مشروبات
ابواب پر واپس
۰۱
صحیح مسلم # ۳۷/۲۱۰۵
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ
ابْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ .
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي
أَمَ وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي " . قَالَ فَظَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَهُ ذَلِكَ عَلَى ذَلِكَ
ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَنَا فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ
مَكَانَهُ فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ لَهُ " قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ " . قَالَ
أَجَلْ وَلَكِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةٌ . فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
يَوْمَئِذٍ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ حَتَّى إِنَّهُ يَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ
.
ابْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ .
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي
أَمَ وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي " . قَالَ فَظَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَهُ ذَلِكَ عَلَى ذَلِكَ
ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَنَا فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ
مَكَانَهُ فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ لَهُ " قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ " . قَالَ
أَجَلْ وَلَكِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةٌ . فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
يَوْمَئِذٍ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ حَتَّى إِنَّهُ يَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ
.
ابو اسامہ نے ہشام سے ، انھوں نے فاطمہ سے اور انھوں نے حضرت اسمارضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تو اس وقت لوگ ( نماز میں ) کھڑے تھے اور وہ بھی نما ز پڑھ رہی تھیں ۔ میں نے پوچھا : لوگو ں کو کیا ہوا؟ اور ( آگے ) ہشام سے ابن نمیر کی ( سابقہ ) حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔
۰۲
صحیح مسلم # ۳۷/۵۳۸۵
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ " .
امام مالک نے نافع سے ، انھوں نے زید بن عبد اللہ سے ، انھوں نے عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بن ابوبکرصدیق سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں غٹاغٹ جہنم کی آگ بھر رہا ہے ۔
۰۳
صحیح مسلم # ۳۷/۵۳۸۶
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ بِشْرٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي، شَيْبَةَ وَالْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ، أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، ح . وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، السَّرَّاجِ كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ نَافِعٍ، . بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ بِإِسْنَادِهِ عَنْ نَافِعٍ، وَزَادَ، فِي حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، " أَنَّ الَّذِي، يَأْكُلُ أَوْ يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ " . وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ ذِكْرُ الأَكْلِ وَالذَّهَبِ إِلاَّ فِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ .
قتیبہ اور محمد بن رمح نے ہمیں لیث بن سعد سے یہی حدیث بیان کی ۔ یہی حدیث مجھے علی بن حجر سعدی نے بیان کی ، کہا : ہمیں اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے حدیث بیان کی ، اور ہمیں ابن نمیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بشر نے حدیث سنا ئی ۔ محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے حدیث بیان کی ، ابو بکر بن ابی شیبہ اور ولید بن شجاع نے کہا : ہمیں علی بن مسہر نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی محمد بن ابی بکر مقدمی نے کہا : ہمیں فضیل بن سلیمان نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں مو سیٰ بن عقبہ نے حدیث سنا ئی ۔ شیبان بن فروخ نے کہا : ہمیں جریر بن حازم نے عبدالرحمٰن سراج سے ان سب ( لیث بن سعد ایوب محمد بن بشر یحییٰ بن سعید عبید اللہ موسیٰ بن عقبہ اور عبد الرحمٰن سراج ) نے نافع سے امام مالک بن انس کی حدیث کے مانند اور نافع سے ( اوپر ) انھی کی سند کے ساتھ روایت بیان کی اور عبید اللہ سے علی بن مسہر کی روایت میں اضافہ کیا : " بلا شبہ جو شخص چاندی یا سونے کے برتن میں کھا تا یا پیتا ہے ۔ " ان میں سے اور کسی کی حدیث میں کھانے اور سونے ( کےبرتن ) کا ذکر نہیں ۔ صرف ابن مسہرکی حدیث میں ہے ۔
۰۴
صحیح مسلم # ۳۷/۵۳۸۷
وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُثْمَانَ، - يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَإِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارًا مِنْ جَهَنَّمَ " .
عثمان بن مرہ نے کہا : ہمیں عبد اللہ بن عبد الرحمٰن نے اپنی خالہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جو شخص سونے یا چا ندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں غٹاغٹ جہنم کی آگ بھر رہا ہے ۔
۰۵
صحیح مسلم # ۳۷/۵۳۸۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ، بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوِ الْمُقْسِمِ وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَإِفْشَاءِ السَّلاَمِ . وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمَ أَوْ عَنْ تَخَتُّمٍ بِالذَّهَبِ وَعَنْ شُرْبٍ بِالْفِضَّةِ وَعَنِ الْمَيَاثِرِ وَعَنِ الْقَسِّيِّ وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالإِسْتَبْرَقِ وَالدِّيبَاجِ .
(ابو خیثمہ ) زہیر نے کہا : ہمیں اشعث نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے معاویہ بن سوید بن مقرن نے حدیث بیان کی ، کہا : میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا تو ان کو یہ کہتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اورسات چیزوں سے روکا میریض کی عیادت کرنے جنازے کے ساتھ شریک ہو نے چھنیک کا جواب دینے ( اپنی ) قسم یا قسم دینے والے ( کی قسم پو ری کرنے مظلوم کی مددکرنے دعوت قبول کرنے انگوٹھی پہننے سے چاندی کے برتن میں ( کھا نے ) پینے ارغوانی ( سرخ ) گدوں سے ( اگر وہ ریشم کے ہوں ) مصر کے علاقے قس کے بنے ہوئے کپڑوں ( جو ریشم کے ہو تے تھے ۔ ) اور ( کسی بھی قسم کے ) ریشم استبرق اور دیباج کو پہننے سے روکا ( استبراق ریشم کا مو ٹا کپڑا تھا اور دیباج باریک ۔)
۰۶
صحیح مسلم # ۳۷/۵۳۸۹
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ إِلاَّ قَوْلَهُ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوِ الْمُقْسِمِ . فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ فِي الْحَدِيثِ وَجَعَلَ مَكَانَهُ وَإِنْشَادِ الضَّالِّ .
ابو عوانہ نے ہمیں اشعث بن سلیم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنا ئی ، سوائے " اپنی قسم یا قسم دینے والے ( کی قسم ) " کے الفاظ کے ، انھوں نے حدیث میں یہ فقرہ نہیں کہا : اور اس کے بجا ئے گمشدہ چیز کا اعلا ن کرنے کا ذکر کیا ۔
۰۷
صحیح مسلم # ۳۷/۵۳۹۰
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي، شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَ حَدِيثِ زُهَيْرٍ وَقَالَ إِبْرَارِ الْقَسَمِ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ فَإِنَّهُ مَنْ شَرِبَ فِيهَا فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبْ فِيهَا فِي الآخِرَةِ .
علی مسہر اور جریر دونوں نے شیبانی سے انھوں نے اشعث بن ابی شعثاء سے اسی سندکے ساتھ زہیر کی حدیث کے مانند روایت کی اور بغیر شک کے قسم دینے والے ( کی قسم ) پو ری کرنے کے الفاظ کہے اور حدیث میں مزید بیان کیا : " اور چاندی ( کے برتن ) میں پینے سے ( منع کیا ) کیونکہ جو شخص دنیا میں اس میں پیے گا ۔ وہ آخرت میں اس میں نہیں پیے گا ۔
۰۸
صحیح مسلم # ۳۷/۵۳۹۱
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، وَلَيْثُ بْنُ، أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، بِإِسْنَادِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ زِيَادَةَ جَرِيرٍ وَابْنِ مُسْهِرٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ، مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ، الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، بِإِسْنَادِهِمْ وَمَعْنَى حَدِيثِهِمْ إِلاَّ قَوْلَهُ وَإِفْشَاءِ السَّلاَمِ . فَإِنَّهُ قَالَ بَدَلَهَا وَرَدِّ السَّلاَمِ . وَقَالَ نَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ .
ابن ادریس نے کہا : ہمیں ابو اسحٰق شیبانی اور لیث بن ابی سلیم نے اشعث بن ابی شعثاء سے ان سب کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور جریر اور ابن مسہر کے اضافے کا ذکر نہیں کیا ۔
۰۹
صحیح مسلم # ۳۷/۵۳۹۲
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، وَعَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، بِإِسْنَادِهِمْ وَقَالَ وَإِفْشَاءِ السَّلاَمِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ . مِنْ غَيْرِ شَكٍّ .
شعبہ نے اشعث بن سلیم سے ان سب کی سند کے ساتھ ان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، سوائے ان کے روایت کردہ الفا ظ : " سلام عام کرنے " کے بجا ئے کہا : " اور سلام کا جواب دینے " اور کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھی یا سونے کے کڑے سے منع فرما یا ۔
۱۰
صحیح مسلم # ۳۷/۵۳۹۳
(وروانا إسحاق بن إبراهيم أيضًا:) روى لنا يحيى بن آدم وعمرو بن محمد (قالا): روى لنا سفيان عن العساس بن أبي الشاصة بالسند المذكور، وقال دون تردد: «أمر بكشف الخاتم الذهبي ونهى عنه». هذا الحديث وارد في صحيح البخاري في بابي «الجنائز» و«الشراب». بعض الأمور السبعة التي أمر بها رسول الله صلى الله عليه وسلم سنن، وبعضها فرض. زيارة المريض، والمشي خلف الجنازة، وقبول اليمين سنن. نصرة المظلوم فرض كفاية، ورد السلام فرض عين للفرد وفرض كفاية للجماعة. قول «رحمك الله» لمن يعطس سنن. يجب على البعض قولها، وعلى آخرين قولها. شرط الشميم هو سماع العطاس يقول "الحمد لله". أما اليمين فهو نقض اليمين، أي الاستمرار فيه دون نقضه. لكن شرط عدم نقض اليمين هو عدم وجود خوف من ضرر ديني أو دنيوي أو فساد. فإن وُجد مثل هذا، نقض اليمين، ووجوب الكفارة. و"الاستقبال" يعني الدعوات المصحوبة بالطعام، كدعوات الزفاف. وقد بيّنا ذلك في قسم "الوليمة". و"الإعلان" يعني نشره، وإعطائه بسخاء لكل مسلم، سواء كان معروفًا أو غريبًا. وكما رأينا في قسم الإيمان، ورد في الحديث: "سلّم على كل من لا تعرفه". ورأينا أيضًا في قسم الإيمان أن معنى "الإعلان" يشير إلى الأماكن المزدحمة. الوسائد نوع من السجاد الصغير الذي تنسجه النساء لأزواجهن من الحرير أو الصوف، ويفرشنه عادةً على سرج الحصان. وأحيانًا يحشنه بالقطن أو الصوف. هذه العادة موروثة من الفرس. وحسب العلماء، إذا كانت الوسادة مصنوعة من الحرير، يُحظر على الرجال استخدامها في كل زمان ومكان. أما إذا لم تكن مصنوعة من الحرير، فلا حرج في استخدامها. أو، بحسب رواية علماء الحديث، فإن حرير القيس كان أقمشة حريرية مخططة تُنسج في مكان يُسمى قيس في مصر، وهو الآن أطلال. الحرير السميك؛ أما الديباك فهو الحرير الناعم والحريري. الخواتم محرمة بالإجماع على الرجال، وكذلك الملابس الحريرية. إلا أنه في بعض الحالات الاستثنائية، يُسمح بارتداء الملابس الحريرية، ويمكن معرفة ذلك من كتب الفقه. أما خواتم الذهب وأنواع الحرير المختلفة فهي جائزة للنساء، سواء كانت متزوجة أم لا، كبيرة أم صغيرة، غنية أم فقيرة. ذكر القاضي عياض عن بعض العلماء أن الحرير جائز للرجال أيضاً، بينما ذكر ابن الزبير أنه محرم على الرجال والنساء على حد سواء، ثم تم التوصل إلى إجماع لاحقاً على أنه جائز للنساء ولكنه محرم على الرجال.
ہمیں سفیان نے اشعث بن ابی شعثاء سے ان سب کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور شک کے بغیر " سلام عام کرنے اور سونے کی انگوٹھی " کہا ۔
۱۱
صحیح مسلم # ۳۷/۵۳۹۴
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، سَمِعْتُهُ يَذْكُرُهُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ فَاسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ فَجَاءَهُ دِهْقَانٌ بِشَرَابٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَرَمَاهُ بِهِ وَقَالَ إِنِّي أُخْبِرُكُمْ أَنِّي قَدْ أَمَرْتُهُ أَنْ لاَ يَسْقِيَنِي فِيهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَشْرَبُوا فِي إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلاَ تَلْبَسُوا الدِّيبَاجَ وَالْحَرِيرَ فَإِنَّهُ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهُوَ لَكُمْ فِي الآخِرَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
سعید بن عمرو بن سہل بن اسحٰق بن محمد بن اشعث بن قیس نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے انھیں ابو فروہ سے ذکر کرتے ہو ئے سنا کہ انھوں نے عبد اللہ بن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : ہم ( ایران کے سابقہ دارالحکومت ) مدائن میں حضرت خذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی ما نگا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں مشروب لے آیا ، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس ( مشروب ) کے سمیت وہ برتن پھینک دیا اور کہا : میں تم لوگوں کو بتا رہا ہوں کہ میں پہلے اس سے کہہ چکا ہو ں کہ وہ مجھے اس ( چاندی کے برتن ) میں نہ پلا ئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ہے ۔ " سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیباج اور حریرنہ پہنو کیونکہ یہ چیز یں دنیا میں ان ( کا فروں ) کے لیے ہیں اور آخرت میں قیامت کے دن تمھا رے لیےہیں ۔
۱۲
صحیح مسلم # ۳۷/۵۳۹۵
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ " يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ابن ابی عمر نے ہمیں یہی حدیث بیان کی کہا : ہمیں سفیان نے ابو فروہ جہنی سے حدیث سنائی ، کہا : میں نے عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ ہم مدا ئن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے پھر اس کی طرح بیان کیا اور اس حدیث میں " قیامت کے دن " ( کے الفاظ ) ذکر نہیں کیے ۔
۱۳
صحیح مسلم # ۳۷/۵۳۹۶
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، أَوَّلاً عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُذَيْفَةَ، ثُمَّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، سَمِعَهُ مِنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُذَيْفَةَ، ثُمَّ حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُكَيْمٍ، فَظَنَنْتُ أَنَّ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنِ ابْنِ، عُكَيْمٍ قَالَ كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَقُلْ " يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ابن ابی نجيح نے پہلے ہمیں مجا ہد سے ، انھوں نے ابن ابی لیلیٰ سے ، انھوں نے حضرت حذیفہ سے روایت کی ۔ پھر ہمیں یزید نے حدیث بیان کی ، انھوں نے یہ حدیث ابن ابی لیلیٰ سے سنی ، انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، پھر ہمیں ابو فروہ نے حدیث بیان کی کہا : میں نے ابن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی اور میرا خیال یہ ہے کہ ابن ابی لیلیٰ نے بھی یہ حدیث ابن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی ، انھوں نے کہا : ہم مدا ئن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ( انکے دستے میں ) تھے ۔ پھر اسی کے مانند بیان کیا اور " قیامت کے دن " کے الفاظ نہیں کہے ۔
۱۴
صحیح مسلم # ۳۷/۵۳۹۷
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي لَيْلَى - قَالَ شَهِدْتُ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى بِالْمَدَائِنِ فَأَتَاهُ إِنْسَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ . فَذَكَرَهُ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُكَيْمٍ عَنْ حُذَيْفَةَ .
عبید اللہ کے والد معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے دیکھا کہ مدا ئن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پا نی مانگا تو ایک شخص ان کے پاس چاندی کا برتن لے کر آیا پھر انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روا یت کے مانند بیان کیا ۔
۱۵
صحیح مسلم # ۳۷/۵۳۹۸
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، . بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ وَإِسْنَادِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ شَهِدْتُ حُذَيْفَةَ . غَيْرُ مُعَاذٍ وَحْدَهُ إِنَّمَا قَالُوا إِنَّ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى.
وکیع محمد بن جعفر ابن ابی عدی اور بہز ، ان سب نے شعبہ سے معاذ کی حدیث کے مانند انھی کی سند کے ساتھ حدیث روایت کی اور اکیلے معاذ کے سوا ، ان میں سے کسی نے حدیث میں " میں نے حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا " کے الفا ظ نہیں کہے ۔ سب نے یہی کیا : حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی مانگا ۔
۱۶
صحیح مسلم # ۳۷/۵۳۹۹
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، كِلاَهُمَا عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ مَنْ ذَكَرْنَا .
منصور اور ابن عون دونوں نے مجا ہد سے ، انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے ، انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان لوگوں کی روایت کے ہم معنی حدیث بیان کی جن کا ہم نے ذکر کیا ہے ۔
۱۷
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۰۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَيْفٌ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ فَسَقَاهُ مَجُوسِيٌّ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَلاَ الدِّيبَاجَ وَلاَ تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلاَ تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا" .
سیف نے کہا کہ میں نے مجا ہد کو کہتے و ئے سنا ، عبد اللہ الرحمن بن ابی لیلیٰ سے سنا ، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی مانگا تو ایک مجوسی ان کے پاس چاندی کے برتن میں پانی لا یا تو انھوں ( حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتےہو ئے سناہے ۔ " ریشم پہنو دیباج پہنو اور نہ سونے اور چاندی کے برتن میں پیو اور نہ ان ( قیمتی دھاتوں ) کی رکابیوں ( پلیٹوں ) میں کھا ؤکیونکہ یہ برتن دنیا میں ان ( کفار ) کے لیے ہیں ۔
۱۸
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۰۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا لِلنَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ " . ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا " . فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ .
مالک نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد کے دروازے کے قریب ( بازار میں ) ایک ریشمی حُلَہ ( ایک جیسی رشیمی چادروں کا جوڑا بکتے ہو ئے ) دیکھا ۔ انھوں نے کہا : کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کتنا اچھا ہو اگر آپ یہ حلہ خریدلیں اور جمعہ کے دن لوگوں کے سامنے ( خطبہ دینے کے لیے ) اور جب کو ئی وفد آپ کے پاس آئے تو اسے زیب تن فرما ئیں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " اس کو ( دنیا میں ) صرف وہ لو گ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کو ئی حصہ نہیں ۔ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان میں سے کچھ ریشمی حلے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطا فرما یا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے مجھے یہ حلہ پہننے کے لیے دیا ہے حالانکہ آپ نے عطارد ( بن حاجب بن ز رارہ جو مسجد کے دروازے کے باہر حلے بیچ رہے تھے ) کے حلے کے بارے میں جو فرما یا تھا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں نے یہ حلہ تم کو پہننے کے لیے نہیں دیا ۔ " پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ حلہ مکہ میں اپنے ایک بھا ئی کو دے دیا جو مشرک تھا ۔
۱۹
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۰۲
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ، عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِكٍ .
عبید اللہ اور موسیٰ بن عقبہ دونوں نے نا فع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی ۔
۲۰
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۰۳
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَأَى عُمَرُ عُطَارِدًا التَّمِيمِيَّ يُقِيمُ بِالسُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ - وَكَانَ رَجُلاً يَغْشَى الْمُلُوكَ وَيُصِيبُ مِنْهُمْ - فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ عُطَارِدًا يُقِيمُ فِي السُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ فَلَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا لِوُفُودِ الْعَرَبِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ - وَأَظُنُّهُ قَالَ وَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ " . فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحُلَلٍ سِيَرَاءَ فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ وَبَعَثَ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ بِحُلَّةٍ وَأَعْطَى عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ حُلَّةً وَقَالَ " شَقِّقْهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ " . قَالَ فَجَاءَ عُمَرُ بِحُلَّتِهِ يَحْمِلُهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعَثْتَ إِلَىَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ بِالأَمْسِ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ فَقَالَ " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا وَلَكِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا " . وَأَمَّا أُسَامَةُ فَرَاحَ فِي حُلَّتِهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَظَرًا عَرَفَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَنْكَرَ مَا صَنَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَنْظُرُ إِلَىَّ فَأَنْتَ بَعَثْتَ إِلَىَّ بِهَا فَقَالَ " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا وَلَكِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ " .
جریر بن حازم نے کہا : ہمیں نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت بیان کی کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ عُطارد تمیمی بازار میں ایک ریشمی حلہ ( بیچنے کے لیے ) اس کی قیمت بتا رہا ہے ۔ یہ بادشاہوں کے پاس جایا کرتا تھا اور ان سے انعام واکرا م وصول کرتا تھا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے عطارد کو دیکھا ہے وہ بازار میں ایک ریشمی حلہ بیچ رہا ہے ، آپ اسے خرید لیتے تو آپ عرب کے وفود آتے ( اس وقت ) آپ اس کو زیب تن فرما تے اور میراخیال ہے ( یہ بھی ) کہا : اور جمعہ کے دن بھی آپ اسے زیب تن فرما تے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرما یا : " دنیا میں ریشم صرف وہی شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کو ئی حصہ نہیں ہو تا ۔ اس واقعے کے بعد ( کا ایک دن آیاتو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کئی ریشمی حلے آئے آپ نے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھی بھیجا ، ایک حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجا اور ایک حلہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیا اور فرما یا : " اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں کو دوپٹے بنا دو ۔ " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے حلے کو اٹھا کر لا ئے اور عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے یہ حلہ میرے پاس بھیجا ہے حالانکہ آپ نےکل ہی عطارد کے حلے کے متعلق فرمایا تھا ۔ جو آپ نے فرما یا تھا؟ آپ نے فرمایا : " میں نے تمھا رے پاس یہ حلہ اس لیے نہیں بھیجا کہ اسے تم خود پہنو ، بلکہ میں نے تمھا رے پاس یہ اس لیے بھیجا ہے کہ تم کچھ ( فائدہ ) حاصل کرو ۔ " تو رہے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو وہ اپنا حلہ پہن کر آگئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس طرح دیکھا جس سے انھیں پتہ چل گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا ایسا کرنا پسند نہیں آیا امھوں نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں ؟ آپ ہی نے تو اسے میرے پاس بھیجا تھا ۔ آپ نے فرما یا : " میں نے تمھا رے پاس اسلیے نہیں بھیجا تھا کہ تم خود اس کو پہن لو ۔ بلکہ میں نے اس لیے اس حلے کو تمھا رے پاس بھیجا تھا کہ تم اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں میں دوپٹے بانٹ دو ۔
۲۱
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۰۴
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ، وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ بِالسُّوقِ فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْتَعْ هَذِهِ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوَفْدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ " . قَالَ فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَاءَ اللَّهُ . ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ فَأَقْبَلَ بِهَا عُمَرُ حَتَّى أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ " إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ " . أَوْ " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ " . ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَىَّ بِهَذِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَبِيعُهَا وَتُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ " .
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے سالم بن عبد اللہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ استبرق ( موٹے ریشم ) کا ایک حلہ بازار میں فروخت ہو تا ہوا دیکھا انھوں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے خرید لیجئے اور عید اور وفود کی آمد پر اسے زیب تن فرمائیے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " یہ صرف ایسے شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کو ئی حصہ نہیں ۔ " کہا : پھر جب تک اللہ کو منظور تھا وقت گزرا ( لفظی ترجمہ : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی حالت میں رہے ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس دیباج کا ایک جبہ بھیج دیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرما یا تھا : " یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ یاآپ نے ( اس طرح ) فرما یا تھا : " اس کووہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کو ئی حصہ نہیں ۔ " پھر آپ نے یہی میرے پاس بھیج دیا ہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ( اس لیے کہ ) تم اس کو فروخت کر دواوراس ( کی قیمت ) سے اپنی ضرورت پو ری کرلو ۔
۲۲
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۰۵
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ۔
۲۳
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۰۶
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ، حَفْصٍ عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، رَأَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عُطَارِدٍ قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أَوْ حَرِيرٍ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَوِ اشْتَرَيْتَهُ . فَقَالَ " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ " . فَأُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُلَّةٌ سِيَرَاءُ فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَىَّ . قَالَ قُلْتُ أَرْسَلْتَ بِهَا إِلَىَّ وَقَدْ سَمِعْتُكَ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ قَالَ " إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَسْتَمْتِعَ بِهَا " .
یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو بکر بن حفص نے سالم سے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عطارد کے خاندان والوں میں سے ایک آدمی ( کےکندھوں ) پر دیباج یا ریشم کی ایک قبا دیکھی تو ا نھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : کتنا اچھا ہو اگر آپ اس کو خرید لیں! آپ نے فرمایا : " اس کو صرف وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ " پھر ( بعد میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی حلہ ہدیہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا ، کہا : میں نے عرض کی : آپ نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا ہے ۔ جبکہ میں اس کے متعلق آپ سے سن چکا ہوں ، آپ نے اس کے بارے میں جو فرمایا تھا سوفرمایا تھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے اسے تمھارے پا س صرف اس لئے بھیجاہے کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔
۲۴
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۰۷
وَحَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سَالِمِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَأَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عُطَارِدٍ . بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِهَا وَلَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا " .
روح نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو بکر بن حفص نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب نے آل عطارد کے ایک آدمی ( کے کندھوں ) پر ( بیچنے کےلیے ایک حلہ ) دیکھا ، جس طرح یحییٰ بن سعید کی ایک حدیث ہے ۔ ، مگر انھوں نے یہ الفاظ کہے : " میں نے اسے تمھارے پاس صرف اس لئے بھیجا تھا کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اس لئے تمھارے پاس نہیں بھیجا تھا کہ تم ( خود ) اسے پہنو ۔
۲۵
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۰۸
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ قَالَ لِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي الإِسْتَبْرَقِ قَالَ قُلْتُ مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ وَخَشُنَ مِنْهُ . فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ رَأَى عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ " إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا مَالاً " .
یحییٰ بن ابی اسحاق نے حدیث بیان کی ، کہا : سالم بن عبداللہ نے مجھ سے استبرق کے متعلق دریافت کیا ، کہا : میں نے کہا : وہ دیباج جو موٹا اور سخت ہو ۔ انھوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص ( کے کندھے ) پر استبرق کا ایک حلہ دیکھا ، وہ اس ( حلے ) کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، پھر انھوں نے ان سب کی حدیث کے مانند بیان کیا ، البتہ اس میں یہ کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نےیہ جبہ اس لئے تمھارے پاس بھیجا کہ تم اس کے ذریعے سے ( اسے بیچ کر ) کچھ مال حاصل کرلو ۔
۲۶
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۰۹
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ خَالَ وَلَدِ عَطَاءٍ قَالَ أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَتْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَرِّمُ أَشْيَاءَ ثَلاَثَةً الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ وَمِيثَرَةَ الأُرْجُوَانِ وَصَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ . فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ رَجَبٍ فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الأَبَدَ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ " . فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ الْعَلَمُ مِنْهُ وَأَمَّا مِيثَرَةُ الأُرْجُوَانِ فَهَذِهِ مِيثَرَةُ عَبْدِ اللَّهِ فَإِذَا هِيَ أُرْجُوَانٌ . فَرَجَعْتُ إِلَى أَسْمَاءَ فَخَبَّرْتُهَا فَقَالَتْ هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَأَخْرَجَتْ إِلَىَّ جُبَّةَ طَيَالَسَةٍ كِسْرَوَانِيَّةً لَهَا لِبْنَةُ دِيبَاجٍ وَفَرْجَيْهَا مَكْفُوفَيْنِ بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ هَذِهِ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ حَتَّى قُبِضَتْ فَلَمَّا قُبِضَتْ قَبَضْتُهَا وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَلْبَسُهَا فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرْضَى يُسْتَشْفَى بِهَا .
حضرت اسماء بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عبداللہ ( کیسان ) سے روایت ہے ، جو کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کا مولیٰ اور عطاء کے لڑکے کا ماموں تھا نے کہا کہ مجھے اسماء رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور کہلایا کہ میں نے سنا ہے کہ تم تین چیزوں کو حرام کہتے ہو ، ایک تو کپڑے کو جس میں ریشمی نقش ہوں ، دوسرے ارجوان ( یعنی سرخ ڈھڈھاتا ) زین پوش کو اور تیسرے تمام رجب کے مہینے میں روزے رکھنے کو ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رجب کے مہینے کے روزوں کو کون حرام کہے گا؟ جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے گا ( سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمیشہ روزہ علاوہ عیدین اور ایام تشریق کے رکھتے تھے اور ان کا مذہب یہی ہے کہ صوم دہر مکروہ نہیں ہے ) ۔ اور کپڑے کے ریشمی نقوش کا تو نے ذکر کیا ہے تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ حریر ( ریشم ) وہ پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ، تو مجھے ڈر ہوا کہ کہیں نقشی کپڑا بھی حریر ( ریشم ) نہ ہو اور ارجوانی زین پوش ، تو خود عبداللہ کا زین پوش ارجوانی ہے ۔ یہ سب میں نے جا کر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے کہا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جبہ موجود ہے ، پھر انہوں نے طیالسی کسروانی جبہ ( جو ایران کے بادشاہ کسریٰ کی طرف منسوب تھا ) نکالا جس کے گریبان پر ریشم لگا ہوا تھا اور دامن بھی ریشمی تھے ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ جبہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک ان کے پاس تھا ۔ جب وہ فوت ہو گئیں تو یہ جبہ میں نے لے لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پہنا کرتے تھے اب ہم اس کو دھو کر اس کا پانی بیماروں کو شفاء کے لئے پلاتے ہیں ۔
۲۷
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۱۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ كَعْبٍ، أَبِي ذُبْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَخْطُبُ يَقُولُ أَلاَ لاَ تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمُ الْحَرِيرَ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ فَإِنَّهُ مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ " .
شعبہ نے خلیفہ بن کعب ابی زبیان سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے : سنو!اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ کیونکہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب کو ( یہ حدیث بیا ن کرتے ہوئے ) سنا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ر یشم نہ پہنو ، کیونکہ جس نے دنیا میں اسے پہنا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا ۔
۲۸
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۱۱
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي، عُثْمَانَ قَالَ كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ يَا عُتْبَةَ بْنَ فَرْقَدٍ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ كَدِّكَ وَلاَ مِنْ كَدِّ أَبِيكَ وَلاَ مِنْ كَدِّ أُمِّكَ فَأَشْبِعِ الْمُسْلِمِينَ فِي رِحَالِهِمْ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْهُ فِي رَحْلِكَ وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَعُّمَ وَزِيَّ أَهْلِ الشِّرْكِ وَلَبُوسَ الْحَرِيرِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ لَبُوسِ الْحَرِيرِ . قَالَ " إِلاَّ هَكَذَا " . وَرَفَعَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةَ وَضَمَّهُمَا قَالَ زُهَيْرٌ قَالَ عَاصِمٌ هَذَا فِي الْكِتَابِ . قَالَ وَرَفَعَ زُهَيْرٌ إِصْبَعَيْهِ .
احمد بن عبداللہ بن یونس نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں زہیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عاصم احول نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی ، کہا : جب ہم آذربائیجان میں تھے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہماری طرف ( خط میں ) لکھ بھیجا : عتبہ بن فرقد!تمھارے پاس جو مال ہے وہ نہ تمھاری کمائی سے ہے ، نہ تمھارے ماں باپ کی کمائی سے ، مسلمانوں کو ان کی رہائش گاہوں میں وہی کھانا پیٹ بھرکے کھلاؤ جس سے اپنی رہائش گاہ میں تم خود پیٹ بھرتے ہو اور تم لوگ عیش وعشرت سے مشرکین کے لباس اور ریشم کے پہناؤوں سے دور رہنا ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کے پہناوے سے منع فرمایا ہے ، مگر اتنا ( جائز ہے ) ، ( یہ فرما کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیاں ، درمیانی انگلی اورانگشت شہادت ملائیں اورانھیں ہمارے سامنے بلند فرمایا ۔ زہیر نے کہا : عاصم نے کہا : یہ اس خط میں ہے ، ( ابن یونس نے ) کہا : اور زہیر نے ( بھی ) اپنی دو انگیاں اٹھائیں ۔
۲۹
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۱۲
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدُ الْحَمِيدِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْحَرِيرِ بِمِثْلِهِ .
جریر بن عبدالحمید اور حفص بن غیاث دونوں نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ریشم کے بارے میں اس طرح روایت کی ،
۳۰
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۱۳
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَهُوَ عُثْمَانُ - وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ كِلاَهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، - وَاللَّفْظُ لإِسْحَاقَ - أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ فَجَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَلْبَسُ الْحَرِيرَ إِلاَّ مَنْ لَيْسَ لَهُ مِنْهُ شَىْءٌ فِي الآخِرَةِ إِلاَّ هَكَذَا " . وَقَالَ أَبُو عُثْمَانَ بِإِصْبَعَيْهِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الإِبْهَامَ . فَرُئِيتُهُمَا أَزْرَارَ الطَّيَالِسَةِ حِينَ رَأَيْتُ الطَّيَالِسَةَ .
جریر نے سلیمان تیمی سے ، انھوں نے ابو عثمان سے روایت کی ، کہا : ہم عتبہ بن فرقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تو ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کامکتوب آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ریشم ( کالباس ) اس کے سوا کوئی شخص نہیں پہنتا جس کا آخرت میں اس میں سے کوئی حصہ نہ ہو ، سوائے اتنے ( ریشم ) کے ( اتنی مقدار جائز ہے ) " ابوعثمان نے انگوٹھے کے ساتھ کی اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کیا ۔ مجھے اس طرح معلوم ہوا کہ جیسے وہ طیلسان ( نشانات والی عبا ) کے بٹنوں والی جگہ ( کے برابر ) ہو ، یہاں تک کہ میں نے ( اصل ) طیلسان دیکھے ، ( وہ اتنی مقدار ہی تھی ۔)
۳۱
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۱۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، قَالَ كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ .
معتمر نے اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو عثمان نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم عتبہ بن فرقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے ، جریر کی حدیث کے مانند ۔
۳۲
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۱۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ، قَالَ جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ أَوْ بِالشَّامِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلاَّ هَكَذَا إِصْبَعَيْنِ . قَالَ أَبُو عُثْمَانَ فَمَا عَتَّمْنَا أَنَّهُ يَعْنِي الأَعْلاَمَ.
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ابوعثمان نہدی سے سنا ، کہا : ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مکتوب آیا ، اس وقت ہم آزر بائیجان میں عتبہ بن فرقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے یا شام میں تھے ، اس میں یہ لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مقدار یعنی دو انگلیوں سے زیادہ ریشم پہننے سے منع کیا ہے ۔ ابوعثمان نے کہا : ہم نے یہ سمجھنے میں ذرا توقف نہ کیا کریں ان کی مراد نقش ونگار سے ہے ( جو کناروں پر ہوتے ہیں)
۳۳
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۱۶
وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ أَبِي عُثْمَانَ .
ہشام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ ، اسی کے مانند حدیث بیان کی اور ابو عثمان کا قول ذکر نہیں کیا ۔
۳۴
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۱۷
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا - مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، أَنَّ عُمَرَ، بْنَ الْخَطَّابَ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلاَّ مَوْضِعَ إِصْبَعَيْنِ أَوْ ثَلاَثٍ أَوْ أَرْبَعٍ .
معاذ کے والد ہشام نےقتادہ سے ، انھوں نے عامر شعبی سے روایت کی ، انھوں نے حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نے جابیہ میں خطبہ دیا اور کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ، سوائے دو یا تین یا چار انگلیوں ( کی پٹی ) کے ۔
۳۵
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۱۸
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
۳۶
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۱۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حَبِيبٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ لَبِسَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ نَزَعَهُ فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقِيلَ لَهُ قَدْ أَوْشَكَ مَا نَزَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ " نَهَانِي عَنْهُ جِبْرِيلُ " . فَجَاءَهُ عُمَرُ يَبْكِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرِهْتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ فَمَا لِي قَالَ " إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهُ لِتَلْبَسَهُ إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهُ تَبِيعُهُ " . فَبَاعَهُ بِأَلْفَىْ دِرْهَمٍ .
ابو زبیر نے کہا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن دیباج کی قبا پہنی جو آپ کو ہدیہ کی گئی تھی ، پھر فوراً ہی آپ نے اس کو اتار دیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیج دی ۔ آپ سے کہا گیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس کو فوراً اتار دیا ہے ۔ آپ نے فرمایا : "" مجھے جبریل علیہ السلام نے اس سے منع کردیا ۔ "" پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روتے ہوئے آئے اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ایک چیز نا پسند کی اور وہ مجھے دے دی!اب میرے لئے کیا ( راستہ ) ہے؟آپ نے فرمایا؛ "" میں نے یہ تمھیں پہننے کےلیے نہیں دی ، میں نے تمھیں اس لئے دی کہ اس کو بیچ لو ۔ "" تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو دو ہزار درہم میں فروخت کردیا ۔
۳۷
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۲۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُلَّةُ سِيَرَاءَ فَبَعَثَ بِهَا إِلَىَّ فَلَبِسْتُهَا فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ النِّسَاءِ " .
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو عون سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو صالح سے سنا ، وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنارہے تھے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی حلہ ہدیہ کیا گیا ، آپ نے وہ میرے پاس بھیج دیا ، میں نے اسکو پہن لیا ، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ محسوس کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے یہ تمھارے پاس اس لئے نہیں بھیجا تھا کہ تم اس کو پہن لو ، میں نے تمہارے پاس اس لئے بھیجا تھا کہ تم اس کو کاٹ کر عورتوں میں دوپٹے بانٹ دو ۔
۳۸
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۲۱
حَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ مُعَاذٍ فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي . وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي . وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَمَرَنِي.
عبیداللہ کے والد معاذ اور محمد بن جعفر ، دونوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو عون سے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی ۔ معاذ کی بیان کردہ حدیث میں ہے؛ " آپ نے مجھے حکم دیا تو میں نے کاٹ کر ( اپنے گھرکی ) عورتوں میں بانٹ دیا " اور محمد بن جعفر کی حدیث میں ہے : " میں نے اس کوکاٹ کر ( اپنے گھرکی ) عورتوں میں بانٹ دیا ۔ " اور انھوں نے " آپ نے مجھے حکم دیا " ( کےالفاظ ) ذکر نہیں کیے ۔
۳۹
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۲۲
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ أُكَيْدِرَ، دُومَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثَوْبَ حَرِيرٍ فَأَعْطَاهُ عَلِيًّا فَقَالَ " شَقِّقْهُ خُمُرًا بَيْنَ الْفَوَاطِمِ " . وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ " بَيْنَ النِّسْوَةِ " .
ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب اور زہیر بن حرب نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ الفاظ زہیر کے ہیں ۔ کہا : ہیں وکیع نے مسعر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو عون ثقفی سے ، انھوں نے ابو صالح حنفی سے ، انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ دومۃ الجندل کے ( حکمران ) اکیدر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشم کا ایک کپڑا ہدیہ بھیجا ، آپ نے وہ کپڑاحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیا اور فرمایا : "" اس کو کاٹ کر ( تینوں ) فاطماؤں ( فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، فاطمہ بنت اسد ، یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ، اور فاطمہ بنت حمزہ رضی اللہ عنھن میں اوڑھنیاں بانٹ دو ۔ "" ابو بکر اور ابو کریب نے ( "" فاطماؤں کے مابین "" کے بجائے ) "" عورتوں کے مابین "" کہا ۔
۴۰
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۲۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُلَّةَ سِيَرَاءَ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ - قَالَ - فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي .
زید بن وہب نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی حلہ دیا ، میں اسے پہنکر نکلا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پرغصہ دیکھا ، کہا : پھر میں نے اس کو پھاڑ کر اپنے گھر کی عورتوں میں تقسیم کردیا ۔
۴۱
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۲۴
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَأَبُو كَامِلٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كَامِلٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى عُمَرَ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ فَقَالَ عُمَرُ بَعَثْتَ بِهَا إِلَىَّ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ قَالَ " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا وَإِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِثَمَنِهَا " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سُندس ( باریک ریشم ) کا ایک جبہ بھیجا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : آپ نے میرے پاس یہ جبہ بھیجا ہے ۔ حالانکہ آپ نے اس کے متعلق ( پہلے ) جو فرمایاتھا وہ فرماچکے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے یہ تمھارے پاس اس لئے نہیں بھیجا کہ تم اس کو پہنو ، میں نے تمھارے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس کی قیمت سے فائدہ اٹھاؤ ۔
۴۲
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۲۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ " .
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جس شخص نے دینا میں ر یشم پہنا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا ۔
۴۳
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۲۶
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ " .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں ا س کو نہیں پہنے گا ۔
۴۴
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۲۷
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُ قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُّوجُ حَرِيرٍ فَلَبِسَهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ ثُمَّ قَالَ " لاَ يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ ".
لیث نے یزید بن ابی حبیب سے ، انھوں نے ابو الخیر سے ، انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کہ کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کی ایک کھلی قبا ہدیہ میں دی گئی ، آپ نے وہ پہنی اور نماز پڑھی ، پھر اس کو کھینچ کر اتار دیا ، جیسے آپ اسے ناپسند کررہے ہوں ، پھر فرمایا : " یہ ( عبا ) تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لئے مناسب نہیں ہے ۔
۴۵
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۲۸
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ، الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
عبدالحمید نے جعفر نے کہا : مجھے یزید بن ابی حبیب نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
۴۶
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۲۹
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، أَنْبَأَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي الْقُمُصِ الْحَرِيرِ فِي السَّفَرِ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا أَوْ وَجَعٍ كَانَ بِهِمَا .
ابو اسامہ نے ہمیں سعید بن ابی عروبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : قتادہ نے ہمیں حدیث سنائی کہ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد الرحمان بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک سفر میں خارش کی بنا پر یا کسی اور تکلیف کی بنا پر جو انھیں لا حق ہو گئی تھی ۔ ریشم پہننے کی اجازت مرحمت فرمائی ۔ ( حالات میں یہی مداوامیسر تھا ۔)
۴۷
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۳۰
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي السَّفَرِ .
محمد بن بشر نے کہا : ہمیں سعید نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور سفر میں " کا ذکر کیا ۔
۴۸
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۳۱
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - أَوْ رُخِّصَ - لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ لِحِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا .
وکیع نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیربن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو انھیں لا حق ہو نے والی خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت دی ۔
۴۹
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۳۲
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی مانند حدیث بیان کی ۔
۵۰
صحیح مسلم # ۳۷/۵۴۳۳
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ شَكَوَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْقَمْلَ فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قُمُصِ الْحَرِيرِ فِي غَزَاةٍ لَهُمَا .
ہمام نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں قتادہ نے حدیث سنا ئی کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا : حضرت عبد الرحمان بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں ( کی خارش ) کی شکا یت کی تو آپ نے ان دونوں کو انھیں پیش آنے والی جنگ کے دورا ن میں ریشم پہننے کی اجادت دے دی ۔