سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۰۹۱۵
حدیث #۳۰۹۱۵
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَغْرِبَ فَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ وَعَقَّبَ مَنْ عَقَّبَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُسْرِعًا قَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ و قَدْ حَسَرَ عَنْ رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ
" أَبْشِرُوا هَذَا رَبُّكُمْ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلاَئِكَةَ يَقُولُ انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي قَدْ قَضَوْا فَرِيضَةً وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى " .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، کچھ لوگ واپس چلے گئے، اور کچھ لوگ پیچھے مسجد میں رہ گئے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی کے ساتھ آئے، آپ کا سانس پھول رہا تھا، اور آپ کے دونوں گھٹنے کھلے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ! یہ تمہارا رب ہے، اس نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا، اور تمہارا ذکر فرشتوں سے فخریہ فرما رہا ہے اور کہہ رہا ہے: فرشتو! میرے بندوں کو دیکھو، ان لوگوں نے ایک فریضے کی ادائیگی کر لی ہے، اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں ۱؎۔
راوی
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۴/۸۰۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۴: مساجد اور جماعت