ریاض الصالحین — حدیث #۳۸۶۸۰

حدیث #۳۸۶۸۰
وعن عائشة رضي الله عنها قالت‏:‏ كن أزواج النبى صلى الله عليه وسلم عنده، فأقبلت فاطمة رضي الله عنها تمشى، ما تخطئ من مشية رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئاً، فلما رآها رحب بها وقال‏:‏ “مرحباً بابنتى” ثم أجلسها عن يمينه أو عن شماله، ثم سارها فبكت بكاء شديداً، فلما رأى جزعها سارها الثانية فضحكت، فقلت لها‏:‏ خصك رسول الله صلى الله عليه وسلم من بين نسائه بالسرار، ثم أنت تبكين ‏!‏ فلما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم سألتها‏:‏ ما قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏؟‏ قالت‏:‏ ما كنت لأفشي على رسول الله صلى الله عليه وسلم سره‏.‏ فلما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت‏:‏ عزمت عليك بما لي عليك من الحق، لما حدثتني ما قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم‏؟‏ فقالت‏:‏ أما الآن فنعم، أما حين سارني في المرة الأولى فأخبرني “أن جبريل كان يعارضه القرآن في كل سنة مرة أو مرتين، وأنه عارضه الآن مرتين، وإني لا أرى الأجل إلا قد اقترب، فاتقى الله واصبرى، فغنه نعم السلف أنا لك” فبكيت بكائى الذى رأيت‏.‏ فلما رأى جزعى سارنى الثانية، فقال‏:‏ ‏ "‏يا فاطمة أما ترضين أن تكونى سيدة نساء المؤمنين، أو سيدة نساء هذه الأمة” فضحكت ضحكى الذى رأيت‏"‏‏.‏ ‏(‏‏(‏متفق عليه‏)‏‏)‏ ‏(‏‏(‏وهذا لفظ مسلم‏)‏‏)‏‏.‏
ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں جب آپ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا جو اپنے والد کے طرز پر چلتی تھیں، وہاں آئیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے خوش آمدید کہہ کر خوش آمدید کہا، اور اسے اپنے دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھایا اور پھر اس سے کچھ سرگوشی کی جس پر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ جب اسے اس کا غم معلوم ہوا تو اس سے پھر چپکے سے بات کی اور وہ مسکرا دی (خوشی سے)۔ میں نے اس سے کہا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنی تمام ازواج مطہرات میں سے چنا کہ آپ سے چپکے چپکے بات کریں، پھر بھی آپ رو پڑیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے تو میں نے ان سے پوچھا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کیا فرمایا؟" اس نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز نہیں بتاؤں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب میں تمہیں بتاؤں گی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پہلی بار سرگوشی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام سال میں ایک یا دو مرتبہ مجھے سنایا کرتے تھے، پھر میں نے ایسا ہی کیا۔ تم اللہ سے ڈرو اور ثابت قدم رہو، کیونکہ میں تمہارے لیے بہترین پیشوا ہوں گا، جب اس نے میری تکلیف دیکھی تو اس نے دوسری بار مجھ سے بات کی اور کہا: اے فاطمہ!
راوی
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
ماخذ
ریاض الصالحین # ۲۰/۷
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۰: باب ۲۰: The Book of Good Manners
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث

متعلقہ احادیث