طلاق
ابواب پر واپس
۰۱
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۵۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي مِائَةَ تَطْلِيقَةٍ فَمَاذَا تَرَى عَلَىَّ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ طَلُقَتْ مِنْكَ لِثَلاَثٍ وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ بِهَا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا .
مجھ سے یحییٰ نے مالک کی روایت سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا کہ ایک شخص نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو سو بار طلاق دی ہے، تو تمہارا کیا خیال ہے؟ علی، اور ابن عباس نے اس سے کہا: وہ تم سے ترانوے سال تک طلاق یافتہ تھی، اور تم نے خدا کی نشانیوں کو مذاق میں استعمال کیا۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۵۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَمَانِيَ تَطْلِيقَاتٍ . فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَمَاذَا قِيلَ لَكَ قَالَ قِيلَ لِي إِنَّهَا قَدْ بَانَتْ مِنِّي . فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ صَدَقُوا مَنْ طَلَّقَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ فَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَهُ وَمَنْ لَبَسَ عَلَى نَفْسِهِ لَبْسًا جَعَلْنَا لَبْسَهُ مُلْصَقًا بِهِ لاَ تَلْبِسُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَنَتَحَمَّلَهُ عَنْكُمْ هُوَ كَمَا يَقُولُونَ .
ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ میں نے اپنی عورت کو سو طلاق دیں ابن عباس نے جواب دیا کہ وہ تین طلاق میں تجھ سے بائن ہوگئی اور ستانوے طلاق سے تو نے اللہ کی آیتوں سے ٹھٹھا کیا ۔، ایک شخص عبداللہ بن مسعود کے پاس آیا اور کہا میں نے اپنی عورت کو دو سو طلاقیں دیں ابن مسعود نے کہا لوگوں نے تجھ سے کیا کہا وہ بولا مجھ سے یہ کہا کہ تیری عورت تجھ سے بائن ہوگئی ابن مسعود نے کہا سچ ہے جو شخص اللہ کے حکم کے موافق طلاق دے گا تو اللہ نے اس کی صورت بیان کر دی اور جو گڑبڑ کرے گا اس کی بلا اس کے سر لگا دیں گے گڑبڑ مت کرو تاکہ ہم کو مصیبت نہ اٹھانا پڑے وہ لوگ سچ کہتے ہیں تیری عورت تجھ سے جدا ہوگئی ۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۵۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ لَهُ الْبَتَّةُ مَا يَقُولُ النَّاسُ فِيهَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَقُلْتُ لَهُ كَانَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ يَجْعَلُهَا وَاحِدَةً . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَوْ كَانَ الطَّلاَقُ أَلْفًا مَا أَبْقَتِ الْبَتَّةُ مِنْهَا شَيْئًا مَنْ قَالَ الْبَتَّةَ فَقَدْ رَمَى الْغَايَةَ الْقُصْوَى .
ابو بکر بن حزم سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ طلاق بتہ میں لوگ کیا کہتے ہیں ابوبکر نے کہا ابان بن عثمان اس کو ایک طلاق سمجھتے تھے عمر بن عبدالعزیز نے کہا اگر طلاق ایک ہزار تک درست ہوتی تو بتہ اس میں سے کچھ باقی نہ رکھتا جس نے بتہ کہا وہ انتہا کو پہنچ گیا۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۵۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، كَانَ يَقْضِي فِي الَّذِي يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ أَنَّهَا ثَلاَثُ تَطْلِيقَاتٍ . قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ .
ابن شہاب سے روایت ہے کہ مروان طلاق بتہ میں تین طلاق کا حکم کرتا تھا ۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۵۴
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهُ كُتِبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنَ الْعِرَاقَ أَنَّ رَجُلاً قَالَ لاِمْرَأَتِهِ حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى عَامِلِهِ أَنْ مُرْهُ يُوَافِينِي بِمَكَّةَ فِي الْمَوْسِمِ فَبَيْنَمَا عُمَرُ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ لَقِيَهُ الرَّجُلُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ مَنْ أَنْتَ فَقَالَ أَنَا الَّذِي أَمَرْتَ أَنْ أُجْلَبَ عَلَيْكَ . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَسْأَلُكَ بِرَبِّ هَذِهِ الْبَنِيَّةِ مَا أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ لَوِ اسْتَحْلَفْتَنِي فِي غَيْرِ هَذَا الْمَكَانِ مَا صَدَقْتُكَ أَرَدْتُ بِذَلِكَ الْفِرَاقَ . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ هُوَ مَا أَرَدْتَ .
حضرت عمر بن خطاب کے پاس خط لکھا ہوا آیا کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے کہا جبلک علی غاربک حضرت عمر خطاب نے لکھا اس شخص سے کہہ دینا کہ حج کے موسم میں مکہ میں مجھ سے ملے حضرت عمر کعبہ کا طواف کر رہے تھے ایک شخص ملا اور سلام کیا پوچھا تم کون ہے آپ نے فرمایا میں وہی شخص ہوں جس نے تم نے حکم کیا تھا مکہ میں ملنے کا حضرت عمر نے کہا قسم ہے تجھ کو اس گھر کے رب کی جبلک علی غاربک سے تیری کیا مراد تھی وہ بولا اے امیر المومین اگر تم مجھ کو کسی اور جگہ کی قسم دیتے تو میں سچ نہ کہتا اب سچ کہتا ہوں کہ میری نیت چھوڑ دینے کی تھی حضرت عمر نے فرمایا جیسے تو نے نیت کی ویسا ہی ہوا۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۵۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، كَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ أَنْتِ عَلَىَّ حَرَامٌ إِنَّهَا ثَلاَثُ تَطْلِيقَاتٍ . قَالَ مَالِكُ وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ .
حضرت علی کہتے تھے جو شخص اپنی عورت سے کہے تو مجھ پر حرام ہے تو تین طلاق پڑ جائیں گی ۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۵۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ فِي الْخَلِيَّةِ وَالْبَرِيَّةِ إِنَّهَا ثَلاَثُ تَطْلِيقَاتٍ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا .
عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ خلیہ اور بریہ ان میں سے ہر ایک میں تین طلاقیں پڑ جایئیں گی ۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۵۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، . أَنَّ رَجُلاً، كَانَتْ تَحْتَهُ وَلِيدَةٌ لِقَوْمٍ فَقَالَ لأَهْلِهَا شَأْنَكُمْ بِهَا . فَرَأَى النَّاسُ أَنَّهَا تَطْلِيقَةٌ وَاحِدَةٌ .
اس نے مجھ سے مالک کی سند سے، یحییٰ بن سعید کی سند سے، القاسم بن محمد کی سند سے بیان کیا کہ ایک آدمی کی کمر کے نیچے ایک عورت کا بچہ تھا، تو اس نے اس کے گھر والوں سے کہا: تم اس کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ لوگوں نے دیکھا کہ یہ ایک ہی طلاق ہے۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۵۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ بَرِئْتِ مِنِّي وَبَرِئْتُ مِنْكِ إِنَّهَا ثَلاَثُ تَطْلِيقَاتٍ بِمَنْزِلَةِ الْبَتَّةِ . قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ أَنْتِ خَلِيَّةٌ أَوْ بَرِيَّةٌ أَوْ بَائِنَةٌ إِنَّهَا ثَلاَثُ تَطْلِيقَاتٍ لِلْمَرْأَةِ الَّتِي قَدْ دَخَلَ بِهَا وَيُدَيَّنُ فِي الَّتِي لَمْ يَدْخُلْ بِهَا أَوَاحِدَةً أَرَادَ أَمْ ثَلاَثًا فَإِنْ قَالَ وَاحِدَةً أُحْلِفَ عَلَى ذَلِكَ وَكَانَ خَاطِبًا مِنَ الْخُطَّابِ لأَنَّهُ لاَ يُخْلِي الْمَرْأَةَ الَّتِي قَدْ دَخَلَ بِهَا زَوْجُهَا وَلاَ يُبِينُهَا وَلاَ يُبْرِيهَا إِلاَّ ثَلاَثُ تَطْلِيقَاتٍ وَالَّتِي لَمْ يَدْخُلْ بِهَا تُخْلِيهَا وَتُبْرِيهَا وَتُبِينُهَا الْوَاحِدَةُ . قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ .
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک شخص کے نکاح میں ایک لونڈی تھی اس نے لونڈی کے مالکوں سے کہہ دیا تم جانو تمہارا کام جانے لوگوں نے اس کو ایک طلاق سمجھا ۔ ابن شہاب کہتے تھے اگر مرد عورت سے کہے میں تجھ سے بری ہوا اور تو مجھ سے بری ہوئی تو تین طلاقیں پڑیں گی مثل بتہ کے ۔ کہا مالک نے اگر کوئی شخص اپنی عورت کو کہے تو خلیہ ہے یا بریہ ہے یا بائنہ ہے تو اگر اس عورت سے صحبت کر چکا ہے تین طلاق پڑیں گی اور اگر صحبت نہیں کی تو اس کی نیت کے موافق پڑے گی اگر اس نے کہا میں نے ایک کی نیت کی تھی تو حلف لے کر اس کو سچا سمجھیں گے مگر وہ عورت ایک ہی طلاق میں بائن ہو جائے گی اب رجعت نہیں کر سکتا البتہ نکاح نئے سرے سے کر سکتا ہے کیونکہ جس عورت سے صحبت نہ کی ہو وہ ایک ہی طلاق میں بائن ہو جاتی ہے جس سے صحبت کر چکا اور وہ تین طلاق میں بائن ہوتی ہے ۔ کہا مالک نے یہ روایت مجھے بہت پسند ہے ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۵۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي جَعَلْتُ أَمْرَ امْرَأَتِي فِي يَدِهَا فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا فَمَاذَا تَرَى فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أُرَاهُ كَمَا قَالَتْ . فَقَالَ الرَّجُلُ لاَ تَفْعَلْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ . فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَنَا أَفْعَلُ أَنْتَ فَعَلْتَهُ .
امام مالک کو پہنچا کہ ایک شخص عبداللہ بن عمر کے پاس آیا اور بولا میں نے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دیا تھا اس نے اپنے آپ کو تین طلاق دے لی اب کیا کہتے ہو ابن عمر نے کہا کہ طلاق پڑ گئی وہ شخص بولا ایسا تو مت کرو ابن عمرو نے کہا میں نے کیا کیا تو نے اپنے آپ کیا۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۶۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ إِذَا مَلَّكَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَالْقَضَاءُ مَا قَضَتْ بِهِ إِلاَّ أَنْ يُنْكِرَ عَلَيْهَا وَيَقُولَ لَمْ أُرِدْ إِلاَّ وَاحِدَةً فَيَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ وَيَكُونُ أَمْلَكَ بِهَا مَا كَانَتْ فِي عِدَّتِهَا .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جب مرد اپنی عورت کو طلاق کا مالک کر دے تو جب بھی طلاق عورت چاہے اپنے اوپر ڈال لے مگر جب خاوند انکار کرے اور کہے میں نے ایک طلاق کا اختیار دیا تھا اور حلف کرے تو اس عورت کامستحق ہوگا جب تک وہ عدت میں ہے ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۶۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَأَتَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ مَا شَأْنُكَ فَقَالَ مَلَّكْتُ امْرَأَتِي أَمْرَهَا فَفَارَقَتْنِي . فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ قَالَ الْقَدَرُ . فَقَالَ زَيْدٌ ارْتَجِعْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّمَا هِيَ وَاحِدَةٌ وَأَنْتَ أَمْلَكُ بِهَا .
خارجہ بن زید سے روایت ہے کہ وہ اپنے باپ زید بن ثابت کے پاس بیٹھے تھے اتنے میں محمد بن ابی عتیق روتے ہوئے آئے زید نے پوچھا کیوں انہوں نے کہا میں نے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دیا تھا اس نے مجھے چھوڑ دیا زید نے کہا تو نے کیوں اختیار دیا انہوں نے کہا تقدیر میں یوں ہی تھا زید نے کہا اگر تو چاہے تو رجعت کر لے کیونکہ ایک طلاق پڑی ہے ابھی تو اس کا مالک ہے۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۶۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ ثَقِيفٍ مَلَّكَ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَقَالَتْ أَنْتَ الطَّلاَقُ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَتْ أَنْتَ الطَّلاَقُ فَقَالَ بِفِيكِ الْحَجَرُ . ثُمَّ قَالَتْ أَنْتَ الطَّلاَقُ فَقَالَ بِفِيكِ الْحَجَرُ . فَاخْتَصَمَا إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَاسْتَحْلَفَهُ مَا مَلَّكَهَا إِلاَّ وَاحِدَةً وَرَدَّهَا إِلَيْهِ . قَالَ مَالِكٌ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَكَانَ الْقَاسِمُ يُعْجِبُهُ هَذَا الْقَضَاءُ وَيَرَاهُ أَحْسَنَ مَا سَمِعَ فِي ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ وَأَحَبُّهُ إِلَىَّ .
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک شخص ثقفی نے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دیا اس نے اپنے تئیں ایک طلاق دی یہ چپ ہو رہا پھر اس نے دوسری طلاق دی اس نے کہا تیرے منہ میں پتھر اس نے تیسری طلاق دی اس نے کہا تیرے منہ میں پتھر پھر دونوں لڑتے ہرئے مروان کے پاس آئے مروان نے اس بات کی قسم لی کہ میں نے ایک طلاق کا اختیار دیا تھا اس کے بعد وہ عورت اس کے حوالہ کر دی ۔ کہا مالک نے عبدالرحمن کہتے تھے کہ قاسم بن محمد اس فیصلہ کو پسند کرتے تھے اور مجھے بھی بہت پسند ہے۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۶۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا خَطَبَتْ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قُرَيْبَةَ بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ فَزَوَّجُوهُ ثُمَّ إِنَّهُمْ عَتَبُوا عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَالُوا مَا زَوَّجْنَا إِلاَّ عَائِشَةَ فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَجَعَلَ أَمْرَ قُرَيْبَةَ بِيَدِهَا فَاخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ طَلاَقًا .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی عبدالرحمن کا پیام بھیجا قریبہ بنت ابی امیہ کے پاس ان کے لوگوں نے ان کا عبدالرحمن کے ساتھ نکاح کر دیا اس کے بعد لڑائی ہوئی ان لوگوں نے کہا یہ نکاح حضرت عائشہ نے کروایا ہے حضرت عائشہ نے عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا عبدالرحمن نے اختیار دے دیا قریبہ نے اپنے خاوند کو اختیار کیا اس کو طلاق نہ سمجھا ۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۶۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَوَّجَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُنْذِرَ بْنَ الزُّبَيْرِ - وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ غَائِبٌ بِالشَّامِ - فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ وَمِثْلِي يُصْنَعُ هَذَا بِهِ وَمِثْلِي يُفْتَاتُ عَلَيْهِ فَكَلَّمَتْ عَائِشَةُ الْمُنْذِرَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ الْمُنْذِرُ فَإِنَّ ذَلِكَ بِيَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا كُنْتُ لأَرُدَّ أَمْرًا قَضَيْتِيهِ فَقَرَّتْ حَفْصَةُ عِنْدَ الْمُنْذِرِ وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ طَلاَقًا .
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ نے حفصہ بنت عبدالرحمن (اپنی بھتیجی) کا منذر بن زبیر سے نکاح کیا اور عبدالرحمن جو کہ لڑکی کے باپ تھے شام کو گئے ہوئے تھے جب عبدالرحمن آئے تو انہوں نے کہا کیا مجھ ہی سے ایسا کرنا تھا اور میرے اوپر جلدی کرنا تھا۔ف1 حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے منذر بن زبیر سے بیان کیا منذر نے کہا عبدالرحمن کو اختیار ہے۔ عبدالرحمن نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہا جس کام کو تم کر چکیں اس کام کو میں توڑنے والا نہیں پھر رہیں حضرت حفصہ منذر کے پاس اور اس اختیار کو طلاق نہ سمجھا۔ مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوال ہوا ایک شخص اپنی عورت کو طلاق کا مالک کر دے مگر عورت اس کو قبول نہ کرے نہ اپنے تئیں طلاق دے انہوں نے کہا طلاق نہ پڑے گی ۔
۱۶
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۶۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَأَبَا، هُرَيْرَةَ سُئِلاَ عَنِ الرَّجُلِ، يُمَلِّكُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَتَرُدُّ ذَلِكَ إِلَيْهِ وَلاَ تَقْضِي فِيهِ شَيْئًا فَقَالاَ لَيْسَ ذَلِكَ بِطَلاَقٍ .
انہوں نے مالک کی سند سے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی سے اپنا کام کروایا تو انہوں نے اسے واپس کر دیا۔ اس کے لئے اور اس کے لئے قضاء نہیں ہے. کہنے لگے یہ طلاق نہیں ہے۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۶۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ إِذَا مَلَّكَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَلَمْ تُفَارِقْهُ وَقَرَّتْ عِنْدَهُ فَلَيْسَ ذَلِكَ بِطَلاَقٍ . قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُمَلَّكَةِ إِذَا مَلَّكَهَا زَوْجُهَا أَمْرَهَا ثُمَّ افْتَرَقَا وَلَمْ تَقْبَلْ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلَيْسَ بِيَدِهَا مِنْ ذَلِكَ شَىْءٌ وَهُوَ لَهَا مَا دَامَا فِي مَجْلِسِهِمَا .
سعید بن مسیب نے کہا جب مرد اپنی عورت کو طلاق کا مالک کر دے مگر عورت خاوند سے جدا ہونا قبول نہ کرے اسی کے پاس رہنا چاہے تو طلاق نہ ہوگی ۔ کہا مالک نے جس مجلس میں خاوند عورت کو طلاق کا اختیار دے اسی مجلس میں عورت کو اختیار ہوگا اگر وہ مجلس برخواست ہوئی اور عورت نے طلاق نہ لی تو پھر اختیار نہ رہے گا۔
۱۸
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۶۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا آلَى الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ لَمْ يَقَعْ عَلَيْهِ طَلاَقٌ وَإِنْ مَضَتِ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرِ حَتَّى يُوقَفَ فَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ وَإِمَّا أَنْ يَفِيءَ . قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا .
کہا مالک نے ایک شخص نے اسباب رہن رکھا وہ مرتہن کے پاس تلف ہوگیا لیکن راہن اور متہن کو زر رہن کی مقدار میں اختلاف نہیں ہے البتہ شئے مرہوں کی قیمت میں اختلاف ہے راہن کہتا ہے اس کی قیمت بیس دینار ہے ۔ اور مرتہن کہتا ہے اس کی قیمت دس دینار تھی اور رہن بیس دینار ہے اور مرہن سے کہا جائے گا کہ شئے مرہوں کے اوصاف بیان کر جب وہ بیان کرے تو اس سے حلف لے کر نگاہ والوں سے ایسی شئے کی قیمت دریافت کریں اگر وہ قیمت زر رہن سے زیادہ ہو تو مرتہن سے کہا جائے گا جس قدر زیادہ ہے وہ راہن کو دے اگر قیمت کم ہے تو مرتہن جس قدر کم ہے راہن سے لے لے اگر برابر ہے تو خیر قصہ چکا نہ یہ کچھ دے نہ وہ کچھ دے۔
۱۹
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۶۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرِ وُقِفَ حَتَّى يُطَلِّقَ أَوْ يَفِيءَ وَلاَ يَقَعُ عَلَيْهِ طَلاَقٌ إِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرِ حَتَّى يُوقَفَ .
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص ایلا کرے اپنی عورت سے جب چار مہنے گزر جائیں تو خاوند کو حاکم کے سامنے مجبور کریں طلاق دے یا رجوع کرے اور بغیر طلاق دئیے چار مہینے گزر جانے سے عورت پر طلاق نہ پڑے گی ۔
۲۰
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۶۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَأَبَا، بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَا يَقُولاَنِ فِي الرَّجُلِ يُولِي مِنِ امْرَأَتِهِ إِنَّهَا إِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرِ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَلِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ .
ابن شہاب سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب اور ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے تھے جو شخص ایال کرے اپنی عورت سے تو جب چار مہینے گزر جائیں ایک طلاق پڑ جائے گی مگر خاوند کو اختیار ہے کہ جب تک عورت عدت میں ہے رجعت کر لے ۔ مالک کو پہنچا کہ مروان بن حکم حکم کرتے تھے جب کوئی شخص اپنی عورت سے ایلا کرے اور چار مہینے گز رجائیں تو ایک طلاق پڑ جائے گی مگر خاوند کو اختیار رہے گا کہ جب تک عورت عدت میں ہے رجعت کر لے ۔ کہا مالک نے ابن شہاب کی رائے یہی تھی ۔
۲۱
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۷۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، كَانَ يَقْضِي فِي الرَّجُلِ إِذَا آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ أَنَّهَا إِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرِ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَلَهُ عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ مَا دَامَتْ فِي عِدَّتِهَا . قَالَ مَالِكٌ وَعَلَى ذَلِكَ كَانَ رَأْىُ ابْنِ شِهَابٍ . قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يُولِي مِنِ امْرَأَتِهِ فَيُوقَفُ فَيُطَلِّقُ عِنْدَ انْقِضَاءِ الأَرْبَعَةِ الأَشْهُرِ ثُمَّ يُرَاجِعُ امْرَأَتَهُ أَنَّهُ إِنْ لَمْ يُصِبْهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا فَلاَ سَبِيلَ لَهُ إِلَيْهَا وَلاَ رَجْعَةَ لَهُ عَلَيْهَا إِلاَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ أَوْ سِجْنٍ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الْعُذْرِ فَإِنَّ ارْتِجَاعَهُ إِيَّاهَا ثَابِتٌ عَلَيْهَا فَإِنْ مَضَتْ عِدَّتُهَا ثُمَّ تَزَوَّجَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ إِنْ لَمْ يُصِبْهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرِ وَقَفَ أَيْضًا فَإِنْ لَمْ يَفِئْ دَخَلَ عَلَيْهِ الطَّلاَقُ بِالإِيلاَءِ الأَوَّلِ إِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ لأَنَّهُ نَكَحَهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَلاَ عِدَّةَ لَهُ عَلَيْهَا وَلاَ رَجْعَةَ . قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يُولِي مِنِ امْرَأَتِهِ فَيُوقَفُ بَعْدَ الأَرْبَعَةِ الأَشْهُرِ فَيُطَلِّقُ ثُمَّ يَرْتَجِعُ وَلاَ يَمَسُّهَا فَتَنْقَضِي أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا إِنَّهُ لاَ يُوقَفُ وَلاَ يَقَعُ عَلَيْهِ طَلاَقٌ وَإِنَّهُ إِنْ أَصَابَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا كَانَ أَحَقَّ بِهَا وَإِنْ مَضَتْ عِدَّتُهَا قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا فَلاَ سَبِيلَ لَهُ إِلَيْهَا وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يُولِي مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا فَتَنْقَضِي الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرِ قَبْلَ انْقِضَاءِ عِدَّةِ الطَّلاَقِ قَالَ هُمَا تَطْلِيقَتَانِ إِنْ هُوَ وُقِفَ وَلَمْ يَفِئْ وَإِنْ مَضَتْ عِدَّةُ الطَّلاَقِ قَبْلَ الأَرْبَعَةِ الأَشْهُرِ فَلَيْسَ الإِيلاَءُ بِطَلاَقٍ وَذَلِكَ أَنَّ الأَرْبَعَةَ الأَشْهُرِ الَّتِي كَانَتْ تُوقَفُ بَعْدَهَا مَضَتْ وَلَيْسَتْ لَهُ يَوْمَئِذٍ بِامْرَأَةٍ . قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ حَلَفَ أَنْ لاَ يَطَأَ امْرَأَتَهُ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى يَنْقَضِيَ أَكْثَرُ مِنَ الأَرْبَعَةِ الأَشْهُرِ فَلاَ يَكُونُ ذَلِكَ إِيلاَءً وَإِنَّمَا يُوقَفُ فِي الإِيلاَءِ مَنْ حَلَفَ عَلَى أَكْثَرَ مِنَ الأَرْبَعَةِ الأَشْهُرِ فَأَمَّا مَنْ حَلَفَ أَنْ لاَ يَطَأَ امْرَأَتَهُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ فَلاَ أَرَى عَلَيْهِ إِيلاَءً لأَنَّهُ إِذَا دَخَلَ الأَجَلُ الَّذِي يُوقَفُ عِنْدَهُ خَرَجَ مِنْ يَمِينِهِ وَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ وَقْفٌ . قَالَ مَالِكٌ مَنْ حَلَفَ لاِمْرَأَتِهِ أَنْ لاَ يَطَأَهَا حَتَّى تَفْطِمَ وَلَدَهَا فَإِنَّ ذَلِكَ لاَ يَكُونُ إِيلاَءً .
انہوں نے مالک کی سند سے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ مروان بن الحکم یہ حکم دیا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ہمبستری کرے تو چار دن گزر جائیں تو اسے طلاق شمار کیا جاتا ہے اور جب تک وہ عدت میں ہو اسے واپس لینے کا حق ہے۔ مالک نے کہا اور یہی ابن شہاب کا قول ہے۔ ملک نے کہا۔ میں آدمی اپنی بیوی سے رخصت لیتا ہے، پھر طلاق دیتا ہے اور جب چار مہینے گزر جاتے ہیں تو وہ اپنی بیوی کے پاس رجوع کرتا ہے کہ اگر اس کی عدت ختم ہونے تک اس سے ہمبستری نہ کی تو اس کے پاس اس کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے اور اسے اس سے رجوع کرنے کا کوئی حق نہیں ہے جب تک کہ اس کے پاس بیماری، قید یا اس جیسی کوئی چیز نہ ہو۔ عذر یہ ہے کہ اس کا اسے واپس لے جانا اس کے لیے صحیح ہے، لہٰذا اگر اس کی عدت گزر جائے اور اس کے بعد اس نے اس سے نکاح کر لیا، پھر اگر اس سے مباشرت نہ کرے یہاں تک کہ جب چار مہینے گزر جائیں تو وہ بھی رک جائے، اور اگر اس کی اتنی آمدنی نہ ہو تو پہلی ادائیگی کے ساتھ اس پر طلاق واجب ہے۔ اگر چار مہینے گزر جائیں اور اس کے پاس نہ رہے۔ اسے اسے واپس لینا ہوگا کیونکہ اس نے اس سے شادی کی تھی اور پھر اسے چھونے سے پہلے اسے طلاق دے دی تھی، اس لیے اس کے پاس اس کے لیے کوئی عدت نہیں ہے اور نہ ہی اسے واپس لے جانا ہے۔ مالک نے ایک ایسے شخص کے بارے میں کہا جو چار مہینے کے بعد اپنی بیوی کو روکتا ہے اور اسے طلاق دیتا ہے، پھر وہ واپس آجاتا ہے اور اسے ہاتھ نہیں لگاتا، اور اس کی عدت ختم ہونے سے پہلے چار مہینے گزر جاتے ہیں۔ یہ معلق نہیں ہے اور طلاق اس کے خلاف شمار نہیں ہے، اور اگر اس نے عدت ختم ہونے سے پہلے اس سے ہمبستری کی تو اس کا زیادہ حق ہے، اگر چہ اس کی عدت گزر جانے سے پہلے اس کو نقصان پہنچائے تو اس کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے، اور میں نے اس کے بارے میں یہ سب سے اچھی بات سنی ہے۔ مالک نے اس شخص کے بارے میں کہا جو اپنی بیوی سے ولایت لیتا ہے اور پھر اسے طلاق دیتا ہے۔ تو گزر جاتا ہے۔ طلاق کی عدت ختم ہونے سے چار مہینے پہلے، آپ نے فرمایا، دو طلاقیں ہیں، اگر اس نے روک دیا اور اسے پورا نہ کیا، اگرچہ طلاق کی عدت چار سے پہلے گزر جائے۔ مہینوں، تو طلاق طلاق نہیں ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جن چار مہینے کے بعد اسے روکا گیا تھا وہ اس دن گزر چکے ہیں اور وہ اس دن اس کی نہیں ہے۔ ایک عورت کے ساتھ۔ مالک نے کہا: جو شخص اپنی بیوی سے ایک دن یا ایک ماہ تک ہمبستری نہ کرنے کی قسم کھائے اور پھر چار مہینے سے زیادہ گزر جانے تک رہے تو اس کی بیعت نہیں ہوگی۔ بلکہ چار مہینے سے زیادہ بیعت کرنے والے کی بیعت معطل ہے جیسا کہ اپنی بیوی سے ہمبستری نہ کرنے کی قسم کھانے والے کی بیعت معطل ہے۔ چار مہینے یا اس سے کم، تو میں اس پر کوئی بوجھ نہیں دیکھتا، کیونکہ جس وقت میں اسے روکا جاتا ہے اگر وہ وقت آجائے تو وہ اپنا حق چھوڑ دیتا ہے اور اس کا واجب نہیں ہوتا ہے۔ اوقاف۔ مالک نے کہا: اگر کوئی اپنی بیوی سے یہ قسم کھائے کہ جب تک وہ اپنے بچے کا دودھ چھڑا نہ دے وہ اس سے جماع نہیں کرے گا تو یہ قسم نہیں ہے۔
۲۲
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۷۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرِ وُقِفَ حَتَّى يُطَلِّقَ أَوْ يَفِيءَ وَلاَ يَقَعُ عَلَيْهِ طَلاَقٌ إِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرِ حَتَّى يُوقَفَ .
انہوں نے مجھ سے مالک کی سند سے، نافع کی سند سے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، وہ کہتے تھے کہ جب بھی کوئی آدمی اپنی بیوی کے لیے وقف کرتا ہے، اگر وہ چلی جائے تو چار مہینے اس وقت تک موقوف ہیں جب تک کہ وہ طلاق نہ دے دے یا ادا نہ کر دے، اور اگر چار مہینے گزر جائیں تو اس پر طلاق واقع نہیں ہوتی، یہاں تک کہ وہ معطل ہو جائے۔
۲۳
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۷۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ إِيلاَءِ الْعَبْدِ، فَقَالَ هُوَ نَحْوُ إِيلاَءِ الْحُرِّ وَهُوَ عَلَيْهِ وَاجِبٌ وَإِيلاَءُ الْعَبْدِ شَهْرَانِ .
امام مالک نے ابن شہاب سے غلام کی ایلاء کا حال پوچھا تو ابن شہاب نے کہا کہ غلام کا ایلاء بھی آزاد شخص کی طرح ہے مگر غلام کی مدت دو مہینے ہے ۔
۲۴
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۷۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ رَجُلٍ، طَلَّقَ امْرَأَةً إِنْ هُوَ تَزَوَّجَهَا فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ إِنَّ رَجُلاً جَعَلَ امْرَأَةً عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ إِنْ هُوَ تَزَوَّجَهَا فَأَمَرَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنْ هُوَ تَزَوَّجَهَا أَنْ لاَ يَقْرَبَهَا حَتَّى يُكَفِّرَ كَفَّارَةَ الْمُتَظَاهِرِ .
سعید بن عمر نے قاسم بن محمد سے پوچھا اگر کوئی شخص کسی عورت سے کہے کہ اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھ کو طلاق ہے قاسم بن محمد نے کہا کہ ایک شخص نے حضرت عمر کے زمانے میں ایک عورت کی نسبت یہ کہا تھا کہ اگر میں اس سے نکاح کروں وہ مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ حضرت عمر نے حکم دیا کہ اگر وہ شخص اس عورت سے نکاح کرے تو جماع نہ کرے جب تک کفارہ ظہار نہ دے ۔ مالک کو پہنچا کہ ایک شخص نے قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار سے پوچھا اگر کوئی شخص کسی عورت سے ظہار کرے نکاح سے پہلے تو دونوں نے کہا کہ اگر وہ شخص اس عورت سے نکاح کرے تو جماع نہ کرے جب تک کفارہ ظہار ادا نہ کرے ۔
۲۵
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۷۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ تَظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَنْكِحَهَا فَقَالاَ إِنْ نَكَحَهَا فَلاَ يَمَسَّهَا حَتَّى يُكَفِّرَ كَفَّارَةَ الْمُتَظَاهِرِ .
انہوں نے مجھے مالک کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ ایک آدمی نے قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جس نے اپنی بیوی سے شادی کرنے سے پہلے اس سے ہمبستری کی تو انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس سے شادی کر لے تو اسے اس وقت تک ہاتھ نہ لگائے جب تک کہ وہ کسی سے شادی کرنے والے کا کفارہ ادا نہ کر دے۔
۲۶
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۷۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ تَظَاهَرَ مِنْ أَرْبَعَةِ نِسْوَةٍ لَهُ بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلاَّ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ . وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مِثْلَ ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ وَعَلَى ذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كَفَّارَةِ الْمُتَظَاهِرِ {فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا }. {فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا} . قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَتَظَاهَرُ مِنِ امْرَأَتِهِ فِي مَجَالِسَ مُتَفَرِّقَةٍ قَالَ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلاَّ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِنْ تَظَاهَرَ ثُمَّ كَفَّرَ ثُمَّ تَظَاهَرَ بَعْدَ أَنْ يُكَفِّرَ فَعَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ أَيْضًا . قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ تَظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ مَسَّهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلاَّ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ وَيَكُفُّ عَنْهَا حَتَّى يُكَفِّرَ وَلْيَسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ . قَالَ مَالِكٌ وَالظِّهَارُ مِنْ ذَوَاتِ الْمَحَارِمِ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَالنَّسَبِ سَوَاءٌ . قَالَ مَالِكٌ وَلَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ ظِهَارٌ . قَالَ مَالِكٌ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا}. قَالَ سَمِعْتُ أَنَّ تَفْسِيرَ ذَلِكَ أَنْ يَتَظَاهَرَ الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ يُجْمِعَ عَلَى إِمْسَاكِهَا وَإِصَابَتِهَا فَإِنْ أَجْمَعَ عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ وَإِنْ طَلَّقَهَا وَلَمْ يُجْمِعْ بَعْدَ تَظَاهُرِهِ مِنْهَا عَلَى إِمْسَاكِهَا وَإِصَابَتِهَا فَلاَ كَفَّارَةَ عَلَيْهِ . قَالَ مَالِكٌ فَإِنْ تَزَوَّجَهَا بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ يَمَسَّهَا حَتَّى يُكَفِّرَ كَفَّارَةَ الْمُتَظَاهِرِ . قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَتَظَاهَرُ مِنْ أَمَتِهِ إِنَّهُ إِنْ أَرَادَ أَنْ يُصِيبَهَا فَعَلَيْهِ كَفَّارَةُ الظِّهَارِ قَبْلَ أَنْ يَطَأَهَا . قَالَ مَالِكٌ لاَ يَدْخُلُ عَلَى الرَّجُلِ إِيلاَءٌ فِي تَظَاهُرِهِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ مُضَارًّا لاَ يُرِيدُ أَنْ يَفِيءَ مِنْ تَظَاهُرِهِ
عروہ بن زبیر نے کہا جو شخص ایک ہی دفعہ چار عورتوں سے ظہار کرے تو اس پر ایک کفارہ لازم آئے گا ۔ ربیعہ بن عبدالرحمن نے بھی ایسا ہی کہا ۔ کہا مالک نے میرے نزدیک بھی ایسا ہی حکم ہے ۔ کہا مالک نے ظہار کے کفارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم میں سے جو لوگ اپنی عورتوں سے ظہار کرتے ہیں جماع سے پہلے اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا ۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی عورت سے کئی مرتبہ کئی مجلسوں میں ظہار کرے اس پر ایک کفارہ لازم آئے گا البتہ اگر ایک مرتبہ ظہار کر کے کفارہ ادا کر دیا پھر دوبارہ ظہار کیا تو پھر کفارہ لازم آئے گا کہا مالک نے اگر کسی شخص نے ظہار کیا پھر کفارہ سے پہلے عورت سے جماع کیا تو اس پر ایک ہی کفارہ لازم آئے گا اب جب تک کفارہ نہ دے عورت سے علیحدہ رہے اور اللہ سے استغفار کرے ۔ کہا مالک نے یہ میں نے اچھا سنا۔ کہا مالک نے ظہار میں محرم رضاعی یا محرم نسبی سے تشبیہ دینا دونوں برابر ہیں ۔ کہا مالک نے عورتوں پر ظہار کا کفارہ نہیں ہے ۔ کہا مالک نے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا فرمایا ہے جو لوگ اپنی عورتوں سے ظہار کرتے ہیں پھر لوٹ کر دہی بارت کرتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ظہار کے بعد پھر عورت کو رکھنا اور اس سے صحبت کرنا چاہتے ہیں تو ان پر اللہ تعالیٰ نے کفارہ واجب کیا اور جو ظہار کے بعد عورت کو طلاق دے دے اور نہ رکھے تو کچھ کفارہ نہیں اگر طلاق کے بعد پھر اس سے نکاح کرے تو صحبت نہ کرے جب تک ظہار کا کفارہ نہ دے ۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی لونڈی سے ظہار کرے پھر اس سے صحبت کرنا چاہے تو درست نہیں جب تک کفارہ نہ دے۔ کہا مالک نے ظہار سے ایلاء نہیں ہوتا البتہ جب ظہار سے یہ نیت ہو کہ کفارہ نہ دیں گے اور عورت کو ضرر پہنچائیں گے تو ایلاء ہو جائے گا ۔
۲۷
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۷۶
وعن صفوان بن سليمان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من عال يتيم نفسه أو غيره وقام على أمره فإن اجتنب الظلم كان هكذا معي في الجنة». قال وأظهر إصبعيه السبابة والوسطى. ولمالك وثيقة أخرى في هذا الموضوع في مسلم: وله وثيقة أخرى في مسلم: مسلم، الزهد، 53/2، رقم:42 وانظر أيضاً. البخاري، أديب
صفوان بن سلیمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی یتیم کی خود یا کسی اور کی پرورش کی اور اس کے حکم پر عمل کیا اور ظلم سے اجتناب کیا تو وہ جنت میں میرے ساتھ ایسا ہی ہوگا۔ اس نے کہا اور اپنی شہادت اور درمیانی انگلیاں دکھائیں۔ مالک کے پاس اس موضوع پر ایک اور دستاویز مسلم میں ہے: اور ان کے پاس مسلم میں ایک اور دستاویز ہے: مسلم، الزھد، 53/2، نمبر: 42، اور یہ بھی دیکھیں۔ البخاری، مصنف
۲۸
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۷۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلاً، يَسْأَلُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ رَجُلٍ، قَالَ لاِمْرَأَتِهِ كُلُّ امْرَأَةٍ أَنْكِحُهَا عَلَيْكِ مَا عِشْتِ فَهِيَ عَلَىَّ كَظَهْرِ أُمِّي . فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُجْزِئُهُ عَنْ ذَلِكَ عِتْقُ رَقَبَةٍ .
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عروہ بن زبیر سے پوچھا اگر کوئی شخص اپنی عورت سے کہے جب تک تو زندہ ہے اگر میں دوسری بیوی سے نکاح کروں تو وہ میرے اوپر ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ عروہ نے جواب دیا کہ اس شخص کو ایک غلام آزاد کرنا کافی ہے ۔
۲۹
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۷۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ ظِهَارِ الْعَبْدِ، فَقَالَ نَحْوُ ظِهَارِ الْحُرِّ . قَالَ مَالِكٌ يُرِيدُ أَنَّهُ يَقَعُ عَلَيْهِ كَمَا يَقَعُ عَلَى الْحُرِّ . قَالَ مَالِكٌ وَظِهَارُ الْعَبْدِ عَلَيْهِ وَاجِبٌ وَصِيَامُ الْعَبْدِ فِي الظِّهَارِ شَهْرَانِ . قَالَ مَالِكٌ فِي الْعَبْدِ يَتَظَاهَرُ مِنِ امْرَأَتِهِ إِنَّهُ لاَ يَدْخُلُ عَلَيْهِ إِيلاَءٌ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَوْ ذَهَبَ يَصُومُ صِيَامَ كَفَّارَةِ الْمُتَظَاهِرِ دَخَلَ عَلَيْهِ طَلاَقُ الإِيلاَءِ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صِيَامِهِ .
مالک نے ابن شہاب سے پوچھا ظہار کے غلام کا حال تو انہوں نے کہا آزاد کی طرح ہے ۔ کہا مالک نے مطلب یہ ہے کہ غلام پر بھی کفارہ لازم آتا ہے جیسے آزد پر ۔ کہا مالک نے غلام بھی ظہار میں دو مہینے کے روزے رکھے ۔ کہا مالک نے ظہار کے غلام میں ایلاء شریک نہ ہوگا کیونکہ غلام جب دو مہینے کے روزے رکھے گا ایلاء کی طلاق پہلے ہی پڑ جائے گی۔
۳۰
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۷۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ سُنَنٍ فَكَانَتْ إِحْدَى السُّنَنِ الثَّلاَثِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " . وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ " . فَقَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنْ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ وَأَنْتَ لاَ تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ بریرہ کے سبب سے شرع کی تین باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ بریرہ جب آزاد ہوئی اس کو اختیار ہوا اگر چاہے اپنے خاوند کو چھوڑ دے دوسرا یہ کہ بریرہ جب آزاد ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولا اس کو ملے گی جو آزاد کرے تیسرا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بریرہ کے پاس تشریف لائے گوشت کی ہانڈی چڑھی ہوئی تھی بریرہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سالن پیش کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ہانڈی چڑھی ہوئی ہے گوشت کی لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ گوشت صدقہ کا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بریرہ پر صدقہ ہے اور ہمارے واسطے ہدیہ ہے بریرہ کی طرف سے ۔
۳۱
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۸۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الأَمَةِ تَكُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَتَعْتِقُ إِنَّ الأَمَةَ لَهَا الْخِيَارُ مَا لَمْ يَمَسَّهَا . قَالَ مَالِكٌ وَإِنْ مَسَّهَا زَوْجُهَا فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَهِلَتْ أَنَّ لَهَا الْخِيَارَ فَإِنَّهَا تُتَّهَمُ وَلاَ تُصَدَّقُ بِمَا ادَّعَتْ مِنَ الْجَهَالَةِ وَلاَ خِيَارَ لَهَا بَعْدَ أَنْ يَمَسَّهَا .
عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ لونڈی اگر غلام کے نکاح میں ہو پھر آزاد ہو جائے تو اس کو اختیار ہوگا آزادی کے بعد جب تک اس کا شوہر اس اس سے جماع نہ کرے ۔ کہا مالک نے اگر خاوند نے آزادی کے بعد اس سے جماع کیا اور لونڈی نے یہ کہا کہ مجھ کو یہ اختیار کا مسئلہ معلوم نہیں تھا تو عذر اس کا مسموع نہ ہوگا اور اس کو اختیار نہ رہے گا۔
۳۲
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۸۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَوْلاَةً، لِبَنِي عَدِيٍّ يُقَالُ لَهَا زَبْرَاءُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ وَهِيَ أَمَةٌ يَوْمَئِذٍ فَعَتَقَتْ قَالَتْ فَأَرْسَلَتْ إِلَىَّ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَعَتْنِي فَقَالَتْ إِنِّي مُخْبِرَتُكِ خَبَرًا وَلاَ أُحِبُّ أَنْ تَصْنَعِي شَيْئًا إِنَّ أَمْرَكِ بِيَدِكِ مَا لَمْ يَمْسَسْكِ زَوْجُكِ فَإِنْ مَسَّكِ فَلَيْسَ لَكِ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ . قَالَتْ فَقُلْتُ هُوَ الطَّلاَقُ ثُمَّ الطَّلاَقُ ثُمَّ الطَّلاَقُ . فَفَارَقَتْهُ ثَلاَثًا .
انہوں نے مجھ سے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، عروہ بن الزبیر کی سند سے بیان کیا کہ بنو عدی کے ایک خادم نے جس کا نام زبرہ تھا، نے انہیں خبر دی کہ وہ ایک غلام کے ماتحت تھی اور وہ اس وقت ایک لونڈی تھی، اس لیے اسے آزاد کر دیا گیا۔ اس نے کہا: چنانچہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو بلایا، انہوں نے مجھے بلایا اور کہا کہ میں آپ کو اطلاع دوں گی۔ یہ خبر ہے، اور میں آپ کا کچھ کرنا پسند نہیں کرتا۔ آپ کا معاملہ آپ کے ہاتھ میں ہے جب تک آپ کا شوہر آپ کو ہاتھ نہیں لگاتا۔ اگر وہ آپ کو چھوتا ہے تو آپ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس نے کہا تو میں نے کہا۔ یہ طلاق ہے، پھر طلاق، پھر طلاق۔ چنانچہ وہ تین بار اس سے جدا ہوگئیں۔
۳۳
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۸۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَبِهِ جُنُونٌ أَوْ ضَرَرٌ فَإِنَّهَا تُخَيَّرُ فَإِنْ شَاءَتْ قَرَّتْ وَإِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْ . قَالَ مَالِكٌ فِي الأَمَةِ تَكُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ ثُمَّ تَعْتِقُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَوْ يَمَسَّهَا إِنَّهَا إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَلاَ صَدَاقَ لَهَا وَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ بنی عدی کی لونڈی جس کا نام زبرا تھا ایک غلام کے نکاح میں تھی وہ آزاد ہوگئی حضرت حفصہ نے اس کو بلایا اور کہا میں تجھ سے ایک بات کہتی ہوں مگر یہ نہیں چاہتی کہ تو کچھ کر بیٹھے تجھے اختیار ہے جب تک تیرا خاوند تجھ سے جماع نہ کرے اگر جماع کرے گا پھر تجھے اختیار نہ رہے گا زبرا بول اٹھی اگر ایسا ہی ہے تو طلاق ہے طلاق ہے پھر طلاق ہے جدا ہوگئی اپنے خاوند سے تین بار کہہ کر ۔ امام مالک کو پہنچا کہ سعید بن مسیب نے کہا جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور خاوند کو جنون یا اور کوئی مرض نکلے تو عورت کو اختیار ہے خواہ مرد کے پاس رہے یا جدا ہو جائے ۔ کہا مالک نے جو لونڈی غلام کے نکاح میں آئے پھر آزاد ہو جائے صحبت سے پہلے اور خاوند سے جداہونا اختیار کرے تو اس کو مہر نہ ملے گا ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
۳۴
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۸۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ إِذَا خَيَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَاخْتَارَتْهُ فَلَيْسَ ذَلِكَ بِطَلاَقٍ . قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ . قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُخَيَّرَةِ إِذَا خَيَّرَهَا زَوْجُهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَقَدْ طَلُقَتْ ثَلاَثًا وَإِنْ قَالَ زَوْجُهَا لَمْ أُخَيِّرْكِ إِلاَّ وَاحِدَةً فَلَيْسَ لَهُ ذَلِكَ . وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُهُ . قَالَ مَالِكٌ وَإِنْ خَيَّرَهَا فَقَالَتْ قَدْ قَبِلْتُ وَاحِدَةً وَقَالَ لَمْ أُرِدْ هَذَا وَإِنَّمَا خَيَّرْتُكِ فِي الثَّلاَثِ جَمِيعًا أَنَّهَا إِنْ لَمْ تَقْبَلْ إِلاَّ وَاحِدَةً أَقَامَتْ عِنْدَهُ عَلَى نِكَاحِهَا وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ فِرَاقًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى .
کہا مالک نے ابن شہاب کہتے تھے جب مرد اپنی عورت کو طلاق دے اور عورت خاوند کو اختیار کرے تو طلاق نہ پڑے گی ۔ کہا مالک نے میں نے یہ اچھا سنا۔ کہا مالک نے جب مرد عورت کو اختیار دے اور عورت اپنی تئیں اختیار کرے تو تین طلاق پڑ جائیں گی اگر خاوند کہے میں نے ایک طلاق کا اختیار دیا تھا تو یہ نہ سنا جائے گا۔ کہا مالک نے اگر خاوند نے بی بی کو طلاق کا اختیار دیا عورت نے کہا میں نے ایک طلاق قبول کی خاوند نے کہا میری غرض یہ نہ تھی میں نے تجھے تین طلاق کا اختیار دیا تھا مگر عورت ایک ہی طلاق کو قبول کرے زیادہ نہ لے تو وہ خاوند سے جدا نہ ہوگی ۔
۳۵
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۸۴
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ فِي الْغَلَسِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ هَذِهِ " . فَقَالَتْ أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " مَا شَأْنُكِ " . قَالَتْ لاَ أَنَا وَلاَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ . لِزَوْجِهَا فَلَمَّا جَاءَ زَوْجُهَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ " . فَقَالَتْ حَبِيبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ " خُذْ مِنْهَا " . فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ فِي بَيْتِ أَهْلِهَا .
حبیبہ بنت سہل ثابت بن قیس کے نکاح میں تھیں ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں فجر کی نماز کو نکلے حبیبہ کو دروازے پر پایا پوچھا کون بولی میں حبیبیہ بنت سہل ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں کیا ہے بولی یا میں نہیں یا ثابت بن قیس نہیں جب ثابت بن قیس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا اس حبیبہ بنت سہل نے مجھ سے کہا جو کچھ اللہ کو منظور تھا حبیبہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثابت نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ میرے پاس موجود ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت سے فرمایا تم اپنی چیز لے لو انہوں نے لے لی اور حبیبہ اپنے میکے میں بیٹھی رہیں ۔،
۳۶
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۸۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ مَوْلاَةٍ، لِصَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ . أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا بِكُلِّ شَىْءٍ لَهَا فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ . قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُفْتَدِيَةِ الَّتِي تَفْتَدِي مِنْ زَوْجِهَا أَنَّهُ إِذَا عُلِمَ أَنَّ زَوْجَهَا أَضَرَّ بِهَا وَضَيَّقَ عَلَيْهَا وَعُلِمَ أَنَّهُ ظَالِمٌ لَهَا مَضَى الطَّلاَقُ وَرَدَّ عَلَيْهَا مَالَهَا . قَالَ فَهَذَا الَّذِي كُنْتُ أَسْمَعُ وَالَّذِي عَلَيْهِ أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَنَا . قَالَ مَالِكٌ لاَ بَأْسَ بِأَنْ تَفْتَدِيَ الْمَرْأَةُ مِنْ زَوْجِهَا بِأَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهَا .
صفیہ بنت ابوعبید کی لونڈی نے اپنے خاوند سے سارے مال کے بدلے میں خلع کیا تو عبداللہ بن عمر نے اس کو برا نہ جانا ۔ کہا مالک نے جو عورت مال دے کر اپنا پیچھا چھڑائے پھر معلوم ہو کہ خاوند نے سرا سر ظلم کیا تھا اور عورت کا کچھ قصور نہ تھا بلکہ خاوند نے زور ڈال کر زبردستی سے اس کا پیسہ مار لیا تو عورت پر طلاق پڑ جائے گی ۔ اور مالک اس کا پھر وادیا جائے گا میں نے یہی سنا اور میرے نزدیک یہی حکم ہے اگر عورت جتنا خاوند نے اس کو دیا ہے اس سے زیادہ دے کر اپنا پیچھا چھڑائے تو کچھ قباحت نہیں ۔
۳۷
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۸۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رُبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، جَاءَتْ هِيَ وَعَمُّهَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا فِي زَمَانِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَلَمْ يُنْكِرْهُ . وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عِدَّتُهَا عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ .
نافع سے روایت ہے کہ ربیع بنت معوذ بن عفرا اور ان کی پھوبھی عبداللہ بن عمر کے پاس آئیں اور بیان کیا کہ انہوں نے اپنے خاوند سے خلع کیا تھا حضرت عثمان کے زمانے میں جب یہ خبر حضرت عثمان کو پہنچی انہوں نے برا نہ جانا عبداللہ بن عمر نے کہا جو عورت خلع کرے اس کی عدت مطلقہ کی عدت کی طرح ہے ۔ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار اور ابن شہاب کہتے تھے جو عورت خلع کرے وہ تین طہر تک عدت کرے جیسے مطلقہ عدت کرتی ہے ۔ کہا مالک نے جو عورت مال دے کر اپنا پیچھا چھڑائے تو پھر اپنے خاوند سے مل نہیں سکتی مگر نیا نکاح کر کے۔ کہا مالک نے یہ میں نے اچھا سنا۔
۳۸
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۸۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، وَابْنَ، شِهَابٍ كَانُوا يَقُولُونَ عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ مِثْلُ عِدَّةِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلاَثَةُ قُرُوءٍ . قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُفْتَدِيَةِ إِنَّهَا لاَ تَرْجِعُ إِلَى زَوْجِهَا إِلاَّ بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ فَإِنْ هُوَ نَكَحَهَا فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهَا عِدَّةٌ مِنَ الطَّلاَقِ الآخَرِ وَتَبْنِي عَلَى عِدَّتِهَا الأُولَى . قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ إِذَا افْتَدَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ زَوْجِهَا بِشَىْءٍ عَلَى أَنْ يُطَلِّقَهَا فَطَلَّقَهَا طَلاَقًا مُتَتَابِعًا نَسَقًا فَذَلِكَ ثَابِتٌ عَلَيْهِ فَإِنْ كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ صُمَاتٌ فَمَا أَتْبَعَهُ بَعْدَ الصُّمَاتِ فَلَيْسَ بِشَىْءٍ .
انہوں نے مالک کی سند سے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے سنا ہے کہ سعید بن المسیب، سلیمان بن یسار اور ابن شہاب کہتے تھے کہ طلاق دینے والی جماعت ایسی ہے جیسے طلاق دینے والی عورت کی عدت تین بار ہے۔ مالک نے فدیہ لینے والی عورت کے بارے میں کہا کہ وہ اپنے شوہر کے پاس واپس نہ جائے سوائے نئی شادی کے، اور اگر وہ اس نے اس سے شادی کی اور اسے چھونے سے پہلے ہی اس سے الگ ہوگیا۔ اس کے پاس دوسری طلاق سے اس کی عدت نہیں تھی، اور اس نے اس کی پہلی عدت کی بنیاد رکھی۔ ملک نے کہا، اور یہ سب سے اچھی بات ہے جو میں نے اس کے بارے میں سنی ہے۔ مالک نے کہا: اگر کوئی عورت اپنے شوہر سے اس شرط پر کچھ فدیہ لے کہ وہ اسے طلاق دے تو وہ اسے یکے بعد دیگرے طلاق دیتا ہے۔ یہ ایک پیٹرن کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، لہذا اگر اس کے درمیان خاموشی ہے، تو جو کچھ بھی خاموشیوں کے بعد آتا ہے وہ کچھ بھی نہیں ہے.
۳۹
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۸۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلاَنِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا . فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لاَ أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا . فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسْطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا " . قَالَ سَهْلٌ فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلاَعُنِهِمَا قَالَ عُوَيْمِرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا . فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ . وَقَالَ مَالِكٌ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَتْ تِلْكَ بَعْدُ سُنَّةَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ .
سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ عویمر عجلانی عاصم بن عدی کے پاس آئے اور پوچھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو پائے پھر کیا کرے اگر اس کو مار ڈالے تو خود بھی مارا جاتا ہے تم میرے واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلے کو پوچھو عاصم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلے کو پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو نا پسند کیا اور برا کہا عاصم کو یہ امر نہایت دشوار گزرا وہ جب لوٹ کر اپنے گھر میں آئے عویمر نے آ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا عاصم نے کہا تم سے مجھے بھلائی نہ پہنچی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو برا جانا عویمر نے کہا قسم اللہ کی میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پوچھے نہ رہوں گا پھر عویمر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے لوگ جمع تھے انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی بیگانے مرد کو اپنی بی بی کے ساتھ پائے اور اس کو مار ڈالے تو خود مارا جاتا ہے پھر کیا کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے اور تمہاری بی بی کے حق میں اللہ کا حکم اترا ہے تم اپنی بی بی کو لے آؤ سہل کہتے ہیں دونوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لعان کیا اور میں اس وقت موجود تھا جب لعان سے فارغ ہوئے عویمر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں اس عورت کو رکھوں تو گویا میں نے جھوٹ بولا یہ کہہ کر تین طلاق دے دیں بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہے ہوئے ابن شہاب نے کہا پھر یہی متلاعنین کا طریقہ جاری رہا ۔
۴۰
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۸۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، لاَعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَانْتَفَلَ مِنْ وَلَدِهَا فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لعان کیا اور اس کے لڑکے کو یہ کہا کہ میرا نہیں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں تفریق کر دی اور لڑکے کو ماں کے حوالے کر دیا ۔ کہا مالک نے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور جو لوگ تہمت لگاتے ہیں اپنی جوروؤں کو اور کوئی گواہ نہ ہو ان کے پاس سوائے ان کے خود کے تو اس صورت میں کسی کی گواہی یہ ہے کہ چار دفعہ گواہی دے اللہ کے نام کی کہ بے شک عورت سچی ہے اور پانچویں دفعہ یہ کہے کہ اللہ کی پھٹکار ہو اس شخص پر اگر وہ جھوٹا ہو اور عورت بھی گواہی دے چار دفعہ گواہی اللہ کے نام کی کہ بے شک وہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں دفعہ یہ کہے کہ اللہ کا غضب آئے اس عورت پر اگر وہ شخص سچا ہو۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک سنت یہ ہے کہ متلاعنین پھر کبھی آپس میں نکاح نہیں کر سکتے اور اگر خاوند عبد لعان کے اپنے آپ کو جھٹلا دے تو اس کے تئیں حد قذف پڑے گی۔ اور لڑکے کا نسب پھر اس سے ملا دیا جائے گا یہی سنت ہمارے ہاں چلی آتی ہے جس میں نہ کوئی شک ہے نہ اختلاف۔ کہا مالک نے جب مرد اپنی عورت کو طلاق بائن دے پھر اس کے حمل کو کہے کہ میرا نہیں ہے تو لعان واجب ہوگا۔ جس حالت میں وہ حمل اتنے دنوں کا ہو کہ اس کا ہو سکتا ہو ہمارے نزدیک یہی حکم ہے اور ہم نے ایسا ہی سنا۔ کہا مالک نے جس شخص نے اپنی عورت کو تین طلاق دیں اور اس کو حمل کا اقرار تھا اس کے بعد اس کو زنا کی تہمت لگائی تو خاوند پر حد قذف پڑے گا اور لعان اس پر واجب نہ ہوگا البتہ اگر طلاق کے بعد اس کے حمل کا انکار کرے تو لعان واجب ہے میں نے ایسا ہی کیا۔ کہا مالک نے غلام بھی لعان اور قذف دونوں میں آزاد شخص کی طرح ہے مگر جو شخص لونڈی کو زنا کی تہمت لگائے تو اس پر حد قذف لازم نہ ہوگی۔ کہا مالک نے جب مسلمان مرد کسی مسلمان لونڈی یا آزاد عورت یا یہودی یا نصرانی عورت سے نکاح کرے اور اس کو زنا کی تہمت لگائے تو لعان واجب ہوگا۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی عورت سے لعان کرے پھر ایک یا دو گواہیوں کے بعد اپنے آپ کو جھٹلائے تو حد قذف لگائی جائے گی اور تفریق نہ ہوگی۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی عورت کو طلاق دے پھر تین مہینے کے بعد عورت کہے میں حاملہ ہوں اور خاوند اس کے حمل کا انکار کرے تو لعان واجب ہوگا۔ کہا مالک نے جس لونڈی سے اس کا خاوند لعان کرے پھر اس کو خریدے تو اس سے وطی نہ کرے کیونکہ سنت جاری ہے کہ متلاعنین کبھی جمع نہیں ہوتے ۔ کہا مالک نے اگر خاوند اپنی عورت سے لعان کرے صحبت سے پہلے تو عورت کو آدھا مہر ملے گا۔
۴۱
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۹۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، كَانَ يَقُولُ فِي وَلَدِ الْمُلاَعَنَةِ وَوَلَدِ الزِّنَا أَنَّهُ إِذَا مَاتَ وَرِثَتْهُ أُمُّهُ حَقَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَإِخْوَتُهُ لأُمِّهِ حُقُوقَهُمْ وَيَرِثُ الْبَقِيَّةَ مَوَالِي أُمِّهِ إِنْ كَانَتْ مَوْلاَةً وَإِنْ كَانَتْ عَرَبِيَّةً وَرِثَتْ حَقَّهَا وَوَرِثَ إِخْوَتُهُ لأُمِّهِ حُقُوقَهُمْ وَكَانَ مَا بَقِيَ لِلْمُسْلِمِينَ . قَالَ مَالِكٌ وَبَلَغَنِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، مِثْلُ ذَلِكَ . وَعَلَى ذَلِكَ أَدْرَكْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا
امام مالک نے کہا کہ عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ ملاعنہ کا بچہ اور ولد زنا جب مر جائے تو ماں اس کی وارث ہوں گی اور جو کچھ بچے گا وہ اس کی ماں کے مولیٰ کو ملے گا اگر ماں اس کی آزاد کی ہوئی لونڈی ہو اور جو آزاد ہو تو ماں اور بھائیوں کے حصے دینے کے بعد جو کچھ بچے گا وہ بیت المال میں داخل ہوگا ۔
۴۲
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۹۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلاَنِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا . فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لاَ أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا . فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسْطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا " . قَالَ سَهْلٌ فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلاَعُنِهِمَا قَالَ عُوَيْمِرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا . فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ . وَقَالَ مَالِكٌ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَتْ تِلْكَ بَعْدُ سُنَّةَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ .
" قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا " . قَالَ سَهْلٌ فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلاَعُنِهِمَا قَالَ عُوَيْمِرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا . فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ . وَقَالَ مَالِكٌ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَتْ تِلْكَ بَعْدُ سُنَّةَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ .
مجھے یحییٰ نے مالک کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے بیان کیا کہ سہل بن سعد السعدی نے انہیں خبر دی کہ عویمیر العجلانی عاصم بن عدی الانصاری کے پاس آئے اور ان سے کہا: اے عاصم کیا تم نے ایک آدمی کو دیکھا ہے جس نے ایک آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ پایا؟ کیا وہ اسے قتل کرے اور تم اسے قتل کرو، یا وہ کیسے کرے گا؟ مجھ سے پوچھو اے عاصم۔ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے۔ عاصم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مسائل کو ناپسند کیا اور اسے جھڑکایا یہاں تک کہ وہ تکبر کرنے لگے۔ عاصم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا۔ جب عاصم اپنے گھر والوں کے پاس واپس آیا تو عویمر اس کے پاس آیا اور کہا اے عاصم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کیا فرمایا؟ عاصم نے عویمیر سے کہا کہ تم میرے لیے کوئی اچھی چیز نہیں لائے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو ناپسند کیا جو میں نے آپ سے پوچھا تھا۔ عویمر نے کہا: خدا کی قسم میں اس وقت تک بات ختم نہیں کروں گا جب تک اس سے اس کے بارے میں نہ پوچھوں۔ چنانچہ عویمر نے یہ سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اس نے لوگوں کو سلام کیا اور کہا: یا رسول اللہ کیا آپ نے کسی ایسے آدمی کو دیکھا ہے جس نے ایک مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ پایا؟ کیا وہ اسے قتل کرے اور تم اسے قتل کرو یا وہ کیسے کرے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اور تمہارے ساتھی کے بارے میں نازل ہوا ہے، تو جاؤ اور اسے لے آؤ۔ سہل نے کہا کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں لوگوں کے ساتھ تھا تو ہمیں پیار ہو گیا۔ خدا، خدا کی دعا اور سلامتی ہو، اور جب وہ لعنت بھیج چکے تو عویمر نے کہا، "میں نے اس سے جھوٹ بولا، یا رسول اللہ، اگر میں اسے پکڑوں. چنانچہ اس نے اس سے پہلے اسے تین طلاقیں دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حکم دیتے ہیں۔ مالک نے کہا، ابن شہاب نے کہا: یہ متلّمین کی سنت کے بعد ہے۔
۴۳
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۹۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ، أَنَّهُ قَالَ طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَنْكِحَهَا فَجَاءَ يَسْتَفْتِي فَذَهَبْتُ مَعَهُ أَسْأَلُ لَهُ فَسَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالاَ لاَ نَرَى أَنْ تَنْكِحَهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ . قَالَ فَإِنَّمَا طَلاَقِي إِيَّاهَا وَاحِدَةٌ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّكَ أَرْسَلْتَ مِنْ يَدِكَ مَا كَانَ لَكَ مِنْ فَضْلٍ .
محمد بن ایاس بن بکیر نے کہا ایک شخص نے اپنی بی بی کو تین طلاق دیں وطی سے پہلے پھر اس سے نکاح کرنا چاہا پھر مسئلہ پوچھنے گیا میں بھی اس کے ساتھ گیا اس نے عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پوچھا دونوں نے کہا کہ تجھ کو اس عورت سے نکاح کرنا درست نہیں جب تک وہ عورت دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے وہ شخص بولا میری ایک طلاق سے وہ عورت بائن ہوگئی ابن عباس نے کہا تو نے اپنے ہاتھ سے خود اختیار کھو دیا ۔
۴۴
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۹۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا قَالَ عَطَاءٌ فَقُلْتُ إِنَّمَا طَلاَقُ الْبِكْرِ وَاحِدَةٌ . فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ إِنَّمَا أَنْتَ قَاصٌّ الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلاَثَةُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ .
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص عبداللہ بن عمرو کے پاس آیا پوچھنے لگا جو شخص اپنی عورت کو تین طلاق دے جماع سے پہلے اس کا کیا حکم ہے عطا نے کہا کہ باکرہ پر ایک طلاق پڑتی ہے عبداللہ بن عمرو نے کہا تو قصہ خوان ہے ایک طلاق سے بائن ہو جاتی ہے اور تین طلاق سے حرام ہو جاتی ہے یہاں تک کہ دوسرے شخص سے نکاح کرے ۔
۴۵
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۹۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ فَجَاءَهُمَا مُحَمَّدُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ فَقَالَ إِنَّ رَجُلاً مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَمَاذَا تَرَيَانِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ إِنَّ هَذَا الأَمْرَ مَا لَنَا فِيهِ قَوْلٌ فَاذْهَبْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فَإِنِّي تَرَكْتُهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ فَسَلْهُمَا ثُمَّ ائْتِنَا فَأَخْبِرْنَا . فَذَهَبَ فَسَأَلَهُمَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لأَبِي هُرَيْرَةَ أَفْتِهِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَدْ جَاءَتْكَ مُعْضِلَةٌ . فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلاَثَةُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ وَعَلَى ذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا وَالثَّيِّبُ إِذَا مَلَكَهَا الرَّجُلُ فَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا إِنَّهَا تَجْرِي مَجْرَى الْبِكْرِ الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلاَثُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ .
معاویہ بن ابوعیاش عبداللہ بن زیبر اور عاصم بن عمر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں محمد بن ایاس بن بکیر آئے اور کہا کہ ایک بدوی شخص نے اپنی عورت کو تین طلاق دیں صحبت سے پہلے تو تمہاری کیا رائے ہے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس مسئلے میں ہمیں کچھ معلوم نہیں عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ کے پاس جاؤ میں ان دونوں کو حضرت عائشہ کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں اور جو وہ کہیں اس سے مجھے بھی خبر کرنا محمد بن ایاس وہاں گئے اور ان سے جا کر پوچھا عبداللہ بن عباس نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا تم بتاؤ کہ ایک مشکل مسئلہ تمہارے پاس آیا ہے ابوہریرہ نے کہا ایک طلاق میں دو صورت بائن ہوگئی اور تین طلاق میں حرام ہوگئی جب تک دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے پھر عبداللہ بن عباس نے بھی ایسا ہی کہا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے اگر ثیبہ عورت کوئی نکاح کرے اور جماع سے پہلے اسے تین طلاق دے دے تو وہ حرام ہو جائے گی یہاں تک کہ دوسرے خاوند سے نکاح کرے ۔
۴۶
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۹۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، - قَالَ وَكَانَ أَعْلَمَهُمْ بِذَلِكَ - وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ وَهُوَ مَرِيضٌ فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ مِنْهُ بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا .
عبدالرحمن بن عوف نے بیماری کی حالت میں اپنی عورت کو تین طلاق دیں حضرت عثمان نے عبدا الرحمن کے ترکے میں سے ان کو حصة دلایا عدت گزرنے کے بعد ۔
۴۷
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۹۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنِ الأَعْرَجِ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَرَّثَ نِسَاءَ ابْنِ مُكْمِلٍ مِنْهُ وَكَانَ طَلَّقَهُنَّ وَهُوَ مَرِيضٌ .
عبدالرحمن بن ہرمز اعرج سے روایت ہے عثمان بن عفان نے ابن مکمل کی عورتوں کو ترکہ دلایا اور وہ بیماری میں طلاق دے کر مر گیا تھا ۔
۴۸
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۹۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ بَلَغَنِي أَنَّ امْرَأَةَ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَأَلَتْهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَقَالَ إِذَا حِضْتِ ثُمَّ طَهُرْتِ فَآذِنِينِي فَلَمْ تَحِضْ حَتَّى مَرِضَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَلَمَّا طَهُرَتْ آذَنَتْهُ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ أَوْ تَطْلِيقَةً لَمْ يَكُنْ بَقِيَ لَهُ عَلَيْهَا مِنَ الطَّلاَقِ غَيْرُهَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَوْمَئِذٍ مَرِيضٌ فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ مِنْهُ بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا .
ربیعہ بن ابوعبدالرحمن کہتے تھے عبدالرحمن بن عوف کی بی بی نے ان سے طلاق مانگی عبدالرحمن نے یہ کہا جب تو حیض سے پاک ہو مجھے خبر کر دینا اس کو حیض ہی نہ آیا یہاں تک کہ عبدالرحمن بیمار ہو گئے اس وقت حیض سے پاک ہوئی اور عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا عبدالرحمن نے اس کو تین طلاق دے دیں یا آخری طلاق دے دی پھر عبدالرحمن مر گئے حضرت عثمان نے ان کی بی بی کو عدت گزر جانے کے باوجود ترکہ دلایا ۔
۴۹
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۹۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، قَالَ كَانَتْ عِنْدَ جَدِّي حَبَّانَ امْرَأَتَانِ هَاشِمِيَّةٌ وَأَنْصَارِيَّةٌ فَطَلَّقَ الأَنْصَارِيَّةَ وَهِيَ تُرْضِعُ فَمَرَّتْ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ هَلَكَ عَنْهَا وَلَمْ تَحِضْ فَقَالَتْ أَنَا أَرِثُهُ لَمْ أَحِضْ فَاخْتَصَمَتَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَضَى لَهَا بِالْمِيرَاثِ فَلاَمَتِ الْهَاشِمِيَّةُ عُثْمَانَ فَقَالَ هَذَا عَمَلُ ابْنِ عَمِّكِ هُوَ أَشَارَ عَلَيْنَا بِهَذَا يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ .
محمد بن یحیی بن حبان سے روایت ہے کہ میرے دادا حبان بن منقذ کے پاس دو بیبیاں تھیں ایک ہاشمی اور ایک انصاری۔ انصاری کو انہوں نے طلاق دی اور وہ ایک برس تک دودھ پلایا کرتی تھیں اس کو حیض نہ آیا اس کے بعد حبان مر گئے وہ بولی میں ترکہ لوں گی کیونکہ مجھے حیض نہیں آیا اور میری عدت نہیں گزری جب حضرت عثمان کے پاس یہ مقدمہ پیش ہوا تو انہوں نے ترکہ دلانے کا حکم کیا ہاشمی عورت حضرت عثمان کو برا کہنے لگی انہوں نے کہا یہ حکم تو تیرے چچا کے بیٹے کا ہے انہوں نے مجھ سے ایسا ہی کہا تھا یعنی حضرت علی کا ۔
۵۰
مؤطا امام مالک # ۲۹/۱۱۹۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا وَهُوَ مَرِيضٌ فَإِنَّهَا تَرِثُهُ . قَالَ مَالِكٌ وَإِنْ طَلَّقَهَا وَهُوَ مَرِيضٌ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَلَهَا نِصْفُ الصَّدَاقِ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَلاَ عِدَّةَ عَلَيْهَا وَإِنْ دَخَلَ بِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا فَلَهَا الْمَهْرُ كُلُّهُ وَالْمِيرَاثُ الْبِكْرُ وَالثَّيِّبُ فِي هَذَا عِنْدَنَا سَوَاءٌ .
انہوں نے مالک کی سند سے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے ابن شہاب کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بیمار ہونے کی حالت میں تین طلاق دے تو وہ اس سے میراث پائے گی۔ ملک نے کہا۔ اگر وہ بیمار ہونے کی حالت میں اسے طلاق دے دے تو اس کے ساتھ مباشرت کرنے سے پہلے اسے آدھا مہر ملے گا، اسے وراثت ملے گی، اور اسے عدت کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ لیکن اگر وہ اس سے نکاح کر لے تو اسے طلاق دے دیتا ہے۔ اسے سارا جہیز اور وراثت، کنواری اور شادی شدہ عورت ملتی ہے، اس معاملے میں ہمارے ہاں بھی ایسا ہی ہے۔