Jihad کے بارے میں احادیث

۳۲۷ مستند احادیث ملیں

صحیح بخاری : ۴۱
عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​مُوسَى ​بْنُ ‌إِسْمَاعِيلَ، ‌حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا قَفَلَ كَبَّرَ ثَلاَثًا قَالَ ‏ "‏ آيِبُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَائِبُونَ عَابِدُونَ حَامِدُونَ لِرَبِّنَا سَاجِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ​موسیٰ ‌بن ‌اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( جہاد سے ) واپس ہوتے تو تین بار اللہ اکبر کہتے ‘ اور یہ دعا پڑھتے «آيبون إن شاء الله تائبون عابدون حامدون لربنا ساجدون،‏‏‏‏ صدق الله وعده،‏‏‏‏ ونصر عبده،‏‏‏‏ وهزم الأحزاب وحده» ”ان شاءاللہ ہم اللہ کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ہم توبہ کرنے والے ہیں۔ اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں۔ اس کی تعریف کرنے والے اور اس کے لیے سجدہ کرنے والے ہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا ‘ اپنے بندے کی مدد کی ‘ اور کافروں کے لشکر کو اسی اکیلے نے شکست دے دی۔“
عبداللہ (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۳۰۸۴ Sahih
صحیح بخاری : ۴۲
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌إِسْمَاعِيلُ، ‌قَالَ ​حَدَّثَنِي ​مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ، لاَ يُخْرِجُهُ إِلاَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَاتِهِ، بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ ‏{‏مَعَ مَا نَالَ‏}‏ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ ‏"‏‏.‏
ہم ‌سے ‌اسماعیل ​بن ​ابی اویس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوالزناد نے ‘ ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے ‘ جہاد ہی کی نیت سے نکلے ‘ اللہ کے کلام ( اس کے وعدے ) کو سچ جان کر ‘ تو اللہ اس کا ضامن ہے۔ یا تو اللہ تعالیٰ اس کو شہید کر کے جنت میں لے جائے گا ‘ یا اس کو ثواب اور غنیمت کا مال دلا کر اس کے گھر لوٹا لائے گا۔“
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۳۱۲۳ Sahih
صحیح بخاری : ۴۳
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
Sahih
حَدَّثَنَا ‌عَلِيُّ ​بْنُ ‌عَبْدِ ​اللَّهِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ‏"‏ لاَ هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ‏"‏‏.‏ وَقَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ‏"‏ إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، فَهْوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلاَّ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، فَهْوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لاَ يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلاَ يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلاَّ مَنْ عَرَّفَهَا، وَلاَ يُخْتَلَى خَلاَهُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ الإِذْخِرَ، فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِلاَّ الإِذْخِرَ ‏"‏‏.‏
ہم ‌سے ​علی ‌بن ​عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے مجاہد نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا تھا، اب ( مکہ سے ) ہجرت فرض نہیں رہی۔ البتہ جہاد کی نیت اور جہاد کا حکم باقی ہے۔ اس لیے جب تمہیں جہاد کے لیے نکالا جائے تو فوراً نکل جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن یہ بھی فرمایا تھا کہ جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کئے، اسی دن اس شہر ( مکہ ) کو حرم قرار دے دیا۔ پس یہ شہر اللہ کی حرمت کے ساتھ قیامت تک کے لیے حرام ہی رہے گا، اور مجھ سے پہلے یہاں کسی کے لیے لڑنا جائز نہیں ہوا۔ اور میرے لیے بھی دن کی صرف ایک گھڑی کے لیے جائز کیا گیا۔ پس اب یہ مبارک شہر اللہ تعالیٰ کی حرمت کے ساتھ قیامت تک کے لیے حرام ہے، اس کی حدود میں نہ ( کسی درخت کا ) کانٹا توڑا جائے، نہ یہاں کے شکار کو ستایا جائے، اور کوئی یہاں کی گری ہوئی چیز نہ اٹھائے سوا اس شخص کے جو ( مالک تک چیز کو پہنچانے کے لیے ) اعلان کرے اور نہ یہاں کی ہری گھاس کاٹی جائے۔ اس پر عباس رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ! اذخر کی اجازت دے دیجئیے۔ کیونکہ یہ یہاں کے سناروں اور گھروں کی چھتوں پر ڈالنے کے کام آتی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اذخر کی اجازت ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما صحیح بخاری #۳۱۸۹ Sahih
صحیح بخاری : ۴۴
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​عَبْدُ ​اللَّهِ ​بْنُ ‌مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْخَيْلُ لِثَلاَثَةٍ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ‏.‏ فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ، وَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٍ، وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا، فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ، كَانَتْ أَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ، وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهْرٍ فَشَرِبَتْ، وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَهَا، كَانَ ذَلِكَ لَهُ حَسَنَاتٍ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَسِتْرًا وَتَعَفُّفًا، لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَظُهُورِهَا، فَهِيَ لَهُ كَذَلِكَ سِتْرٌ‏.‏ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَاءً، وَنِوَاءً لأَهْلِ الإِسْلاَمِ فَهْىَ وِزْرٌ‏.‏ وَسُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْحُمُرِ فَقَالَ ‏"‏ مَا أُنْزِلَ عَلَىَّ فِيهَا إِلاَّ هَذِهِ الآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ ‏{‏فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ‏}‏
ہم ​سے ​عبداللہ ​بن ‌مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑے تین آدمیوں کے لیے ہیں۔ ایک کے لیے تو وہ باعث ثواب ہیں اور ایک کے لیے وہ معاف یعنی مباح ہیں اور ایک کے لیے وہ وبال ہیں۔ جس کے لیے گھوڑا باعث ثواب ہے یہ وہ شخص ہے جو جہاد کے لیے اسے پالے اور چراگاہ یا باغ میں اس کی رسی کو ( جس سے وہ بندھا ہوتا ہے ) خوب دراز کر دے تو وہ اپنے اس طول و عرض میں جو کچھ بھی چرتا ہے وہ سب اس کے مالک کے لیے نیکیاں بن جاتی ہیں اور اگر کبھی وہ اپنی رسی تڑا کر دو چار قدم دوڑ لے تو اس کی لید بھی مالک کے لیے باعث ثواب بن جاتی ہے اور کبھی اگر وہ کسی نہر سے گزرتے ہوئے اس میں سے پانی پی لے اگرچہ مالک کے دل میں اسے پہلے سے پانی پلانے کا خیال بھی نہ تھا، پھر بھی گھوڑے کا پانی پینا اس کے لیے ثواب بن جاتا ہے۔ اور ایک وہ آدمی جو گھوڑے کو لوگوں کے سامنے اپنی حاجت، پردہ پوشی اور سوال سے بچے رہنے کی غرض سے پالے اور اللہ تعالیٰ کا جو حق اس کی گردن اور اس کی پیٹھ میں ہے اسے بھی وہ فراموش نہ کرے تو یہ گھوڑا اس کے لیے ایک طرح کا پردہ ہوتا ہے اور ایک شخص وہ ہے جو گھوڑے کو فخر اور دکھاوے اور اہل اسلام کی دشمنی میں پالے تو وہ اس کے لیے وبال جان ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس جامع آیت کے سوا مجھ پر گدھوں کے بارے میں کچھ نازل نہیں ہوا «فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره‏» ”جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی نیکی کرے گا تو اس کا بھی وہ بدلہ پائے گا اور جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی برائی کرے گا تو وہ اس کا بھی بدلہ پائے گا۔“
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۳۶۴۶ Sahih
صحیح بخاری : ۴۵
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌أَبُو ‌الْيَمَانِ، ​حَدَّثَنَا ‌شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَىْءٍ مِنَ الأَشْيَاءِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ ـ يَعْنِي الْجَنَّةَ ـ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ باب الصَّلاَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ باب الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ باب الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ باب الصِّيَامِ، وَبَابِ الرَّيَّانِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا عَلَى هَذَا الَّذِي يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، وَقَالَ هَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ ‏"‏‏.‏
ہم ‌سے ‌ابوالیمان ​نے ‌بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اللہ کے راستے میں کسی چیز کا ایک جوڑا خرچ کیا ( مثلاً دو روپے، دو کپڑے، دو گھوڑے اللہ تعالیٰ کے راستے میں دیے ) تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے! ادھر آ، یہ دروازہ بہتر ہے پس جو شخص نمازی ہو گا اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو شخص مجاہد ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو شخص اہل صدقہ میں سے ہو گا اسے صدقہ کے دروازہ سے بلایا جائے گا اور جو شخص روزہ دار ہو گا اسے صیام اور ریان ( سیرابی ) کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جس شخص کو ان تمام ہی دروازوں سے بلایا جائے گا پھر تو اسے کسی قسم کا خوف باقی نہیں رہے گا اور پوچھا کیا کوئی شخص ایسا بھی ہو گا جسے ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم بھی انہیں میں سے ہو گے اے ابوبکر!۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۳۶۶۶ Sahih
صحیح بخاری : ۴۶
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌آدَمُ، ​حَدَّثَنَا ‌شُعْبَةُ، ‌عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَتِ الأَنْصَارُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ تَقُولُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا حَيِينَا أَبَدَا فَأَجَابَهُمُ اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَهْ فَأَكْرِمِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ
ہم ‌سے ​آدم ‌بن ‌ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا آپ نے فرمایا کہ انصار غزوہ خندق کے موقعہ پر ( خندق کھودتے ہوئے ) یہ شعر پڑھتے تھے «نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما حيينا أبدا» ”ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جہاد پر بیعت کی ہے، جب تک ہماری جان میں جان ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جب یہ سنا تو ) اس کے جواب میں یوں فرمایا «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأكرم الأنصار والمهاجره» ”اے اللہ! آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی حقیقی زندگی نہیں ہے، پس انصار اور مہاجرین پر اپنا فضل و کرم فرما۔“
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۳۷۹۶ Sahih
صحیح بخاری : ۴۷
عطاء بن ابی رباح
Sahih
وَحَدَّثَنِي ​الأَوْزَاعِيُّ، ​عَنْ ‌عَطَاءِ ‌بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ زُرْتُ عَائِشَةَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ فَسَأَلْنَاهَا عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَتْ لاَ هِجْرَةَ الْيَوْمَ، كَانَ الْمُؤْمِنُونَ يَفِرُّ أَحَدُهُمْ بِدِينِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَإِلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مَخَافَةَ أَنْ يُفْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَقَدْ أَظْهَرَ اللَّهُ الإِسْلاَمَ، وَالْيَوْمَ يَعْبُدُ رَبَّهُ حَيْثُ شَاءَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ‏.‏
مجھ ​سے ​اوزاعی ‌نے ‌بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ عبید بن عمیر لیثی کے ساتھ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہم نے ان سے فتح مکہ کے بعد ہجرت کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب مسلمان اپنے دین کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف عہد کر کے آتا تھا۔ اس خطرہ کی وجہ سے کہ کہیں وہ فتنہ میں نہ پڑ جائے لیکن اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کر دیا ہے اور آج ( سر زمین عرب میں ) انسان جہاں بھی چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے، البتہ جہاد اور نیت ثواب باقی ہے۔
عطاء بن ابی رباح صحیح بخاری #۳۹۰۰ Sahih
صحیح بخاری : ۴۸
ابو بردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​يَحْيَى ‌بْنُ ​بِشْرٍ، ​حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيُّ، قَالَ قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ هَلْ تَدْرِي مَا قَالَ أَبِي لأَبِيكَ قَالَ قُلْتُ لاَ‏.‏ قَالَ فَإِنَّ أَبِي قَالَ لأَبِيكَ يَا أَبَا مُوسَى، هَلْ يَسُرُّكَ إِسْلاَمُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِجْرَتُنَا مَعَهُ، وَجِهَادُنَا مَعَهُ، وَعَمَلُنَا كُلُّهُ مَعَهُ، بَرَدَ لَنَا، وَأَنَّ كُلَّ عَمَلٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ فَقَالَ أَبِي لاَ وَاللَّهِ، قَدْ جَاهَدْنَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَلَّيْنَا، وَصُمْنَا، وَعَمِلْنَا خَيْرًا كَثِيرًا، وَأَسْلَمَ عَلَى أَيْدِينَا بَشَرٌ كَثِيرٌ، وَإِنَّا لَنَرْجُو ذَلِكَ‏.‏ فَقَالَ أَبِي لَكِنِّي أَنَا وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ بَرَدَ لَنَا، وَأَنَّ كُلَّ شَىْءٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ‏.‏ فَقُلْتُ إِنَّ أَبَاكَ وَاللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَبِي‏.‏
ہم ​سے ‌یحییٰ ​بن ​بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے روح نے بیان کیا، ان سے عوف نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن قرہ نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا، کیا تم کو معلوم ہے کہ میرے والد عمر رضی اللہ عنہ نے تمہارے والد ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو کیا جواب دیا تھا؟ انہوں نے کہا نہیں، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کہا: اے ابوموسیٰ! کیا تم اس پر راضی ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارا اسلام، آپ کے ساتھ ہماری ہجرت، آپ کے ساتھ ہمارا جہاد ہمارے تمام عمل جو ہم نے آپ کی زندگی میں کئے ہیں ان کے بدلہ میں ہم اپنے ان اعمال سے نجات پا جائیں جو ہم نے آپ کے بعد کئے ہیں گو وہ نیک بھی ہوں بس برابری پر معاملہ ختم ہو جائے۔ اس پر آپ کے والد نے میرے والد سے کہا اللہ کی قسم! میں اس پر راضی نہیں ہوں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی جہاد کیا، نمازیں پڑھیں، روزے رکھے اور بہت سے اعمال خیر کئے اور ہمارے ہاتھ پر ایک مخلوق نے اسلام قبول کیا، ہم تو اس کے ثواب کی بھی امید رکھتے ہیں اس پر میرے والد نے کہا ( خیر ابھی تم سمجھو ) لیکن جہاں تک میرا سوال ہے تو اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری خواہش ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کئے ہوئے ہمارے اعمال محفوظ رہے ہوں اور جتنے اعمال ہم نے آپ کے بعد کئے ہیں ان سب سے اس کے بدلہ میں ہم نجات پا جائیں اور برابر پر معاملہ ختم ہو جائے۔ ابوبردہ کہتے ہیں اس پر میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کے والد ( عمر رضی اللہ عنہ ) میرے والد ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ) سے بہتر تھے۔
ابو بردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۳۹۱۵ Sahih
صحیح بخاری : ۴۹
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌عَبْدُ ‌اللَّهِ ​بْنُ ​مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ، سَمِعْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْخَنْدَقِ، فَإِذَا الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ عَبِيدٌ يَعْمَلُونَ ذَلِكَ لَهُمْ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ النَّصَبِ وَالْجُوعِ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ‏"‏ فَقَالُوا مُجِيبِينَ لَهُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا
ہم ‌سے ‌عبداللہ ​بن ​محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق فزاری نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ فرمایا کہ مہاجرین اور انصار سردی میں صبح سویرے ہی خندق کھود رہے ہیں۔ ان کے پاس غلام نہیں تھے کہ ان کے بجائے وہ اس کام کو انجام دیتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس مشقت اور بھوک کو دیکھا تو دعا کی «اللهم إن العيش عيش الآخرة. فاغفر للأنصار والمهاجره» ”اے اللہ! زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے۔ پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے جواب میں کہا «نحن الذين بايعوا محمدا *** على الجهاد ما بقينا أبدا» ہم ہی ہیں جنہوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جہاد کرنے کے لیے بیعت کی ہے۔ جب تک ہماری جان میں جان ہے۔
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۴۰۹۹ Sahih
صحیح بخاری : ۵۰
مجاشی رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌عَمْرُو ‌بْنُ ‌خَالِدٍ، ​حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُجَاشِعٌ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِأَخِي بَعْدَ الْفَتْحِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُكَ بِأَخِي لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ذَهَبَ أَهْلُ الْهِجْرَةِ بِمَا فِيهَا ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ تُبَايِعُهُ قَالَ ‏"‏ أُبَايِعُهُ عَلَى الإِسْلاَمِ وَالإِيمَانِ وَالْجِهَادِ‏" فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ بَعْدُ وَكَانَ أَكْبَرَهُمَا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ‏
مجاشی ‌کہتے ‌ہیں ‌کہ ​میں فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے بھائی کے ساتھ آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ ان سے ہجرت کی بیعت لیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل ہجرت (یعنی فتح سے قبل مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والوں) نے ہجرت کی سعادت حاصل کی (یعنی اب ہجرت کی ضرورت نہیں)، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ ان سے کس چیز پر بیعت کریں گے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان کی بیعت کروں گا، اسلام کی بیعت کروں گا۔ (یعنی اللہ کی راہ میں لڑنا)
مجاشی رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۴۳۰۵ Sahih
صحیح بخاری : ۵۱
مجاشی رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌عَمْرُو ‌بْنُ ​خَالِدٍ، ‌حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُجَاشِعٌ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِأَخِي بَعْدَ الْفَتْحِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُكَ بِأَخِي لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ذَهَبَ أَهْلُ الْهِجْرَةِ بِمَا فِيهَا ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ تُبَايِعُهُ قَالَ ‏"‏ أُبَايِعُهُ عَلَى الإِسْلاَمِ وَالإِيمَانِ وَالْجِهَادِ‏" فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ بَعْدُ وَكَانَ أَكْبَرَهُمَا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ‏.
میں ‌فتح ‌مکہ ​کے ‌بعد اپنے بھائی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے بھائی کے ساتھ آپ کے پاس آیا تاکہ آپ اس سے ہجرت کے لیے بیعت لیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل ہجرت (یعنی فتح سے پہلے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے) ہجرت کی سعادت حاصل کی (یعنی اب ہجرت کی ضرورت نہیں ہے)۔‘‘ میں نے کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ ان کی بیعت کس لیے کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس کی بیعت لوں گا۔ اسلام، عقیدہ، اور جہاد کے لیے بیعت (یعنی اللہ کی راہ میں لڑنا)۔
مجاشی رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۴۳۰۶ Sahih
صحیح بخاری : ۵۲
مجاشی بن مسعود رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مُحَمَّدُ ‌بْنُ ​أَبِي ​بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ، انْطَلَقْتُ بِأَبِي مَعْبَدٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ ‏ "‏ مَضَتِ الْهِجْرَةُ لأَهْلِهَا، أُبَايِعُهُ عَلَى الإِسْلاَمِ وَالْجِهَادِ." فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ‏.‏ وَقَالَ خَالِدٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ مُجَاشِعٍ أَنَّهُ جَاءَ بِأَخِيهِ مُجَالِدٍ‏.‏
مجاشی ‌بن ‌مسعود ​رضی ​اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابو معبد کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا تاکہ آپ ان سے ہجرت کی بیعت کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہجرت اس کے لوگوں کی طرف چلی گئی، لیکن میں اس (یعنی ابو معبد) سے اسلام اور جہاد کی بیعت لیتا ہوں۔
مجاشی بن مسعود رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۴۳۰۷ Sahih
صحیح بخاری : ۵۳
مجاشی بن مسعود رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مُحَمَّدُ ​بْنُ ‌أَبِي ‌بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ، انْطَلَقْتُ بِأَبِي مَعْبَدٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ ‏ "‏ مَضَتِ الْهِجْرَةُ لأَهْلِهَا، أُبَايِعُهُ عَلَى الإِسْلاَمِ وَالْجِهَادِ." فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ‏.‏ وَقَالَ خَالِدٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ مُجَاشِعٍ أَنَّهُ جَاءَ بِأَخِيهِ مُجَالِدٍ‏.‏
میں ‌ابو ​معبد ‌کو ‌رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بیعت کریں۔ نقل مکانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہجرت اپنے لوگوں کی طرف چلی گئی لیکن میں اس سے بیعت لیتا ہوں۔ ابو معبد) اسلام اور جہاد کے لیے۔"
مجاشی بن مسعود رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۴۳۰۸ Sahih
صحیح بخاری : ۵۴
مجاہد رحمۃ اللہ علیہ
Sahih
حَدَّثَنِي ‌مُحَمَّدُ ​بْنُ ‌بَشَّارٍ، ​حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُهَاجِرَ إِلَى الشَّأْمِ‏.‏ قَالَ لاَ هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ، فَانْطَلِقْ فَاعْرِضْ نَفْسَكَ، فَإِنْ وَجَدْتَ شَيْئًا وَإِلاَّ رَجَعْتَ‏.‏
مجھ ‌سے ​محمد ‌بن ​بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے اور ان سے مجاہد نے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میرا ارادہ ہے کہ میں ملک شام کو ہجرت کر جاؤں، فرمایا: اب ہجرت باقی نہیں رہی، جہاد ہی باقی رہ گیا ہے۔ اس لیے جاؤ اور خود کو پیش کرو۔ اگر تم نے کچھ پا لیا تو بہتر ورنہ واپس آ جانا۔
مجاہد رحمۃ اللہ علیہ صحیح بخاری #۴۳۰۹ Sahih
صحیح بخاری : ۵۵
عطاء بن ابی رباح
Sahih
حَدَّثَنَا ​إِسْحَاقُ ‌بْنُ ‌يَزِيدَ، ‌حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ زُرْتُ عَائِشَةَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ فَسَأَلَهَا عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَتْ لاَ هِجْرَةَ الْيَوْمَ، كَانَ الْمُؤْمِنُ يَفِرُّ أَحَدُهُمْ بِدِينِهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مَخَافَةَ أَنْ يُفْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَقَدْ أَظْهَرَ اللَّهُ الإِسْلاَمَ، فَالْمُؤْمِنُ يَعْبُدُ رَبَّهُ حَيْثُ شَاءَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ‏.‏
ہم ​سے ‌اسحاق ‌بن ‌یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام اوزاعی نے بیان کیا، ان سے عطا بن ابی رباح نے بیان کیا کہ میں عبید بن عمیر کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عبید نے ان سے ہجرت کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اب ہجرت باقی نہیں رہی۔ پہلے مسلمان اپنا دین بچانے کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف پناہ لینے کے لیے آتے تھے، اس خوف سے کہ کہیں دین کی وجہ سے فتنہ میں نہ پڑ جائیں۔ اس لیے اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کر دیا تو مسلمان جہاں بھی چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے۔ اب تو صرف جہاد اور جہاد کی نیت کا ثواب باقی ہے۔
عطاء بن ابی رباح صحیح بخاری #۴۳۱۲ Sahih
صحیح بخاری : ۵۶
نافع بن عمر رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مُحَمَّدُ ‌بْنُ ‌بَشَّارٍ، ​حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَتَاهُ رَجُلاَنِ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالاَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ ضُيِّعُوا، وَأَنْتَ ابْنُ عُمَرَ وَصَاحِبُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَخْرُجَ فَقَالَ يَمْنَعُنِي أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ دَمَ أَخِي‏.‏ فَقَالاَ أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ ‏{‏وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ ‏}‏ فَقَالَ قَاتَلْنَا حَتَّى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ، وَكَانَ الدِّينُ لِلَّهِ، وَأَنْتُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّى تَكُونَ فِتْنَةٌ، وَيَكُونَ الدِّينُ لِغَيْرِ اللَّهِ‏.‏ وَزَادَ عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي فُلاَنٌ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَهُ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ تَحُجَّ عَامًا وَتَعْتَمِرَ عَامًا، وَتَتْرُكَ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَدْ عَلِمْتَ مَا رَغَّبَ اللَّهُ فِيهِ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ إِيمَانٍ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَالصَّلاَةِ الْخَمْسِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ، وَأَدَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ‏.‏ قَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَلاَ تَسْمَعُ مَا ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ ‏{‏وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا‏}‏ ‏{‏إِلَى أَمْرِ اللَّهِ‏}‏ ‏{‏قَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ‏}‏ قَالَ فَعَلْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ الإِسْلاَمُ قَلِيلاً، فَكَانَ الرَّجُلُ يُفْتَنُ فِي دِينِهِ إِمَّا قَتَلُوهُ، وَإِمَّا يُعَذِّبُوهُ، حَتَّى كَثُرَ الإِسْلاَمُ فَلَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ‏.‏ قَالَ فَمَا قَوْلُكَ فِي عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ قَالَ أَمَّا عُثْمَانُ فَكَأَنَّ اللَّهَ عَفَا عَنْهُ، وَأَمَّا أَنْتُمْ فَكَرِهْتُمْ أَنْ تَعْفُوا عَنْهُ، وَأَمَّا عَلِيٌّ فَابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَخَتَنُهُ‏.‏ وَأَشَارَ بِيَدِهِ فَقَالَ هَذَا بَيْتُهُ حَيْثُ تَرَوْنَ‏.‏
نافع ‌کہتے ‌ہیں ‌کہ ​ابن زبیر کی مصیبت میں دو آدمی ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ لوگ گم ہو گئے ہیں اور آپ عمر کے بیٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں، تو آپ کو باہر نکلنے سے کیا چیز منع کرتی ہے؟ اس نے کہا کہ جس چیز نے مجھے منع کیا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے بھائی کا خون بہانے سے منع کیا ہے۔ دونوں نے کہا کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک لڑتے رہے جب تک کوئی مصیبت باقی نہ رہے اور عبادت اللہ کے لیے ہو (جب تک کہ تم صرف اس وقت تک لڑنا چاہتے ہو جب تک کہ مصیبت نہ ہو اور عبادت اللہ کے سوا کسی اور کے لیے نہ ہو جائے) نافع نے بیان کیا ہے کہ ایک شخص ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا اے ابو عبدالرحمٰن! کس چیز نے آپ کو حج کرنے پر مجبور کیا اور آپ کو ایک سال میں حج کرنے اور حج کے لیے چھوڑ دیا؟ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: "اے میرے بھائی کے اسلام کی بنیاد پانچ اصولوں پر ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان، پانچ نمازیں، رمضان کے روزے، زکوٰۃ کی ادائیگی، اور اللہ کے گھر کا حج۔" اس شخص نے کہا: اے ابو الرحمن! مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑو، پھر ان میں صلح کرو، لیکن اگر ان میں سے ایک دوسرے کے خلاف حد سے بڑھ جائے تو تم سب اس سے لڑو جو حد سے بڑھے (49.9) اور:-"اور ان سے اس وقت تک لڑو جب تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے (یعنی اللہ کے ساتھ دوسروں کی عبادت نہ کرنا)، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں صرف چند لوگوں کو ایسا ہی کیا تھا۔ ایک آدمی کو اس کے مذہب کی وجہ سے یا تو قتل کیا جائے گا، لیکن جب مسلمانوں میں ظلم و زیادتی بڑھ گئی تو اس شخص نے کہا: "عثمان اور علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے داماد کا۔" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: "یہ اس کا گھر ہے جسے تم دیکھ رہے ہو۔
نافع بن عمر رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۴۵۱۳ Sahih
صحیح بخاری : ۵۷
نافع بن عمر رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مُحَمَّدُ ‌بْنُ ​بَشَّارٍ، ‌حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَتَاهُ رَجُلاَنِ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالاَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ ضُيِّعُوا، وَأَنْتَ ابْنُ عُمَرَ وَصَاحِبُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَخْرُجَ فَقَالَ يَمْنَعُنِي أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ دَمَ أَخِي‏.‏ فَقَالاَ أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ ‏{‏وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ ‏}‏ فَقَالَ قَاتَلْنَا حَتَّى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ، وَكَانَ الدِّينُ لِلَّهِ، وَأَنْتُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّى تَكُونَ فِتْنَةٌ، وَيَكُونَ الدِّينُ لِغَيْرِ اللَّهِ‏.‏ وَزَادَ عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي فُلاَنٌ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَهُ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ تَحُجَّ عَامًا وَتَعْتَمِرَ عَامًا، وَتَتْرُكَ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَدْ عَلِمْتَ مَا رَغَّبَ اللَّهُ فِيهِ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ إِيمَانٍ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَالصَّلاَةِ الْخَمْسِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ، وَأَدَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ‏.‏ قَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَلاَ تَسْمَعُ مَا ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ ‏{‏وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا‏}‏ ‏{‏إِلَى أَمْرِ اللَّهِ‏}‏ ‏{‏قَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ‏}‏ قَالَ فَعَلْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ الإِسْلاَمُ قَلِيلاً، فَكَانَ الرَّجُلُ يُفْتَنُ فِي دِينِهِ إِمَّا قَتَلُوهُ، وَإِمَّا يُعَذِّبُوهُ، حَتَّى كَثُرَ الإِسْلاَمُ فَلَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ‏.‏ قَالَ فَمَا قَوْلُكَ فِي عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ قَالَ أَمَّا عُثْمَانُ فَكَأَنَّ اللَّهَ عَفَا عَنْهُ، وَأَمَّا أَنْتُمْ فَكَرِهْتُمْ أَنْ تَعْفُوا عَنْهُ، وَأَمَّا عَلِيٌّ فَابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَخَتَنُهُ‏.‏ وَأَشَارَ بِيَدِهِ فَقَالَ هَذَا بَيْتُهُ حَيْثُ تَرَوْنَ‏.‏
نافع ‌کہتے ‌ہیں ​کہ ‌ابن زبیر کی مصیبت میں دو آدمی ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ لوگ گم ہو گئے ہیں اور آپ عمر کے بیٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں، تو آپ کو باہر نکلنے سے کیا چیز منع کرتی ہے؟ اس نے کہا کہ جس چیز نے مجھے منع کیا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے بھائی کا خون بہانے سے منع کیا ہے۔ دونوں نے کہا کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک لڑتے رہے جب تک کوئی مصیبت باقی نہ رہے اور عبادت اللہ کے لیے ہو (جب تک کہ تم صرف اس وقت تک لڑنا چاہتے ہو جب تک کہ مصیبت نہ ہو اور عبادت اللہ کے سوا کسی اور کے لیے نہ ہو جائے) نافع نے بیان کیا ہے کہ ایک شخص ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا اے ابو عبدالرحمٰن! کس چیز نے آپ کو حج کرنے پر مجبور کیا اور آپ کو ایک سال میں حج کرنے اور حج کے لیے چھوڑ دیا؟ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: "اے میرے بھائی کے اسلام کی بنیاد پانچ اصولوں پر ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان، پانچ نمازیں، رمضان کے روزے، زکوٰۃ کی ادائیگی، اور اللہ کے گھر کا حج۔" اس شخص نے کہا: اے ابو الرحمن! مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑو، پھر ان میں صلح کرو، لیکن اگر ان میں سے ایک دوسرے کے خلاف حد سے بڑھ جائے تو تم سب اس سے لڑو جو حد سے بڑھے (49.9) اور:-"اور ان سے اس وقت تک لڑو جب تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے (یعنی اللہ کے ساتھ دوسروں کی عبادت نہ کرنا)، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں صرف چند لوگوں کو ایسا ہی کیا تھا۔ ایک آدمی کو اس کے مذہب کی وجہ سے یا تو قتل کیا جائے گا، لیکن جب مسلمانوں میں ظلم و زیادتی بڑھ گئی تو اس شخص نے کہا: "عثمان اور علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے داماد کا۔" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: "یہ اس کا گھر ہے جسے تم دیکھ رہے ہو۔
نافع بن عمر رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۴۵۱۴ Sahih
صحیح بخاری : ۵۸
نافع بن عمر رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مُحَمَّدُ ‌بْنُ ​بَشَّارٍ، ​حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَتَاهُ رَجُلاَنِ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالاَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ ضُيِّعُوا، وَأَنْتَ ابْنُ عُمَرَ وَصَاحِبُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَخْرُجَ فَقَالَ يَمْنَعُنِي أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ دَمَ أَخِي‏.‏ فَقَالاَ أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ ‏{‏وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ ‏}‏ فَقَالَ قَاتَلْنَا حَتَّى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ، وَكَانَ الدِّينُ لِلَّهِ، وَأَنْتُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّى تَكُونَ فِتْنَةٌ، وَيَكُونَ الدِّينُ لِغَيْرِ اللَّهِ‏.‏ وَزَادَ عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي فُلاَنٌ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَهُ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ تَحُجَّ عَامًا وَتَعْتَمِرَ عَامًا، وَتَتْرُكَ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَدْ عَلِمْتَ مَا رَغَّبَ اللَّهُ فِيهِ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ إِيمَانٍ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَالصَّلاَةِ الْخَمْسِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ، وَأَدَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ‏.‏ قَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَلاَ تَسْمَعُ مَا ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ ‏{‏وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا‏}‏ ‏{‏إِلَى أَمْرِ اللَّهِ‏}‏ ‏{‏قَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ‏}‏ قَالَ فَعَلْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ الإِسْلاَمُ قَلِيلاً، فَكَانَ الرَّجُلُ يُفْتَنُ فِي دِينِهِ إِمَّا قَتَلُوهُ، وَإِمَّا يُعَذِّبُوهُ، حَتَّى كَثُرَ الإِسْلاَمُ فَلَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ‏.‏ قَالَ فَمَا قَوْلُكَ فِي عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ قَالَ أَمَّا عُثْمَانُ فَكَأَنَّ اللَّهَ عَفَا عَنْهُ، وَأَمَّا أَنْتُمْ فَكَرِهْتُمْ أَنْ تَعْفُوا عَنْهُ، وَأَمَّا عَلِيٌّ فَابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَخَتَنُهُ‏.‏ وَأَشَارَ بِيَدِهِ فَقَالَ هَذَا بَيْتُهُ حَيْثُ تَرَوْنَ‏.‏
ابن ‌زبیر ‌کی ​مصیبت ​میں دو آدمی ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ لوگ گم ہو گئے ہیں۔ اور تم عمر کے بیٹے اور نبی کے صحابی ہو، تو تمہیں آنے سے کس چیز نے روکا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے کس چیز نے منع کیا ہے کہ اللہ نے میرے بھائی کا خون بہانا حرام کیا ہے۔ ان دونوں نے کہا کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ پھر لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم لڑتے رہے یہاں تک کہ کوئی مصیبت باقی نہ رہے اور عبادت صرف اللہ کے لیے ہو (جب تم لڑنا چاہتے ہو۔ جب تک مصیبت نہ آجائے اور جب تک عبادت اللہ کے سوا کسی اور کے لیے نہ ہوجائے۔ نافع کہتے ہیں کہ ایک شخص ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابو! ’’عبدالرحمن! کس چیز نے آپ کو ایک سال میں حج اور دوسرے سال میں عمرہ کرنے پر مجبور کیا اور چھوڑ دیا۔ جہاد فی سبیل اللہ، حالانکہ تم جانتے ہو کہ اللہ اس کی کتنی سفارش کرتا ہے؟ میرے بھائی کی! اسلام کی بنیاد پانچ اصولوں پر رکھی گئی ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا فرض نمازیں، ماہ رمضان کے روزے، زکوٰۃ کی ادائیگی اور حج (اللہ کا گھر) اس آدمی نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! کیا تم نہیں سنو گے کہ اللہ کیوں ہے؟ اس کی کتاب میں کہا گیا ہے: ''اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ''۔ لیکن اگر ان میں سے ایک دوسرے کے خلاف حد سے بڑھ جائے تو تم سب اس سے لڑو تجاوز کرتا ہے (49.9) اور:--"اور ان سے اس وقت تک لڑو جب تک کہ کوئی مصیبت باقی نہ رہے (یعنی عبادت نہ کرے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایسا کیا تھا۔ اسلام کے صرف چند پیروکار تھے۔ ایک آدمی کو اس کے مذہب کی وجہ سے آزمائش میں ڈالا جائے گا۔ وہ یا تو کرے گا مارا جائے یا تشدد کا نشانہ بنایا جائے۔ لیکن جب مسلمانوں میں اضافہ ہوا تو اب کوئی مصیبتیں یا ظلم نہیں رہا۔" اس شخص نے کہا: عثمان اور علی کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں لگتا ہے کہ اللہ نے اسے معاف کر دیا ہے، لیکن تم لوگ اس بات کو ناپسند کرتے ہو کہ اسے معاف کیا جائے۔ اور جہاں تک علی کا تعلق ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی اور آپ کے داماد ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”وہ۔ اس کا گھر ہے جسے تم دیکھ رہے ہو۔"
نافع بن عمر رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۴۵۱۵ Sahih
صحیح بخاری : ۵۹
ابو وائل رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌إِسْحَاقُ، ​أَخْبَرَنَا ‌النَّضْرُ، ‌حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، ‏{‏وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلاَ تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ‏}‏ قَالَ نَزَلَتْ فِي النَّفَقَةِ‏.‏
ہم ‌سے ​اسحاق ‌نے ‌بیان کیا، کہا ہم کو نضر نے خبر دی، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے ابووائل سے سنا اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہو اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں نہ ڈالو۔“ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
ابو وائل رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۴۵۱۶ Sahih
صحیح بخاری : ۶۰
الولید بن اثار رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌أَبُو ‌الْوَلِيدِ، ​حَدَّثَنَا ‌شُعْبَةُ، قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ عَيْزَارٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، يَقُولُ أَخْبَرَنَا صَاحِبُ، هَذِهِ الدَّارِ ـ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ ـ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَىُّ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَىّ قَالَ ‏"‏ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي‏.‏
ہم ‌سے ‌ابوالولید ​ہشام ‌نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ولید بن عیزار نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوعمرو شیبانی سے سنا، کہا کہ ہمیں اس گھر والے نے خبر دی اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وقت پر نماز پڑھنا۔ پوچھا کہ پھر کون سا؟ فرمایا کہ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ان کاموں کے متعلق بیان کیا اور اگر میں اسی طرح سوال کرتا رہتا تو آپ جواب دیتے رہتے۔
الولید بن اثار رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۹۷۰ Sahih