سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۴۱۴۲
حدیث #۳۴۱۴۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ قَدْ خُضِبَ بِالدِّمَاءِ قَدْ ضَرَبَهُ بَعْضُ أَهْلِ مَكَّةَ فَقَالَ مَا لَكَ فَقَالَ " فَعَلَ بِي هَؤُلاَءِ وَفَعَلُوا " . قَالَ أَتُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً قَالَ " نَعَمْ أَرِنِي " . فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْوَادِي فَقَالَ ادْعُ تِلْكَ الشَّجَرَةَ . فَدَعَاهَا فَجَاءَتْ تَمْشِي حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ قُلْ لَهَا فَلْتَرْجِعْ فَقَالَ لَهَا فَرَجَعَتْ حَتَّى عَادَتْ إِلَى مَكَانِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " حَسْبِي " .
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت آپ غمگین بیٹھے ہوئے تھے، اور لہولہان تھے، اہل مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ کو خشت زنی کر کے لہولہان کر دیا تھا، انہوں نے کہا: آپ کو کیا ہو گیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے ، جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نشانی دکھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں دکھائیے ، پھر جبرائیل علیہ السلام نے وادی کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا، اور کہا: آپ اس درخت کو بلائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آواز دی، وہ آ کر آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا، پھر انہوں نے کہا: آپ اس سے کہیے کہ وہ واپس جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس جانے کو کہا، تو وہ اپنی جگہ چلا گیا، ( یہ دیکھ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے یہ نشانی ( معجزہ ) ہی کافی ہے ۔
راوی
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۳۶/۴۰۲۸
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۳۶: فتنے
موضوعات:
#Mother