سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۲۴۱۳
حدیث #۳۲۴۱۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ، قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ عَمِّ، أَبِيهَا رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ قَالَ كُنْتُ وَأَنَا غُلاَمٌ، أَرْمِي نَخْلَنَا - أَوْ قَالَ نَخْلَ الأَنْصَارِ - فَأُتِيَ بِيَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " يَا غُلاَمُ - وَقَالَ ابْنُ كَاسِبٍ فَقَالَ يَا بُنَىَّ - لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ " . قَالَ قُلْتُ آكُلُ . قَالَ " فَلاَ تَرْمِي النَّخْلَ وَكُلْ مِمَّا يَسْقُطُ فِي أَسَافِلِهَا " . قَالَ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ " اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ " .
رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور ایک لڑکا دونوں مل کر اپنے یا انصار کے کھجور کے درخت پر پتھر مار رہے تھے، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکے! ( ابن کاسب کا قول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: میرے بیٹے! ) تم کیوں کھجور کے درختوں پر پتھر مارتے ہو ؟، رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں ( کھجور ) کھاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: درختوں پر پتھر نہ مارو جو نیچے گرے ہوں انہیں کھاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اے اللہ! اسے آسودہ کر دے ۔
راوی
رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۱۲/۲۲۹۹
درجہ
Daif
زمرہ
باب ۱۲: تجارت
موضوعات:
#Mother