Anger کے بارے میں احادیث
۳۴۲ مستند احادیث ملیں
صحیح مسلم : ۸۱
Sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ سِمَاكٍ أَبِي زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا اعْتَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ - قَالَ - دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا النَّاسُ يَنْكُتُونَ بِالْحَصَى وَيَقُولُونَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُؤْمَرْنَ بِالْحِجَابِ فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ لأَعْلَمَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ مَا لِي وَمَا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ عَلَيْكَ بِعَيْبَتِكَ . قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ فَقُلْتُ لَهَا يَا حَفْصَةُ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُحِبُّكِ . وَلَوْلاَ أَنَا لَطَلَّقَكِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَبَكَتْ أَشَدَّ الْبُكَاءِ فَقُلْتُ لَهَا أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ هُوَ فِي خِزَانَتِهِ فِي الْمَشْرُبَةِ . فَدَخَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبَاحٍ غُلاَمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاعِدًا عَلَى أُسْكُفَّةِ الْمَشْرُبَةِ مُدَلٍّ رِجْلَيْهِ عَلَى نَقِيرٍ مِنْ خَشَبٍ وَهُوَ جِذْعٌ يَرْقَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَيَنْحَدِرُ فَنَادَيْتُ يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِي عِنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَنَظَرَ رَبَاحٌ إِلَى الْغُرْفَةِ ثُمَّ نَظَرَ إِلَىَّ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ قُلْتُ يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِي عِنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَنَظَرَ رَبَاحٌ إِلَى الْغُرْفَةِ ثُمَّ نَظَرَ إِلَىَّ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ رَفَعْتُ صَوْتِي فَقُلْتُ يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِي عِنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ظَنَّ أَنِّي جِئْتُ مِنْ أَجْلِ حَفْصَةَ وَاللَّهِ لَئِنْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِضَرْبِ عُنُقِهَا لأَضْرِبَنَّ عُنُقَهَا . وَرَفَعْتُ صَوْتِي فَأَوْمَأَ إِلَىَّ أَنِ ارْقَهْ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى حَصِيرٍ فَجَلَسْتُ فَأَدْنَى عَلَيْهِ إِزَارَهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ وَإِذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَنَظَرْتُ بِبَصَرِي فِي خِزَانَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا أَنَا بِقَبْضَةٍ مِنْ شَعِيرٍ نَحْوِ الصَّاعِ وَمِثْلِهَا قَرَظًا فِي نَاحِيَةِ الْغُرْفَةِ وَإِذَا أَفِيقٌ مُعَلَّقٌ - قَالَ - فَابْتَدَرَتْ عَيْنَاىَ قَالَ " مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ " . قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَمَا لِي لاَ أَبْكِي وَهَذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِكَ وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ لاَ أَرَى فِيهَا إِلاَّ مَا أَرَى وَذَاكَ قَيْصَرُ وَكِسْرَى فِي الثِّمَارِ وَالأَنْهَارِ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَفْوَتُهُ وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ . فَقَالَ " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ أَلاَ تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَنَا الآخِرَةُ وَلَهُمُ الدُّنْيَا " . قُلْتُ بَلَى - قَالَ - وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ حِينَ دَخَلْتُ وَأَنَا أَرَى فِي وَجْهِهِ الْغَضَبَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَشُقُّ عَلَيْكَ مِنْ شَأْنِ النِّسَاءِ فَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مَعَكَ وَمَلاَئِكَتَهُ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَأَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَالْمُؤْمِنُونَ مَعَكَ وَقَلَّمَا تَكَلَّمْتُ وَأَحْمَدُ اللَّهَ بِكَلاَمٍ إِلاَّ رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ يُصَدِّقُ قَوْلِي الَّذِي أَقُولُ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ آيَةُ التَّخْيِيرِ { عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ} { وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاَهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلاَئِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ} وَكَانَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ وَحَفْصَةُ تَظَاهَرَانِ عَلَى سَائِرِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطَلَّقْتَهُنَّ قَالَ " لاَ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَالْمُسْلِمُونَ يَنْكُتُونَ بِالْحَصَى يَقُولُونَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ أَفَأَنْزِلُ فَأُخْبِرَهُمْ أَنَّكَ لَمْ تُطَلِّقْهُنَّ قَالَ " نَعَمْ إِنْ شِئْتَ " . فَلَمْ أَزَلْ أُحَدِّثُهُ حَتَّى تَحَسَّرَ الْغَضَبُ عَنْ وَجْهِهِ وَحَتَّى كَشَرَ فَضَحِكَ وَكَانَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ثَغْرًا ثُمَّ نَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَزَلْتُ فَنَزَلْتُ أَتَشَبَّثُ بِالْجِذْعِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّمَا يَمْشِي عَلَى الأَرْضِ مَا يَمَسُّهُ بِيَدِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا كُنْتَ فِي الْغُرْفَةِ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ . قَالَ " إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ " . فقُمْتُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَنَادَيْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي لَمْ يُطَلِّقْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ . وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ} فَكُنْتُ أَنَا اسْتَنْبَطْتُ ذَلِكَ الأَمْرَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّخْيِيرِ .
سماک ابوزمیل سے روایت ہے ، ( انہوں نے کہا : ) مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار فرمائی ، کہا : میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگوں کو دیکھا وہ ( پریشانی اور تفکر میں ) کنکریاں زمین پر مار رہے ہیں ، اور کہہ رہے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ، یہ واقعہ انہیں پردے کا حکم دیے جانے سے پہلے کا ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : آج میں اس معاملے کو جان کر رہوں گا ۔ انہوں نے کہا : میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ، اور کہا : ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی! تم اس حد تک پہنچ چکی ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دو؟ انہوں نے جواب دیا : خطاب کے بیٹے! آپ کا مجھ سے کیا واسطہ؟ آپ اپنی گھٹڑی ( یا تھیلا وغیرہ جس میں قیمتی ساز و سامان سنبھال کر رکھا جاتا ہے یعنی اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا ) کی فکر کریں ۔ انہوں نے کہا : پھر میں ( اپنی بیٹی ) حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا : حفصہ! کیا تم اس حد تک پہنچ گئی ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دو؟ اللہ کی قسم! تمہیں خوب معلوم ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے محبت نہیں رکھتے ۔ اگر میں نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیتے ۔ ( میری یہ بات سن کر ) وہ بری طرح سے رونے لگیں ۔ میں نے ان سے پوچھا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : وہ اپنے بالا خانے پر سامان رکھنے والی جگہ میں ہیں ۔ میں وہاں گیا تو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام رَباح چوبارے کی چوکھٹ کے نیچے والی لکڑی پر بیٹھا ہے ۔ اس نے اپنے دونوں پاؤں لکڑی کی سوراخ دار سیڑھی پر لٹکا رکھے ہیں ۔ وہ کھجور کا ایک تنا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ( قدم رکھ کر ) چڑھتے اور اترتے تھے ۔ میں نے آواز دی ، رباح! مجھے اپنے پاس ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، حاضر ہونے کی اجازت لے دو ۔ رباح رضی اللہ عنہ نے بالا خانے کی طرف نظر کی ، پھر مجھے دیکھا اور کچھ نہ کہا ۔ میں نے پھر کہا : رباح! مجھے اپنے پاس ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، حاضر ہونے کی اجازت لے دو ، رباح رضی اللہ عنہ نے ( دوبارہ ) بالا خانے کی طرف نگاہ اٹھائی ، پھر مجھے دیکھا ، اور کچھ نہ کہا ، پھر میں نے اپنی آواز کو بلند کی اور کہا : اے رباح! مجھے اپنے پاس ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، حاضر ہونے کی اجازت لے دو ، میرا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا ہے کہ میں حفصہ رضی اللہ عنہا کی ( سفارش کرنے کی ) خاطر آیا ہوں ، اللہ کی قسم! اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کی گردن اڑانے کا حکم دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا ، اور میں نے اپنی آواز کو ( خوب ) بلند کیا ، تو اس نے مجھے اشارہ کیا کہ اوپر چڑھ آؤ ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے ، میں بیٹھ گیا ، آپ نے اپنا ازار درست کیا اور آپ ( کے جسم ) پر اس کے علاوہ اور کچھ نہ تھا اور چٹائی نے آپ کے جسم پر نشان ڈال دیے تھے ۔ میں نے اپنی آنکھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کے کمرے میں دیکھا تو صرف مٹھی بھر جو ایک صاع کے برابر ہوں گے ، جَو اور کمرے کے ایک کونے میں اتنی ہی کیکر کی چھال دیکھی ۔ اس کے علاوہ ایک غیر دباغت شدہ چمڑا لٹکا ہوا تھا ۔ کہا : تو میری آنکھیں بہ پڑیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " ابن خطاب! تمہیں رُلا کیا چیز رہی ہے؟ " میں نے عرض کی : اللہ کے نبی! میں کیوں نہ روؤں؟ اس چٹائی نے آپ کے جسم اطہر پر نشان ڈال دیے ہیں ، اور یہ آپ کا سامان رکھنے کا کمرہ ہے ، اس میں وہی کچھ ہے جو مجھے نظر آرہا ہے ، اور قیصر و کسری نہروں اور پھلوں کے درمیان ( شاندار زندگی بسر کر رہے ) ہیں ، جبکہ آپ تو اللہ کے رسول اور اس کی چنی ہوئی ہستی ہیں ، اور یہ آپ کا سارا سامان ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابن خطاب! کیا تمہیں پسند نہیں کہ ہمارے لیے آخرت ہو اور ان کے لیے دنیا ہو؟ " میں نے عرض کی : کیوں نہیں! کہا : جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آپکے چہرے پر غصہ دیکھ رہا تھا ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ کو ( اپنی ) بیویوں کی حالت کی بنا پر کیا دشواری ہے؟ اگر آپ نے انہیں طلاق دے دی ہے تو اللہ آپ کے ساتھ ہے ، اس کے فرشتے ، جبرئیل ، میکائیل ، میں ، ابوبکر اور تمام مومن آپ کے ساتھ ہیں ۔ اور میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں نے کم ہی کوئی بات کہی ، مگر میں نے امید کی کہ اللہ میری اس بات کی تصدیق فرما دے گا جو میں کہہ رہا ہوں ۔ ( چنانچہ ایسے ہی ہوا ) اور یہ تخییر کی آیت نازل ہو گئی : " اگر وہ ( نبی ) تم سب ( بیویوں ) کو طلاق دے دیں تو قریب ہے کہ ان کا رب ، انہیں تم سے بہتر بیویاں بدلے میں دے ۔ " اور " اگر تم دونوں ان کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی ، تو اللہ خود ان کا نگہبان ہے ، اور جبریل اور صالح مومن اور اس کے بعد تمام فرشتے ( ان کے ) مددگار ہیں ۔ " عائشہ بنت ابی بکر اور حفصہ رضی اللہ عنہن دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں کے مقابلے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتی تھیں ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ان کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ۔ " میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں مسجد میں داخل ہوا تھا تو لوگ کنکریاں زمین پر مار رہے تھے ، اور کہہ رہے تھے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو چلاق دے دی ہے ۔ کیا میں اتر کر انہیں بتا دوں کہ آپ نے ان ( بیویوں ) کو طلاق نہیں دی؟ آپ نے فرمایا : " ہاں ، اگر چاہو ۔ " میں مسلسل آپ سے گفتگو کرتا رہا یہاں تک کہ آپ کے چہرے سے غصہ دور ہو گیا ، اور یہاں تک کہ آپ کے لب وار ہوئے اور آپ ہنسے ۔ آپ کے سامنے والے دندانِ مبارک سب انسانوں سے زیادہ خوبصورت تھے ۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( بالا خانے سے نیچے ) اترے ۔ میں تنے کو تھامتے ہوئے اترا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے اترے جیسے زمین پر چل رہے ہوں ، آپ نے تنے کو ہاتھ تک نہ لگایا ۔ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ بالا خانے میں 29 دن رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " مہینہ 29 دن کا ہوتا ہے ۔ " چنانچہ میں مسجد کے دروازے پر کھڑا ہوا ، اور بلند آواز سے پکار کر کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی ، اور ( پھر ) یہ آیت نازل ہوئی : " اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو اسے مشہور کر دیتے ہیں ، اور اگر وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور اپنے معاملات سنبھالنے والوں کی طرف لوٹا دیتے ، تو وہ لوگ جو ان میں اس سے اصل مطلب اخذ کرتے ہیں اسے ضرور جان لیتے ۔ " تو میں ہی تھا جس نے اس معاملے کی اصل حقیقت کو اخذ کیا ، اور اللہ تعالیٰ نے تخییر کی آیت نازل فرمائی
صحیح مسلم : ۸۲
Sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لاَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَامْرَأَتِهِ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا .
عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے رسول اﷲ ﷺ نے لعان کروایا درمیان ایک مرد انصاری اور اس کی عورت کے اور جدائی کردی ان دونوں میں ۔
صحیح مسلم : ۸۳
Sahih
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ إِنَّا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَتَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ وَاللَّهِ لأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَتَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ . فَقَالَ " اللَّهُمَّ افْتَحْ " . وَجَعَلَ يَدْعُو فَنَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ { وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُهُمْ} هَذِهِ الآيَاتُ فَابْتُلِيَ بِهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ فَجَاءَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَلاَعَنَا فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ ثُمَّ لَعَنَ الْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ فَذَهَبَتْ لِتَلْعَنَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَهْ " . فَأَبَتْ فَلَعَنَتْ فَلَمَّا أَدْبَرَا قَالَ " لَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا " . فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا.
عبداﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے میں جمعہ کی رات کو مسجد میں تھا اتنے میں ایک مرد انصاری آیا اور بولا اگر کوئی اپنی جورو کے پاس کسی مرد کو پائے او رمنہ سے نکالے تو تم اس کو کوڑے لگاؤ گے ( حد قذف کے ) اگر مار ڈالے تو تم اس کو مار ڈالوگے ( قصاص میں ) اگر چپ رہے تو اپنا غصہ پی کر چپ رہے قسم اﷲ کی میں جناب رسول اﷲ ﷺ سے پوچھوں گا اس مسئلے کو جب دوسرا دن ہوا تو جناب رسول اﷲ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے پوچھا اس نے کہا اگر کوئی شخص اپنی بی بی کے ساتھ کسی کو پائے پھر منہ سے نکالے تو تم کوڑے لگاؤگے اگر مار ڈالے تو تم اس کو بھی مار ڈالوگے اگر چپ رہے تو اپنا غصہ کھا کر چپ رہے ( یہ بھی نہیں ہوسکتا ) جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا اﷲ کھول دے ( اس مشکل کو ) اور دعا کرنے لگے تب لعان کی آیت اتری ۔ والذین یرمون ازواجھم ولم یکن لھم شھداء الا انفسھم ۔ اخیر تک پھر اس مرد کا امتحان لیا گیا لوگوں کے سامنے اور وہ اس کی جورو دونوں رسول اﷲ ﷺ کے پاس آئے اور لعان کیا پہلے مرد نے گواہی دی چار بار کہ وہ سچا ہے پھر پانچویں بار لعنت کرکے کہا اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر لعنت ہے خداتعالیٰ کی پھر عورت چلی لعان کرنے کو آپ نے فرمایا ٹھہر ( اوراگر خاوند کی بات سچ ہے تو تو اپنے قصور کا اقرار کر ) لیکن اس نے نہ مانا اور لعان کیا جب پیٹھ موڑ کر چلے تو آپ نے فرمایا اس عورت کا بچہ شاید کالے رنگ کا گھرنگریالے بالوں والا پیدا ہوگا ( اس شخص کی صورت پر جس کا خاوند کو گمان تھا ) ۔ پھر ویسا ہی کالا گھونگریالے بالوں والا پیدا ہوا ۔
صحیح مسلم : ۸۴
Sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ وَتَذْهَبَ عَنْهُ الآفَةُ قَالَ يَبْدُوَ صَلاَحُهُ حُمْرَتُهُ وَصُفْرَتُهُ .
جریر نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم پھل مت خریدو حتی کہ ان کی صلاحیت ظاہر ہو جائے اور اس سے آفت ( کا امکان ) ختم ہو جائے ۔ "" ( ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : اس کی صلاحیت ( ظاہر ہونے ) سے اس کی سرخی اور زردی مراد ہے
صحیح مسلم : ۸۵
Sahih
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ فَقِيلَ لاِبْنِ عُمَرَ مَا صَلاَحُهُ قَالَ تَذْهَبُ عَاهَتُهُ .
سفیان اور شعبہ دونوں نے عبداللہ بن دینار سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، شعبہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : اس کی صلاحیت سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا : اس سے آفت ( بورگر جانے اور بیماری لگ جانے ) کا وقت ختم ہو جائے
صحیح مسلم : ۸۶
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ كُنْتُ أَضْرِبُ غُلاَمًا لِي بِالسَّوْطِ فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ خَلْفِي " اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ " . فَلَمْ أَفْهَمِ الصَّوْتَ مِنَ الْغَضَبِ - قَالَ - فَلَمَّا دَنَا مِنِّي إِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هُوَ يَقُولُ " اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ " . قَالَ فَأَلْقَيْتُ السَّوْطَ مِنْ يَدِي فَقَالَ " اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ أَنَّ اللَّهَ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَى هَذَا الْغُلاَمِ " . قَالَ فَقُلْتُ لاَ أَضْرِبُ مَمْلُوكًا بَعْدَهُ أَبَدًا .
عبدالواحد بن زیاد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے حدیث سنائی ، انہوں نے اپنے والد ( یزید بن شریک تیمی ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اپنے ایک غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی : " ابو مسعود! جان لو ۔ " میں غصے کی وجہ سے آواز نہ پہچان سکا ، کہا : جب وہ ( کہنے والے ) میرے قریب پہنچے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، آپ فرما رہے تھے : " ابو مسعود! جان لو ، ابو مسعود! جان لو ۔ " کہا : میں نے اپنے ہاتھ سے کوڑا پھینک دیا ، تو آپ نے فرمایا : " ابو مسعود! جان لو ۔ اس غلام پر تمہیں جتنا اختیار ہے اس کی نسبت اللہ تم پر زیادہ اختیار رکھتا ہے ۔ " کہا : تو میں نے کہا : اس کے بعد میں کسی غلام کو کبھی نہیں ماروں گا
صحیح مسلم : ۸۷
Sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ - وَتَقَارَبُوا فِي اللَّفْظِ - قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَيُطِيعُوا فَأَغْضَبُوهُ فِي شَىْءٍ فَقَالَ اجْمَعُوا لِي حَطَبًا . فَجَمَعُوا لَهُ ثُمَّ قَالَ أَوْقِدُوا نَارًا . فَأَوْقَدُوا ثُمَّ قَالَ أَلَمْ يَأْمُرْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَسْمَعُوا لِي وَتُطِيعُوا قَالُوا بَلَى . قَالَ فَادْخُلُوهَا . قَالَ فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالُوا إِنَّمَا فَرَرْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ النَّارِ . فَكَانُوا كَذَلِكَ وَسَكَنَ غَضَبُهُ وَطُفِئَتِ النَّارُ فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ " .
ہمیں محمد بن عبداللہ بن نمیر ، زہیر بن حرب اور ابوسعید اشج نے حدیث بیان کی ، الفاظ سب کے ملتے جلتے ہیں ، ( تینوں نے ) کہا : ہمیں وکیع نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے ، انہوں نے ابو عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور انصار میں سے ایک آدمی کو ان کا امیر بنایا اور لشکر کو یہ حکم دیا کہ وہ اس کے احکام سنیں اور اس کی اطاعت کریں ، ( اتفاق سے ) اہل لشکر نے کسی بات میں امیر کو ناراض کر دیا ، اس نے کہا : میرے لیے لکڑیاں جمع کرو ۔ لشکر نے لکڑیاں جمع کیں ، پھر اس نے کہا : آگ جلاؤ ، انہوں نے آگ جلائی ، پھر کہا : کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا حکم سننے اور ماننے کا حکم نہیں دیا تھا؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، اس نے کہا : آگ میں داخل ہو جاؤ ، انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا : ہم آگ ہی سے بھاگ کر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ۔ وہ اسی موقف پر قائم رہے حتی کہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور آگ بجھا دی گئی ، جب وہ لوٹے تو یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ، آپ نے فرمایا : اگر یہ لوگ اس ( آگ ) میں داخل ہو جاتے تو پھر اس سے باہر نہ نکلتے ، اطاعت صرف معروف ( قابل قبول کاموں ) میں ہے
صحیح مسلم : ۸۸
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَغْنَمٍ يَوْمَ بَدْرٍ وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَارِفًا أُخْرَى فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لأَبِيعَهُ وَمَعِيَ صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ فَأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ مَعَهُ قَيْنَةٌ تُغَنِّيهِ فَقَالَتْ أَلاَ يَا حَمْزَ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا . قُلْتُ لاِبْنِ شِهَابٍ وَمِنَ السَّنَامِ قَالَ قَدْ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ عَلِيٌّ فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ فَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ إِلاَّ عَبِيدٌ لآبَائِي فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ .
حجاج بن محمد نے ابن جریج سے روایت کی ، کہا : مجھے ابن شہاب نے علی بن حسین بن علی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کے مال غنیمت میں سے ایک ( جوان اونٹنی حاصل ہو ئی ۔ ایک اور جوان اونٹنی ( خمس میں سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرما ئی ۔ ایک دن میں نے ان دونوں اونٹنیوں کو ایک انصاری کے دروازے پر بٹھا یا اور میں ان دو نوں پر بیچنے کے لیے اذخر ( کی خوشبو دار گھاس ) لا دکر لا نا چاہتا تھا ۔ ۔ ۔ بنو قینقاع کا سنار بھی میرے ساتھ تھا ۔ ۔ ۔ اور اس ( کی قیمت ) سے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( کے ساتھ اپنی شادی ) کے ولیمے میں مدد لینا چا ہتا تھا ۔ حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس گھر میں ( بیٹھے ) شراب پی رہے تھے ، ان کے قریب ایک گا نے والی عورت گا رہی تھی پھر وہ یہ اشعار گا نے لگی ۔ سنیں حمزہ ! ( اٹھ کر ) فربہ اونٹنیوں کی طرف بڑھیں ( دوسرا مصرع ہے ۔ وَهُنَّ مُعَقَّلَاتٌ بِالْفِنَاءِ "" اور گھر کے آگے کھلی جگہ میں بندھی ہو ئی ہیں ۔ ) "" حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلوار سمیت لپک کر ان کی طرف بڑھے ان کے کوہانوں کو جڑسے کاٹ لیا ان کے پہلو چیردیے پھر ان کے کلیجے نکا ل لیے ۔ میں نے ابن شہاب سے کہا : اور کو ہان بھی ؟ انھوں نے کہا : وہ ( حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ان دونوں کے کو ہان جڑ سے کا ٹ کر لے گئے ۔ ابن شہاب نے کہا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے مجھے دہلا کر رکھ دیا ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ کے پاس مو جو د تھے ۔ آپ زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمرا ہ نکل پڑے ۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلنے لگا ۔ آپ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور غصے کا اظہار فر ما یا ۔ حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنکھ اٹھا ئی اور کہنے لگے : تم میرے آبا واجداد کے غلاموں سے برھ کر کیا ہو ! ( وہ دونوں جناب عبد المطلب کے پو تے تھے اور رشتے کے حوالے سے خدمت گزاری کے مقام پر تھے ۔ حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رشتے میں ان سے ایک پشت اوپر تھے ۔ انھوں نے شراب کی لہر میں اسی بات کو مبا لغہ آمیز فخر و مباہات کے رنگ میں کہہ دیا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں واپس ہو ئے اور ان کی محفل سے نکل آئے ۔
صحیح مسلم : ۸۹
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُلَّةَ سِيَرَاءَ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ - قَالَ - فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي .
زید بن وہب نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی حلہ دیا ، میں اسے پہنکر نکلا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پرغصہ دیکھا ، کہا : پھر میں نے اس کو پھاڑ کر اپنے گھر کی عورتوں میں تقسیم کردیا ۔
صحیح مسلم : ۹۰
Sahih
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ كُنَّا فِي مَجْلِسٍ عِنْدَ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ فَأَتَى أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ مُغْضَبًا حَتَّى وَقَفَ فَقَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الاِسْتِئْذَانُ ثَلاَثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلاَّ فَارْجِعْ " . قَالَ أُبَىٌّ وَمَا ذَاكَ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمْسِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ ثُمَّ جِئْتُهُ الْيَوْمَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي جِئْتُ أَمْسِ فَسَلَّمْتُ ثَلاَثًا ثُمَّ انْصَرَفْتُ قَالَ قَدْ سَمِعْنَاكَ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ عَلَى شُغْلٍ فَلَوْ مَا اسْتَأْذَنْتَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَوَاللَّهِ لأُوجِعَنَّ ظَهْرَكَ وَبَطْنَكَ . أَوْ لَتَأْتِيَنَّ بِمَنْ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا . فَقَالَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ فَوَاللَّهِ لاَ يَقُومُ مَعَكَ إِلاَّ أَحْدَثُنَا سِنًّا قُمْ يَا أَبَا سَعِيدٍ . فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ هَذَا .
بکیر بن اشج سے روایت ہے کہ بسر بن سعید نے انھیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ایک مجلس میں ہم حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پا س بیٹھےہوئے تھے ۔ اتنے میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ غصے کی حالت میں آئے اور کھڑے ہوگئے پھر کہنے لگے : میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم میں سے کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : "" اجازت تین بار مانگی جاتی ہے ، اگر تمھیں اجازت مل جائے ( تو اندر آجاؤ ) ، نہیں تو لوٹ جاؤ؟حضرت ابی نے کہا معاملہ کیا ہے؟انھوں نے کہا : میں نے کل حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تین بار اجازت مانگی ، مجھے اجازت نہیں دی گئی تو میں لوٹ گیا پھر میں آج ان کے پاس آیاتو ان کے پا س حاضر ہوگیا ۔ میں نے انھیں بتایا کہ میں کل آیا تھا ، تین بار سلام کیا تھا ، پھر چلا گیا تھا ۔ کہنے لگے ہم نے سن لیاتھا ، اس وقت ہم کسی کام میں لگے ہوئے تھے تم کیوں نہ اجازت مانگتے رہے یہاں تک کہ تمھیں اجازت مل جاتی ۔ میں نے کہا : میں نے اسی طرح اجازت مانگی جس طرح میں نے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا ۔ کہنے لگے : اللہ کی قسم!میں تمھاری پشت اور پیٹھ پر کوڑے ماروں گا پھر تم کوئی ایسا شخص لے آؤ جو تمہارے لئے اس پر گواہی دے ۔ حضرت ابی ابن کعب کہنے لگے : اللہ کی قسم!تمھارے ساتھ ہم میں سے صرف وہ کھڑاہوگا جو عمر میں سب سے چھوٹاہے ( بڑے تو بڑے ہیں یہ حدیث ہم میں سے کم عمر لوگوں نے بھی سنی ہے اور یادرکھی ہے ۔ ) ابو سعید !اٹھو ، ( انھوں نے کہا ) تو میں اٹھا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ا س طرح فرماتے ہوئے سنا تھا ۔
صحیح مسلم : ۹۱
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ، الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، خَرَجَ إِلَى الشَّامِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ لَقِيَهُ أَهْلُ الأَجْنَادِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ عُمَرُ ادْعُ لِيَ الْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ . فَدَعَوْتُهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَاخْتَلَفُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ خَرَجْتَ لأَمْرٍ وَلاَ نَرَى أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَعَكَ بَقِيَّةُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ نَرَى أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ . فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي . ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِيَ الأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ لَهُ فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلاَفِهِمْ . فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي . ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ . فَدَعَوْتُهُمْ فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ رَجُلاَنِ فَقَالُوا نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلاَ تُقْدِمْهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ . فَنَادَى عُمَرُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَى ظَهْرٍ فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ . فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ - وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُ خِلاَفَهُ - نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَتْ لَكَ إِبِلٌ فَهَبَطْتَ وَادِيًا لَهُ عِدْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا خَصْبَةٌ وَالأُخْرَى جَدْبَةٌ أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ قَالَ فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ " . قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ انْصَرَفَ .
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبدالحمید بن عبدالرحمان بن زید بن خطاب سے ، انھوں نے عبداللہ بن عبداللہ بن حارث بن نوفل سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام کی طرف نکلے ۔ جب ( تبوک کے مقام ) سرغ پر پہنچے تو لشکر گاہوں کے امراء میں سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب نے آپ سے ملاقات کی ۔ اور یہ بتایا کہ شام میں وبا پھیل گئی ہے ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے سامنے مہاجرین اوّلین کو بلاؤ ۔ ( مہاجرین اوّلین وہ لوگ ہیں جنہوں نے دونوں قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہو ) میں نے ان کو بلایا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ لیا اور ان سے بیان کیا کہ شام کے ملک میں وبا پھیلی ہوئی ہے ۔ انہوں نے اختلاف کیا ۔ بعض نے کہا کہ آپ ایک اہم کام کے لئے نکلے ہوئے ہیں اس لئے ہم آپ کا لوٹنا مناسب نہیں سمجھتے ۔ بعض نے کہا کہ تمہارے ساتھ وہ لوگ ہیں جو اگلوں میں باقی رہ گئے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں اور ہم ان کو وبائی ملک میں لے جانا مناسب نہیں سمجھتے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب تم لوگ جاؤ ۔ پھر کہا کہ انصار کے لوگوں کو بلاؤ ۔ میں نے ان کو بلایا تو انہوں نے ان سے مشورہ لیا ۔ انصار بھی مہاجرین کی چال چلے اور انہی کی طرح اختلاف کیا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ جاؤ ۔ پھر کہا کہ اب قریش کے بوڑھوں کو بلاؤ جو فتح مکہ سے پہلے یا ( فتح کے ساتھ ہی ) مسلمان ہوئے ہیں ۔ میں نے ان کو بلایا اور ان میں سے دو نے بھی اختلاف نہیں کیا ، سب نے یہی کہا کہ ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ آپ لوگوں کو لے کر لوٹ جائیے اور ان کو وبا کے سامنے نہ کیجئے ۔ آخر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں منادی کرا دی کہ میں صبح کو اونٹ پر سوار ہوں گا ( اور مدینہ لوٹوں گا ) تم بھی سوار ہو جاؤ ۔ سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا تقدیر سے بھاگتے ہو؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کاش یہ بات کوئی اور کہتا ( یا اگر اور کوئی کہتا تو میں اس کو سزا دیتا ) { اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ برا جانتے تھے ان کا خلاف کرنے کو } ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف بھاگتے ہیں ۔ کیا اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم ایک وادی میں جاؤ جس کے دو کنارے ہوں ایک کنارہ سرسبز اور شاداب ہو اور دوسرا خشک اور خراب ہو اور تم اپنے اونٹوں کو سرسبز اور شاداب کنارے میں چراؤ تو اللہ کی تقدیر سے چرایا اور جو خشک اور خراب میں چراؤ تب بھی اللہ کی تقدیر سے چرایا ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ ہے کہ جیسے اس چرواہے پر کوئی الزام نہیں ہے بلکہ اس کا فعل قابل تعریف ہے کہ جانوروں کو آرام دیا ایسا ہی میں بھی اپنی رعیت کا چرانے والا ہوں تو جو ملک اچھا معلوم ہوتا ہے ادھر لے جاتا ہوں اور یہ کام تقدیر کے خلاف نہیں ہے بلکہ عین تقدیر الٰہی ہے ) ؟ اتنے میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے اور وہ کسی کام کو گئے ہوئے تھے ، انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو اس مسئلہ کی دلیل موجود ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب تم سنو کہ کسی ملک میں وبا پھیلی ہے تو وہاں مت جاؤ اور اگر تمہارے ملک میں وبا پھیلے تو بھاگو بھی نہیں ۔ کہا : اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا ۔ پھر ( اگلےدن ) روانہ ہوگئے ۔
صحیح مسلم : ۹۲
Sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَمْرٍ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ فَوَاللَّهِ لأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً " .
ابو معاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ( ابوضحیٰ ) مسلم سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام میں رخصت روا رکھی ۔ لوگوں میں سے کچھ نے خود کوایسا کرنے سے زیادہ پاکباز خیال کیا ۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کومعلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا حتیٰ کہ غصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور سےظاہر ہوا ۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ لوگوں کا کیا حال ہے کہ جس کام میں مجھے رخصت دی گئی ہے اس سے احتراز کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم میں تو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔
صحیح مسلم : ۹۳
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَشْيَاءَ كَرِهَهَا فَلَمَّا أُكْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ " سَلُونِي عَمَّ شِئْتُمْ " . فَقَالَ رَجُلٌ مَنْ أَبِي قَالَ " أَبُوكَ حُذَافَةُ " . فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ " . فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْغَضَبِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ قَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ " .
عبد اللہ بن براداشعری اور ( ابو کریب ) محمد بن علاءہمدانی نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے یزید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چند ( ایسی ) چیزوں کے بارے میں سوال کیے گئے جو آپ کو پسند نہ آئیں جب زیادہ سوال کیے گئے تو آپ غصے میں آگئے ، پھر آپ نے لوگوں سے فرما یا : جس چیز کے بارے میں بھی چاہو مجھ سے پوچھو ۔ " ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کو ن ہے؟آپ نے فر ما یا : تمھا را باپ حذافہ ہے ۔ دوسرے شخص نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کو ن ہے؟آپ نے فر ما یا : تمھا را باپ شیبہ کا آزاد کردہ غلام سالم ہے ۔ " جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے تو کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اللہ سے تو بہ کرتے ہیں ابو کریب کی روایت میں ہے کہ اس نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کو ن ہے؟آپ نے فر ما یا : تمھا را باپ شیبہ کامولیٰ سالم ہے ۔
صحیح مسلم : ۹۴
Sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا يَهُودِيٌّ يَعْرِضُ سِلْعَةً لَهُ أُعْطِيَ بِهَا شَيْئًا كَرِهَهُ أَوْ لَمْ يَرْضَهُ - شَكَّ عَبْدُ الْعَزِيزِ - قَالَ لاَ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَلَى الْبَشَرِ . قَالَ فَسَمِعَهُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَلَطَمَ وَجْهَهُ - قَالَ - تَقُولُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَلَى الْبَشَرِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَالَ فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ لِي ذِمَّةً وَعَهْدًا . وَقَالَ فُلاَنٌ لَطَمَ وَجْهِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ " . قَالَ . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَلَى الْبَشَرِ وَأَنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا . قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ " لاَ تُفَضِّلُوا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَيَصْعَقُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلاَّ مَنْ شَاءَ اللَّهُ - قَالَ - ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ بُعِثَ أَوْ فِي أَوَّلِ مَنْ بُعِثَ فَإِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ آخِذٌ بِالْعَرْشِ فَلاَ أَدْرِي أَحُوسِبَ بِصَعْقَتِهِ يَوْمَ الطُّورِ أَوْ بُعِثَ قَبْلِي وَلاَ أَقُولُ إِنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلاَمُ " .
حجین بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں عبد العز یز بن عبد اللہ بن ابی سلمہ نے عبد اللہ بن فضل ہاشمی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبد الرحمٰن اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک بار ایک یہودی اپنا سامان بیچ رہا تھا اس کو اس کے کچھ معاوضے کی پیش کش کی گئی جو اسے بری لگی یا جس پر وہ راضی نہ ہوا ۔ شک عبد العزیز کو ہوا ۔ وہ کہنے لگا نہیں ، اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی !انصار میں سے ایک شخص نے اس کی بات سن لی تو اس کے چہرے پر تھپڑلگا یا ، کہا : تم کہتے ہو ۔ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی!جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( تشریف لا چکے اور ) ہمارے درمیان مو جو د ہیں ۔ کہا : تو وہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگیا اور کہنے لگا : ابو القاسم !میری ذمہ داری لی گئی ہے اور ہم سے ( سلامتی کا ) وعدہ کیا گیا ہے ۔ اور کہا : فلا ں شخص نے میرے منہ پر تھپڑ مارا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : " تم نے اس کے منہ پر تھپڑ کیوں مارا ؟کہا کہ اس نے کہا تھا ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ۔ اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ کہا : کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے جبکہ آپ ہمارے درمیان مو جود ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا اور آپ کے چہرہ مبارک سے غصےکا پتہ چلنے لگا ، پھر آپ نے فر ما یا : " اللہ کے نبیوں کے مابین ( انھیں ایک دوسرے پر ) فضیلت نہ دیا کرو اس لیے کہ جب صور پھونکا جا ئے گا تو سوائے ان کے جنھیں اللہ چا ہے گا آسمانوں اور زمین میں جو مخلوق ہے سب کے ہوش و حواس جا تے رہیں گے ، پھر دوبارہ صور پھونکا جا ئے گا ، تو سب سے پہلے جسے اٹھا یا جا ئے گا وہ میں ہو ں گا یا ( فرمایا ) جنھیں سب سے پہلے اٹھا یا جا ئے گا میں ان میں ہو ں گا ۔ تو ( میں دیکھوں گا ۔ کہ ) حضرت موسیٰ علیہ السلام عرش کو پکڑ ے ہو ئے ہوں گے ، مجھے معلوم نہیں کہ ان کے لیے یوم طور کی بے ہو شی کو شمار کیا جا ئے گا ۔ ( اور وہ اس کے عوض اس بے ہوشی سےمستثنیٰ ہو ں گے ، ) یاانھیں مجھ سے پہلے ہی اٹھا یا جا ئے گا ، میں ( یہ بھی ) نہیں کہتا کہ کو ئی ( نبی ) یو نس بن متی علیہ السلام سے افضل ہے ۔
صحیح مسلم : ۹۵
Sahih
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - وَتَقَارَبَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حَاتِمٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ قَالَ لأَخِيهِ ارْكَبْ إِلَى هَذَا الْوَادِي فَاعْلَمْ لِي عِلْمَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنَ السَّمَاءِ فَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ ائْتِنِي . فَانْطَلَقَ الآخَرُ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ فَقَالَ رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الأَخْلاَقِ وَكَلاَمًا مَا هُوَ بِالشِّعْرِ . فَقَالَ مَا شَفَيْتَنِي فِيمَا أَرَدْتُ . فَتَزَوَّدَ وَحَمَلَ شَنَّةً لَهُ فِيهَا مَاءٌ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَالْتَمَسَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ يَعْرِفُهُ وَكَرِهَ أَنْ يَسْأَلَ عَنْهُ حَتَّى أَدْرَكَهُ - يَعْنِي اللَّيْلَ - فَاضْطَجَعَ فَرَآهُ عَلِيٌّ فَعَرَفَ أَنَّهُ غَرِيبٌ فَلَمَّا رَآهُ تَبِعَهُ فَلَمْ يَسْأَلْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَىْءٍ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ احْتَمَلَ قُرَيْبَتَهُ وَزَادَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَظَلَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ وَلاَ يَرَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَمْسَى فَعَادَ إِلَى مَضْجَعِهِ فَمَرَّ بِهِ عَلِيٌّ فَقَالَ مَا أَنَى لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَهُ فَأَقَامَهُ فَذَهَبَ بِهِ مَعَهُ وَلاَ يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ فَأَقَامَهُ عَلِيٌّ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ أَلاَ تُحَدِّثُنِي مَا الَّذِي أَقْدَمَكَ هَذَا الْبَلَدَ قَالَ إِنْ أَعْطَيْتَنِي عَهْدًا وَمِيثَاقًا لَتُرْشِدَنِّي فَعَلْتُ . فَفَعَلَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ فَإِنَّهُ حَقٌّ وَهُوَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَاتَّبِعْنِي فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ شَيْئًا أَخَافُ عَلَيْكَ قُمْتُ كَأَنِّي أُرِيقُ الْمَاءَ فَإِنْ مَضَيْتُ فَاتَّبِعْنِي حَتَّى تَدْخُلَ مَدْخَلِي . فَفَعَلَ فَانْطَلَقَ يَقْفُوهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَدَخَلَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ وَأَسْلَمَ مَكَانَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ فَأَخْبِرْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي " . فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَصْرُخَنَّ بِهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ . فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . وَثَارَ الْقَوْمُ فَضَرَبُوهُ حَتَّى أَضْجَعُوهُ فَأَتَى الْعَبَّاسُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَالَ وَيْلَكُمْ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مِنْ غِفَارٍ وَأَنَّ طَرِيقَ تُجَّارِكُمْ إِلَى الشَّامِ عَلَيْهِمْ . فَأَنْقَذَهُ مِنْهُمْ ثُمَّ عَادَ مِنَ الْغَدِ بِمِثْلِهَا وَثَارُوا إِلَيْهِ فَضَرَبُوهُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ الْعَبَّاسُ فَأَنْقَذَهُ .
ابو جمرہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ جب سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ میں مبعوث ہونے کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ سوار ہو کر اس وادی کو جا اور اس شخص کو دیکھ کر آ جو کہتا ہے مجھے آسمان سے خبر آتی ہے ، ان کی بات سن پھر میرے پاس آ ۔ وہ روانہ ہوا ، یہاں تک کہ مکہ میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنا ، پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ کر گیا اور بولا کہ میں نے اس شخص کو دیکھا ، وہ اچھی خصلتوں کا حکم کرتا ہے اور ایک کلام سناتا ہے جو شعر نہیں ہے ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اس سے تسلی نہیں ہوئی ۔ پھر انہوں نے خود زادراہ لیا اور پانی کی ایک مشک لی یہاں تک کہ مکہ میں آئے اور مسجدالحرام میں داخل ہوئے ۔ وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہ تھے اور انہوں نے پوچھنا بھی مناسب نہ جانا ، یہاں تک کہ رات ہو گئی اور وہ لیٹ رہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا اور پہچانا کہ کوئی مسافر ہے پھر ان کے پیچھے گئے لیکن کسی نے دوسرے سے بات نہیں کی یہاں تک کہ صبح ہو گئی ۔ پھر وہ اپنا توشہ اور مشک مسجد میں اٹھا لائے اور سارا دن وہاں رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شام تک نہ دیکھا ۔ پھر وہ اپنے سونے کی جگہ میں چلے گئے ۔ وہاں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ گزرے اور کہا کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اس شخص کو اپنا ٹھکانہ معلوم ہو ۔ پھر ان کو کھڑا کیا اور ان کو ساتھ لے گئے لیکن کسی نے دوسرے سے بات نہ کی ۔ پھر تیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا ۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنے ساتھ کھڑا کیا ، پھر کہا کہ تم مجھ سے وہ بات کیوں نہیں کہتے جس کے لئے تم اس شہر میں آئے ہو؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم مجھ سے عہد اور وعدہ کرتے ہو کہ راہ بتلاؤ گے تو میں بتاتا ہوں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کیا تو انہوں نے بتایا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ شخص سچے ہیں اور وہ بیشک اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تم صبح کو میرے ساتھ چلنا ، اگر میں کوئی خوف کی بات دیکھوں گا جس میں تمہاری جان کا ڈر ہو تو میں کھڑا ہو جاؤں گا جیسے کوئی پانی بہاتا ہے ( یعنی پیشاب کا بہانہ کروں گا ) اور اگر چلا جاؤں تو تم بھی میرے پیچھے پیچھے چلے آنا ۔ جہاں میں گھسوں وہاں تم بھی گھس آنا ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا اور ان کے پیچھے پیچھے چلے یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ پہنچے ۔ پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور اسی جگہ مسلمان ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی قوم کے پاس جا اور ان کو دین کی خبر کر یہاں تک کہ میرا حکم تجھے پہنچے ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں تو یہ بات ( یعنی دین قبول کرنے کی ) مکہ والوں کو پکار کر سنا دوں گا ۔ پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نکل کر مسجد میں آئے اور چلا کر بولے کہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں“ ۔ لوگوں نے ان پر حملہ کیا اور ان کو مارتے مارتے لٹا دیا ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ پر جھکے اور لوگوں سے کہا کہ تمہای خرابی ہو ، تم نہیں جانتے کہ یہ شخص ( قوم ) غفار کا ہے اور تمہارا سوداگری کا راستہ شام کی طرف ( قوم ) غفار کے ملک پر سے ہے ( تو وہ تمہاری تجارت بند کر دیں گے ) ۔ پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں سے چھڑا لیا ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے دوسرے دن پھر ویسا ہی کیا اور لوگ دوڑے اور مارا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے اور انہیں چھڑا لیا ۔
صحیح مسلم : ۹۶
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، قَالَ بَيْنَمَا جَارِيَةٌ عَلَى نَاقَةٍ عَلَيْهَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ إِذْ بَصُرَتْ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَتَضَايَقَ بِهِمُ الْجَبَلُ فَقَالَتْ حَلْ اللَّهُمَّ الْعَنْهَا . قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُصَاحِبُنَا نَاقَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ " .
یزید بن زریع نے کہا : ہمیں تیمی نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک باندی ایک اونٹنی پر سوار تھی جس پر لوگوں کا کچھ سامان بھی لدا ہوا تھا ، اچانک اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، اس وقت پہاڑ ( کے درے نے ) گزرنے والوں کا راستہ تنگ کر دیا تھا ۔ اس باندی نے ( اونٹنی کو تیز کرنے کے لیے زور سے ) کہا : چل ( تیز چلو تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ جائیں ، جب وہ اونٹنی تیز نہ ہوئی تو کہنے لگی : ) اے اللہ! اس پر لعنت بھیج ( حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے ) کہا : تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ اونٹنی جس پر لعنت ہو ہمارے ساتھ ( شریک سفر ) نہ ہو ۔
صحیح مسلم : ۹۷
Sahih
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ " . قَالُوا فَالشَّدِيدُ أَيُّمَ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " .
زبیدی نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حمید بن عبدالرحمٰن نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرماتے تھے : " پچھاڑ دینے سے کوئی شخص طاقتور نہیں ہوتا ۔ " صحابہ نے پوچھا : اللہ کے رسول! پھر طاقت ور کون ہے؟ آپ نے فرمایا : " جو غصے کے وقت خود کو قابو میں رکھتا ہے ۔
صحیح مسلم : ۹۸
Sahih
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ، يَقُولُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، قَالَ اسْتَبَّ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَغْضَبُ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " . فَقَامَ إِلَى الرَّجُلِ رَجُلٌ مِمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَتَدْرِي مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آنِفًا قَالَ " إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " . فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ أَمَجْنُونًا تَرَانِي
ابواسامہ نے کہا : میں نے اعمش سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے عدی بن ثابت سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے آپس میں گالم گلوچ کیا ۔ ان میں سے ایک کو غصہ چڑھنا شروع ہو گیا اور اس کا چہرہ سرخ ہونے لگا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نظر کی اور فرمایا : " مجھے ایک کلمے : " اعوذبالله من الشيطان الرجيم " کا پتہ ہے ۔ اگر یہ شخص وہ ( کلمہ ) کہہ دے تو اس سے یہ ( غصہ ) جاتا رہے گا ۔ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہ بات ) سننے والوں میں سے ایک آدمی اٹھ کر اس شخص کی طرف گیا اور کہا : تمہیں پتہ ہے کہ ابھی ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ آپ نے فرمایا ہے : " مجھے ایک ایسے کلمے : " اعوذبالله من الشيطان الرجيم " کا پتہ ہے ۔ اگر یہ ( شخص ) وہ ( کلمہ ) کہہ دے تو اس سے یہ کیفیت جاتی رہے گی ۔ " اس شخص نے کہا : کیا تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں جنون کا شکار ہو گیا ہوں؟
صحیح مسلم : ۹۹
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، ح وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، - وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ - كُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ، الْعَلاَءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْبُغْضِ .
عبدالعزیز دراوردی ، علاء بن مسیب اور امام مالک بن انس سب نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، البتہ علاء بن مسیب کی حدیث میں بغض کا ذکر نہیں ہے ( صرف محبت کرنے کی بات ہے ۔)
صحیح مسلم : ۱۰۰
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيُّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ هَجَّرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا - قَالَ - فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ فَقَالَ " إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِاخْتِلاَفِهِمْ فِي الْكِتَابِ " .
حماد بن زید نے کہا : ہمیں ابوعمران جونی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : عبداللہ بن رباح انصاری نے میری طرف لکھ بھیجا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ایک روز دن چڑھے ( مسجد میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی آوازیں سنیں جو ایک آیت کے بارے میں ( ایک دوسرے سے ) اختلاف کر رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ہمارے سامنے تشریف لائے ۔ آپ کے چہرہ مبارک پر غصہ ( صاف ) پہچانا جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا : " جو لوگ تم سے پہلے تھے وہ کتاب اللہ کے بارے میں اختلاف کرنے سے ہلاک ہو گئے ۔