جامع ترمذی — حدیث #۲۸۳۵۴
حدیث #۲۸۳۵۴
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَيْقَظَ لَيْلَةً فَقَالَ
" سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتْنَةِ مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْخَزَائِنِ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ يَا رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الآخِرَةِ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، وہ زہری سے، انہوں نے ہند بنت الحارث سے، انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات بیدار ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کی کیا شان نازل ہوئی ہے؟ جھگڑا آج رات نازل ہوا ہے۔" اے رب، ایوانوں کے مکینوں کو کون جگائے؟ خزانچی دنیا میں کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور آخرت میں ننگے ہیں۔ یہ ایک اچھی اور صحیح حدیث ہے۔
راوی
ام سلمہ رضی اللہ عنہا
ماخذ
جامع ترمذی # ۳۳/۲۱۹۶
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۳۳: فتنے