Knowledge کے بارے میں احادیث
۱۲۵۴ مستند احادیث ملیں
صحیح مسلم : ۱۶۱
Sahih
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ " تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ " .
حجاج بن محمد نے کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا ، انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سناکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفات سے ایک مہینہ قبل یہ فر ما تے ہو ئے سنا : " تم مجھ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہو ؟اس کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ( البتہ اس بات پر ) میں اللہ کی قسم کھا تا ہوں کہ اس وقت کو ئی زندہ نفس موجود نہیں جس پر سوسال پورے ہوں ۔
صحیح مسلم : ۱۶۲
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَى فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى فَقَالَ لَهُ مُوسَى أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ فَقَالَ آدَمُ أَنْتَ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ عِلْمَ كُلِّ شَىْءٍ وَاصْطَفَاهُ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَتِهِ قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَىَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ " .
ابوزناد نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے ایک دوسرے کو دلائل دیے اور آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو دلیل دے ہرا دیا ۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا : آپ وہی آدم ہیں جنہوں نے ( خود غلطی کر کے اپنی اولاد کے ) لوگوں کو غلطیاں کرنے کا راستہ دکھایا اور انہیں جنت سے نکلوا دیا؟ تو آدم علیہ السلام نے فرمایا : تمہی ہو جسے اللہ نے ہر چیز کا علم دیا اور جسے لوگوں میں سے اپنی رسالت کے لیے منتخب فرمایا؟ انہوں نے کہا : ہاں ، ( تو آدم علیہ السلام نے ) فرمایا : تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو جو مجھے پیدا کیے جانے سے بھی پہلے میرے مقدر کر دی گئی تھی؟
صحیح مسلم : ۱۶۳
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَلاَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُولُو الأَلْبَابِ} قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ " .
قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ آیات ) تلاوت فرمائیں : " وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ، اس میں سے محکم ( معنی میں واضح ) آیتیں ہیں ، وہی اصل کتاب ہیں اور دوسری متشابہ آیات ہیں ، پھر وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے ، وہ فتنے کی تلاش میں ان آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو ان ( آیات قرآنی ) میں سے متشابہ ہیں ۔ ان ( متشابہ آیات ) کا حقیقی معنی اللہ اور ان لوگوں کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا جو علم میں راسخ ہیں ۔ وہ ( یہی ) کہتے ہیں : ہم ان ( آیات ) پر ایمان لائے ، سب ( آیتیں ) ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور دانائی رکھنے والوں کے سوا کوئی ( ان سے ) نصیحت حاصل نہیں کرتا ۔ " ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآن میں سے متشابہ ( آیات ) کے پیچھے پڑتے ہیں ، تو یہی لوگ ہیں جن کا اللہ نے ( سابقہ آیات میں ) ذکر کیا ہے ، لہذا ان سے بچ کر رہو ۔
صحیح مسلم : ۱۶۴
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الأَلَدُّ الْخَصِمُ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑھ کر بغض کے قابل وہ شخص ہے جو سخت جھگڑالو ہو ۔
صحیح مسلم : ۱۶۵
Sahih
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ، مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا " .
ابوتیاح نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کی علامات میں سے یہ ( بھی ) ہیں کہ علم اٹھ جائے گا ، جہالت جاگزیں ہو جائے گی ، شراب پی جانے لگے گی اور زنا کھل کر ہونے لگے گا ۔
صحیح مسلم : ۱۶۶
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعَهُ مِنْهُ " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَفْشُوَ الزِّنَا وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَذْهَبَ الرِّجَالُ وَتَبْقَى النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ " .
شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان نہ کروں؟ یہ حدیث میرے بعد تم کو کوئی ایسا شخص نہیں بیان کرے گا جس نے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( براہ راست ) سنی ہو : " قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علم اٹھ جائے گا ، جہالت نمایاں ہو جائے گی ، زنا پھیل جائے گا ، شراب پی جانے لگی گی ، مرد رخصت ہو جائیں گے اور عورتیں باقی رہ جائیں گی یہاں تک کہ پچاس عورتوں کے معاملات کا نگران ایک رہ جائے گا ۔
صحیح مسلم : ۱۶۷
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبِي، قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى فَقَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ أَيَّامًا يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ وَالْهَرْجُ الْقَتْلُ " .
وکیع اور عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں اعمش نے ابووائل سے حدیث بیان کی ، کہا : میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ان دونوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت سے کچھ عرصہ پہلے وہ ایام ہوں گے جن میں علم اٹھ جائے گا ، جہل طاری ہو جائے گا اور ان دنوں ہرج کی کثرت ہو جائے گی اور ہرج ( سے مراد ) لوگوں کا قتل ہے ۔
صحیح مسلم : ۱۶۸
Sahih
أخبرني [حرملة بن يحيى]، وأخبرنا [ابن وهب]، وأخبرني [يونس] عن [ابن شهاب]، وأخبرني [حميد بن عبد الرحمن بن عوف] أن [أبا هريرة] قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن علامات الرحيل: اقترب الزمان، وتراجعت العلوم، وكثرت المصائب، وانتشر البخل، وكثرت الحراج". فسأل الصحابة: يا رسول الله، ما الحراج؟ فأجاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: "القتل". أخبرنا [عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي]، وأخبرنا [أبو اليمان]، وأخبرنا [سيعيب] عن [الزهري]، وأخبرني [حميد بن عبد الرحمن الزهري] أن [أبا هريرة] قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «إذا اقترب يوم القيامة، ضاع العلم». -ثم ذكر حديثًا مشابهًا.- أخبرنا أبو بكر بن أبي شيبة عن عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم: «إذا اقترب يوم القيامة، ضاع العلم». -ثم ذكر حديثًا مشابهًا لهما.- أخبرنا يحيى بن أيوب وقتيبة وابن حجر، يقولون: أخبرنا [إسماعيل]، أي ابن جعفر، عن [الأعلى] عن [والده] عن [أبو هريرة]. وكذلك رُوي من طريق آخر، وأخبرنا [ابن نمير] و[أبو كريب] و[عمرو الناقد]، قالوا؛ أخبرنا [إسحاق بن سليمان] عن [حنزلة] عن [سليم] عن [أبو هريرة]. وكذلك رُوي من طريق آخر، وأخبرنا [محمد بن رافع]، أخبرنا [عبد الرزاق]، أخبرنا [معمر] عن [حمام بن منبه] عن [أبو هريرة]. وكذلك رُوي من طريق آخر، وأخبرني [أبو الطاهر]، أخبرنا [ابن وهب] عن [عمرو بن الحارث] عن [أبو يونس] عن [أبو هريرة] بكل شيء. قال عن النبي صلى الله عليه وسلم، وهو نفس حديث الزهري عن حميد عن أبي هريرة. إلا أنهم لم يذكروا كلمة البخل.
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " زمانہ باہم قریب ہو جائے گا ( وقت بہت تیزی سے گزرتا ہوا محسوس ہو گا ) ، علم اٹھا لیا جائے گا ، فتنے نمودار ہوں گے ، ( دلوں میں ) بخل اور حرص ڈال دیا جائے گا اور ہرج کثرت سے ہو گا ۔ " صحابہ نے پوچھا : ہرج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قتل و غارت گری ۔
صحیح مسلم : ۱۶۹
Sahih
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيُلْقَى الشُّحُّ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ " . قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ قَالَ " الْقَتْلُ " .
شعیب نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حمید بن عبدالرحمٰن زہری نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " زمانہ باہم قریب ہو جائے گا اور علم کم ہو جائے گا ۔ " پھر اسی کے مانند بیان کیا ۔
صحیح مسلم : ۱۷۰
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ لاَ يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالاً فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا " .
جریر نے ہشام بن عروہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرماتے تھے : " اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے چھینتے ہوئے نہیں اٹھائے گا بلکہ وہ علماء کو اٹھا کر علم کو اٹھا لے گا حتی کہ جب وہ ( لوگوں میں ) کسی عالم کو ( باقی ) نہیں چھوڑے گا تو لوگ ( دین کے معاملات میں بھی ) جاہلوں کو اپنے سربراہ بنا لیں گے ۔ ان سے ( دین کے بارے میں ) سوال کیے جائیں گے تو وہ علم کے بغیر فتوے دیں گے ، اس طرح خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے ۔
صحیح مسلم : ۱۷۱
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلاَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلاَئِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ " .
ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی ، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا اور جس شخص نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی کی ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی ، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پشی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اور جو شخص اس راستے پر چلتا ہے جس میں وہ علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے ، اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں لوگوں کا کوئی گروہ اکٹھا نہیں ہوتا ، وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کا درس و تدریس کرتے ہیں مگر ان پر سکینت ( اطمینان و سکون قلب ) کا نزول ہوتا ہے اور ( اللہ کی ) رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقربین میں جو اس کے پاس ہوتے ہیں ان کا ذکر کرتا ہے اور جس کے عمل نے اسے ( خیر کے حصول میں ) پیچھے رکھا ، اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا ۔
صحیح مسلم : ۱۷۲
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآَخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ لاَ أَقُولُ لَكُمْ إِلاَّ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ كَانَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلاَهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لاَ يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لاَ يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لاَ يُسْتَجَابُ لَهَا " .
عبداللہ بن حارث اور ابو عثمان نہدی نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں تمہیں اسی طرح بتاتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ، آپ فرماتے تھے : " اے اللہ! میں تجھ سے تیری پناہ میں آتا ہوں ، عاجز ہو جانے ، سستی ، بزدلی ، بخل ، سخت بڑھاپے اور قبر کے عذاب سے ۔ اے اللہ! میرے دل کو تقویٰ دے ، اس کو پاکیزہ کر دے ، تو ہی اس ( دل ) کو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے ، تو ہی اس کا رکھوالا اور اس کا مددگار ہے ۔ اے اللہ! میں تجھ سے ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو کوئی فائدہ نہ دے اور ایسے دل سے جو ( تیرے آگے ) جھک کر مطمئن نہ ہوتا ہو اور ایسے من سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جسے شرف قبولیت نصیب نہ ہو ۔
صحیح مسلم : ۱۷۳
Sahih
روى لي أبو الطاهر أحمد بن عمرو بن عبد الله بن عمرو بن سِش، وهو مولى مُعتَق من بني أمية: وأخبرني ابن وهب: وأخبرني يونس، ناقلاً عن ابن شهاب. قال ابن شهاب: ثم خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى غزوة تبوك، ولكنه أراد أن يقاتل الروم والعرب النصارى في الشام. قال شهاب: أخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك أنه لما أصيب كعب، أحد أبناء عبد الله بن كعب، بالعمى، أصبح خليفةً له. سمعت كعب بن مالك يروي تجربته عندما تأخر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك. قال كعب بن مالك: لم أغب عن أي غزوة شارك فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا غزوة تبوك! كما غبت عن غزوة بدر، لكنه لم يوبخ أحدًا غائبًا عنها. كان رسول الله صلى الله عليه وسلم والمسلمون قد انطلقوا لاستهداف قافلة قريش، وفي النهاية ساقهم الله وأعداءهم إلى مكان لم يتوقعوه. في الواقع، كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة العقبة حين عاهدناه على الإسلام. مع أن بدر أشهر بين الناس من العقبة، إلا أنني لا أتمنى لو وقعت غزوة بدر بدلًا من العقبة. قصتي منذ أن فارقت رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك... قال كعب: لم أكن أقوى ولا أغنى مما كنت عليه حين فارقته في تلك المعركة. والله، ما كنت قد جمعت قطّتين من الإبل معًا. وأخيرًا، في تلك المعركة، جمعت جملين معًا. خاض رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه المعركة في حرّ شديد. وسار في رحلة طويلة في الصحراء. وواجه جيشًا كبيرًا من الأعداء، وشرح للمسلمين بوضوح ما عليهم فعله حتى يستعدوا لمعركتهم. وأخبرهم إلى أين ينوي أن يقودهم. وكان عدد المسلمين مع رسول الله صلى الله عليه وسلم كبيرًا جدًا حتى أن سجل الحرس لم يسعهم. (يشير كعب بهذا القول إلى سجل الجيش). وتابع روايته: كان هناك قليل ممن أرادوا الفرار (من الجيش) ولم يظنوا أن النبي صلى الله عليه وسلم لن يعلم بذلك إلا إذا جاء وحي من الله سبحانه وتعالى. وقد قام رسول الله صلى الله عليه وسلم بهذه الحملة حين كانت الثمار والظلال في في أوج ازدهاري. كنتُ أكثر المشاركين حماسًا في هذه الحملة. ثم استعد رسول الله صلى الله عليه وسلم والمسلمين معه. بدأتُ أسهر الليل لأستعد معهم. لكنني عدتُ دون أن أفعل شيئًا؛ وقلتُ في نفسي: أنا قادر على ذلك متى شئت. واستمر هذا الحال معي. استمر الناس في العمل. وسهر رسول الله صلى الله عليه وسلم مع المسلمين معه الليل لينطلقوا. لم أفعل شيئًا من ناحية الاستعداد. ثم سهرتُ الليل وعدتُ مرة أخرى دون أن أفعل شيئًا. واستمر هذا الحال. حتى المسلمون أسرعوا إلى وجهتهم، وتقدم المحاربون. شعرتُ برغبة ملحة في الانطلاق واللحاق بهم. ليتني فعلت. لكن لم يُكتب لي ذلك. بعد أن خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وخرج إلى الناس، بدأتُ أشعر بالحزن لأني لم أتبعه. فقط من اتُهموا بالنفاق أو الضعفاء الذين عذرهم الله يمكن إعفاؤهم من ذلك. رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يذكرني (عليه السلام) حتى وصل إلى تبوك. وبينما كان جالسًا بين الناس في تبوك، سأل: "ماذا فعل كعب بن مالك؟" فقال رجل من بني سليمة: "يا رسول الله، إن ثوبه ونظرته إلى ياقته منعته". فقال له معاذ بن جبل: "يا لك من قول فظيع!" فقال: "والله يا رسول الله، ما نعلم عنه إلا خيرًا". فسكت رسول الله (صلى الله عليه وسلم). وبينما هو على هذه الحال، رأى رجلاً يرتدي ثيابًا بيضاء اختفى السراب معه. فقال رسول الله (صلى الله عليه وسلم): "لا بد أنك أبو حيسمة!" فرأوا أنه أبو حيسرات الأنصاري. هذا هو الرجل الذي إذا عيَّره المنافقون، تصدق بكيل من التمر. ب. وتابع مالك قصته: "لما سمعت أن رسول الله (صلى الله عليه وسلم) عائد من يا تبوك، غمرني الحزن. بدأت تراودني أفكار الكذب. كنت أفكر: "كيف لي أن أهرب من أقاربه غدًا؟" استشرت كل ذي علم في عائلتي في هذا الأمر. عندما أُخبرت باقتراب مجيء رسول الله صلى الله عليه وسلم، تلاشت مني الأفكار الخاطئة. أدركت أنني لن أستطيع التخلص منها بأي حال من الأحوال. فقررت أن أقول له الحقيقة. كان مجيء رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصباح. عندما يعود من سفره، كان يبدأ عمله في المسجد. هناك يصلي ركعتين. ثم يجلس للقاء الناس. عندما يفعل ذلك، يأتي إليه من لم يشاركوا في المعركة ويعتذرون إليه ويحلفون له. وكان عددهم يزيد عن ثمانين. قبل رسول الله صلى الله عليه وسلم اعترافاتهم العلنية. بايعهم واستغفر لهم. كما أوكل خفاياهم إلى الله. أخيرًا، جئت إلى هنا. عندما سلمت... ابتسم له ابتسامة غاضبة، ثم قال: جئتُ ماشيًا وجلستُ في حضرته. فقال لي: هل تخلفتَ عن المعركة؟ وسألني: ألم تشترِ دابتك؟ فأجبته: يا رسول الله، والله، لو كنتُ جالسًا مع أحدٍ من أهل الدنيا غيرك، لأظننتُ أنني نجوتُ من غضب الله بعذر. لقد أُعطيتُ الفصاحة، ولكن والله، أعلم أنني لو كذبتُ عليك اليوم كذبةً تُرضيك، لَسأواجه غضب الله قريبًا. ولو قلتُ لك الحق، لَأغضبتَ مني. إني أطلب أجر الله على كلامي. والله، ليس لي عذر. والله، ما كنتُ يومًا أقوى ولا أغنى مما كنتُ عليه حين تخلفتُ عنك. فلما جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: صدقتَ، فقم حتى يقضي الله بك! فقمتُ. فجاءت مجموعة من قام رجال من بني سليمة وتبعوني، فقالوا لي: والله ما نعلم أنك ارتكبت ذنبًا قبل هذا. قالوا: بل لم تستطع أن تقدم لرسول الله صلى الله عليه وسلم نفس العذر الذي قدمه الذين لم يشاركوا في المعركة. كان يكفي رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يستغفر لك. فأجبت: والله لقد وبخوني حتى كدت أرجع إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأكذب عليه. ثم سألتهم: هل أصاب أحدٌ مثلي؟ قالوا: نعم! أصاب رجلان مثلك. قالا ما قلت، وقيل لهما ما قيل لك. سألت: من هما؟ قالوا: مَرّة بن ربيعة العامري وهلال بن أمية الواقفي. وأخبراني عن رجلين صالحين. رجالٌ شاركوا في غزوة بدر وكانوا جديرين بالاتباع. بعد أن أخبروني بذلك، انصرفت. نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم المسلمين عن التحدث إلينا نحن الثلاثة الذين انفصلنا عنه. ولهذا السبب، تجنبنا الناس. تغيرت نظرتهم إلينا. حتى المكان الذي عرفته تغير في عيني. لم يعد هو المكان الذي عرفته. مكثنا على هذه الحال خمسين ليلة. جلس رفيقيّ في بيتيهما، مطأطئي الرؤوس يبكان. أما أنا: فكنت أصغر الناس وأكثرهم ثباتًا. كنت أخرج من بيتي، وأصلي الصلاة، وأتجول في الأسواق. لكن لم يكن أحد يكلمني. بعد الصلاة، وأنا جالس في مكاني، كنت أقترب من رسول الله صلى الله عليه وسلم وأسلم عليه؛ وأتساءل في نفسي: "هل حركت شفتي لأرد عليه السلام أم لا؟" ثم أصلي قربه، أنظر إليه سرًا. إذا التفت إلى صلاتي، نظر إليّ؛ وإذا التفت إليه، أعرض عني مني. ولما استمر هذا الاضطهاد من المسلمين مدة طويلة، تسلقتُ تدريجيًا سور حديقة أبي قتادة. أبو قتادة هو عمي وأحب الناس إليّ. سلمتُ عليه، والله لم يردّ عليّ السلام. فقلتُ له: "يا أبا قتادة! بالله عليك، أخبرني، هل تعلم أنني أحب الله ورسوله؟" فصمت أبو قتادة. فسألته ثانيةً، بالله عليك، أن يخبرني، فصمت ثانيةً. فسألته ثانيةً (هذه المرة): "الله ورسوله يعلمان!" عندئذٍ امتلأت عيناي بالدموع، وعدتُ أدراجي. وتسلقتُ السور. وبعد ذلك، بينما كنتُ أسير في سوق المدينة، التقيتُ بفلاح من فلاحي دمشق الفرس، كان قد أتى إلى المدينة ليبيع الطعام. وكان يسأل: "من يدلني على كعب بن مالك؟" فبدأ الناس يشيرون إليّ ويدلونه عليّ. وأخيرًا، جاء إليّ وأعطاني رسالة من ملك غسان. كنتُ كاتبًا. قرأت الرسالة، فرأيت فيها ما يلي: "ثم (عليه أن يعلم) بلغنا أن زوجتك قد ظلمتك. لم يخلقك الله في أرض ذل، ولا في مكان تُفقد فيه حقوقك. انضم إلينا فورًا لنعينك." فلما قرأت هذا قلت: "هذا أيضًا نوع من المصائب"، فذهبت إلى الفرن وأحرقت الرسالة هناك. وأخيرًا، بعد انقضاء أربعين ليلة من الخمسين ليلة، وانقطاع الوحي، جاءني رسول رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فجأة، فقال: "يأمرك رسول الله (صلى الله عليه وسلم) بالابتعاد عن زوجتك." فقلت: "أطلقها، أم ماذا أفعل؟" فقال: "لا! ابتعد عنها ولا تقترب منها أبدًا!" وكان قد أرسل رسائل مماثلة إلى اثنين من أصحابي. فقلت لزوجتي: "ارجعي إلى أهلك واسكني معهم حتى يأمر الله في هذا الأمر!" ثم... أتت زوجة أمية إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقالت له: يا رسول الله، إن هلال بن أمية شيخ طاعن في السن، ليس له خادم، أتمانع أن أخدمه؟ فقال صلى الله عليه وسلم: ولكن لا ينبغي له أن يقترب منكِ أبدًا! فقالت المرأة: والله، ما لديه وقت لفعل شيء! والله، ما زال يبكي منذ أن أصابه هذا الأمر. فقال لي أحد أهلي: ما أترك رسول الله صلى الله عليه وسلم يستأذن في زوجتك؟ انظر، لقد أذن لزوجة هلال بن أمية أن تخدمه. فقلت: لا أستطيع أن أسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عنها، فأنا شاب. فلما سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عنه، قلت: ماذا سيقول؟ من يدري؟ وبقيت على هذه الحال عشر ليالٍ. وهكذا، انقضت خمسون ليلة منذ أن مُنعنا من الكلام. ثم في صباح الليلة الخمسين، صليت صلاة الصبح في أحد بيوتنا. وبينما كنت جالسًا في الحال الذي قدره الله تعالى لنا، انتابني حزن شديد. شعرتُ بضيق المكان رغم اتساعه. سمعتُ صوتًا ينادي من أعلى جبل سلع. كان يصيح بصوت عالٍ: "كعب بن مالك، بشرى!" فسجدتُ على الفور. وعرفتُ أن الشدوماني قد أتى. ثم بعد أن صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح، أخبر الناس أن الله قد قبل توبتنا. عندئذٍ، ذهب الناس ليبشرونا. ذهب اثنان من أصحابي ليبشرونا. حثّ رجل فرسه ليأتي إليّ. جاء رجل من قبيلة أسلم يركض نحوي. وصعد الجبل. كان صوته أسرع من صوت الفرس. عندما جاءني من سمعتُ صوته بالبشرى، خلعتُ على الفور اثنين من أعطيته ثيابي ابتهاجًا ببشارته. والله، لم يكن لي شيء آخر في ذلك اليوم. فاستعرت ثوبين وارتديتهما. ثم انطلقت في الطريق، راغبًا في رؤية رسول الله صلى الله عليه وسلم. فخرج الناس جماعاتٍ لاستقبالي، يهنئونني على توبتي قائلين: "بارك الله في قبول توبتك!". وأخيرًا، دخلت المسجد، فرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسًا فيه، محاطًا بالناس. ثم قام طلحة بن عبيد الله، فأسرع إليّ، فصافحني وهنأني. والله، لم يقم من المهاجرين سواه، ولم ينسَ كعب ما فعله طلحة. قال: إذا سلمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، كان وجهه يشرق فرحًا، ويقول: "بشارة لك، هذا أفضل يوم مضى منذ أن ولدتك!". فقلت: "هذا...". قال: «هذا منك أم من الله يا رسول الله؟» قال: «بل هو من الله!» وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا فرح أشرق وجهه كأنه قطعة من القمر، وكنا نعلم ذلك. فلما جلست قلت: يا رسول الله، من توبتي أن أتخلى عن بعض مالي صدقةً لله ورسوله صلى الله عليه وسلم. فقال: «احتفظ ببعضه، فهذا خير لك.» فقلت: «إني أحتفظ بنصيبي من خيبر»، وأضفت: يا رسول الله، إن الله قد أنقذني بالحق. ومن نذوري ألا أقول الحق ما حييت. ومنذ أن أخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم بذلك، لا أعرف مسلماً أنعم الله عليه بنعمة أعظم من نعمة قول الحق. والله، منذ أن أخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم بذلك (عليه السلام)، لم أكذب قط عن قصد. أدعو الله أن يحفظني ما تبقى من حياتي. قال كعب: عندئذٍ أنزل الله تعالى الآيتين ١١٧-١١٨ من سورة التوبة: "إن الله قد قبل توبة الرسول والمهاجرين والأنصار الذين تبعوه في شدائد قوم كادوا يضلون إن الله قد قبل توبتهم وكان بهم لطف ورحمة. وقبل توبة الثلاثة الذين تخلفوا وشعروا بضيق أنفسهم على الرغم من اتساع دنياهم." ووصل الأمر إلى الآية: "والذين آمنوا فاتقوا الله وكونوا مع الصادقين!" ثم: "والله ما أنعم عليّ بعد أن هداني إلى الإسلام بنعمة أعظم من الصدق الذي قلته لرسول الله صلى الله عليه وسلم." هلكوا كما هلك الكاذبون لكذبهم عليه! بل إن الله لما أنزل الوحي في الكاذبين، قال أسوأ ما يمكن أن يُقال لأحد. يقول الله تعالى: «إذا رجعتم إليهم أقسموا بالله ألا تقولوا لهم شيئًا، فأعرضوا عنهم إنهم نجسون ومأواهم جهنم بما كسبوا، يقسمون لك لعلكم ترضون عنهم، فإن رضيتم عنهم فإن الله لا يرضى عن القوم الفاسقين». (سورة التوبة، الآيتان 95-96). قال: «كنا ثلاثة قوم تخلفوا عن أمر الذين بايعهم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقبل أيمانهم وبايعهم واستغفر لهم، وأرجأ رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرنا حتى قضى الله، ولذلك قال الله تعالى: «وتوبة الثلاثة الذين تُركوا...» إن تركنا كما ذكر الله ليس يعني تركنا من المعركة، وإنما إن النبي صلى الله عليه وسلم أخّرنا وترك شؤوننا حتى بعد الذين أقسموا عليه واعتذروا، فقبل أعذارهم.
(ابو طاہر احمد بن عمرو بن عبد اللہ بن عمرو بن سیخ، بنو امیہ کے آزاد کردہ غلام نے مجھ سے بیان کیا:) مجھے ابن وہب نے خبر دی:) مجھے یونس نے ابن شہاب کے حوالے سے خبر دی۔ ابن شہاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کی مہم پر تشریف لے گئے۔ تاہم وہ شام میں رومیوں اور عیسائی عربوں کے خلاف جانا چاہتا تھا۔ شہاب نے کہا: عبدالرحمٰن بن۔ عبداللہ بی کعب ب۔ مالک نے مجھے خبر دی کہ جب کعب، عبداللہ بن کے بیٹوں میں سے ایک تھا۔ کعب، نابینا ہو گیا، اس کا نائب بن گیا۔ (میں نے کعب بن کو سنا۔ میں نے مالک کو اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے سنا جب وہ جنگ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے، کعب بن مالک نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بھی لڑائی نہیں چھوڑی، سوائے غزوہ تبوک کے! لیکن میں کبھی بھی غزوۂ بدک سے غائب نہیں ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے قریش کے قافلے کو نشانہ بنانے کے لیے نکلے تھے کہ آخرکار اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے دشمنوں کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا جب میں عقبہ کی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدعت کا عہد کر چکا تھا۔ غزوہ تبوک کے دوران میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی اختیار کی تھی، اس سے پہلے میں نے اس جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو اونٹوں کو اکٹھا نہیں کیا تھا۔ ایک لمبے سفر پر آپ نے مسلمانوں کو واضح طور پر بتا دیا کہ وہ اپنی جنگ کی تیاری کر سکتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسلمانوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ان کی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے کعب نے کہا: (فوج کی طرف سے) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس وقت تک علم نہیں ہوگا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی وحی نازل نہ ہو جب کہ پھل اور سایہ پوری طرح کھلے ہوئے تھے تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس مہم کا آغاز کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قیام کیا۔ up all night to prepare with them. But I returned without doing anything; I said to myself: I am capable of this whenever I want. This continued with me. The people continued to work. And the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him), with the Muslims with him, stayed up all night to set out. I had done nothing in terms of preparation. Then I stayed up all night and returned again having done nothing. This state continued. Even the Muslims hastened to their destination, and the میں نے ان کے ساتھ نکلنے کی خواہش محسوس کی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے بعد مجھے یہ افسوس ہوا کہ میں نے ان کی پیروی نہیں کی اور جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے احسان نہیں تھا۔ یہاں تک کہ جب وہ تبوک میں مجمع میں بیٹھے تو انہوں نے پوچھا کہ بنو سلیمہ کے ایک آدمی نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے کپڑے اور اس کے کالر کی طرف دیکھتے ہوئے اسے روک دیا، آپ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں خیر کے سوا کچھ نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید کپڑوں میں ایک شخص کو دیکھا جس سے معراج غائب ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ابو حیثمہ ہو!“ اور انہوں نے دیکھا کہ یہ ابو حیثیرہ الانصاری ہے، یہ منافق آدمی ہے، جس نے اسے ناپ تول کر کھجور دی تھی۔ صدقہ میں ب: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپس آرہے ہیں، میں نے جھوٹ بولنے کا سوچنا شروع کر دیا، میں سوچ رہا تھا کہ میں نے اپنے گھر والوں کے ہر علم والے سے مدد مانگی، جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں بتایا میں نے سمجھ لیا کہ میں کبھی بھی ان سے بچ نہیں سکتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا وقت تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے ملاقات کی اور ان سے ملاقات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیعت کر لی اور ان کے چھپے ہوئے پہلو بھی اللہ کے سپرد کر دیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا: ”میں نے اس کے پیچھے کھڑے ہو کر کہا۔ "کیا آپ نے اپنا جانور نہیں خریدا؟" میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم اگر میں آپ کے ساتھ دنیا والوں میں سے کسی اور کے پاس بیٹھتا تو مجھے لگتا ہے کہ میں اللہ کے غضب سے بچ جاتا، مجھے فصاحت دی گئی ہے، لیکن اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ اگر میں آج آپ سے جھوٹ بولوں گا تو میں جلد ہی آپ سے ناراض ہو جاؤں گا۔ میری طرف سے اللہ کی قسم، میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے جب میں آپ سے زیادہ طاقتور یا امیر تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تم نے سچ کہا ہے، جب تک کہ میں ان کی جماعت سے اٹھ نہ جاؤں“۔ وہ میرے پیچھے ہو گئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ اللہ کی قسم ہم اس سے پہلے کسی گناہ کے بارے میں نہیں جانتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عذر پیش کیا جو جنگ میں نہیں گئے تھے۔ مجھے اس قدر ملامت کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ بولا، پھر میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے وہی بات کہی ہے جو آپ نے کہی تھی، اور انہوں نے عرض کیا کہ آپ نے فرمایا ہلال بن امیہ وقفی رضی اللہ عنہ نے مجھے دو نیک آدمیوں کے بارے میں بتایا جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے اور ان کے یہ بتانے کے بعد میں وہاں سے چلا گیا۔ میری آنکھیں اب اس حالت میں نہیں تھیں کہ ہم پچاس راتوں تک اپنے گھروں میں بیٹھ کر روتے رہے: میں اپنے گھر سے نکلتا، نماز کے لیے آتا، اور میرے پاس بیٹھ کر کوئی دعا نہیں کرتا میں نے اپنے ہونٹوں کو سلام کا جواب دیا یا نہیں؟ the person I love most. I greeted him. By Allah, he did not return my greeting. I said to him: "O Abu Qatada! For God's sake, tell me, do you know that I love Allah and His Messenger?" Abu Qatada remained silent. I asked him again, for God's sake, to tell me. He remained silent again. I asked again (this time): "Allah and His Messenger know!" Upon this, my eyes filled with tears, and میں واپس پلٹ کر مدینہ کے بازار میں چلا گیا تو میں نے ایک آدمی سے ملاقات کی جو کھانا بیچنے کے لیے آیا تھا، وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ میں نے اس کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے دیکھا کہ اس میں درج ذیل لکھا تھا: "پھر ہم نے سنا کہ آپ کی بیوی نے آپ پر ظلم کیا ہے، اللہ نے آپ کو ذلت کے ملک میں نہیں بنایا اور نہ ہی ایسی جگہ جہاں آپ کا حق ختم ہو جائے، آپ ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں تاکہ ہم آپ کی مدد کریں، میں نے کہا کہ یہ بھی ایک آفت ہے" اور میں نے تندور کے پاس جا کر رات کو آگ لگا دی۔ وحی بند ہو گئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو اپنی بیوی سے دور رہنے کا حکم دیتے ہیں، میں نے کہا: "نہیں! میری بیوی سے کہا کہ تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ اور اس وقت تک ان کے ساتھ رہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس کا حکم نہ دے دے، پھر ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، بے شک ہلال بن امیہ ایک ضعیف آدمی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی خادم نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: "لیکن وہ آپ کے پاس کبھی نہ آئے! اور اللہ کی قسم جب سے اس کے ساتھ یہ معاملہ ہوا ہے وہ مسلسل رو رہا ہے، پھر مجھ سے کہا: تم اپنی بیوی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت کیوں نہیں مانگتے؟ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے بارے میں نہیں پوچھ سکتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے بارے میں اجازت طلب کی تو میں نے کہا کہ وہ کیا کہے گا، اور میں اس طرح دس راتیں رہا، پھر صبح کی نماز پڑھنے سے منع کیا گیا۔ اور جب میں اس حالت میں بیٹھا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی وسعت کے باوجود مجھے اس کی آواز سنائی دی تو وہ بلند آواز میں کہہ رہا تھا کہ میں نے فوراً سلام کیا۔ اس نے صبح کی نماز پڑھی تو لوگوں نے ہمیں خوشخبری سنائی اور اسلم قبیلہ کا ایک آدمی میری طرف بھاگا اور میں اس کی آواز سن کر فوراً اوپر پہنچا اللہ کی قسم میرے پاس کوئی چیز نہیں تھی اور میں نے انہیں پہنا کر فوراً راستے میں نکلا اور یہ کہتے ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مبارکباد دی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لوگوں سے گھیرا ہوا دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور مجھے مبارکباد دی، اور کعب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تھا۔ وہ خوشی سے کہے گا: یہ سب سے اچھا دن ہے جو میں نے آپ کو جنم دیا ہے، آپ نے فرمایا: "بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوتے تھے، تو میں نے کہا:" "اے اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے ایک یہ ہے کہ میں اپنے مال میں سے کچھ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صدقہ کر دوں۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس میں سے کچھ رکھ لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے، میں نے عرض کیا: "میں اپنا حصہ خیبر سے بچا رہا ہوں، اور میں نے کہا: اللہ کے رسول! جب تک میں نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتائی اس وقت تک مجھے اللہ تعالیٰ نے سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائی ہے، اس لیے میں نے جان بوجھ کر کبھی جھوٹ نہیں بولا اور اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت فرمائی اللہ تعالیٰ نے سورہ توبہ کی آیات 117-118 کا نزول فرمایا: "بے شک اللہ نے رسول اور مہاجرین و انصار کی توبہ قبول کی جنہوں نے مشکل کے وقت آپ کی پیروی کی، جن میں سے ایک گروہ قریب قریب گمراہ ہو چکا تھا، یقیناً اس نے ان کی توبہ قبول فرمائی، کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے، تینوں کی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ پیچھے، اور جنہوں نے اپنی دنیا کی وسعت کے باوجود اپنے آپ کو قید محسوس کیا۔" یہاں تک کہ یہ آیت ہے: "جو لوگ ایمان رکھتے ہیں، اللہ سے ڈرو اور سچ بولنے والوں کے ساتھ رہو!" اور پھر، "خدا کی قسم، اس نے مجھے اسلام کی طرف رہنمائی کرنے کے بعد، اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں دی جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہی تھی کہ وہ میرے لیے تباہی کا باعث ہے۔" جب اللہ تعالیٰ نے جھوٹوں کے بارے میں وحی نازل فرمائی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم ان کے پاس جاؤ گے تو ان سے کنارہ کش ہو جاؤ، اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ بدکار لوگوں سے راضی ہوں۔‘‘ (سورہ توبہ، آیات 95-96) آپﷺ نے فرمایا: ’’ہم تین ایسے لوگ تھے کہ جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی، آپ نے ان کی قسمیں قبول کیں اور ان کے لیے بیعت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت فرمائی اس نے ہمارے معاملات کو اس وقت تک ملتوی کر دیا جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا فیصلہ نہ کر دیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''اور ان تینوں کی توبہ جو اللہ تعالیٰ نے بیان کی ہے، ہمارا پیچھے رہ جانے کا مطلب صرف یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس وقت تک ملتوی کر دیا کہ جنہوں نے ہمیں چھوڑ دیا۔ اسے، اور اس نے ان کے بہانے قبول کر لیے۔"
صحیح مسلم : ۱۷۴
Sahih
حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، الأَيْلِيُّ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَالسِّيَاقُ، حَدِيثُ مَعْمَرٍ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدٍ وَابْنِ رَافِعٍ قَالَ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَعَلْقَمَةُ بْنِ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا وَبَعْضُهُمْ كَانَ أَوْعَى لِحَدِيثِهَا مِنْ بَعْضٍ وَأَثْبَتَ اقْتِصَاصًا وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا ذَكَرُوا أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُ - قَالَتْ عَائِشَةُ - فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَخَرَجَ فِيهَا سَهْمِي فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ فَأَنَا أُحْمَلُ فِي هَوْدَجِي وَأُنْزَلُ فِيهِ مَسِيرَنَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَزْوِهِ وَقَفَلَ وَدَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ آذَنَ لَيْلَةً بِالرَّحِيلِ فَقُمْتُ حِينَ آذَنُوا بِالرَّحِيلِ فَمَشَيْتُ حَتَّى جَاوَزْتُ الْجَيْشَ فَلَمَّا قَضَيْتُ مِنْ شَأْنِي أَقْبَلْتُ إِلَى الرَّحْلِ فَلَمَسْتُ صَدْرِي فَإِذَا عِقْدِي مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ قَدِ انْقَطَعَ فَرَجَعْتُ فَالْتَمَسْتُ عِقْدِي فَحَبَسَنِي ابْتِغَاؤُهُ وَأَقْبَلَ الرَّهْطُ الَّذِينَ كَانُوا يَرْحَلُونَ لِي فَحَمَلُوا هَوْدَجِي فَرَحَلُوهُ عَلَى بَعِيرِيَ الَّذِي كُنْتُ أَرْكَبُ وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنِّي فِيهِ - قَالَتْ - وَكَانَتِ النِّسَاءُ إِذْ ذَاكَ خِفَافًا لَمْ يُهَبَّلْنَ وَلَمْ يَغْشَهُنَّ اللَّحْمُ إِنَّمَا يَأْكُلْنَ الْعُلْقَةَ مِنَ الطَّعَامِ فَلَمْ يَسْتَنْكِرِ الْقَوْمُ ثِقَلَ الْهَوْدَجِ حِينَ رَحَلُوهُ وَرَفَعُوهُ وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةَ السِّنِّ فَبَعَثُوا الْجَمَلَ وَسَارُوا وَوَجَدْتُ عِقْدِي بَعْدَ مَا اسْتَمَرَّ الْجَيْشُ فَجِئْتُ مَنَازِلَهُمْ وَلَيْسَ بِهَا دَاعٍ وَلاَ مُجِيبٌ فَتَيَمَّمْتُ مَنْزِلِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ وَظَنَنْتُ أَنَّ الْقَوْمَ سَيَفْقِدُونِي فَيَرْجِعُونَ إِلَىَّ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسَةٌ فِي مَنْزِلِي غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ ثُمَّ الذَّكْوَانِيُّ قَدْ عَرَّسَ مِنْ وَرَاءِ الْجَيْشِ فَادَّلَجَ فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِي فَرَأَى سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ فَأَتَانِي فَعَرَفَنِي حِينَ رَآنِي وَقَدْ كَانَ يَرَانِي قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ الْحِجَابُ عَلَىَّ فَاسْتَيْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِهِ حِينَ عَرَفَنِي فَخَمَّرْتُ وَجْهِي بِجِلْبَابِي وَوَاللَّهِ مَا يُكَلِّمُنِي كَلِمَةً وَلاَ سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ حَتَّى أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَوَطِئَ عَلَى يَدِهَا فَرَكِبْتُهَا فَانْطَلَقَ يَقُودُ بِي الرَّاحِلَةَ حَتَّى أَتَيْنَا الْجَيْشَ بَعْدَ مَا نَزَلُوا مُوغِرِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ فَهَلَكَ مَنْ هَلَكَ فِي شَأْنِي وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَاشْتَكَيْتُ حِينَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ شَهْرًا وَالنَّاسُ يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَهْلِ الإِفْكِ وَلاَ أَشْعُرُ بِشَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ يَرِيبُنِي فِي وَجَعِي أَنِّي لاَ أَعْرِفُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللُّطْفَ الَّذِي كُنْتُ أَرَى مِنْهُ حِينَ أَشْتَكِي إِنَّمَا يَدْخُلُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُولُ " كَيْفَ تِيكُمْ " . فَذَاكَ يَرِيبُنِي وَلاَ أَشْعُرُ بِالشَّرِّ حَتَّى خَرَجْتُ بَعْدَ مَا نَقِهْتُ وَخَرَجَتْ مَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ وَهُوَ مُتَبَرَّزُنَا وَلاَ نَخْرُجُ إِلاَّ لَيْلاً إِلَى لَيْلٍ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنَّ نَتَّخِذَ الْكُنُفَ قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الأُوَلِ فِي التَّنَزُّهِ وَكُنَّا نَتَأَذَّى بِالْكُنُفِ أَنْ نَتَّخِذَهَا عِنْدَ بُيُوتِنَا فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ وَهِيَ بِنْتُ أَبِي رُهْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَأُمُّهَا ابْنَةُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ خَالَةُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنُهَا مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَبِنْتُ أَبِي رُهْمٍ قِبَلَ بَيْتِي حِينَ فَرَغْنَا مِنْ شَأْنِنَا فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ . فَقُلْتُ لَهَا بِئْسَ مَا قُلْتِ أَتَسُبِّينَ رَجُلاً قَدْ شَهِدَ بَدْرًا . قَالَتْ أَىْ هَنْتَاهُ أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ قُلْتُ وَمَاذَا قَالَ قَالَتْ فَأَخْبَرَتْنِي بِقَوْلِ أَهْلِ الإِفْكِ فَازْدَدْتُ مَرَضًا إِلَى مَرَضِي فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ " كَيْفَ تِيكُمْ " . قُلْتُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ آتِيَ أَبَوَىَّ قَالَتْ وَأَنَا حِينَئِذٍ أُرِيدُ أَنْ أَتَيَقَّنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا . فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجِئْتُ أَبَوَىَّ فَقُلْتُ لأُمِّي يَا أُمَّتَاهْ مَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّةُ هَوِّنِي عَلَيْكِ فَوَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِيئَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا وَلَهَا ضَرَائِرُ إِلاَّ كَثَّرْنَ عَلَيْهَا - قَالَتْ - قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهَذَا قَالَتْ فَبَكَيْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَصْبَحْتُ لاَ يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ ثُمَّ أَصَبَحْتُ أَبْكِي وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْىُ يَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ - قَالَتْ - فَأَمَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَأَشَارَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ وَبِالَّذِي يَعْلَمُ فِي نَفْسِهِ لَهُمْ مِنَ الْوُدِّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُمْ أَهْلُكَ وَلاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَيْرًا . وَأَمَّا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لَمْ يُضَيِّقِ اللَّهُ عَلَيْكَ وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ وَإِنْ تَسْأَلِ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْكَ - قَالَتْ - فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَرِيرَةَ فَقَالَ " أَىْ بَرِيرَةُ هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَىْءٍ يَرِيبُكِ مِنْ عَائِشَةَ " . قَالَتْ لَهُ بَرِيرَةُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا قَطُّ أَغْمِصُهُ عَلَيْهَا أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ - قَالَتْ - فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ ابْنِ سَلُولَ - قَالَتْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ " يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَ أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلاَّ خَيْرًا وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلاً مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلاَّ خَيْرًا وَمَا كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلاَّ مَعِي " . فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ أَنَا أَعْذِرُكَ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ مِنَ الأَوْسِ ضَرَبْنَا عُنُقَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَكَ - قَالَتْ - فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ وَكَانَ رَجُلاً صَالِحًا وَلَكِنِ اجْتَهَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لاَ تَقْتُلُهُ وَلاَ تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ . فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِينَ فَثَارَ الْحَيَّانِ الأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَقْتَتِلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا وَسَكَتَ - قَالَتْ - وَبَكَيْتُ يَوْمِي ذَلِكَ لاَ يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ ثُمَّ بَكَيْتُ لَيْلَتِي الْمُقْبِلَةَ لاَ يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ وَأَبَوَاىَ يَظُنَّانِ أَنَّ الْبُكَاءَ فَالِقٌ كَبِدِي فَبَيْنَمَا هُمَا جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا أَبْكِي اسْتَأْذَنَتْ عَلَىَّ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَأَذِنْتُ لَهَا فَجَلَسَتْ تَبْكِي - قَالَتْ - فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ - قَالَتْ - وَلَمْ يَجْلِسْ عِنْدِي مُنْذُ قِيلَ لِي مَا قِيلَ وَقَدْ لَبِثَ شَهْرًا لاَ يُوحَى إِلَيْهِ فِي شَأْنِي بِشَىْءٍ - قَالَتْ - فَتَشَهَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ جَلَسَ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا وَكَذَا فَإِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبٍ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ " . قَالَتْ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِي حَتَّى مَا أُحِسُّ مِنْهُ قَطْرَةً فَقُلْتُ لأَبِي أَجِبْ عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيمَا قَالَ . فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لأُمِيِّ أَجِيبِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ لاَ أَقْرَأُ كَثِيرًا مِنَ الْقُرْآنِ إِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ بِهَذَا حَتَّى اسْتَقَرَّ فِي نُفُوسِكُمْ وَصَدَّقْتُمْ بِهِ فَإِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي بَرِيئَةٌ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ لاَ تُصَدِّقُونِي بِذَلِكَ وَلَئِنِ اعْتَرَفْتُ لَكُمْ بِأَمْرٍ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ لَتُصَدِّقُونَنِي وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلاً إِلاَّ كَمَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ . قَالَتْ ثُمَّ تَحَوَّلْتُ فَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي - قَالَتْ - وَأَنَا وَاللَّهِ حِينَئِذٍ أَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ مُبَرِّئِي بِبَرَاءَتِي وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ يُنْزَلَ فِي شَأْنِي وَحْىٌ يُتْلَى وَلَشَأْنِي كَانَ أَحْقَرَ فِي نَفْسِي مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى وَلَكِنِّي كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ بِهَا قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا رَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَجْلِسَهُ وَلاَ خَرَجَ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ أَحَدٌ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَهُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ مِنَ الْبُرَحَاءِ عِنْدَ الْوَحْىِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنَ الْعَرَقِ فِي الْيَوْمِ الشَّاتِ مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ - قَالَتْ - فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَضْحَكُ فَكَانَ أَوَّلَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ " أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ بَرَّأَكِ " . فَقَالَتْ لِي أُمِّي قُومِي إِلَيْهِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لاَ أَقُومُ إِلَيْهِ وَلاَ أَحْمَدُ إِلاَّ اللَّهَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَاءَتِي - قَالَتْ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ} عَشْرَ آيَاتٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلاَءِ الآيَاتِ بَرَاءَتِي - قَالَتْ - فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ وَاللَّهِ لاَ أُنْفِقُ عَلَيْهِ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى} إِلَى قَوْلِهِ { أَلاَ تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ} قَالَ حِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ هَذِهِ أَرْجَى آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي . فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ وَقَالَ لاَ أَنْزِعُهَا مِنْهُ أَبَدًا . قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَمْرِي " مَا عَلِمْتِ أَوْ مَا رَأَيْتِ " . فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْمِي سَمْعِي وَبَصَرِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِلاَّ خَيْرًا . قَالَتْ عَائِشَةُ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِالْوَرَعِ وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُحَارِبُ لَهَا فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ . قَالَ الزُّهْرِيُّ فَهَذَا مَا انْتَهَى إِلَيْنَا مِنْ أَمْرِ هَؤُلاَءِ الرَّهْطِ . وَقَالَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ .
ابو ربیع عتکی نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں فلیح بن سلیمان نے حدیث سنائی ، نیز ہمیں حسن بن علی حلوانی اور عبد بن حمید نے حدیث سنائی ، دونوں نے کہا : ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے صالح بن کیسان سے حدیث سنائی ، ان دونوں ( فلیح بن سلیمان اور صالح بن کیسان ) نے زہری سے یونس اور معمر کی روایت کے مطابق انہی کی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ فلیح کی حدیث میں اسی طرح ہے جیسے معمر نے بیان کیا : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے جاہلیت ( کے دور ) میں گھسیٹ لیا ۔ اور صالح کی حدیث میں یونس کے قول کی طرح ہے : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے اکسا دیا ۔ اور صالح کی حدیث میں مزید یہ ہے : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ حسان ( بن ثابت رضی اللہ عنہ ) کو ان کے سامنے برا بھلا کہا جائے ۔ وہ فرماتی تھیں : انہوں نے یہ ( عظیم شعر ) کہا ہے : "" بےشک میرا باپ اور اس کا باپ اور میری عزت ، تم لوگوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو کی حفاظت کے لیے ڈھال ہیں ۔ "" اور انہوں نے مزید بھی کہا : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ کی قسم! جس شخص کے بارے میں وہ ساری باتیں ، جو گھڑی گئی تھیں ، وہ کہتا تھا : سبحان اللہ! ( یہ کیسی باتیں ہیں ) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے کبھی کسی عورت کے حجلہ عروسی 0تک کا ) پردہ بھی نہیں اٹھایا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : پھر بعد میں وہ اللہ کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہو گیا ۔ اور یعقوب بن ابراہیم کی حدیث میں موغرين في نحر الظهيرة ( لوگ دوپہر کے وقت بے سایہ بنجر راستے میں سفر سے بے حال ہو گئے تھے ۔ ) عبدالرزاق نے موغرين ( گرمی کی شدت سے بے حال ہوئے ) کہا ہے ۔ عبد بن حمید نے کہا : میں نے عبدالرزاق سے پوچھا : "" موغرين "" کا مطلب کیا ہے؟ کہا : الوغرة گرمی کی شدت ہوتی ہے ۔
صحیح مسلم : ۱۷۵
Sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي، مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَرْثٍ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ إِذْ مَرَّ بِنَفَرٍ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ فَقَالُوا مَا رَابَكُمْ إِلَيْهِ لاَ يَسْتَقْبِلُكُمْ بِشَىْءٍ تَكْرَهُونَهُ . فَقَالُوا سَلُوهُ فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ فَسَأَلَهُ عَنِ الرُّوحِ - قَالَ - فَأَسْكَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ - قَالَ - فَقُمْتُ مَكَانِي فَلَمَّا نَزَلَ الْوَحْىُ قَالَ { وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً}
حفص بن غیاث نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابراہیم نے علقمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک کھیت میں چلا جارہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ایک شاخ کا سہارا لے ( کر چل ) رہے تھے کہ آپ کا یہود کے چند لوگوں کے قریب سے گزر ہوا ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : ان سے روح کے بارے میں سوال کرو پھر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے : ان کے بارے میں تمھیں شک کس بات کا ہے؟ایسا نہ ہو کہ وہ آگے سے ایسی بات کہہ دیں جو تمھیں بری لگے پھر ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوکر آپ کے پاس آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے بارے میں سوال کیا ۔ ( حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( تھوڑی دیر کے لیے ) خاموش ہو گئے اور ان کو کو ئی جواب نہ دیا ۔ مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ پروحی نازل ہو رہی ہے ۔ کہا میں بھی اپنی جگہ پر ( رک کر ) کھڑا ہو گیا ۔ جب وحی نازل ہو چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ پڑھتے ہوئے ) فرمایا : " یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔ کہہ دیجیے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تم ( انسانوں ) کو بہت کم علم دیا گیا ہے ۔
صحیح مسلم : ۱۷۶
Sahih
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا وَهُوَ مُضْطَجِعٌ بَيْنَنَا فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ قَاصًّا عِنْدَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ يَقُصُّ وَيَزْعُمُ أَنَّ آيَةَ الدُّخَانِ تَجِيءُ فَتَأْخُذُ بِأَنْفَاسِ الْكُفَّارِ وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَجَلَسَ وَهُوَ غَضْبَانُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِمَا يَعْلَمُ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ لأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ لِمَا لاَ يَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم { قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ} إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا رَأَى مِنَ النَّاسِ إِدْبَارًا فَقَالَ " اللَّهُمَّ سَبْعٌ كَسَبْعِ يُوسُفَ " . قَالَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَىْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ مِنَ الْجُوعِ وَيَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ أَحَدُهُمْ فَيَرَى كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ جِئْتَ تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَبِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ - قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ * يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ} إِلَى قَوْلِهِ { إِنَّكُمْ عَائِدُونَ} . قَالَ أَفَيُكْشَفُ عَذَابُ الآخِرَةِ { يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ} فَالْبَطْشَةُ يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدْ مَضَتْ آيَةُ الدُّخَانِ وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَآيَةُ الرُّومِ .
منصور نے ابو ضحیٰ ( مسلم بن صحیح ) سے ، انھوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا : ہم حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمارے درمیان ( اپنے بستر یا بچھونے پر ) لیٹے ہوئے تھے تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا : ابو عبدالرحمان!ابواب کندہ ( کوفہ کا ایک محلہ ) میں ایک قصہ گو ( واعظ ) آیا ہوا ہے ، وہ وعظ کررہا ہے اور یہ کہتا ہے کہ دھوئیں والی ( اللہ کی ) نشانی آئے گی اور ( یہ د ھواں ) کافروں کی روحیں قبض کرلے گا اور مومنوں کو یہ زکام جیسی کیفیت سے دو چار کرے گا ۔ حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا اور وہ غصے کے عالم میں اٹھ کر بیٹھ گئے ، لوگو! اللہ سے ڈرو ، تم میں سے جو شخص کوئی چیز جانتا ہو ، وہ اتنی ہی بیان کرے جتنی جانتاہو اور جو نہیں جانتا ، وہ کہے : اللہ زیادہ جاننے والا ہے ۔ بے شک وہ ( اللہ تعالیٰ ) تم میں سے اس کو ( بھی ) زیادہ جاننے والاہے ۔ جو اس بات کے بارے میں جو وہ نہیں جانتا ، یہ کہتا ہے : اللہ زیادہ جاننے والا ہے ۔ اللہ عزوجل نے ا پنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا؛ "" کہہ دیجئے : میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں ۔ "" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کی دین سے روگردانی دیکھی تو آپ نے ( دعا کرتے ہوئے ) فرمایا : "" اے اللہ! ( ان پر ) یوسف علیہ السلام کےسات سالوں جیسے سات سال ( بھیج دے ۔ ) "" ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو انھیں ( قحط کے ) ایک سال نے آلیا جس نے ہر چیز کاصفایاکرایا ، یہاں تک کہ ان ( مشرک ) لوگوں نے بھوک سے چمڑے اور مردار تک کھائے ۔ ان میں سے کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا تو اسے دھوئیں کے جیسی ایک چیز چھائی ہوئی نظر آتی ۔ چنانچہ ابو سفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ آئے ہیں ، اللہ کی اطاعت اور صلہ رحمی کاحکم دیتے ہیں ، آپ کی قوم ( قحط اور بھوک سے ) ہلاک ہورہی ہے ۔ ان کےلیے اللہ سے دعا کریں ۔ اللہ عزوجل نے فرمایا : "" آپ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان ایک نظر آنے والے دھوئیں کو لے آئے گا ۔ ( اور وہ ) لوگوں کو ڈھانپ لے گا ۔ یہ دردناک عذاب ہوگا ، سے لے کر اس کے فرمان : "" نے شک تم ( کفر میں ) لوٹ جانے والے ہوگئے "" تک ۔ ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : کیا آخرت کا عذاب ہٹایا جائے گا؟ "" جس دن ہم تم پر بڑی گرفت کریں گے ( اس دن ) ہم انتقام لینے والے ہوں گے ۔ "" وہ گرفت بدر کے دن تھی ۔ اب تک دھوئیں کی نشانی گرفت اور چمٹ جانےوالا عذاب ( بدر میں شکست فاش اور قتل ) اور روم ( کی فتح ) کی نشانی ( سب ) آکر گذر چکی ہیں ۔
صحیح مسلم : ۱۷۷
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، الأَشَجُّ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ فَقَالَ تَرَكْتُ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلاً يُفَسِّرُ الْقُرْآنَ بِرَأْيِهِ يُفَسِّرُ هَذِهِ الآيَةَ { يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ} قَالَ يَأْتِي النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ دُخَانٌ فَيَأْخُذُ بِأَنْفَاسِهِمْ حَتَّى يَأْخُذَهُمْ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَنْ عَلِمَ عِلْمًا فَلْيَقُلْ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ أَنْ يَقُولَ لِمَا لاَ عِلْمَ لَهُ بِهِ اللَّهُ أَعْلَمُ . إِنَّمَا كَانَ هَذَا أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ فَأَصَابَهُمْ قَحْطٌ وَجَهْدٌ حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجَهْدِ وَحَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرِ اللَّهَ لِمُضَرَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا فَقَالَ " لِمُضَرَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ " . قَالَ فَدَعَا اللَّهَ لَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَائِدُونَ} قَالَ فَمُطِرُوا فَلَمَّا أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ - قَالَ - عَادُوا إِلَى مَا كَانُوا عَلَيْهِ - قَالَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ * يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ} { يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ} قَالَ يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ .
ابو معاویہ ، وکیع ، اور جریر نے اعمش سے ، انھوں نے مسلم بن صحیح سے اور انھوں نے مسروق سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : میں مسجد میں ایک ایسے شخص کو چھوڑ کر آرہا ہوں جو اپنی رائے سے قرآن مجید کی تفسیر کرتا ہے وہ ( قرآن کی ) آیت : " جب آسمان سے واضح دھواں اٹھے گا " کی تفسیر کرتا ہے ، کہتا ہے : " قیامت کےدن لوگوں کے پاس ایک دھواں آئے گا جو لوگوں کی سانسوں کو گرفت میں لے لے گا ، یہاں تک کہ لوگوں کو زکام جیسی کیفیت ( جس میں سانس لینی مشکل ہوجاتی ہے ) درپیش ہوگی ، توحضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : جس کے پاس علم ہو وہ اس کے مطابق بات کہے اور جو نہ جانتا ہو ، وہ کہے : اللہ زیادہ جاننے والا ہے ۔ یہ بات انسان کے فہم ( دین ) کاحصہ ہے ۔ کہ جس بات کو وہ نہیں جانتا اس کے بارے میں کہے : اللہ زیادہ جاننے والاہے ۔ اس ( دھوئیں ) کی حقیقت یہ تھی کہ قریش نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سخت نافرمانی سے کام لیا تو آپ نے ان کے خلاف یوسف علیہ السلام ( کے زمانےوالے ) قحط کے سالوں جیسی قحط سالی کی دعاکی ۔ انھیں قحط اور تنگ دستی نے آلیا یہاں تک کہ ( ان میں سے ) کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھنے لگتا تو بھوک کی شدت سے اسے اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں ساچھایا ہوا نظرآتا یہاں تک کہ ان لوگوں نے ( بھوک کی شدت سے ) ہڈیاں تک کھائیں ، چنانچہ ( ان میں سے ) ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ( قبیلہ ) مضر کے لئے بخشش طلب فرمائیں ۔ وہ ہلاکت کا شکار ہیں ، تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مضر کے لئے؟تو بہت جراءت والا ہے ( کہ اللہ سے شرک اور اس کے رسول سے بغض کے باوجود د رخواست کررہا ہے کہ میں تمہارے لئے اللہ سے دعا کروں ) " کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر بھی ) ان کے حق میں دعا فرمادی ۔ اس پر اللہ عزوجل نے ( آیت ) نازل فرمائی : " ہم ( تم سے ) تھوڑے عرصے کے لئے عذاب ہٹادیتے ہیں ۔ تم ( پھر کفر ہی میں ) لوٹنے والا ہو ۔ " ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر ان پر بارش برسائی گئی ۔ انھیں خوشحالی مل گئی ، کہا : ( تو پھر ) وہ اپنی اسی روش پر لوٹ گئے جس سے پہلے تھے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ( یہ حصہ ) نازل فرمایا : " آپ انتظار کیجئے جب آسمان ظاہر دھواں لے آئے گا ۔ جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا ، یہ دردناک عذاب ہوگا ۔ ( پھر یہ آیت نازل فرمائی ) جس دن ہم بڑ ی گرفت میں لیں گے ، ہم انتقام لینے والے ہوں گے ۔ " کہا : یعنی جنگ بدر کو ۔
صحیح مسلم : ۱۷۸
Sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ كَمَا تَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ مِنَ الأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ تِلْكَ مَنَازِلُ الأَنْبِيَاءِ لاَ يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ . قَالَ " بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ رِجَالٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ " .
وہیب نے ابو حازم سے گزشتہ دونوں سندوں کے ساتھ یعقوب کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
صحیح مسلم : ۱۷۹
Sahih
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيَّ، كَانَ يَقُولُ قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُ النَّاسِ بِكُلِّ فِتْنَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ السَّاعَةِ وَمَا بِي إِلاَّ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسَرَّ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يُحَدِّثْهُ غَيْرِي وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِ عَنِ الْفِتَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَعُدُّ الْفِتَنَ " مِنْهُنَّ ثَلاَثٌ لاَ يَكَدْنَ يَذَرْنَ شَيْئًا وَمِنْهُنَّ فِتَنٌ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ مِنْهَا صِغَارٌ وَمِنْهَا كِبَارٌ " . قَالَ حُذَيْفَةُ فَذَهَبَ أُولَئِكَ الرَّهْطُ كُلُّهُمْ غَيْرِي .
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبردی کہ ابو ادریس خولانی کہا کرتے تھے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا : اللہ کی قسم!میں اب سے لے کر قیامت تک وقوع پذیر ہونے والے تمام فتنوں کے بارے میں باقی سب لوگوں کی نسبت زیادہ جانتاہوں ۔ اور ( انھیں بیان کرنےمیں ) میرے لیے اس کے سوا اور کوئی ( مانع ) نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کوئی چیز راز کے طورپر مجھے بتائی تھی جو آپ نے میرے علاوہ کسی اور کو نہیں بتائی تھی ۔ ( ایسی باتیں میں کبھی بیان نہیں کروں گا ) البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں جہاں میں مو جود تھا فتنوں کو شمار کر رہے تھے : " ان میں سے تین ( فتنے ) ایسے ہیں جو تقریباً کسی چیزکو باقی نہیں چھوڑیں گے اور ان میں سے کچھ فتنے ایسے ہیں جو موسم گرما کی آندھیوں کی طرح ہیں ان میں کچھ چھوٹے ہیں اور کچھ بڑے ہیں ۔ " حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میرے سوا وہ سب لوگ ( جو اس مجلس میں موجود تھے ) رخصت ہوگئے ۔
صحیح مسلم : ۱۸۰
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا أَوْ عُمَّارًا وَمَعَنَا ابْنُ صَائِدٍ - قَالَ - فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَبَقِيتُ أَنَا وَهُوَ فَاسْتَوْحَشْتُ مِنْهُ وَحْشَةً شَدِيدَةً مِمَّا يُقَالُ عَلَيْهِ - قَالَ - وَجَاءَ بِمَتَاعِهِ فَوَضَعَهُ مَعَ مَتَاعِي . فَقُلْتُ إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ فَلَوْ وَضَعْتَهُ تَحْتَ تِلْكَ الشَّجَرَةِ - قَالَ - فَفَعَلَ - قَالَ - فَرُفِعَتْ لَنَا غَنَمٌ فَانْطَلَقَ فَجَاءَ بِعُسٍّ فَقَالَ اشْرَبْ أَبَا سَعِيدٍ . فَقُلْتُ إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ وَاللَّبَنُ حَارٌّ . مَا بِي إِلاَّ أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَشْرَبَ عَنْ يَدِهِ - أَوْ قَالَ آخُذَ عَنْ يَدِهِ - فَقَالَ أَبَا سَعِيدٍ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ حَبْلاً فَأُعَلِّقَهُ بِشَجَرَةٍ ثُمَّ أَخْتَنِقَ مِمَّا يَقُولُ لِيَ النَّاسُ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ خَفِيَ عَلَيْهِ حَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَسْتَ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هُوَ كَافِرٌ " . وَأَنَا مُسْلِمٌ أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هُوَ عَقِيمٌ لاَ يُولَدُ لَهُ " . وَقَدْ تَرَكْتُ وَلَدِي بِالْمَدِينَةِ أَوَ لَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلاَ مَكَّةَ " . وَقَدْ أَقْبَلْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ حَتَّى كِدْتُ أَنْ أَعْذِرَهُ . ثُمَّ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْرِفُهُ وَأَعْرِفُ مَوْلِدَهُ وَأَيْنَ هُوَ الآنَ . قَالَ قُلْتُ لَهُ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ .
جریری نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ ہم حج یا عمرہ کو نکلے اور ہمارے ساتھ ابن صائد بھی تھا ۔ ایک منزل میں ہم اترے ، لوگ ادھر ادھر چلے گئے اور میں اور ابن صائد دونوں رہ گئے ۔ مجھے اس وجہ سے اس سے سخت وحشت ہوئی کہ لوگ اس کے بارے میں جو کہا کرتے تھے ( کہ دجال ہے ) ابن صائد اپنا اسباب لے کر آیا اور میرے اسباب کے ساتھ رکھ دیا ( مجھے اور زیادہ وحشت ہوئی ) میں نے کہا کہ گرمی بہت ہے اگر تو اپنا اسباب اس درخت کے نیچے رکھے تو بہتر ہے ۔ اس نے ایسا ہی کیا ۔ پھر ہمیں بکریاں دکھلائی دیں ۔ ابن صائد گیا اور دودھ لے کر آیا اور کہنے لگا کہ ابوسعید! دودھ پی ۔ میں نے کہا کہ گرمی بہت ہے اور دودھ گرم ہے اور دودھ نہ پینے کی اس کے سوا کوئی وجہ نہ تھی کہ مجھے اس کے ہاتھ سے پینا برا معلوم ہوا ۔ ابن صائد نے کہا کہ اے ابوسعید! میں نے قصد کیا ہے کہ ایک رسی لوں اور درخت میں لٹکا کر اپنے آپ کو پھانسی دے لوں ان باتوں کی وجہ سے جو لوگ میرے حق میں کہتے ہیں ۔ اے ابوسعید! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اتنی کس سے پوشیدہ ہے جتنی تم انصار کے لوگوں سے پوشیدہ ہے ۔ کیا تم سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو نہیں جانتے؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ دجال کافر ہو گا اور میں تو مسلمان ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال لاولد ہو گا اور میری اولاد مدینہ میں موجود ہے ۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال مدینہ میں اور مکہ میں نہ جائے گا اور میں مدینہ سے آ رہا ہوں اور مکہ کو جا رہا ہوں؟ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ( اس کی ایسی باتوں کی وجہ سے ) قریب تھا کہ میں اس کا طرفدار بن جاؤں ( اور لوگوں کا اس کے بارے میں کہنا غلط سمجھوں ) کہ پھر کہنے لگا البتہ اللہ کی قسم! میں دجال کو پہچانتا ہوں اور اس کے پیدائش کا مقام جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اب وہ کہاں ہے ۔ کہا : میں نے اس سے کہا : باقی سارا دن تیرے لئے تباہی اور ہلاکت ہو! ( تیرا اس سے اتنا قرب کیسے ہوا؟)