Anger کے بارے میں احادیث

۳۴۲ مستند احادیث ملیں

سنن نسائی : ۱۶۱
It Was
Daif Isnaad
أَخْبَرَنَا ​مُحَمَّدُ ‌بْنُ ‌عَبْدِ ​اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ، قَالَ صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَرَأَ ‏{‏ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ ‏}‏ الرَّحِيمِ ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ ‏{‏ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ ‏}‏ فَقَالَ آمِينَ ‏.‏ فَقَالَ النَّاسُ آمِينَ ‏.‏ وَيَقُولُ كُلَّمَا سَجَدَ اللَّهُ أَكْبَرُ وَإِذَا قَامَ مِنَ الْجُلُوسِ فِي الاِثْنَيْنِ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ وَإِذَا سَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاَةً بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
نعیم ​المجمر ‌کہتے ‌ہیں ​کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، تو انہوں نے «بسم اللہ الرحمن الرحيم» کہا، پھر سورۃ فاتحہ پڑھی، اور جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پر پہنچے آمین کہی، لوگوں نے بھی آمین کہی ۱؎، اور جب جب وہ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب دوسری رکعت میں بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوئے تو اللہ اکبر کہا، اور جب سلام پھیرا تو کہا: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم میں نماز کے اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔
It Was سنن نسائی #۹۰۵ Daif Isnaad
سنن نسائی : ۱۶۲
ابو الصائب رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا ​قُتَيْبَةُ، ​عَنْ ‌مَالِكٍ، ​عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ صَلَّى صَلاَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ هِيَ خِدَاجٌ هِيَ خِدَاجٌ ‏"‏ ‏.‏ غَيْرُ تَمَامٍ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَحْيَانًا أَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ ‏.‏ فَغَمَزَ ذِرَاعِي وَقَالَ اقْرَأْ بِهَا يَا فَارِسِيُّ فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَسَمْتُ الصَّلاَةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اقْرَءُوا يَقُولُ الْعَبْدُ ‏{‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ‏}‏ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَمِدَنِي عَبْدِي ‏.‏ يَقُولُ الْعَبْدُ ‏{‏ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ‏}‏ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَثْنَى عَلَىَّ عَبْدِي ‏.‏ يَقُولُ الْعَبْدُ ‏{‏ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ‏}‏ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَجَّدَنِي عَبْدِي ‏.‏ يَقُولُ الْعَبْدُ ‏{‏ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ‏}‏ فَهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ‏.‏ يَقُولُ الْعَبْدُ ‏{‏ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ * صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ ‏}‏ فَهَؤُلاَءِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ‏"‏ ‏.‏
ابوسائب ​مولی ​ہشام ‌بن ​زہرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، پوری نہیں ، میں نے پوچھا: ابوہریرہ! کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو ( کیسے پڑھوں؟ ) تو انہوں نے میرا ہاتھ دبایا، اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے جی میں پڑھ لیا کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز ۱؎ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں بانٹ دیا ہے، تو آدھی میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سورۃ فاتحہ پڑھو، جب بندہ «الحمد لله رب العالمين» کہتا ہے ۲؎ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد ( تعریف ) کی، اسی طرح جب بندہ «‏الرحمن الرحيم» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی، جب بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعظیم و تمجید کی، اور جب بندہ «إياك نعبد وإياك نستعين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے: یہ آیت میرے اور میرے بندے دونوں کے درمیان مشترک ہے، اور جب بندہ «‏اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ تینوں آیتیں میرے بندے کے لیے ہیں، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ۔
ابو الصائب رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۹۰۹ Sahih
سنن نسائی : ۱۶۳
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​إِسْمَاعِيلُ ​بْنُ ​مَسْعُودٍ، ​قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا ‏"‏ قَالَ الإِمَامُ ‏{‏ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ ‏}‏ فَقُولُوا آمِينَ فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تَقُولُ آمِينَ وَإِنَّ الإِمَامَ يَقُولُ آمِينَ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ ​رضی ​اللہ ​عنہ ​کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم آمين کہو، کیونکہ فرشتے آمین کہتے ہیں اور امام آمین کہتا ہے تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
It Was سنن نسائی #۹۲۷ Sahih
سنن نسائی : ۱۶۴
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌قُتَيْبَةُ، ‌عَنْ ‌مَالِكٍ، ​عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا قَالَ الإِمَامُ ‏{‏ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ ‏}‏ فَقُولُوا آمِينَ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ​سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم لوگ آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
It Was سنن نسائی #۹۲۹ Sahih
سنن نسائی : ۱۶۵
عبد الجبار بن وائل رضی اللہ عنہ
Sahih Lighairihi
أَخْبَرَنَا ‌عَبْدُ ​الْحَمِيدِ ‌بْنُ ‌مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ أَسْفَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ فَلَمَّا قَرَأَ ‏{‏ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ ‏}‏ قَالَ ‏"‏ آمِينَ ‏"‏ ‏.‏ فَسَمِعْتُهُ وَأَنَا خَلْفَهُ ‏.‏ قَالَ فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ صَلاَتِهِ قَالَ ‏"‏ مَنْ صَاحِبُ الْكَلِمَةِ فِي الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا أَرَدْتُ بِهَا بَأْسًا ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدِ ابْتَدَرَهَا اثْنَا عَشَرَ مَلَكًا فَمَا نَهْنَهَهَا شَىْءٌ دُونَ الْعَرْشِ ‏"‏ ‏.‏
وائل ‌بن ​حجر ‌رضی ‌اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے اللہ اکبر کہا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے تک اٹھایا، پھر جب آپ نے «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہا تو آپ نے آمین کہی جسے میں نے سنا، اور میں آپ کے پیچھے تھا ۱؎، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہتے سنا، تو جب آپ اپنی نماز سے سلام پھیر لیا تو پوچھا: نماز میں کس نے یہ کلمہ کہا تھا؟ تو اس شخص نے کہا: میں نے اللہ کے رسول! اور اس سے میں نے کسی برائی کا ارادہ نہیں کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر بارہ فرشتے جھپٹے تو اسے عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز روک نہیں سکی ۔
عبد الجبار بن وائل رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۹۳۲ Sahih Lighairihi
سنن نسائی : ۱۶۶
حطان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا ​إِسْمَاعِيلُ ‌بْنُ ‌مَسْعُودٍ، ‌قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا مُوسَى، قَالَ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَنَا وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا وَعَلَّمَنَا صَلاَتَنَا فَقَالَ ‏"‏ إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ الإِمَامُ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَرَأَ ‏{‏ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ ‏}‏ فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ وَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعِ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُو وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمُ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ سَلاَمٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ سَلاَمٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ سَبْعَ كَلِمَاتٍ وَهِيَ تَحِيَّةُ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
ابوموسیٰ ​اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اور ہمیں ہمارے طریقے بتائے، اور ہماری نماز سکھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں سیدھی کرو، پھر تم میں سے کوئی ایک امامت کرے، اور جب امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے، تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا، اور جب وہ اللہ اکبر کہے، اور رکوع کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور رکوع کرو، امام تم سے پہلے رکوع کرے گا، اور تم سے پہلے رکوع سے سر بھی اٹھائے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہو جائے گی ، اور جب وہ«سمع اللہ لمن حمده» کہے، تو تم «اللہم ربنا ولك الحمد» کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری پکار سن لے گا ؛ کیونکہ اللہ نے اپنے بنی کی زبان سے فرمایا ہے: اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی حمد بیان کی، تو جب وہ اللہ اکبر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور سجدہ کرو، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا، اور تم سے پہلے سجدہ سے سر بھی اٹھائے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہو جائے گی، جب وہ قعدے میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کی پہلی دعا یہ ہو:«التحيات الطيبات الصلوات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته سلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» آداب بندگیاں، پاکیزہ خیراتیں، اور صلاتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے رسول! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں یہ سات کلمے ۱؎ ہیں اور یہ نماز کا سلام ہے ۔
حطان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۱۰۶۴ Sahih
سنن نسائی : ۱۶۷
عطاء بن السائب رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا ​يَحْيَى ‌بْنُ ‌حَبِيبِ ​بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّى بِنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ صَلاَةً فَأَوْجَزَ فِيهَا فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ لَقَدْ خَفَّفْتَ أَوْ أَوْجَزْتَ الصَّلاَةَ ‏.‏ فَقَالَ أَمَّا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ دَعَوْتُ فِيهَا بِدَعَوَاتٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا قَامَ تَبِعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ هُوَ أَبِي غَيْرَ أَنَّهُ كَنَى عَنْ نَفْسِهِ فَسَأَلَهُ عَنِ الدُّعَاءِ ثُمَّ جَاءَ فَأَخْبَرَ بِهِ الْقَوْمَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لاَ يَنْفَدُ وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لاَ تَنْقَطِعُ وَأَسْأَلُكَ الرِّضَاءَ بَعْدَ الْقَضَاءِ وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلاَ فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ ‏"‏ ‏.‏
سائب ​کہتے ‌ہیں ‌کہ ​عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے ہمیں نماز پڑھائی تو اس میں اختصار سے کام لیا، قوم میں سے کچھ لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے نماز ہلکی کر دی ہے، راوی کو شک ہے «خففت» کہا یا «أوجزت» ( ہلکی کر دی یا مختصر کر دی ) تو انہوں نے کہا: اس کے باوجود میں نے اس میں ایسی دعائیں پڑھی ہیں جن کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، تو جب وہ جانے کے لیے کھڑے ہوئے تو قوم میں سے ایک آدمی ان کے پیچھے ہو لیا ( وہ کوئی اور نہیں میرے والد تھے مگر انہوں نے اپنا نام چھپایا ہے ) ۱؎ اس نے ان سے اس دعا کے بارے میں سوال کیا، پھر آ کر لوگوں کو اس کی خبر دی، وہ دعا یہ تھی: «اللہم بعلمك الغيب وقدرتك على الخلق أحيني ما علمت الحياة خيرا لي وتوفني إذا علمت الوفاة خيرا لي اللہم وأسألك خشيتك في الغيب والشهادة وأسألك كلمة الحق في الرضا والغضب وأسألك القصد في الفقر والغنى وأسألك نعيما لا ينفد وأسألك قرة عين لا تنقطع وأسألك الرضاء بعد القضاء وأسألك برد العيش بعد الموت وأسألك لذة النظر إلى وجهك والشوق إلى لقائك في غير ضراء مضرة ولا فتنة مضلة اللہم زينا بزينة الإيمان واجعلنا هداة مهتدين» اے اللہ! میں تیرے علم غیب اور تمام مخلوق پر تیری قدرت کے واسطہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تو جانے کہ زندگی میرے لیے باعث خیر ہے، اور مجھے موت دیدے جب تو جانے کہ موت میرے لیے بہتر ہے، اے اللہ! میں غیب و حضور دونوں حالتوں میں تیری مشیت کا طلب گار ہوں، اور میں تجھ سے خوشی و ناراضگی دونوں حالتوں میں کلمہ حق کہنے کی توفیق مانگتا ہوں، اور تنگ دستی و خوشحالی دونوں میں میانہ روی کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو، اور میں تجھ سے ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک کا طلبگار ہوں جو منقطع نہ ہو، اور میں تجھ سے تیری قضاء پر رضا کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے موت کے بعد کی راحت اور آسائش کا طالب ہوں، اور میں تجھ سے تیرے دیدار کی لذت، اور تیری ملاقات کے شوق کا طالب ہوں، اور پناہ چاہتا ہوں تجھ سے اس مصیبت سے جس پر صبر نہ ہو سکے، اور ایسے فتنے سے جو گمراہ کر دے، اے اللہ! ہم کو ایمان کے زیور سے آراستہ رکھ، اور ہم کو راہ نما اور ہدایت یافتہ بنا دے ۔
عطاء بن السائب رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۱۳۰۵ Sahih
سنن نسائی : ۱۶۸
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​عُبَيْدُ ‌اللَّهِ ​بْنُ ‌سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ صَلَّى عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ بِالْقَوْمِ صَلاَةً أَخَفَّهَا فَكَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوهَا فَقَالَ أَلَمْ أُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ قَالُوا بَلَى ‏.‏ قَالَ أَمَّا إِنِّي دَعَوْتُ فِيهَا بِدُعَاءٍ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو بِهِ ‏ "‏ اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَكَلِمَةَ الإِخْلاَصِ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لاَ يَنْفَدُ وَقُرَّةَ عَيْنٍ لاَ تَنْقَطِعُ وَأَسْأَلُكَ الرِّضَاءَ بِالْقَضَاءِ وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَفِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ ‏"‏ ‏.‏
قیس ​بن ‌عباد ​کہتے ‌ہیں کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اور اسے ہلکی پڑھائی، تو گویا کہ لوگوں نے اسے ناپسند کیا، تو انہوں نے کہا: کیا میں نے رکوع اور سجدے پورے پورے نہیں کیے ہیں؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور کیا ہے، پھر انہوں نے کہا: سنو! میں نے اس میں ایسی دعا پڑھی ہے جس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے وہ یہ ہے: «‏اللہم بعلمك الغيب وقدرتك على الخلق أحيني ما علمت الحياة خيرا لي وتوفني إذا علمت الوفاة خيرا لي وأسألك خشيتك في الغيب والشهادة وكلمة الإخلاص في الرضا والغضب وأسألك نعيما لا ينفد وقرة عين لا تنقطع وأسألك الرضاء بالقضاء وبرد العيش بعد الموت ولذة النظر إلى وجهك والشوق إلى لقائك وأعوذ بك من ضراء مضرة وفتنة مضلة اللہم زينا بزينة الإيمان واجعلنا هداة مهتدين» اے اللہ! میں تیرے علم غیب اور تمام مخلوق پر تیری قدرت کے واسطہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تو جانے کہ زندگی میرے لیے باعث خیر ہے، اور مجھے موت دیدے جب تو جانے کہ موت میرے لیے بہتر ہے، اے اللہ! میں غیب و حضور دونوں حالتوں میں تیری خشیت کا طلب گار ہوں، اور میں تجھ سے خوشی و ناراضگی دونوں حالتوں میں کلمہ اخلاص کی توفیق مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو، اور میں تجھ سے ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک کا طلبگار ہوں جو منقطع نہ ہو، اور میں تجھ سے تیری قضاء پر رضا کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے موت کے بعد کی راحت اور آسائش کا طلبگار ہوں، اور میں تجھ سے تیرے دیدار کی لذت، اور تیری ملاقات کے شوق کا طلبگار ہوں، اور پناہ چاہتا ہوں تیری اس مصیبت سے جس پر صبر نہ ہو سکے، اور ایسے فتنے سے جو گمراہ کر دے، اے اللہ! ہم کو ایمان کے زیور سے آراستہ رکھ، اور ہم کو راہنما و ہدایت یافتہ بنا دے ۔
It Was سنن نسائی #۱۳۰۶ Sahih
سنن نسائی : ۱۶۹
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih Isnaad
أَخْبَرَنِي ​إِبْرَاهِيمُ ‌بْنُ ‌الْحَسَنِ، ‌عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلاَّ الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ إِذَا كَانَ يَوْمُ صِيَامِ أَحَدِكُمْ فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَصْخَبْ فَإِنْ شَاتَمَهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَرِحَ بِصَوْمِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ ​رضی ‌الله ‌عنہ ‌کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، روزہ ڈھال ہے، جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو فحش گوئی نہ کرے، شور و شغب نہ کرے، اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے مار پیٹ کرے تو اس سے کہہ دے ( بھائی ) میں روزے سے ہوں، ( مار پیٹ گالی گلوچ کچھ نہیں کر سکتا ) اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے یہاں قیامت کے دن مشک کی بو سے زیادہ پاکیزہ ہو گی، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے: ایک جب وہ روزہ کھولتا ہے تو اپنے روزہ کھولنے سے خوش ہوتا ہے، اور دوسری جب وہ اپنے بزرگ و برتر رب سے ملے گا تو اپنے روزہ ( کا ثواب ) دیکھ کر خوش ہو گا“۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سنن نسائی #۲۲۱۶ Sahih Isnaad
سنن نسائی : ۱۷۰
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
أَخْبَرَنَا ​مُحَمَّدُ ‌بْنُ ‌حَاتِمٍ، ​قَالَ أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ الزَّيَّاتُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلاَّ الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَصْخَبْ فَإِنْ شَاتَمَهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ‏.‏
ابوہریرہ ​رضی ‌الله ‌عنہ ​کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اسی کے لیے ہوتا ہے سوائے روزے کے، وہ خالص میرے لیے ہے، اور میں خود ہی اسے اس کا بدلہ دوں گا، روزہ ڈھال ہے، تو جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو فحش اور لایعنی بات نہ کرے، اور نہ ہی شور و غل مچائے، اگر کوئی اس سے گالی گلوچ کرے یا اس کے ساتھ مار پیٹ کرے تو اس سے کہے: میں روزہ دار آدمی ہوں ( گالی گلوچ مار پیٹ نہیں کر سکتا ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بوسے زیادہ عمدہ ہے۔ یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سعید بن مسیب نے روایت کی ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سنن نسائی #۲۲۱۷ Sahih
سنن نسائی : ۱۷۱
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌هَنَّادُ ‌بْنُ ‌السَّرِيِّ، ‌فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدِي رَجُلٌ قَاعِدٌ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ - وَمَرَّةً أُخْرَى - انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَإِنَّ الرَّضَاعَةَ مِنَ الْمَجَاعَةِ ‏"‏ ‏.‏
ام ‌المؤمنین ‌عائشہ ‌رضی ‌الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ( اس وقت ) میرے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا یہ آپ پر بڑا گراں گزرا، میں نے آپ کے چہرہ مبارک پر ناراضگی دیکھی تو کہا: اللہ کے رسول! یہ شخص میرا رضاعی بھائی ہے، آپ نے فرمایا: ”اچھی طرح دیکھ بھال لیا کرو کہ تمہارے رضاعی بھائی کون ہیں، کیونکہ دودھ پینے کا اعتبار بھوک میں ( جبکہ دودھ ہی غذا ہو ) ہے“
It Was سنن نسائی #۳۳۱۲ Sahih
سنن نسائی : ۱۷۲
It Was
Daif
أَخْبَرَنَا ‌عَلِيُّ ‌بْنُ ​مَيْمُونٍ، ‌قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ الْحَنْظَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي غَضَبٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ ضَعِيفٌ لاَ يَقُومُ بِمِثْلِهِ حُجَّةٌ ‏.‏ وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏
عمران ‌بن ‌حصین ​رضی ‌اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: محمد بن زبیر ضعیف ہیں، ان جیسے سے حجت قائم نہیں ہوتی اور اس حدیث کے سلسلے میں ان کے متعلق اختلاف کیا گیا ہے۔
It Was سنن نسائی #۳۸۴۲ Daif
سنن نسائی : ۱۷۳
It Was
Daif
أَخْبَرَنِي ‌إِبْرَاهِيمُ ‌بْنُ ​يَعْقُوبَ، ​قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي غَضَبٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ ‏"‏ ‏.‏
عمران ‌رضی ‌اللہ ​عنہ ​کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
It Was سنن نسائی #۳۸۴۳ Daif
سنن نسائی : ۱۷۴
It Was
Daif
أَخْبَرَنَا ‌قُتَيْبَةُ، ​أَنْبَأَنَا ‌حَمَّادٌ، ‌عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي غَضَبٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ ‏"‏ ‏.‏ وَقِيلَ إِنَّ الزُّبَيْرَ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ‏.‏
عمران ‌رضی ​اللہ ‌عنہ ‌کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ( محمد کے والد ) زبیر نے اس حدیث کو عمران بن حصین سے نہیں سنا۔
It Was سنن نسائی #۳۸۴۴ Daif
سنن نسائی : ۱۷۵
It Was
Daif
أَخْبَرَنِي ‌إِبْرَاهِيمُ ​بْنُ ​يَعْقُوبَ، ‌قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ رَجُلاً، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَنْ رَجُلٍ، نَذَرَ نَذْرًا لاَ يَشْهَدُ الصَّلاَةَ فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ فَقَالَ عِمْرَانُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي غَضَبٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ‏"‏ ‏.‏
زبیر ‌حنظلی ​سے ​روایت ‌ہے کہ ایک شخص نے ان سے بیان کیا کہ اس نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا، جس نے یہ نذر مانی کہ وہ اپنے قبیلے کی مسجد میں نماز میں حاضر نہیں ہو گا، تو عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: غضب کی کوئی نذر نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
It Was سنن نسائی #۳۸۴۶ Daif
سنن نسائی : ۱۷۶
It Was
Daif
أَخْبَرَنَا ‌أَحْمَدُ ​بْنُ ​حَرْبٍ، ​قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَلاَ غَضَبٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ‏"‏ ‏.‏
عمران ‌بن ​حصین ​رضی ​اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت کی کوئی نذر نہیں، اور نہ ہی غضب میں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
It Was سنن نسائی #۳۸۴۷ Daif
سنن نسائی : ۱۷۷
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​مُحَمَّدُ ‌بْنُ ‌الْعَلاَءِ، ‌قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ تَغَيَّظَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَجُلٍ فَقُلْتُ مَنْ هُوَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ لِمَ قُلْتُ لأَضْرِبَ عُنُقَهُ إِنْ أَمَرْتَنِي بِذَلِكَ ‏.‏ قَالَ أَفَكُنْتَ فَاعِلاً قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَوَاللَّهِ لأَذْهَبَ عِظَمُ كَلِمَتِي الَّتِي قُلْتُ غَضَبَهُ ثُمَّ قَالَ مَا كَانَ لأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ہم ​کو ‌محمد ‌بن ‌علاء نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش سے، وہ عمرو بن مرہ سے، وہ سالم بن ابی الجعد سے، انہوں نے ابو برزہ سے، انہوں نے کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک آدمی سے ناراض ہو گئے، تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول وہ کون ہے؟ اس نے کہا کہ اگر آپ نے مجھے ایسا کرنے کا حکم دیا تو میں نے اس کا سر قلم کرنے کو کیوں کہا؟ . اس نے کہا کیا تم نے ایسا کیا؟ میں نے کہا، ''ہاں''۔ اس نے کہا خدا کی قسم میں اپنے اس قول کی عظمت کو دور کر دوں گا جو میں نے اس کے غصے میں کہی تھی۔ پھر فرمایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔
It Was سنن نسائی #۴۰۷۲ Sahih
سنن نسائی : ۱۷۸
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​أَبُو ‌دَاوُدَ، ‌قَالَ ​حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ مَرَرْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ مُتَغَيِّظٌ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ مَنْ هَذَا الَّذِي تَغَيَّظُ عَلَيْهِ قَالَ وَلِمَ تَسْأَلُ قُلْتُ أَضْرِبُ عُنُقَهُ ‏.‏ قَالَ فَوَاللَّهِ لأَذْهَبَ عِظَمُ كَلِمَتِي غَضَبَهُ ثُمَّ قَالَ مَا كَانَتْ لأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ہم ​سے ‌ابوداؤد ‌نے ​بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امش نے بیان کیا، وہ عمرو بن مرہ سے، انہوں نے ابو البختری سے، انہوں نے ابو برزہ سے، انہوں نے کہا کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، وہ اپنے ایک ساتھی سے ناراض تھے، تو میں نے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین تم یہ کس سے ناراض ہوئے؟ اس نے کہا اور کیوں؟ تم پوچھو، میں نے کہا، "میں اس کی گردن ماروں گا۔" اس نے کہا خدا کی قسم میری باتیں اس کے غضب کی عظمت کو دور کر دیں گی۔ پھر فرمایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کسی کے لیے نہیں تھا۔
It Was سنن نسائی #۴۰۷۳ Sahih
سنن نسائی : ۱۷۹
ابن عباد رضی اللہ عنہ
Daif
أَخْبَرَنَا ‌أَحْمَدُ ​بْنُ ​سُلَيْمَانَ، ​قَالَ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، وَقَعَ فِي أَبٍ كَانَ لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَطَمَهُ الْعَبَّاسُ فَجَاءَ قَوْمُهُ فَقَالُوا لَيَلْطِمَنَّهُ كَمَا لَطَمَهُ ‏.‏ فَلَبِسُوا السِّلاَحَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ ‏"‏ أَيُّهَا النَّاسُ أَىُّ أَهْلِ الأَرْضِ تَعْلَمُونَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا أَنْتَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ لاَ تَسُبُّوا مَوْتَانَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَ الْقَوْمُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِكَ اسْتَغْفِرْ لَنَا ‏.‏
ہم ‌کو ​احمد ​بن ​سلیمان نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبید اللہ نے اسرائیل کے واسطہ سے اور عبد العلا کی سند سے خبر دی کہ انہوں نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص کو زمانہ جاہلیت میں اپنے ایک باپ سے محبت ہو گئی اور عباس رضی اللہ عنہ نے اسے تھپڑ مارا۔ پھر اس کے لوگ آئے اور کہا کہ اسے تھپڑ مارو اس نے اسے مارا۔ چنانچہ انہوں نے ہتھیار رکھ لیے اور اس کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا: اے لوگو تم زمین کے کن لوگوں کو جانتے ہو جو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز ہے؟ پاک ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ تم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، ہمارے مردوں کو گالی نہ دو، ورنہ ہمارے زندہ کو نقصان نہ پہنچا دو۔ پھر لوگ آئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ہم آپ کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہمارے لیے معافی مانگیں۔
ابن عباد رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۴۷۷۵ Daif
سنن نسائی : ۱۸۰
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​مُحَمَّدُ ​بْنُ ​قُدَامَةَ، ​عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي، ذَرٍّ قَالاَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجْلِسُ بَيْنَ ظَهْرَانَىْ أَصْحَابِهِ فَيَجِيءُ الْغَرِيبُ فَلاَ يَدْرِي أَيُّهُمْ هُوَ حَتَّى يَسْأَلَ فَطَلَبْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَجْعَلَ لَهُ مَجْلِسًا يَعْرِفُهُ الْغَرِيبُ إِذَا أَتَاهُ فَبَنَيْنَا لَهُ دُكَّانًا مِنْ طِينٍ كَانَ يَجْلِسُ عَلَيْهِ وَإِنَّا لَجُلُوسٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَجْلِسِهِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ أَحْسَنُ النَّاسِ وَجْهًا وَأَطْيَبُ النَّاسِ رِيحًا كَأَنَّ ثِيَابَهُ لَمْ يَمَسَّهَا دَنَسٌ حَتَّى سَلَّمَ فِي طَرَفِ الْبِسَاطِ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ ‏.‏ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ قَالَ أَدْنُو يَا مُحَمَّدُ قَالَ ‏"‏ ادْنُهْ ‏"‏ ‏.‏ فَمَا زَالَ يَقُولُ أَدْنُو مِرَارًا وَيَقُولُ لَهُ ‏"‏ ادْنُ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي مَا الإِسْلاَمُ قَالَ ‏"‏ الإِسْلاَمُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ صَدَقْتَ ‏.‏ فَلَمَّا سَمِعْنَا قَوْلَ الرَّجُلِ صَدَقْتَ أَنْكَرْنَاهُ قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي مَا الإِيمَانُ قَالَ ‏"‏ الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَتُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ صَدَقْتَ ‏.‏ قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي مَا الإِحْسَانُ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ صَدَقْتَ ‏.‏ قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي مَتَى السَّاعَةُ قَالَ فَنَكَسَ فَلَمْ يُجِبْهُ شَيْئًا ثُمَّ أَعَادَ فَلَمْ يُجِبْهُ شَيْئًا ثُمَّ أَعَادَ فَلَمْ يُجِبْهُ شَيْئًا وَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ ‏"‏ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَلَكِنْ لَهَا عَلاَمَاتٌ تُعْرَفُ بِهَا إِذَا رَأَيْتَ الرِّعَاءَ الْبُهُمَ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ مُلُوكَ الأَرْضِ وَرَأَيْتَ الْمَرْأَةَ تَلِدُ رَبَّهَا خَمْسٌ لاَ يَعْلَمُهَا إِلاَّ اللَّهُ ‏{‏ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ لاَ وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ هُدًى وَبَشِيرًا مَا كُنْتُ بِأَعْلَمَ بِهِ مِنْ رَجُلٍ مِنْكُمْ وَإِنَّهُ لَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ نَزَلَ فِي صُورَةِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ ‏"‏ ‏.‏
ہم ​کو ​محمد ​بن ​قدامہ نے جریر سے، ابو فروہ سے، ابو زرع سے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور ابوذر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے سامنے بیٹھتے اور ان کے سامنے کوئی اجنبی آ جاتا، تو ہم نے پوچھا کہ اللہ کے رسول سے کون سی دعائیں مانگتا ہے؟ اور اسے سلامتی عطا فرما۔ اور اس نے اجازت دی کہ ہم اس کے لیے بیٹھنے کی جگہ بنائیں تاکہ اجنبی جب اس کے پاس آئے تو اسے پہچان لے، اس لیے ہم نے اس کے لیے مٹی کی ایک دکان بنائی جس میں وہ بیٹھا کرتے تھے، اور ہم بیٹھے ہوئے ہیں جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں، اللہ آپ پر رحمت نازل فرمائے، ان کی مجلس میں ایک شخص آیا جس کے چہرے پر سب سے خوبصورت اور سب سے زیادہ خوبصورت لباس تھا، اگر اس کے لباس کو لوگوں نے نہ چھوا۔ کسی بھی گندگی سے جب تک کہ وہ سلام نہ کرے۔ قالین کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر سلام ہو۔ اس نے جواب دیا: السلام علیکم۔ اس نے کہا اے محمد قریب آؤ۔ اس نے کہا قریب آؤ۔ وہ کہتا چلا گیا، قریب آؤ۔ بار بار، اس نے اس سے کہا، "قریب آؤ۔" یہاں تک کہ اس نے اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھا اور فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کیا بتاؤ؟ اسلام نے کہا کہ اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز پڑھو، زکوٰۃ ادا کرو، بیت اللہ کا حج کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے کہا اگر میں نے ایسا کیا تو میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس نے کہا ہاں۔ اس نے کہا تم نے سچ کہا۔ جب ہم نے اس آدمی کا یہ بیان سنا، ’’تم نے سچ کہا،‘‘ ہم نے اس کی تردید کی۔ اس نے کہا۔ اے محمد بتاؤ ایمان کیا ہے؟ فرمایا خدا اور اس کے فرشتوں اور کتاب اور انبیاء پر ایمان اور تقدیر پر ایمان لانا۔ اس نے کہا اگر میں ایسا کروں تو میں ایمان لے آیا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا تم نے سچ کہا۔ اس نے کہا اے محمد مجھے بتاؤ احسان کیا ہے؟ اس نے کہا خدا کی عبادت اس طرح کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس نے کہا تم ٹھیک کہتے ہو۔ اس نے کہا اے محمد مجھے بتاؤ کہ قیامت کب آئے گی؟ اس نے کہا تو وہ جھک گیا اور اس نے اسے کچھ جواب نہ دیا۔ پھر اس نے اسے دہرایا تو اس نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر اس نے اسے دہرایا تو اس نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے سر اٹھایا اور کہا اس کا ذمہ دار کیا ہے؟ میں سائل سے زیادہ جانتا ہوں، لیکن اس میں نشانیاں ہیں جن سے آپ کو پہچانا جائے گا: جب تم ڈرپوک چرواہوں کو عمارتیں بنانے میں مقابلہ کرتے ہوئے دیکھتے ہو، اور تم زمین کے ننگے پاؤں اور ننگے بادشاہوں کو دیکھتے ہو۔ اور میں نے اس عورت کو پانچ بار اپنے رب کو جنم دیتے دیکھا، اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ {بے شک قیامت کا علم خدا کے پاس ہے} اس کے کہنے پر بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔‘‘ پھر فرمایا نہیں اس ذات کی قسم جس نے محمد کو حق کے ساتھ ہدایت اور بشارت دے کر بھیجا، میں اسے تم میں سے کسی آدمی سے زیادہ نہیں جانتا تھا۔ اور جبرائیل علیہ السلام پر دحی الکلبی کی صورت میں نازل ہوا۔
It Was سنن نسائی #۴۹۹۱ Sahih