Mother کے بارے میں احادیث

۱۴۲۱ مستند احادیث ملیں

صحیح بخاری : ۱۸۱
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌فَرْوَةُ، ​حَدَّثَنَا ‌عَلِيُّ ‌بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَتْنِي أُمِّي فَأَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فِي الْبَيْتِ فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ‏.‏
ہم ‌سے ​فروہ ‌بن ‌ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ سے شادی کی تو میری والدہ ( ام رومان بنت عامر ) میرے پاس آئیں اور مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے اندر لے گئیں۔ گھر کے اندر قبیلہ انصار کی عورتیں موجود تھیں۔ انہوں نے ( مجھ کو اور میری ماں کو ) یوں دعا دی «بارك وبارك الله» ”اللہ کرے تم اچھی ہو تمہارا نصیبہ اچھا ہو۔“
عائشہ (رضی اللہ عنہا) صحیح بخاری #۵۱۵۶ Sahih
صحیح بخاری : ۱۸۲
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنِي ​فَرْوَةُ ‌بْنُ ‌أَبِي ‌الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَتْنِي أُمِّي فَأَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلاَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضُحًى‏.‏
مجھ ​سے ‌فروہ ‌بن ‌ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، انس سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تھی۔ میری والدہ میرے پاس آئیں اور تنہا مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا۔ پھر مجھے کسی چیز نے خوف نہیں دلایا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ اچانک ہی میرے پاس چاشت کے وقت آ گئے۔ آپ نے مجھ سے ملاپ فرمایا۔
عائشہ (رضی اللہ عنہا) صحیح بخاری #۵۱۶۰ Sahih
صحیح بخاری : ۱۸۳
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
وَقَالَ ​إِبْرَاهِيمُ ‌عَنْ ​أَبِي ​عُثْمَانَ ـ وَاسْمُهُ الْجَعْدُ ـ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَرَّ بِنَا فِي مَسْجِدِ بَنِي رِفَاعَةَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا مَرَّ بِجَنَبَاتِ أُمِّ سُلَيْمٍ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَلَّمَ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَرُوسًا بِزَيْنَبَ فَقَالَتْ لِي أُمُّ سُلَيْمٍ لَوْ أَهْدَيْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَدِيَّةً فَقُلْتُ لَهَا افْعَلِي‏.‏ فَعَمَدَتْ إِلَى تَمْرٍ وَسَمْنٍ وَأَقِطٍ، فَاتَّخَذَتْ حَيْسَةً فِي بُرْمَةٍ، فَأَرْسَلَتْ بِهَا مَعِي إِلَيْهِ، فَانْطَلَقْتُ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لِي ‏"‏ ضَعْهَا ‏"‏‏.‏ ثُمَّ أَمَرَنِي فَقَالَ ‏"‏ ادْعُ لِي رِجَالاً ـ سَمَّاهُمْ ـ وَادْعُ لِي مَنْ لَقِيتَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَفَعَلْتُ الَّذِي أَمَرَنِي فَرَجَعْتُ فَإِذَا الْبَيْتُ غَاصٌّ بِأَهْلِهِ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى تِلْكَ الْحَيْسَةِ، وَتَكَلَّمَ بِهَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ جَعَلَ يَدْعُو عَشَرَةً عَشَرَةً، يَأْكُلُونَ مِنْهُ، وَيَقُولُ لَهُمُ ‏"‏ اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، وَلْيَأْكُلْ كُلُّ رَجُلٍ مِمَّا يَلِيهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ حَتَّى تَصَدَّعُوا كُلُّهُمْ عَنْهَا، فَخَرَجَ مِنْهُمْ مَنْ خَرَجَ، وَبَقِيَ نَفَرٌ يَتَحَدَّثُونَ قَالَ وَجَعَلْتُ أَغْتَمُّ، ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ الْحُجُرَاتِ، وَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ فَقُلْتُ إِنَّهُمْ قَدْ ذَهَبُوا‏.‏ فَرَجَعَ فَدَخَلَ الْبَيْتَ، وَأَرْخَى السِّتْرَ، وَإِنِّي لَفِي الْحُجْرَةِ، وَهْوَ يَقُولُ ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلاَ مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ‏}‏‏.‏ قَالَ أَبُو عُثْمَانَ قَالَ أَنَسٌ إِنَّهُ خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَشْرَ سِنِينَ‏.‏
اور ​ابراہیم ‌بن ​طہمان ​نے ابوعثمان جعد بن دینار سے روایت کیا، انہوں نے انس بن مالک سے، ابوعثمان کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے سے بنی رفاعہ کی مسجد میں ( جو بصرہ میں ہے ) گزرے۔ میں نے ان سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا آپ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف سے گزرتے تو ان کے پاس جاتے، ان کو سلام کرتے ( وہ آپ کی رضاعی خالہ ہوتی تھیں ) ۔ پھر انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک بار ایسا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے۔ آپ نے زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تھا تو ام سلیم ( میری ماں ) مجھ سے کہنے لگیں اس وقت ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ تحفہ بھیجیں تو اچھا ہے۔ میں نے کہا مناسب ہے۔ انہوں نے کھجور اور گھی اور پنیر ملا کر ایک ہانڈی میں حلوہ بنایا اور میرے ہاتھ میں دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھجوایا، میں لے کر آپ کے پاس چلا، جب پہنچا تو آپ نے فرمایا رکھ دے اور جا کر فلاں فلاں لوگوں کو بلا لا آپ نے ان کا نام لیا اور جو بھی کوئی تجھ کو راستے میں ملے اس کو بلا لے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کے حکم کے موافق لوگوں کو دعوت دینے گیا۔ لوٹ کر جو آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سارا گھر لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس حلوے پر رکھے اور جو اللہ کو منظور تھا وہ زبان سے کہا ( برکت کی دعا فرمائی ) ۔ پھر دس دس آدمیوں کو کھانے کے لیے بلانا شروع کیا۔ آپ ان سے فرماتے جاتے تھے اللہ کا نام لو اور ہر ایک آدمی اپنے آگے سے کھائے۔ ( رکابی کے بیچ میں ہاتھ نہ ڈالے ) یہاں تک کہ سب لوگ کھا کر گھر کے باہر چل دئیے۔ تین آدمی گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے اور مجھ کو ان کے نہ جانے سے رنج پیدا ہوا ( اس خیال سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہو گی ) آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے حجروں پر گئے میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے گیا پھر راستے میں میں نے آپ سے کہا اب وہ تین آدمی بھی چلے گئے ہیں۔ اس وقت آپ لوٹے اور ( زینب رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ) آئے۔ میں بھی حجرے ہی میں تھا لیکن آپ نے میرے اور اپنے بیچ میں پردہ ڈال لیا۔ آپ سورۃ الاحزاب کی یہ آیت پڑھ رہے تھے۔ ”مسلمانو! نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر جب کھانے کے لیے تم کو اندر آنے کی اجازت دی جائے اس وقت جاؤ وہ بھی ایسا ٹھیک وقت دیکھ کر کہ کھانے کے پکنے کا انتظار نہ کرنا پڑے البتہ جب بلائے جاؤ تو اندر آ جاؤ اور کھانے سے فارغ ہوتے ہی چل دو۔ باتوں میں لگ کر وہاں بیٹھے نہ رہا کرو، ایسا کرنے سے پیغمبر کو تکلیف ہوتی تھی، اس کو تم سے شرم آتی تھی ( کہ تم سے کہے کہ چلے جاؤ ) اللہ تعالیٰ حق بات میں نہیں شرماتا۔“ ابوعثمان ( جعدی بن دینار ) کہتے تھے کہ انس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے۔
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۵۱۶۳ Sahih
صحیح بخاری : ۱۸۴
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​يَحْيَى ​بْنُ ​بُكَيْرٍ، ‌قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ مَقْدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ، فَكَانَ أُمَّهَاتِي يُوَاظِبْنَنِي عَلَى خِدْمَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَخَدَمْتُهُ عَشْرَ سِنِينَ، وَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً، فَكُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ، وَكَانَ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ فِي مُبْتَنَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ، أَصْبَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِهَا عَرُوسًا، فَدَعَا الْقَوْمَ فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ، ثُمَّ خَرَجُوا وَبَقِيَ رَهْطٌ مِنْهُمْ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَطَالُوا الْمُكْثَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ لِكَىْ يَخْرُجُوا، فَمَشَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَمَشَيْتُ، حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ لَمْ يَقُومُوا، فَرَجَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَجَعْتُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا فَضَرَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ، وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ‏.‏
ہم ​سے ​یحییٰ ​بن ‌بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے تو ان کی عمر دس برس کی تھی۔ میری ماں اور بہنیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے مجھ کو تاکید کرتی رہتی تھیں۔ چنانچہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس برس تک خدمت کی اور جب آپ کی وفات ہوئی تو میں بیس برس کا تھا۔ پردہ کے متعلق میں سب سے زیادہ جاننے والوں میں سے ہوں کہ کب نازل ہوا۔ سب سے پہلے یہ حکم اس وقت نازل ہوا تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہما سے نکاح کے بعد انہیں اپنے گھر لائے تھے، آپ ان کے دولہا بنے تھے۔ پھر آپ نے لوگوں کو ( دعوت ولیمہ پر ) بلایا۔ لوگوں نے کھانا کھایا اور چلے گئے۔ لیکن کچھ لوگ ان میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ( کھانے کے بعد بھی ) دیر تک وہیں بیٹھے ( باتیں کرتے رہے ) آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور باہر تشریف لے گئے۔ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر گیا تاکہ یہ لوگ بھی چلے جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے اور میں بھی آپ کے ساتھ رہا۔ جب آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس دروازے پر آئے تو آپ کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں۔ اس لیے آپ واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ آیا۔ جب آپ زینب رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ لوگ ابھی بیٹھے ہوئے ہیں اور ابھی تک نہیں گئے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے پھر واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آ گیا جب آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے دروازے پر پہنچے اور آپ کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں تو آپ پھر واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا۔ اب وہ لوگ واقعی جا چکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اپنے اور میرے بیچ میں پردہ ڈال دیا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۵۱۶۶ Sahih
صحیح بخاری : ۱۸۵
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌سُلَيْمَانُ ​بْنُ ‌عَبْدِ ​الرَّحْمَنِ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَلَسَ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً، فَتَعَاهَدْنَ وَتَعَاقَدْنَ أَنْ لاَ يَكْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا‏.‏ قَالَتِ الأُولَى زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ، غَثٌّ عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ، لاَ سَهْلٍ فَيُرْتَقَى، وَلاَ سَمِينٍ فَيُنْتَقَلُ‏.‏ قَالَتِ الثَّانِيَةُ زَوْجِي لاَ أَبُثُّ خَبَرَهُ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ لاَ أَذَرَهُ، إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ‏.‏ قَالَتِ الثَّالِثَةُ زَوْجِي الْعَشَنَّقُ، إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ‏.‏ قَالَتِ الرَّابِعَةُ زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ، لاَ حَرٌّ، وَلاَ قُرٌّ، وَلاَ مَخَافَةَ، وَلاَ سَآمَةَ‏.‏ قَالَتِ الْخَامِسَةُ زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ، وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ، وَلاَ يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ‏.‏ قَالَتِ السَّادِسَةُ زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ، وَإِنْ شَرِبَ اشْتَفَّ، وَإِنِ اضْطَجَعَ الْتَفَّ، وَلاَ يُولِجُ الْكَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثَّ، قَالَتِ السَّابِعَةُ زَوْجِي غَيَايَاءُ أَوْ عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ، كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ، شَجَّكِ أَوْ فَلَّكِ أَوْ جَمَعَ كُلاًّ لَكِ‏.‏ قَالَتِ الثَّامِنَةُ زَوْجِي الْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ، وَالرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ‏.‏ قَالَتِ التَّاسِعَةُ زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ، طَوِيلُ النِّجَادِ، عَظِيمُ الرَّمَادِ، قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِ‏.‏ قَالَتِ الْعَاشِرَةُ زَوْجِي مَالِكٌ وَمَا مَالِكٌ، مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكِ، لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ قَلِيلاَتُ الْمَسَارِحِ، وَإِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ‏.‏ قَالَتِ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ فَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَىَّ، وَمَلأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَىَّ، وَبَجَّحَنِي فَبَجِحَتْ إِلَىَّ نَفْسِي، وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ، فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ وَأَطِيطٍ وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ، فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلاَ أُقَبَّحُ وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ، وَأَشْرَبُ فَأَتَقَنَّحُ، أُمُّ أَبِي زَرْعٍ فَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ عُكُومُهَا رَدَاحٌ، وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ، ابْنُ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ مَضْجِعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ، وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ، بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ طَوْعُ أَبِيهَا، وَطَوْعُ أُمِّهَا، وَمِلْءُ كِسَائِهَا، وَغَيْظُ جَارَتِهَا، جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لاَ تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا، وَلاَ تُنَقِّثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا، وَلاَ تَمْلأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا، قَالَتْ خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالأَوْطَابُ تُمْخَضُ، فَلَقِيَ امْرَأَةً مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا كَالْفَهْدَيْنِ يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ، فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا، فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلاً سَرِيًّا، رَكِبَ شَرِيًّا وَأَخَذَ خَطِّيًّا وَأَرَاحَ عَلَىَّ نَعَمًا ثَرِيًّا، وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا وَقَالَ كُلِي أُمَّ زَرْعٍ، وَمِيرِي أَهْلَكِ‏.‏ قَالَتْ فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَىْءٍ أَعْطَانِيهِ مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لأُمِّ زَرْعٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامٍ وَلاَ تُعَشِّشُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَعْضُهُمْ فَأَتَقَمَّحُ‏.‏ بِالْمِيمِ، وَهَذَا أَصَحُّ‏.‏
ہم ‌سے ​سلیمان ‌بن ​عبدالرحمٰن اور علی بن حجر نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، اس نے کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے اپنے بھائی عبداللہ بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے کہا کہ گیارہ عورتوں کا ایک اجتماع ہوا جس میں انہوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ مجلس میں وہ اپنے اپنے خاوند کا صحیح صحیح حال بیان کریں کوئی بات نہ چھپاویں۔ چنانچہ پہلی عورت ( نام نامعلوم ) بولی میرے خاوند کی مثال ایسی ہے جیسے دبلے اونٹ کا گوشت جو پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہوا ہو نہ تو وہاں تک جانے کا راستہ صاف ہے کہ آسانی سے چڑھ کر اس کو کوئی لے آوے اور نہ وہ گوشت ہی ایسا موٹا تازہ ہے جسے لانے کے لیے اس پہاڑ پر چڑھنے کی تکلیف گوارا کرے۔ دوسری عورت ( عمرہ بنت عمرو تمیمی نامی ) کہنے لگی میں اپنے خاوند کا حال بیان کروں تو کہاں تک بیان کروں ( اس میں اتنے عیب ہیں ) میں ڈرتی ہوں کہ سب بیان نہ کر سکوں گی اس پر بھی اگر بیان کروں تو اس کے کھلے اور چھپے سارے عیب بیان کر سکتی ہوں۔ تیسری عورت ( حیی بنت کعب یمانی ) کہنے لگی، میرا خاوند کیا ہے ایک تاڑ کا تاڑ ( لمبا تڑنگا ) ہے اگر اس کے عیب بیان کروں تو طلاق تیار ہے اگر خاموش رہوں تو ادھر لٹکی رہوں۔ چوتھی عورت ( مہدو بنت ابی ہرومہ ) کہنے لگی کہ میرا خاوند ملک تہامہ کی رات کی طرح معتدل نہ زیادہ گرم نہ بہت ٹھنڈا نہ اس سے مجھ کو خوف ہے نہ اکتاہٹ ہے۔ پانچوں عورت ( کبشہ نامی ) کہنے لگی کہ میرا خاوند ایسا ہے کہ گھر میں آتا ہے تو وہ ایک چیتا ہے اور جب باہر نکلتا ہے تو شیر ( بہادر ) کی طرح ہے۔ جو چیز گھر میں چھوڑ کر جاتا ہے اس کے بارے میں پوچھتا ہی نہیں ( کہ وہ کہاں گئی؟ ) اتنا بےپرواہ ہے جو آج کمایا اسے کل کے لیے اٹھا کر رکھتا ہی نہیں اتنا سخی ہے۔ چھٹی عورت ( ہند نامی ) کہنے لگی کہ میرا خاوند جب کھانے پر آتا ہے تو سب کچھ چٹ کر جاتا ہے اور جب پینے پر آتا ہے تو ایک بوند بھی باقی نہیں چھوڑتا اور جب لیٹتا ہے تو تنہا ہی اپنے اوپر کپڑا لپیٹ لیتا ہے اور الگ پڑ کر سو جاتا ہے میرے کپڑے میں کبھی ہاتھ بھی نہیں ڈالتا کہ کبھی میرا دکھ درد کچھ تو معلوم کرے۔ ساتویں عورت ( حیی بنت علقمہ ) میرا خاوند تو جاہل یا مست ہے۔ صحبت کے وقت اپنا سینہ میرے سینے سے اوندھا پڑ جاتا ہے۔ دنیا میں جتنے عیب لوگوں میں ایک ایک کر کے جمع ہیں وہ سب اس کی ذات میں جمع ہیں ( کم بخت سے بات کروں تو ) سر پھوڑ ڈالے یا ہاتھ توڑ ڈالے یا دونوں کام کر ڈالے۔ آٹھویں عورت ( یاسر بنت اوس ) کہنے لگی میرا خاوند چھونے میں خرگوش کی طرح نرم ہے اور خوشبو میں سونگھو تو زعفران جیسا خوشبودار ہے۔ نویں عورت ( نام نامعلوم ) کہنے لگی کہ میرے خاوند کا گھر بہت اونچا اور بلند ہے وہ قدآور بہادر ہے، اس کے یہاں کھانا اس قدر پکتا ہے کہ راکھ کے ڈھیر کے ڈھیر جمع ہیں۔ ( غریبوں کو خوب کھلاتا ہے ) لوگ جہاں صلاح و مشورہ کے لیے بیٹھتے ہیں ( یعنی پنچائت گھر ) وہاں سے اس کا گھر بہت نزدیک ہے۔ دسویں عورت ( کبشہ بنت رافع ) کہنے لگی میرے خاوند کا کیا پوچھنا جائیداد والا ہے، جائیداد بھی کیسی بڑی جائیداد ویسی کسی کے پاس نہیں ہو سکتی بہت سارے اونٹ جو جابجا اس کے گھر کے پاس جٹے رہتے ہیں اور جنگل میں چرنے کم جاتے ہیں۔ جہاں ان اونٹوں نے باجے کی آواز سنی بس ان کو اپنے ذبح ہونے کا یقین ہو گیا۔ گیارھویں عورت ( ام زرع بنت اکیمل بنت ساعدہ ) کہنے لگی میرا خاوند ابوزرع ہے اس کا کیا کہنا اس نے میرے کانوں کو زیوروں سے بوجھل کر دیا ہے اور میرے دونوں بازو چربی سے پھلا دئیے ہیں مجھے خوب کھلا کر موٹا کر دیا ہے کہ میں بھی اپنے تئیں خوب موٹی سمجھنے لگی ہوں۔ شادی سے پہلے میں تھوڑی سے بھیڑ بکریوں میں تنگی سے گزر بسر کرتی تھی۔ ابوزرعہ نے مجھ کو گھوڑوں، اونٹوں، کھیت کھلیان سب کا مالک بنا دیا ہے اتنی بہت جائیداد ملنے پر بھی اس کا مزاج اتنا عمدہ ہے کہ بات کہوں تو برا نہیں مانتا مجھ کو کبھی برا نہیں کہتا۔ سوئی پڑی رہوں تو صبح تک مجھے کوئی نہیں جگاتا۔ پانی پیوں تو خوب سیراب ہو کر پی لوں رہی ابوزرعہ کی ماں ( میری ساس ) تو میں اس کی کیا خوبیاں بیان کروں۔ اس کا توشہ کھانا مال و اسباب سے بھرا ہوا، اس کا گھر بہت ہی کشادہ۔ ابوزرعہ کا بیٹا وہ بھی کیسا اچھا خوبصورت ( نازک بدن دبلا پتلا ) ہری چھالی یا ننگی تلوار کے برابر اس کے سونے کی جگہ ایسا کم خوراک کہ بکری کے چار ماہ کے بچے کا دست کا گوشت اس کا پیٹ بھر دے۔ ابوزرعہ کی بیٹی وہ بھی سبحان اللہ کیا کہنا اپنے باپ کی پیاری، اپنی ماں کی پیاری ( تابع فرمان اطاعت گزار ) کپڑا بھر پور پہننے والی ( موٹی تازی ) سوکن کی جلن۔ ابوزرعہ کی لونڈی اس کی بھی کیا پوچھتے ہو کبھی کوئی بات ہماری مشہور نہیں کرتی ( گھر کا بھید ہمیشہ پوشیدہ رکھتی ہے ) کھانے تک نہیں چراتی گھر میں کوڑا کچڑا نہیں چھوڑتی مگر ایک دن ایسا ہوا کہ لوگ مکھن نکالنے کو دودھ متھ رہے تھے۔ ( صبح ہی صبح ) ابوزرعہ باہر گیا اچانک اس نے ایک عورت دیکھی جس کے دو بچے چیتوں کی طرح اس کی کمر کے تلے دو اناروں سے کھیل رہے تھے ( مراد اس کی دونوں چھاتیاں ہیں جو انار کی طرح تھیں ) ۔ ابوزرعہ نے مجھ کو طلاق دے کر اس عورت سے نکاح کر لیا۔ اس کے بعد میں نے ایک اور شریف سردار سے نکاح کر لیا جو گھوڑے کا اچھا سوار، عمدہ نیزہ باز ہے، اس نے بھی مجھ کو بہت سے جانور دے دئیے ہیں اور ہر قسم کے اسباب میں سے ایک ایک جوڑا دیا ہوا ہے اور مجھ سے کہا کرتا ہے کہ ام زرع! خوب کھا پی، اپنے عزیز و اقرباء کو بھی خوب کھلا پلا تیرے لیے عام اجازت ہے مگر یہ سب کچھ بھی جو میں نے تجھ کو دیا ہوا ہے اگر اکٹھا کروں تو تیرے پہلے خاوند ابوزرعہ نے جو تجھ کو دیا تھا، اس میں کا ایک چھوٹا برتن بھی نہ بھرے۔
عائشہ (رضی اللہ عنہا) صحیح بخاری #۵۱۸۹ Sahih
صحیح بخاری : ۱۸۶
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​عَلِيٌّ، ‌حَدَّثَنَا ‌ابْنُ ​عُلَيَّةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِصَحْفَةٍ فِيهَا طَعَامٌ، فَضَرَبَتِ الَّتِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِهَا يَدَ الْخَادِمِ فَسَقَطَتِ الصَّحْفَةُ فَانْفَلَقَتْ، فَجَمَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِلَقَ الصَّحْفَةِ، ثُمَّ جَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ الَّذِي كَانَ فِي الصَّحْفَةِ وَيَقُولُ ‏ "‏ غَارَتْ أُمُّكُمْ ‏"‏، ثُمَّ حَبَسَ الْخَادِمَ حَتَّى أُتِيَ بِصَحْفَةٍ مِنْ عِنْدِ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا، فَدَفَعَ الصَّحْفَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الَّتِي كُسِرَتْ صَحْفَتُهَا، وَأَمْسَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْ فِيه.‏
ہم ​سے ‌علی ‌بن ​عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے، ان سے حمید نے، ان سے انس نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے یہاں تشریف رکھتے تھے۔ اس وقت ایک زوجہ ( زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک پیالے میں کچھ کھانے کی چیز بھیجی جن کے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے خادم کے ہاتھ پر ( غصہ میں ) مارا جس کی وجہ سے کٹورہ گر کر ٹوٹ گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کٹورا لے کر ٹکڑے جمع کئے اور جو کھانا اس برتن میں تھا اسے بھی جمع کرنے لگے اور ( خادم سے ) فرمایا کہ تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے۔ اس کے بعد خادم کو روکے رکھا۔ آخر جن کے گھر میں وہ کٹورہ ٹوٹا تھا ان کی طرف سے نیا کٹورہ منگایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نیا کٹورہ ان زوجہ مطہرہ کو واپس کیا جن کا کٹورہ توڑ دیا گیا تھا اور ٹوٹا ہوا کٹورہ ان کے یہاں رکھ لیا جن کے گھر میں وہ ٹوٹا تھا۔
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۵۲۲۵ Sahih
صحیح بخاری : ۱۸۷
جابر رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​مُحَمَّدُ ‌بْنُ ​أَبِي ‌بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ـ أَوْ أَتَيْتُ الْجَنَّةَ ـ فَأَبْصَرْتُ قَصْرًا فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ‏.‏ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهُ فَلَمْ يَمْنَعْنِي إِلاَّ عِلْمِي بِغَيْرَتِكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوَعَلَيْكَ أَغَارُ‏.‏
ہم ​سے ‌محمد ​بن ‌ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن عمرعمری نے، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) میں جنت میں گیا، وہاں میں نے ایک محل دیکھا میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بتایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا میں نے چاہا کہ اس کے اندر جاؤں لیکن رک گیا کیونکہ تمہاری غیرت مجھے معلوم تھی۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اے اللہ کے نبی! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا۔
جابر رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۲۲۶ Sahih
صحیح بخاری : ۱۸۸
ابن جریج رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​يَحْيَى، ​أَخْبَرَنَا ‌عَبْدُ ​الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ الْمُلاَعَنَةِ، وَعَنِ السُّنَّةِ، فِيهَا عَنْ حَدِيثِ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، أَيَقْتُلُهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي شَأْنِهِ مَا ذَكَرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ قَضَى اللَّهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَتَلاَعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا‏.‏ فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ فَرَغَا مِنَ التَّلاَعُنِ، فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ ذَاكَ تَفْرِيقٌ بَيْنَ كُلِّ مُتَلاَعِنَيْنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَتِ السُّنَّةُ بَعْدَهُمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلاً، وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى لأُمِّهِ، قَالَ ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي مِيرَاثِهَا أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُ مِنْهَا مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ‏.‏ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلاَ أُرَاهَا إِلاَّ قَدْ صَدَقَتْ وَكَذَبَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ، فَلاَ أُرَاهُ إِلاَّ قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا ‏"‏‏.‏ فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى الْمَكْرُوهِ مِنْ ذَلِكَ‏.‏
ہم ​سے ​یحییٰ ‌بن ​جعفر نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق بن ہمام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے ابن شہاب نے لعان کے بارے میں اور یہ کہ شریعت کی طرف سے اس کا سنت طریقہ کیا ہے، خبر دی بنی ساعدہ کے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ قبیلہ انصار کے ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس شخص کے متعلق آپ کا کیا ارشاد ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے، کیا وہ اسے قتل کر دے یا اسے کیا کرنا چاہیئے؟ انہیں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی وہ آیت نازل کی جس میں لعان کرنے والوں کے لیے تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ کر دیا ہے۔ بیان کیا کہ پھر دونوں نے مسجد میں لعان کیا، میں اس وقت وہاں موجود تھا۔ جب دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو انصاری صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اب بھی میں اسے اپنے نکاح میں رکھوں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی تھی۔ چنانچہ لعان سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی انہیں تین طلاقیں دے دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہی انہیں جدا کر دیا۔ ( سہل نے یا ابن شہاب نے ) کہا کہ ہر لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان یہی جدائی کا سنت طریقہ مقرر ہوا۔ ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ ان کے بعد شریعت کی طرف سے طریقہ یہ متعین ہوا کہ دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی جایا کرے۔ اور وہ عورت حاملہ تھی۔ اور ان کا بیٹا اپنی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ بیان کیا کہ پھر ایسی عورت کے میراث کے بارے میں بھی یہ طریقہ شریعت کی طرف سے مقرر ہو گیا کہ بچہ اس کا وارث ہو گا اور وہ بچہ کی وارث ہو گی۔ اس کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے وراثت کے سلسلہ میں فرض کیا ہے۔ ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے، اسی حدیث میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر ( لعان کرنے والی خاتون ) اس نے سرخ اور پستہ قد بچہ جنا جیسے وحرہ تو میں سمجھوں گا کہ عورت ہی سچی ہے اور اس کے شوہر نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے لیکن اگر کالا، بڑی آنکھوں والا اور بڑے سرینوں والا بچہ جنا تو میں سمجھوں گا کہ شوہر نے اس کے متعلق سچ کہا تھا۔ ( عورت جھوٹی ہے ) جب بچہ پیدا ہو تو وہ بری شکل کا تھا ( یعنی اس مرد کی صورت پر جس سے وہ بدنام ہوئی تھی ) ۔
ابن جریج رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۳۰۹ Sahih
صحیح بخاری : ۱۸۹
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌يَحْيَى ‌بْنُ ​بُكَيْرٍ، ​حَدَّثَنَا مَالِكٌ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لاَعَنَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ، فَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ‏.‏
ہم ‌سے ‌یحییٰ ​بن ​بکیر نے بیان کیا، کہ ہم سے مالک نے، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کرایا تھا۔ پھر ان صاحب نے اپنی بیوی کے لڑکے کا انکار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی اور لڑکا عورت کو دے دیا۔
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۳۱۵ Sahih
صحیح بخاری : ۱۹۰
مزید زینب رضی اللہ عنہا
Sahih
قَالَتْ ​زَيْنَبُ ‌وَسَمِعْتُ ‌أُمَّ ‌سَلَمَةَ، تَقُولُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا أَفَتَكْحُلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ لاَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعَرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ ‏"‏‏.‏
میں ​نے ‌اپنی ‌والدہ ‌ام سلمہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا ہے اور اسے آنکھ کی تکلیف ہے۔ کیا وہ اپنی آنکھ میں سرمہ لگا سکتی ہے؟" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نہیں" دو یا تین بار۔ اس نے اپنا سوال دہرایا) اس نے کہا، "نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس چار مہینے کی بات ہے۔ اور دس دن. زمانہ جاہلیت میں تم میں سے ایک بیوہ کو ایک گلوب پھینکنا چاہیے۔ گوبر جب ایک سال گزر جائے۔"
مزید زینب رضی اللہ عنہا صحیح بخاری #۵۳۳۶ Sahih
صحیح بخاری : ۱۹۱
وہب بن کیسان رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​مُحَمَّدٌ، ​أَخْبَرَنَا ‌أَبُو ‌مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، قَالَ كَانَ أَهْلُ الشَّأْمِ يُعَيِّرُونَ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُونَ يَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ‏.‏ فَقَالَتْ لَهُ أَسْمَاءُ يَا بُنَىَّ إِنَّهُمْ يُعَيِّرُونَكَ بِالنِّطَاقَيْنِ، هَلْ تَدْرِي مَا كَانَ النِّطَاقَانِ إِنَّمَا كَانَ نِطَاقِي شَقَقْتُهُ نِصْفَيْنِ، فَأَوْكَيْتُ قِرْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَحَدِهِمَا، وَجَعَلْتُ فِي سُفْرَتِهِ آخَرَ، قَالَ فَكَانَ أَهْلُ الشَّأْمِ إِذَا عَيَّرُوهُ بِالنِّطَاقَيْنِ يَقُولُ إِيهًا وَالإِلَهْ‏.‏ تِلْكَ شَكَاةٌ ظَاهِرٌ عَنْكَ عَارُهَا‏.‏
ہم ​سے ​محمد ‌بن ‌سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور وہب بن کیسان نے بیان کیا کہ اہل شام ( حجاج بن یوسف کے فوجی ) شام کے لوگ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو عار دلانے کے لیے کہنے لگے ”یا ابن ذات النطاقین“ اے دو کمر بند والی کے بیٹے اور ان کی والدہ، اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا، اے بیٹے! یہ تمہیں دو کمر بند والی کی عار دلاتے ہیں، تمہیں معلوم ہے وہ کمر بند کیا تھے؟ وہ میرا کمر بند تھا جس کے میں نے دو ٹکڑے کر دیئے تھے اور ایک ٹکڑے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے برتن کا منہ باندھا تھا اور دوسرے سے دستر خوان بنایا ( اس میں توشہ لپیٹا ) ۔ وہب نے بیان کیا کہ پھر جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو اہل شام دو کمر بند والی کی عار دلاتے تھے، تو وہ کہتے ہاں۔ اللہ کی قسم! یہ بیشک سچ ہے اور وہ یہ مصرعہ پڑھتے «تلك شكاة ظاهر عنك عارها‏.» یہ تو ویسا طعنہ ہے جس میں کچھ عیب نہیں ہے۔
وہب بن کیسان رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۳۸۸ Sahih
صحیح بخاری : ۱۹۲
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​الصَّلْتُ ‌بْنُ ​مُحَمَّدٍ، ‌حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسٍ،‏.‏ وَعَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ،‏.‏ وَعَنْ سِنَانٍ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، أُمَّهُ عَمَدَتْ إِلَى مُدٍّ مِنْ شَعِيرٍ، جَشَّتْهُ وَجَعَلَتْ مِنْهُ خَطِيفَةً، وَعَصَرَتْ عُكَّةً عِنْدَهَا، ثُمَّ بَعَثَتْنِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ وَهْوَ فِي أَصْحَابِهِ فَدَعَوْتُهُ قَالَ ‏"‏ وَمَنْ مَعِي ‏"‏‏.‏ فَجِئْتُ فَقُلْتُ إِنَّهُ يَقُولُ، وَمَنْ مَعِي، فَخَرَجَ إِلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هُوَ شَىْءٌ صَنَعَتْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَدَخَلَ فَجِيءَ بِهِ وَقَالَ ‏"‏ أَدْخِلْ عَلَىَّ عَشَرَةً ‏"‏‏.‏ فَدَخَلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَدْخِلْ عَلَىَّ عَشَرَةً ‏"‏‏.‏ فَدَخَلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَدْخِلْ عَلَىَّ عَشَرَةً ‏"‏‏.‏ حَتَّى عَدَّ أَرْبَعِينَ، ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَامَ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ هَلْ نَقَصَ مِنْهَا شَىْءٌ‏.‏
سے ​صلت ‌بن ​محمد ‌نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے جعد ابوعثمان نے ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور (اس کی روایت حماد نے) ہشام سے بھی کی، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور سنان ابوربیعہ سے (بھی کی) اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ان کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک مد جَو لیا اور ان سے پیس کر اس کا «خطيفة» ( آٹے کو دودھ میں ملا کر پکاتے ہیں ) پکایا اور ان کے پاس جو گھی کا ڈبہ تھا اس میں اس پر سے گھی نچوڑا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( بلانے کے لیے ) بھیجا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تو آپ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے۔ میں نے آپ کو کھانا کھانے کے لیے بلایا۔ آپ نے دریافت فرمایا اور وہ لوگ بھی جو میرے ساتھ ہیں؟ چنانچہ میں واپس آیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ جو میرے ساتھ موجود ہیں وہ بھی چلیں گے۔ اس پر ابوطلحہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ تو ایک چیز ہے جو ام سلیم نے آپ کے لیے پکائی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھانا آپ کے پاس لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دس آدمیوں کو میرے پاس اندر بلا لو۔ چنانچہ دس صحابہ داخل ہوئے اور کھانا پیٹ بھر کر کھایا پھر فرمایا دس آدمیوں کو میرے پاس اور بلا لو۔ یہ دس بھی اندر آئے اور پیٹ بھر کر کھایا پھر فرمایا اور دس آدمیوں کو بلا لو۔ اس طرح انہوں نے چالیس آدمیوں کا شمار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا پھر آپ کھڑے ہوئے تو میں دیکھنے لگا کہ کھانے میں سے کچھ بھی کم نہیں ہوا۔
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۵۴۵۰ Sahih
صحیح بخاری : ۱۹۳
مسروق رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​أَحْمَدُ ​بْنُ ​مُحَمَّدٍ، ‌أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ، فَقَالَ لَهَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ رَجُلاً يَبْعَثُ بِالْهَدْىِ إِلَى الْكَعْبَةِ، وَيَجْلِسُ فِي الْمِصْرِ، فَيُوصِي أَنْ تُقَلَّدَ بَدَنَتُهُ، فَلاَ يَزَالُ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ مُحْرِمًا حَتَّى يَحِلَّ النَّاسُ‏.‏ قَالَ فَسَمِعْتُ تَصْفِيقَهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ فَقَالَتْ لَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَبْعَثُ هَدْيَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَمَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ مِمَّا حَلَّ لِلرِّجَالِ مِنْ أَهْلِهِ، حَتَّى يَرْجِعَ النَّاسُ‏.‏
ہم ​سے ​احمد ​بن ‌محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں اسماعیل نے خبر دی، انہیں شعبی نے، انہیں مسروق نے کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ ام المؤمنین! اگر کوئی شخص قربانی کا جانور کعبہ میں بھیج دے اور خود اپنے شہر میں مقیم ہو اور جس کے ذریعے بھیجے اسے اس کی وصیت کر دے کہ اس کے جانور کے گلے میں ( نشانی کے طور پر ) ایک قلادہ پہنا دیا جائے تو کیا اس دن سے وہ اس وقت تک کے لیے محرم ہو جائے گا جب تک حاجی اپنا احرام نہ کھول لیں۔ بیان کیا کہ اس پر میں نے پردے کے پیچھے ام المؤمنین کے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر مارنے کی آواز سنی اور انہوں نے کہا میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے باندھتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے کعبہ بھیجتے تھے لیکن لوگوں کے واپس ہونے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی چیز حرام نہیں ہوتی تھی جو ان کے گھر کے دوسرے لوگوں کے لیے حلال ہو۔
مسروق رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۵۶۶ Sahih
صحیح بخاری : ۱۹۴
ابراہیم علیہ السلام
Sahih
حَدَّثَنِي ​عُثْمَانُ، ‌حَدَّثَنَا ​جَرِيرٌ، ​عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قُلْتُ لِلأَسْوَدِ هَلْ سَأَلْتَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ فَقَالَ نَعَمْ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ قَالَتْ نَهَانَا فِي ذَلِكَ أَهْلَ الْبَيْتِ أَنْ نَنْتَبِذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ‏.‏ قُلْتُ أَمَا ذَكَرْتِ الْجَرَّ وَالْحَنْتَمَ قَالَ إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ، أَفَأُحَدِّثُ مَا لَمْ أَسْمَعْ
ہم ​سے ‌عثمان ​بن ​ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ابراہیم نخعی نے کہ میں نے اسود بن یزید سے پوچھا کیا تم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تھا کہ کس برتن میں نبیذ ( کھجور کا میٹھا شربت ) بنانا مکروہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، میں نے عرض کیا ام المؤمنین! کس برتن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خاص گھر والوں کو کدو کی تونبی اور لاکھی برتن میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا تھا۔ ( ابراہیم نخعی نے بیان کیا کہ ) میں نے اسود سے پوچھا انہوں نے گھڑے اور سبز مرتبان کا ذکر نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ میں تم سے وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے سنا، کیا وہ بھی بیان کر دوں جو میں نے نہ سنا ہو؟
ابراہیم علیہ السلام صحیح بخاری #۵۵۹۵ Sahih
صحیح بخاری : ۱۹۵
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌يَحْيَى ​بْنُ ‌صَالِحٍ، ​حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ، فَسَلَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَصَاحِبُهُ، فَرَدَّ الرَّجُلُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي‏.‏ وَهْىَ سَاعَةٌ حَارَّةٌ، وَهْوَ يُحَوِّلُ فِي حَائِطٍ لَهُ ـ يَعْنِي الْمَاءَ ـ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي شَنَّةٍ وَإِلاَّ كَرَعْنَا ‏"‏‏.‏ وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فِي شَنَّةٍ‏.‏ فَانْطَلَقَ إِلَى الْعَرِيشِ فَسَكَبَ فِي قَدَحٍ مَاءً، ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ لَهُ، فَشَرِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ أَعَادَ، فَشَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهُ‏.‏
ہم ‌سے ​یحییٰ ‌بن ​صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے سعید بن حارث نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہ ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے سعید بن حارث نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہ
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۵۶۲۱ Sahih
صحیح بخاری : ۱۹۶
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​قُتَيْبَةُ، ​عَنْ ​مَالِكٍ، ​عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ، رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى فِيهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ‏.‏ وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي الْجَنِينِ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ‏.‏ فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لاَ أَكَلَ، وَلاَ شَرِبَ، وَلاَ نَطَقَ، وَلاَ اسْتَهَلَّ، وَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ ‏"‏‏.‏
ابوہریرہ ​رضی ​اللہ ​عنہ ​کہتے ہیں کہ دو عورتیں (لڑائی ہوئی تھیں) اور ان میں سے ایک نے دوسری کے پیٹ پر پتھر مارا اور اس کا حمل ساقط کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ مقتول کو غلام یا لونڈی (خون کے طور پر) دیا جائے۔ ابن شہاب سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں مارا جائے تو مجرم ماں کو بدلہ میں ایک لونڈی یا لونڈی دے، مجرم نے کہا: مجھ پر اس کے قتل پر کیسے جرمانہ ہو گا جس نے نہ کھایا اور نہ ہی بات کی: انکار کر دیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پیشین گوئی کرنے والوں کے بھائیوں میں سے ہے۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۵۷۵۹ Sahih
صحیح بخاری : ۱۹۷
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌قُتَيْبَةُ، ‌عَنْ ‌مَالِكٍ، ‌عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ، رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى فِيهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ‏.‏ وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي الْجَنِينِ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ‏.‏ فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لاَ أَكَلَ، وَلاَ شَرِبَ، وَلاَ نَطَقَ، وَلاَ اسْتَهَلَّ، وَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ ‏"‏‏.‏
دو ‌خواتین ‌(آپس ‌میں ‌لڑ پڑیں) اور ان میں سے ایک نے دوسری کے پیٹ پر پتھر مارا اور اس کو زخمی کر دیا۔ اسقاط حمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ مقتول کو غلام یا لونڈی (خون کے طور پر) دیا جائے۔ ابن شہاب سے روایت ہے کہ سعید بن المسیب نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے قتل کے معاملے میں فیصلہ فرمایا۔ ماں کے پیٹ میں، مجرم کو ماں کو غلام یا لونڈی دینا چاہئے بدلہ: مجرم نے کہا، جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ قتل کرنے پر جرمانہ کیسے ہو سکتا ہے؟ بولے نہ روئے: ایسی صورت کا انکار کیا جائے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ان میں سے ہے۔ پیشگوئی کرنے والوں کے بھائی
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۵۷۶۰ Sahih
صحیح بخاری : ۱۹۸
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا ​إِبْرَاهِيمُ ​بْنُ ​مُوسَى، ​أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ هَاجَرَ إِلَى الْحَبَشَةِ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عَلَى رِسْلِكَ، فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَوَ تَرْجُوهُ بِأَبِي أَنْتَ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ نَفْسَهُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِصُحْبَتِهِ، وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا عِنْدَهُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَبَيْنَا نَحْنُ يَوْمًا جُلُوسٌ فِي بَيْتِنَا فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ فَقَالَ قَائِلٌ لأَبِي بَكْرٍ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُقْبِلاً مُتَقَنِّعًا، فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِدًا لَهُ بِأَبِي وَأُمِّي، وَاللَّهِ إِنْ جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلاَّ لأَمْرٍ‏.‏ فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنَ، فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ، فَقَالَ حِينَ دَخَلَ لأَبِي بَكْرٍ ‏"‏ أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنِّي قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَالصُّحْبَةُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَخُذْ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَى رَاحِلَتَىَّ هَاتَيْنِ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بِالثَّمَنِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَثَّ الْجِهَازِ، وَضَعْنَا لَهُمَا سُفْرَةً فِي جِرَابٍ، فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قِطْعَةً مِنْ نِطَاقِهَا، فَأَوْكَتْ بِهِ الْجِرَابَ، وَلِذَلِكَ كَانَتْ تُسَمَّى ذَاتَ النِّطَاقِ، ثُمَّ لَحِقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ بِغَارٍ فِي جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ ثَوْرٌ، فَمَكُثَ فِيهِ ثَلاَثَ لَيَالٍ يَبِيتُ عِنْدَهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَهْوَ غُلاَمٌ شَابٌّ لَقِنٌ ثَقِفٌ، فَيَرْحَلُ مِنْ عِنْدِهِمَا سَحَرًا، فَيُصْبِحُ مَعَ قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ كَبَائِتٍ، فَلاَ يَسْمَعُ أَمْرًا يُكَادَانِ بِهِ إِلاَّ وَعَاهُ، حَتَّى يَأْتِيَهُمَا بِخَبَرِ ذَلِكَ حِينَ يَخْتَلِطُ الظَّلاَمُ، وَيَرْعَى عَلَيْهِمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ مِنْحَةً مِنْ غَنَمٍ، فَيُرِيحُهَا عَلَيْهِمَا حِينَ تَذْهَبُ سَاعَةٌ مِنَ الْعِشَاءِ، فَيَبِيتَانِ فِي رِسْلِهَا حَتَّى يَنْعِقَ بِهَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ بِغَلَسٍ، يَفْعَلُ ذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ مِنْ تِلْكَ اللَّيَالِي الثَّلاَثِ‏.‏
ہم ​سے ​ابراہیم ​بن ​موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بہت سے مسلمان حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ہجرت کی تیاریاں کرنے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ٹھہر جاؤ کیونکہ مجھے بھی امید ہے کہ مجھے ( ہجرت کی ) اجازت دی جائے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا آپ کو بھی امید ہے؟ میرا باپ آپ پر قربان۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کے خیال سے رک گئے اور اپنی دو اونٹنیوں کو ببول کے پتے کھلا کر چار مہینے تک انہیں خوب تیار کرتے رہے۔ عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہم ایک دن دوپہر کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر ڈھکے ہوئے تشریف لا رہے ہیں۔ اس وقت عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف نہیں لاتے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا میرے ماں باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت کسی وجہ ہی سے تشریف لا سکتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان پر پہنچ کر اجازت چاہی اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور اندر داخل ہوتے ہی ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جو لوگ تمہارے پاس اس وقت ہیں انہیں اٹھا دو۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی میرا باپ آپ پر قربان ہو یا رسول اللہ! یہ سب آپ کے گھر ہی کے افراد ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی پھر یا رسول اللہ! مجھے رفاقت کا شرف حاصل رہے گا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ عرض کی یا رسول اللہ! میرے باپ آپ پر قربان ہوں ان دو اونٹنیوں میں سے ایک آپ لے لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن قیمت سے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ہم نے بہت جلدی جلدی سامان سفر تیار کیا اور سفر کا ناشتہ ایک تھیلے میں رکھا۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے پٹکے کے ایک ٹکڑے سے تھیلہ کے منہ کو باندھا۔ اسی وجہ سے انہیں ”ذات النطاق“ ( پٹکے والی ) کہنے لگے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ثور نامی پہاڑ کی ایک غار میں جا کر چھپ گئے اور تین دن تک اسی میں ٹھہرے رہے۔ عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما رات آپ حضرات کے پاس ہی گزارتے تھے۔ وہ نوجوان ذہین اور سمجھدار تھے۔ صبح تڑکے میں وہاں سے چل دیتے تھے اور صبح ہوتے ہوتے مکہ کے قریش میں پہنچ جاتے تھے۔ جیسے رات میں مکہ ہی میں رہے ہوں۔ مکہ مکرمہ میں جو بات بھی ان حضرات کے خلاف ہوتی اسے محفوظ رکھتے اور جوں ہی رات کا اندھیرا چھا جاتا غار ثور میں ان حضرات کے پاس پہنچ کر تمام تفصیلات کی اطلاع دیتے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ دودھ دینے والی بکریاں چراتے تھے اور جب رات کا ایک حصہ گزر جاتا تو ان بکریوں کو غار ثور کی طرف ہانک لاتے تھے۔ آپ حضرات بکریوں کے دودھ پر رات گزارتے اور صبح کی پو پھٹتے ہی عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہو جاتے۔ ان تین راتوں میں انہوں نے ہر رات ایسا ہی کیا۔
عائشہ (رضی اللہ عنہا) صحیح بخاری #۵۸۰۷ Sahih
صحیح بخاری : ۱۹۹
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌الْحَسَنُ ‌بْنُ ‌مُحَمَّدِ ‌بْنِ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ خَيْبَرَ، وَإِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ وَهْوَ يَسِيرُ وَبَعْضُ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ عَثَرَتِ النَّاقَةُ فَقُلْتُ الْمَرْأَةَ‏.‏ فَنَزَلْتُ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّهَا أُمُّكُمْ ‏"‏‏.‏ فَشَدَدْتُ الرَّحْلَ وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا دَنَا أَوْ رَأَى الْمَدِينَةَ قَالَ ‏"‏ آيِبُونَ تَائِبُونَ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا، حَامِدُونَ ‏"‏‏.‏
ہم ‌سے ‌حسن ‌بن ‌محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن عباد نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں یحییٰ بن ابی اسحاق نے خبر دی، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر سے واپس آ رہے تھے اور میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور چل رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیوی صفیہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے تھیں کہ اچانک اونٹنی نے ٹھوکر کھائی، میں نے کہا عورت کی خبرگیری کرو پھر میں اتر پڑا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہاری ماں ہیں پھر میں نے کجاوہ مضبوط باندھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے پھر جب مدینہ منورہ کے قریب ہوئے یا ( راوی نے بیان کیا کہ ) مدینہ منورہ دیکھا تو فرمایا ”ہم واپس ہونے والے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے والے ہیں، اسی کو پوجنے والے ہیں، اپنے مالک کی تعریف کرنے والے ہیں۔“
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۵۹۶۸ Sahih
صحیح بخاری : ۲۰۰
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌قُتَيْبَةُ ‌بْنُ ​سَعِيدٍ، ​حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي قَالَ ‏"‏ أُمُّكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ‏"‏ أُمُّكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ‏"‏ أُمُّكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ أَبُوكَ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَةَ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ مِثْلَهُ‏.‏
ہم ‌سے ‌قتیبہ ​بن ​سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع بن شبرمہ نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہارا باپ ہے۔ ابن شبرمہ اور یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوزرعہ نے اسی کے مطابق بیان کیا۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۵۹۷۱ Sahih