سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۱۴۷۱
حدیث #۳۱۴۷۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِمَا كَانَ يَسْتَفْتِحُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلاَتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَتْ كَانَ يَقُولُ
" اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَئِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ " .
قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ احْفَظُوهُ جِبْرَئِيلُ مَهْمُوزَةً فَإِنَّهُ كَذَا عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں قیام کرتے تو کس دعا سے اپنی نماز شروع کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم رب جبرئيل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك لتهدي إلى صراط مستقيم» اے اللہ! جبرائیل، ۱؎ میکائیل، اور اسرافیل کے رب، آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے، تو اپنے بندوں کے درمیان ان کے اختلافی امور میں فیصلہ کرتا ہے، تو اپنے حکم سے اختلافی امور میں مجھے حق کی راہنمائی فرما، بیشک تو ہی راہ راست کی راہنمائی فرماتا ہے۔ عبدالرحمٰن بن عمر کہتے ہیں: یاد رکھو جبرائیل ہمزہ کے ساتھ ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی منقول ہے۔
راوی
ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۵/۱۳۵۷
درجہ
Hasan
زمرہ
باب ۵: نماز قائم کرنا