سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۱۱۷۶
حدیث #۳۱۱۷۶
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عَمْرَةَ، قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا تَوَضَّأَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي الإِنَاءِ سَمَّى اللَّهَ وَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُومُ فَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ فَيُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يَرْكَعُ فَيَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيُقِيمُ صُلْبَهُ وَيَقُومُ قِيَامًا هُوَ أَطْوَلُ مِنْ قِيَامِكُمْ قَلِيلاً ثُمَّ يَسْجُدُ فَيَضَعُ يَدَيْهِ تِجَاهَ الْقِبْلَةِ وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ مَا اسْتَطَاعَ فِيمَا رَأَيْتُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَجْلِسُ عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ الْيُمْنَى وَيَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ .
عمرہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی تھی؟ انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو شروع کرتے تو اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر «بسم الله» کہتے اور وضو مکمل کرتے، پھر قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور «الله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر رکوع کرتے، اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پہ رکھتے اور بازوؤں کو پسلیوں سے جدا رکھتے، پھر رکوع سے سر اٹھاتے اور پیٹھ سیدھی کرتے، اور تمہارے قیام سے کچھ لمبا قیام کرتے، پھر سجدہ کرتے اور اپنے دونوں ہاتھ قبلہ رخ رکھتے، اور میرے مشاہدہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تک ہو سکتا اپنے بازوؤں کو ( اپنی بغلوں سے ) جدا رکھتے، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے اور بائیں قدم پہ بیٹھ جاتے، اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے، ( اور قعدہ اولیٰ میں ) بائیں طرف مائل ہونے کو ناپسند فرماتے۔
راوی
عمرہ رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۵/۱۰۶۲
درجہ
Very Daif
زمرہ
باب ۵: نماز قائم کرنا