پھر میں نکالوں گا اور جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ پھر تیسری مرتبہ اپنے رب سے اس کے در دولت کے لیے اجازت چاہوں گا اور مجھے اس کی اجازت دی جائے گی۔ پھر میں اللہ رب العزت کو دیکھتے ہی اس کے لیے سجدہ میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے یوں ہی چھوڑے رکھے گا۔ پھر فرمائے گا: اے محمد! سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا شفاعت کرو قبول کی جائے گی، مانگو دیا جائے گا۔ آپ نے بیان کیا کہ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی ایسی حمد و ثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا بیان کیا کہ پھر شفاعت کروں گا اور میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گا اور میں اس کے مطابق جہنم سے لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ پھر میں لوگوں کو نکالوں گا اور انہیں جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا، یہاں تک کہ جہنم میں صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں قرآن نے روک رکھا ہو گا یعنی انہیں ہمیشہ ہی اس میں رہنا ہو گا ( یعنی کفار و مشرکین ) پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا» ”قریب ہے کہ آپ کا رب مقام محمود پر آپ کو بھیجے گا“ فرمایا کہ یہی وہ مقام محمود ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا ہے۔
صحیح بخاری : ۱۰۶
عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ وَهْوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ، فَمَرَّ بِقَوْمٍ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ تَسْأَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ. فَسَأَلُوهُ فَقَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى الْعَسِيبِ وَأَنَا خَلْفَهُ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ فَقَالَ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً} فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ قَدْ قُلْنَا لَكُمْ لاَ تَسْأَلُوهُ.
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع بن جراح نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں جا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کی چھڑی پر ٹیکا لیتے جاتے تھے۔ پھر آپ یہودیوں کی ایک جماعت سے گزرے تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا کہ ان سے روح کے متعلق پوچھو اور بعض نے کہا کہ اس کے متعلق مت پوچھو۔ آخر انہوں نے پوچھا تو آپ چھڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے اور میں آپ کے پیچھے تھا۔ میں نے سمجھ لیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ چنانچہ آپ نے یہ آیت پڑھی «ويسألونك عن الروح قل الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا» ”اور لوگ آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دیجئیے کہ روح میرے رب کے امر «مٰن» سے اور تمہیں علم بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔“ اس پر بعض یہودیوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم نے کہا نہ تھا کہ مت پوچھو۔
صحیح بخاری : ۱۰۷
ابن مسعود (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ بَيْنَا أَنَا أَمْشِي، مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ حَرْثِ الْمَدِينَةِ وَهْوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ مَعَهُ، فَمَرَرْنَا عَلَى نَفَرٍ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ. فَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ تَسْأَلُوهُ أَنْ يَجِيءَ فِيهِ بِشَىْءٍ تَكْرَهُونَهُ. فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَنَسْأَلَنَّهُ. فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ مَا الرُّوحُ فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ فَقَالَ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتُوا مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً}. قَالَ الأَعْمَشُ هَكَذَا فِي قِرِاءَتِنَا.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ بن قیس نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں چل رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی چھڑی کا سہارا لیتے جاتے تھے، پھر ہم یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے تو ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ ان سے روح کے بارے میں پوچھو۔ کچھ یہودیوں نے مشورہ دیا کہ نہ پوچھو، کہیں کوئی ایسی بات نہ کہیں جس کا ( ان کی زبان سے سننا ) تم پسند نہ کرو۔ لیکن بعض نے اصرار کیا کہ نہیں! ہم پوچھیں گے۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے اٹھ کر کہا: اے ابوالقاسم! روح کیا چیز ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش ہو گئے۔ میں نے سمجھ لیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «ويسألونك عن الروح قل الروح من أمر ربي وما أوتوا من العلم إلا قليلا» ”اور لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجئیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تمہیں اس کا علم بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔“ اعمش نے کہا کہ ہماری قرآت میں اسی طرح ہے۔
صحیح بخاری : ۱۰۸
عبید اللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَىْءٍ وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم أَحْدَثُ الأَخْبَارِ بِاللَّهِ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ وَقَدْ حَدَّثَكُمُ اللَّهُ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ بَدَّلُوا مِنْ كُتُبِ اللَّهِ وَغَيَّرُوا فَكَتَبُوا بِأَيْدِيهِمْ، قَالُوا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ. لِيَشْتَرُوا بِذَلِكَ ثَمَنًا قَلِيلاً، أَوَ لاَ يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مَسْأَلَتِهِمْ، فَلاَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا رَجُلاً مِنْهُمْ يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اے مسلمانو! تم اہل کتاب سے کسی مسئلہ میں کیوں پوچھتے ہو۔ تمہاری کتاب جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہے وہ اللہ کے یہاں سے بالکل تازہ آئی ہے، خالص ہے اس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے خود تمہیں بتا دیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتابوں کو بدل ڈالا۔ وہ ہاتھ سے ایک کتاب لکھتے اور دعویٰ کرتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے تھوڑی پونچی حاصل کریں، تم کو جو اللہ نے قرآن و حدیث کا علم دیا ہے کیا وہ تم کو اس سے منع نہیں کرتا کہ تم دین کی باتیں اہل کتاب سے پوچھو۔ اللہ کی قسم! ہم تو ان کے کسی آدمی کو نہیں دیکھتے کہ جو کچھ تمہارے اوپر نازل ہوا ہے اس کے متعلق وہ تم سے پوچھتے ہوں۔
صحیح بخاری : ۱۰۹
سلیم رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" لاَ حَسَدَ إِلاَّ فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهْوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَهْوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ". سَمِعْتُ سُفْيَانَ مِرَارًا لَمْ أَسْمَعْهُ يَذْكُرُ الْخَبَرَ وَهْوَ مِنْ صَحِيحِ حَدِيثِهِ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رشک کے قابل تو دو ہی آدمی ہیں۔ ایک وہ جسے اللہ نے قرآن دیا اور وہ اس کی تلاوت رات دن کرتا رہتا ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اسے رات و دن خرچ کرتا رہا۔“ علی بن عبداللہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث سفیان بن عیینہ سے کئی بار سنی «أخبرنا» کے لفظوں کے ساتھ انہیں کہتا سنا باوجود اس کے ان کی یہ حدیث صحیح اور متصل ہے۔
صحیح مسلم : ۱۱۰
It Is
Sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، - وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ - عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَلُونِي " فَهَابُوهُ أَنْ يَسْأَلُوهُ . فَجَاءَ رَجُلٌ فَجَلَسَ عِنْدَ رُكْبَتَيْهِ . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الإِسْلاَمُ قَالَ " لاَ تُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ " . قَالَ صَدَقْتَ . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الإِيمَانُ قَالَ " أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَكِتَابِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ " . قَالَ صَدَقْتَ . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الإِحْسَانُ قَالَ " أَنْ تَخْشَى اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لاَ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ " . قَالَ صَدَقْتَ . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ قَالَ " مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا رَأَيْتَ الْمَرْأَةَ تَلِدُ رَبَّهَا فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا رَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الصُّمَّ الْبُكْمَ مُلُوكَ الأَرْضِ فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا رَأَيْتَ رِعَاءَ الْبَهْمِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ مِنَ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ " . ثُمَّ قَرَأَ { إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} قَالَ ثُمَّ قَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رُدُّوهُ عَلَىَّ " فَالْتُمِسَ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَا جِبْرِيلُ أَرَادَ أَنْ تَعَلَّمُوا إِذْ لَمْ تَسْأَلُوا " .
ابن وہب نے خبر دی کہا : مالک ( بن انس ، نے مجھ سے کہا : مجھے معلوم ہے کہ ایسا آدمی ( صحیح ) سالم نہیں ہوتا جو ہر سنی ہوئی بات ( آگے ) بیان کر دے ، وہ کبھی امام نہیں بن سکتا ( جبکہ ) وہ ہر سنی ہوئی بات ( آگے ) بیان کر دیتا ہے ۔
صحیح مسلم : ۱۱۱
Sahih
روى سفيان بن الحسين: سألني إياس بن معاوية: «أرى أنك تحب علم القرآن، فاقرأ لي سورةً واشرحها لأتدبر ما تعلم». ففعلت كما طلب، ثم قال لي: «تذكر جيدًا ما سأخبرك به: إياك والمنكر في الأحاديث، فقليلٌ من يرويها دون أن يهين نفسه، ثم تُرد أحاديثهم».
۔ محمد بن مثنیٰ نے کہا : میں نے عبد الرحمن بن مہدی سے سنا ، کہہ رہے تھے : آدمی اس وقت تک امام نہیں بن سکتا کہ لوگ اس کی اقتداء کریں یہاں تک کہ وہ سنی سنائی بعض باتوں ( کو بیان کرنے ) سے باز آ جائے ۔
صحیح مسلم : ۱۱۲
Sahih
روى سفيان بن الحسين أن إياس بن معاوية دعاه وقال: "أرى أنك شغوف بعلم القرآن، فاقرأ عليّ سورةً وشرح لي معناها لأرى ما تعلم". فقال: "فعلت، فقال لي: "تذكر دائماً ما أخبرتك به عني".
سفیان بن حسین سے روایت ہے کہ ایاس بن معاویہ مجھ سے مطالبہ کیا اور کہا میں تمہیں دیکھتا ہوں تم قرآن کےعلم سے شدید رغبت رکھتے ہوں تم میرے سامنے ایک سورۃ پڑھو اور اس کی تفسیر کرو تاکہ جو تمہیں علم ہے میں بھی اسے دیکھوں ۔ کہا .میں نے ایسا کیا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا جوبات میں تم سے کہنے لگا ہوں اسے میری طرف سے ہمیشہ یاد رکھنا ۔
صحیح مسلم : ۱۱۳
Sahih
(حدثنا الحسن بن ربيع:) حدثنا حماد بن زيد عن أيوب وهشام، اللذين حدثا عن محمد؛ وحدثنا الفضيل عن هشام، الذي حدث عن مهد بن حسين عن هشام، الذي حدث عن محمد بن سيرين، قال: "هذا العلم دين، فاحذروا ممن تأخذون دينكم!"
حسن بن ربیع ‘ حماد بن زید ‘ ایوب ‘ ہشام ‘ محمد ‘ ح ‘ فضیل ‘ ہشام ‘ مخلد بن حسین ‘ ہشام ، انہوں نے محمد بن سیرین سے روایت کی ، یہ علم ، دین ہے ، اس لیے ( اچھی طرح ) دیکھ لو کہ تم کن لوگوں سے اپنا دین اخذ کرتے ہو ۔
صحیح مسلم : ۱۱۴
Sahih
روى عبد الرحمن بن أبي زناد عن أبيه أنه قال: لقد قابلت في المدينة مئة رجل آمنين موثوق بهم، ولكن لم تُؤخذ عنهم أحاديث، وقيل إنهم غير قادرين على ذلك (العلم).
(عبد الرحمن ) بن ابی زناد نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : میں مدینہ میں سو ( اہل علم ) سے ملا جو ( دین میں تو ) محفوظ ومامون تھے ( لیکن ) ان سے حدیث اخذ نہیں کی جاتی تھیں ، کہا جاتا تھا یہ اس ( علم ) کے اہل نہیں
صحیح مسلم : ۱۱۵
Sahih
روى أبو نضر هاشم بن قاسم حديثًا قال: سمعنا أبا عقيل (يحيى بن متوكل)، سيد بهية، يروي حديثًا قال: كنتُ جالسًا مع قاسم بن عبيد الله (بن عبد الله بن عمر، أمه أم عبد الله بنت قاسم بن محمد بن أبي بكر) ويحيى بن سعيد، فقال يحيى لقاسم بن عبيد الله: يا أبا محمد! إن هذا ذنب عظيم على رجل مثلك، إنه لأمر عظيم أن تُسأل عن أمر من هذا الدين ولا تعلم فيه ولا تجد له حلًا، أو (قل هذه الكلمات) لا تعلم فيه ولا مخرجًا. فقال له قاسم: ما السبب؟ قال (يحيى): لأنك ابن إمامي الهدى، أبو بكر وعمر. قال: قال له قاسم: "إن رجلًا أُعطيَ ذكاءً من الله، لشرٌ عليّ أن أقول شيئًا بغير علم، أو أن أروي عن غير أمين". (عند سماع هذا، التزم يحيى الصمت ولم يجبه).
۔ ابو نضر ہاشم بن قاسم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم نے بہیہ کے مولیٰ ابو عقیل ( یحییٰ بن متوکل ) نے حدیث بیان کی ، کہا : میں قاسم بن عبید اللہ ( بن عبد اللہ بن بن عمر جن کی والدہ ام عبد اللہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر تھیں ) اور یحییٰ بن سعید کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ یحییٰ نے قاسم بن عبید اللہ سے کہا : جناب ابو محمد! آپ جیسی شخصیت کے لیے یہ عیب ہے ، بہت بڑی بات ہے کہ آپ سے اس دین کے کسی معاملے کے بارے میں ( کچھ ) پوچھا جائے اور آپ کے پاس اس کے حوالے سے نہ علم ہو نہ کوئی حل یا ( یہ الفاظ کہے ) نہ علم ہو نہ نکلنے کی کوئی راہ ۔ تو قاسم نے ان سے کہا : کس وجہ سے؟ ( یحییٰ نے ) کہا : کیونکہ آپ ہدایت کے دو اماموں ابو بکر اور عمرؓ کے فرزند ہیں ۔ کہا : قاسم اس سے کہنے لگے : جس شخص کو اللہ کی طرف سے عقل ملی ہو ، اس کے نزدیک اس سے بھی بد تر بات یہ ہے کہ میں علم کے بغیر کچھ کہہ دوں یا اس سے روایت کروں جو ثقہ نہ ہو ۔ ( یہ سن کر یحییٰ ) خاموش ہو گئے اور انہیں کوئی جواب نہیں دیا ۔
صحیح مسلم : ۱۱۶
It Is
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، وَبِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ - الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" ذَاقَ طَعْمَ الإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً "
بشر بن حکم عبدی نے مجھ سے بیان کیا ، کہا : میں نے سفیان بن عیینہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے سے بہت سے لوگوں نے بہیہ کے مولیٰ ابو عقیل سے ( سن کر ) روایت کی کہ ( کچھ ) لوگوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے کوئی بات پوچھی جس کے بارے میں ان کے علم میں کچھ نہ تھا تو یحییٰ بن سعید نے ان سے کہا : میں اس کو بہت بڑی بات سمجھتا ہوں کہ آپ جیسے انسان سے ( جبکہ آپ ہدایت کے وو اماموں یعنی عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں ، کوئی بات پوچھی جائے ( اور ) اس کےب ارے میں آپ کو کچھ علم نہ ہو ۔ انہوں نے کہا : بخدا! اللہ کے نزدیک اور اس شخص کے نزدیک جسے اللہ نے عقل دی اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ میں علم کے بغیر کچھ کہوں یا کسی ایسے شخص سے روایت کروں جو ثقہ نہیں ۔ ( سفیان نے ) کہا : ابو عقیل یحییٰ بن متوکل ( بھی ) ان کے پاس موجود تھے جب انہوں نے یہ بات کی ۔
صحیح مسلم : ۱۱۷
Sahih
حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، - وَهَذَا حَدِيثُهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَاجَّيْنِ أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ فَقُلْنَا لَوْ لَقِينَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلاَءِ فِي الْقَدَرِ فَوُفِّقَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ دَاخِلاً الْمَسْجِدَ فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبِي أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي سَيَكِلُ الْكَلاَمَ إِلَىَّ فَقُلْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ قَدْ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَقَفَّرُونَ الْعِلْمَ - وَذَكَرَ مِنْ شَأْنِهِمْ - وَأَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنْ لاَ قَدَرَ وَأَنَّ الأَمْرَ أُنُفٌ . قَالَ فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ وَأَنَّهُمْ بُرَآءُ مِنِّي وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ أَنَّ لأَحَدِهِمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فَأَنْفَقَهُ مَا قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ لاَ يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلاَ يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّى جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ وَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الإِسْلاَمِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الإِسْلاَمُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلاً . قَالَ صَدَقْتَ . قَالَ فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ . قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِيمَانِ . قَالَ " أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ " . قَالَ صَدَقْتَ . قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِحْسَانِ . قَالَ " أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ " . قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ . قَالَ " مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ " . قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَتِهَا . قَالَ " أَنْ تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّتَهَا وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ " . قَالَ ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثُمَّ قَالَ لِي " يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ " . قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ " .
کہمس سے ا بن بریدہ سے ، انہوں نے یحیی بن یعمر سےروایت کی ، انہوں نے کہا کہ سب سے پہلا شخص جس نے بصرہ میں تقدیر ( سے انکار ) کی بات کی ، معبد جہنی تھا میں ( یحیی ) اور حمید بن عبد الرحمن خمیری حج یا عمرے کے ارادے سے نکلے ، ہم نے ( آپس میں ) کہا : کاش! رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کسی کے ساتھ ہماری ملاقات ہو جائے تو ہم ان سے تقدیر کے بارے میں ان ( آج کل کے ) لوگوں کی کہی ہوئی باتوں کے متعلق دریافت کر لیں ۔ توفیق الہٰی سے ہمیں حضرت عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوتے ہوئے مل گئے ۔ میں اور میرے ساتھ نے ان کے درمیان میں لے لیا ، ایک ان کی دائیں طرف تھا اور دوسرا ان کی بائیں طرف ۔ مجھے اندازہ تھا کہ میرا ساتھی گفتگو ( کامعاملہ ) میرے سپرد کرے گا ، چنانچہ میں نے عرض کی : اے ابو عبدالرحمن ! ( یہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) واقعہ یہ ہے کہ ہماری طرف کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے جو قرآن مجید پڑھتے ہیں اور علم حاصل کرتے ہیں ( اور ان کے حالات بیان کیے ) ان لوگوں کا خیال ہے کہ تقدیر کچھ نہیں ، ( ہر ) کام نئے سرے سے ہو رہا ہے ( پہلے اس بارے میں نہ کچھ طے ہے ، نہ اللہ کا اس کاعلم ہے ۔ ) ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب تمہاری ان لوگوں سے ملاقات ہو تو انہیں بتا دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں ۔ اس ( ذات ) کی قسم جس ( کے نام ) کے ساتھ عبد اللہ بن عمر حلف اٹھاتا ہے ! اگر ان میں سے کسی کو پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور وہ اسے خرچ ( بھی ) کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے اس کوقبول نہیں فرمائے گا یہاں تک کہ وہ تقدیر پر ایمان لے آئے ، پھر کہا : مجھے میرے والد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا : ایک دن ہم رسول ا للہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ایک شخص ہمارے سامنے نمودار ہوا ۔ اس کے کپڑے انتہائی سفید اوربا ل انتہائی سیاہ تھے ۔ اس پر سفر کا کوئی اثر دکھائی دیتا تھا نہ ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا تھا حتیٰ کہ وہ آ کر نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھ گیا اور اپنے گھٹنے آپ کے گھٹنوں سے ملا دیے ، اور اپنے ہاتھ آپﷺ کی را نوں پر رکھ دیے ، اور کہا : اے محمد ( ﷺ ) ! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کےلائق نہیں اور محمدﷺ اس کے رسول ہیں ، نماز کا اہتمام کرو ، زکاۃ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو اور اگر اللہ کے گھر تک راستہ ( طے کرنے ) کی استطاعت ہو تو اس کا حج کرو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ آپ سے پوچھتا ہے اور ( خود ہی ) آپ کی تصدیق کرتا ہے ۔ اس نے کہا : مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے ۔ آپ نے فرمایا : ’’یہ کہ تم اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور آخری دن ( یوم قیامت ) پر ایمان رکھو اور اچھی اور بری تقدیر پر بھی ایمان لاؤ ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : آپ نے درست فرمایا ۔ ( پھر ) اس نے کہا : مجھے احسان کے بارے میں بتائیے ۔ آپ نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : تومجھے قیات کے بارے میں بتائیے ۔ آپ نے فرمایا : ’’جس سے اس ( قیامت ) کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہے ، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : تو مجھے اس کی علامات بتا دیجیے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ( علامات یہ ہیں کہ ) لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے اور یہ کہ تم ننگے پاؤں ، ننگے بدن ، محتاج ، بکریاں چرانے والوں کو دیکھو کہ وہ اونچی سے اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں ۔ ‘ ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےکہا : پھر وہ سائل چلا گیا ، میں کچھ دیر اسی عالم میں رہا ، پھر آپ ﷺ نے مجھ سے کہا : ’’اے عمر !تمہیں معلوم ہے کہ پوچھنے والا کون تھا؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ آگاہ ہیں ۔ آپﷺ نے فرمایا : ’’وہ جبرئیل تھے ، تمہارے پاس آئے تھے ، تمہیں تمہارا دین سکھا رہے تھے ۔ ‘ ‘
صحیح مسلم : ۱۱۸
It is narrated by Safwan b. Muhriz that Jundab b. 'Abdullah al-Bajali during the stormy days of Ibn Zubair sent a message to 'As'as b. Salama
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، أَنَّ خَالِدًا الأَثْبَجَ ابْنَ أَخِي، صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ حَدَّثَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ بَعَثَ إِلَى عَسْعَسِ بْنِ سَلاَمَةَ زَمَنَ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ اجْمَعْ لِي نَفَرًا مِنْ إِخْوَانِكَ حَتَّى أُحَدِّثَهُمْ . فَبَعَثَ رَسُولاً إِلَيْهِمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَ جُنْدَبٌ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ أَصْفَرُ فَقَالَ تَحَدَّثُوا بِمَا كُنْتُمْ تَحَدَّثُونَ بِهِ . حَتَّى دَارَ الْحَدِيثُ فَلَمَّا دَارَ الْحَدِيثُ إِلَيْهِ حَسَرَ الْبُرْنُسَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالَ إِنِّي أَتَيْتُكُمْ وَلاَ أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ عَنْ نَبِيِّكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ بَعْثًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَإِنَّهُمُ الْتَقَوْا فَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِذَا شَاءَ أَنْ يَقْصِدَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ لَهُ فَقَتَلَهُ وَإِنَّ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ غَفْلَتَهُ قَالَ وَكُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَلَمَّا رَفَعَ عَلَيْهِ السَّيْفَ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . فَقَتَلَهُ فَجَاءَ الْبَشِيرُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ حَتَّى أَخْبَرَهُ خَبَرَ الرَّجُلِ كَيْفَ صَنَعَ فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ " لِمَ قَتَلْتَهُ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهَ أَوْجَعَ فِي الْمُسْلِمِينَ وَقَتَلَ فُلاَنًا وَفُلاَنًا - وَسَمَّى لَهُ نَفَرًا - وَإِنِّي حَمَلْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَأَى السَّيْفَ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَقَتَلْتَهُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ لِي . قَالَ " وَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ فَجَعَلَ لاَ يَزِيدُهُ عَلَى أَنْ يَقُولَ " كَيْفَ تَصْنَعُ بِلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
اسماعیل بن ابراہیم ( ابن علیہ ) نے ابو حیان سے ، انہوں نے ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ ایک دن لوگوں کے سامنے ( تشریف فرما ) تھے ، ایک آدمی آپﷺ کے پاس آیا اور پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’تم اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتاب ، ( قیامت کے روز ) اس سے ملاقات ( اس کے سامنے حاضری ) اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور آخری ( بار زندہ ہو کر ) اٹھنے پر ( بھی ) ایمان لے آؤ ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اسلام کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا : ’’اسلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ ، لکھی ( فرض کی ) گئی نمازوں کی پابندی کرو ، فرض کی گئی زکاۃ ادا کرو ۔ اور رمضان کے روزے رکھو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! احسان کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! قیامت کب ( قائم ) ہو گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’جس سے سوال کیا گیا ہے ، وہ ا س کے بارے میں پوچھنے والے سےزیادہ آگاہ نہیں ۔ لیکن میں تمہیں قیامت کی نشانیاں بتائے دیتا ہوں : جب لونڈی اپنا مالک جنے گی تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے ، اور جب ننگے بدن اور ننگے پاؤں والے لوگوں کے سردار بن جائیں گے تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے ، اور جب بھیڑ بکریاں چرانے والے ، اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے تو یہ اس کی علامات میں سے ہے ۔ ( قیامت کے وقت کا علم ) ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے ‘ ‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے ، وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ارحام ( ماؤں کے پیٹوں ) میں کیا ہے ، کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا ، نہ کسی متنفس کویہ معلوم ہے کہ وہ زمین کے کس حصے میں فوت ہو گا ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ علم والا خبردار ہے ۔ ‘ ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : پھر وہ آدمی واپس چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اس آ دمی کو میرے پاس واپس لاؤ ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اسے واپس لانے کے لیے بھاک دوڑ کرنےلگے تو انہیں کچھ نظر نہ آیا ، رسول اللہ نے فرمایا : ’’یہ جبریل علیہ السلام تھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے ۔ ‘ ‘
صحیح مسلم : ۱۱۹
ایاس بی۔ سلامہ رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ - حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" مَنْ سَلَّ عَلَيْنَا السَّيْفَ فَلَيْسَ مِنَّا " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’مجھ سے ( دین کے بارے میں ) پوچھ لو ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ آپ ﷺ سے اتنے مرعوب ہوئے کہ سوال نہ کر سکے ، تب ایک آدمی آیا اور آپ ﷺ کے دونوں گھٹنوں کے قریب بیٹھ گیا ، پھر کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! اسلام کیا ؟ آپ نے فرمایا : ’’ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز کا اہتمام کرو ، زکاۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا ۔ ( پھر ) پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’یہ کہ تم اللہ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتاب ، ( قیات کے روز ) اس سے ملاقات اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ ، مرنے کے بعد اٹھنے پر ایمان لاؤ اور ہر ( امر کی ) تقدیر پر ایمان لاؤ ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : آپ نے درست فرمایا ۔ ( پھر ) کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! احسان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’تم اللہ تعالیٰ سےاس طرح ڈرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو ، پھر اگر تم اسے نہیں رہے تو وہ یقینا ً تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : آپ نے صحیح فرمایا : ( پھر ) پوچھا : اے اللہ کے رسول ! قیامت کب قائم ہو گی ؟ آپ نے جواب دیا : ’’جس سے قیامت کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے ، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔ میں تمہیں اس کی علامات بتائے دیتا ہوں : جب دیکھو کہ عورت اپنے آقا کو جنم دیتی ہے تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے اور جب دیکھو کہ ننگے پاؤں اور ننگے بدن والے ، گونگے اور بہرے زمین کے بادشاہ ہیں تو یہ اس کی علامات میں سے ہے اور جب دیکھو کہ بھیڑ بکریوں کے چروا ہے اونچی سے اونچی عمارات بنانے میں باہم مقابلہ کر رہے ہیں تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے ۔ یہ ( قیامت کا وقوع ) غیب کی ان پانچ چیزوں میں سے ہے ۔ جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے ، وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ارحام ( ماؤں کے پیٹوں ) میں کیا ہےاور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ آنے والے کل میں کیا کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ ( کہاں ) کس زمین میں فوت ہو گا ...... ‘ ‘ سورت کے آخر تک ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر وہ آدمی کھڑا ہو گیا ( اور چلا گیا ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اسے میرے پاس واپس لاؤ ۔ ‘ ‘ اسے تلاش کیا گیا تو وہ انہیں ( صحابہ کرام کو ) نہ ملا ۔ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ یہ جبریل تھے ، انہوں نے چاہا کہ تم نہیں پوچھ رہے تو تم ( دین ) سیکھ لو ( انہوں نے آکر تمہاری طرف سے سوال کیا)
صحیح مسلم : ۱۲۰
Sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَزَالُ النَّاسُ يَسْأَلُونَكُمْ عَنِ الْعِلْمِ حَتَّى يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ " . قَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ رَجُلٍ فَقَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَدْ سَأَلَنِي اثْنَانِ وَهَذَا الثَّالِثُ . أَوْ قَالَ سَأَلَنِي وَاحِدٌ وَهَذَا الثَّانِي .
عبد الوارث بن عبد ا لصمد کے دادا عبد الوارث بن سعید نے ایوب سے ، انہوں نے محمد بن سیرین سے ، انہوں نےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’لوگ تم سے ہمیشہ علم کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ یہ کہیں گے : اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ ‘ ‘ ابن سیرین نے کہا : اس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک آدمی کا ہاتھ پکڑ ے ہوئے تھے تو کہنے لگے : اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ۔ مجھ سے دو ( آدمیوں ) نے ( یہی ) سوال کیا تھا اور یہ تیسرا ہے ( یا کہا : ) مجھ سے ایک ( آدمی ) نے ( پہلے یہ ) سوال کیا تھا او ریہ دوسرا ہے ۔