سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۱۵۳۹
حدیث #۳۱۵۳۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ، قَالَ قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا أَتَيْتَ أَهْلَ مِصْرِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ
" إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، الصَّلاَةُ الْمَكْتُوبَةُ فَإِنْ أَتَمَّهَا، وَإِلاَّ قِيلَ: انْظُرُوا هَلْ لَهُ مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ أُكْمِلَتِ الْفَرِيضَةُ مِنْ تَطَوُّعِهِ. ثُمَّ يُفْعَلُ بِسَائِرِ الأَعْمَالِ الْمَفْرُوضَةِ مِثْلُ ذَلِكَ " .
انس بن حکیم کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ جب تم اپنے شہر والوں کے پاس پہنچو تو ان کو بتاؤ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: مسلمان بندے سے قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ فرض نماز ہو گی، اگر اس نے اسے کامل طریقے سے ادا کی ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ کہا جائے گا کہ دیکھو کیا اس کے پاس کچھ نفل ہے؟ اگر اس کے پاس نفل نمازیں ہوں گی تو اس سے فرض میں کمی پوری کی جائے گی، پھر باقی دوسرے فرائض اعمال کے ساتھ ایسا ہی کیا جائے گا ۔
راوی
انس بن حکیم دبی رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۵/۱۴۲۵
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۵: نماز قائم کرنا