سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۲۰۱۱
حدیث #۳۲۰۱۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ، - اسْمُهُ خَالِدٌ الْمَدَنِيُّ - قَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَالْجَوَارِي يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيَتَغَنَّيْنَ فَدَخَلْنَا عَلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهَا . فَقَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَبِيحَةَ عُرْسِي وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ وَتَنْدُبَانِ آبَائِي الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ وَتَقُولاَنِ فِيمَا تَقُولاَنِ وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ . فَقَالَ
" أَمَّا هَذَا فَلاَ تَقُولُوهُ مَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلاَّ اللَّهُ " .
ابوالحسین خالد مدنی کہتے ہیں کہ ہم عاشورہ کے دن مدینہ میں تھے، لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور گا رہی تھیں، پھر ہم ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ان سے یہ بیان کیا تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری شادی کے دن صبح میں آئے، اس وقت میرے پاس دو لڑکیاں گا رہی تھیں، اور بدر کے دن شہید ہونے والے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کر رہی تھیں، گانے میں جو باتیں وہ کہہ رہی تھیں ان میں یہ بات بھی تھی: «وفينا نبي يعلم ما في غد» ہم میں مستقبل کی خبر رکھنے والے نبی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا مت کہو، اس لیے کہ کل کی بات اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔
راوی
ابو حسین، جن کا نام خالد المدنی رضی اللہ عنہ تھا۔
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۹/۱۸۹۷
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۹: نکاح