Mercy کے بارے میں احادیث

۹۴۲ مستند احادیث ملیں

صحیح بخاری : ۶۱
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
Sahih
حَدَّثَنِي ​إِبْرَاهِيمُ ‌بْنُ ​مُوسَى، ‌أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ يَعْلَى إِنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ نَاسًا، مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ كَانُوا قَدْ قَتَلُوا وَأَكْثَرُوا وَزَنَوْا وَأَكْثَرُوا، فَأَتَوْا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو إِلَيْهِ لَحَسَنٌ لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً‏.‏ فَنَزَلَ ‏{‏وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ يَزْنُونَ‏}‏ وَنَزَلَ ‏{‏قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لاَ تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ‏}‏
مجھ ​سے ‌ابراہیم ​بن ‌موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، ان سے یعلیٰ بن مسلم نے بیان کیا، انہیں سعید بن جبیر نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ مشرکین میں بعض نے قتل کا گناہ کیا تھا اور کثرت سے کیا تھا۔ اسی طرح زناکاری بھی کثرت سے کرتے رہے تھے۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں اور جس کی طرف دعوت دیتے ہیں ( یعنی اسلام ) یقیناً اچھی چیز ہے، لیکن ہمیں یہ بتائیے کہ اب تک ہم نے جو گناہ کئے ہیں وہ اسلام لانے سے معاف ہوں گے یا نہیں؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون‏» ”اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا اور کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی بھی جان کو قتل نہیں کرتے جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے، ہاں مگر حق کے ساتھ“ اور یہ آیت نازل ہوئی «قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله‏» ”آپ کہہ دیں کہ اے میرے بندو! جو اپنے نفسوں پر زیادتیاں کر چکے ہو، اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو، بیشک اللہ سارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ بیشک اللہ وہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔“
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما صحیح بخاری #۴۸۱۰ Sahih
صحیح بخاری : ۶۲
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌عَبْدُ ‌اللَّهِ ​بْنُ ‌مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتِ النَّارُ أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ‏.‏ وَقَالَتِ الْجَنَّةُ مَا لِي لاَ يَدْخُلُنِي إِلاَّ ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ‏.‏ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلْجَنَّةِ أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي‏.‏ وَقَالَ لِلنَّارِ إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابٌ أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي‏.‏ وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا مِلْؤُهَا، فَأَمَّا النَّارُ فَلاَ تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ رِجْلَهُ فَتَقُولُ قَطٍ قَطٍ قَطٍ‏.‏ فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، وَلاَ يَظْلِمُ اللَّهُ ـ عَزَّ وَجَلَّ ـ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا، وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا ‏"‏‏.‏
ہم ‌سے ‌عبداللہ ​بن ‌محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں حمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت اور دوزخ نے بحث کی، دوزخ نے کہا میں متکبروں اور ظالموں کے لیے خاص کی گئی ہوں۔ جنت نے کہا مجھے کیا ہوا کہ میرے اندر صرف کمزور اور کم رتبہ والے لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت سے کہا کہ تو میری رحمت ہے، تیرے ذریعہ میں اپنے بندوں میں جس پر چاہوں رحم کروں اور دوزخ سے کہا کہ تو عذاب ہے تیرے ذریعہ میں اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں عذاب دوں۔ جنت اور دوزخ دونوں بھریں گی۔ دوزخ تو اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک اللہ رب العزت اپنا قدم اس نہیں رکھ دے گا۔ اس وقت وہ بولے گی کہ بس بس بس! اور اس وقت بھر جائے گی اور اس کا بعض حصہ بعض دوسرے حصے پر چڑھ جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور جنت کے لیے اللہ تعالیٰ ایک مخلوق پیدا کرے گا «وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل الغروب» ”اور اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے رہئیے سورج کے نکلنے سے پہلے اور اس کے چھپنے سے پہلے۔“
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۴۸۵۰ Sahih
صحیح بخاری : ۶۳
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنِي ​يَعْقُوبُ ‌بْنُ ‌إِبْرَاهِيمَ ​بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَنِي الْجَهْدُ فَأَرْسَلَ إِلَى نِسَائِهِ فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُنَّ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلاَ رَجُلٌ يُضَيِّفُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ فَقَالَ لاِمْرَأَتِهِ ضَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ تَدَّخِرِيهِ شَيْئًا‏.‏ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا عِنْدِي إِلاَّ قُوتُ الصِّبْيَةِ‏.‏ قَالَ فَإِذَا أَرَادَ الصِّبْيَةُ الْعَشَاءَ فَنَوِّمِيهِمْ، وَتَعَالَىْ فَأَطْفِئِي السِّرَاجَ وَنَطْوِي بُطُونَنَا اللَّيْلَةَ‏.‏ فَفَعَلَتْ ثُمَّ غَدَا الرَّجُلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ لَقَدْ عَجِبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ـ أَوْ ضَحِكَ ـ مِنْ فُلاَنٍ وَفُلاَنَةَ ‏"‏‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ‏}‏
مجھ ​سے ‌یعقوب ‌بن ​ابراہیم بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن غزوان نے بیان کیا، ان سے ابوحازم اشجعی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب خود ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فاقہ سے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ازواج مطہرات کے پاس بھیجا ( کہ وہ آپ کی دعوت کریں ) لیکن ان کے پاس کوئی چیز کھانے کی نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا کوئی شخص ایسا نہیں جو آج رات اس مہمان کی میزبانی کرے؟ اللہ اس پر رحم کرے گا۔ اس پر ایک انصاری صحابی ( ابوطلحہ ) کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آج میرے مہمان ہیں پھر وہ انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہیں، کوئی چیز ان سے بچا کے نہ رکھنا۔ بیوی نے کہا اللہ کی قسم میرے پاس اس وقت بچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔ انصاری صحابی نے کہا اگر بچے کھانا مانگیں تو انہیں سلا دو اور آؤ یہ چراغ بھی بجھا دو، آج رات ہم بھوکے ہی رہ لیں گے۔ بیوی نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ انصاری صحابی صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں ( انصاری صحابی ) اور ان کی بیوی ( کے عمل ) کو پسند فرمایا۔ یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) اللہ تعالیٰ مسکرایا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة‏» یعنی اور اپنے سے مقدم رکھتے ہیں اگرچہ خود فاقہ میں ہی ہوں۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۴۸۸۹ Sahih
صحیح بخاری : ۶۴
ہشام رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​رَبِيعُ ​بْنُ ‌يَحْيَى، ​حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يَقْرَأُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ ‏ "‏ يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً مِنْ سُورَةِ كَذَا ‏"‏‏.‏
رسول ​اللہ ​صلی ‌اللہ ​علیہ وسلم نے ایک آدمی کو مسجد میں قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اور فرمایا: اللہ رحم فرمائے۔ اس پر جیسا کہ اس نے مجھے فلاں سورہ کی فلاں فلاں آیات یاد دلائی ہیں۔"
ہشام رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۰۳۷ Sahih
صحیح بخاری : ۶۵
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا ​أَحْمَدُ ​بْنُ ​أَبِي ‌رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يَقْرَأُ فِي سُورَةٍ بِاللَّيْلِ فَقَالَ ‏ "‏ يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً كُنْتُ أُنْسِيتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ​احمد ​بن ‌ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو رات کے وقت ایک سورت پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے، اس نے مجھے فلاں آیتیں یاد دلا دیں جو مجھے فلاں فلاں سورتوں میں سے بھلا دی گئی تھیں۔
عائشہ (رضی اللہ عنہا) صحیح بخاری #۵۰۳۸ Sahih
صحیح بخاری : ۶۶
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌بِشْرُ ‌بْنُ ​آدَمَ، ‌أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَارِئًا يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ ‏ "‏ يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً، أَسْقَطْتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا ‏"‏‏.‏
ہم ‌سے ‌بشر ​بن ‌آدم نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاری کو رات کے وقت مسجد میں قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ اس آدمی پر رحم کرے اس نے مجھے فلاں فلاں آیتیں یاد دلا دیں جنہیں میں نے فلاں فلاں سورتوں میں سے چھوڑ رکھا تھا۔
عائشہ (رضی اللہ عنہا) صحیح بخاری #۵۰۴۲ Sahih
صحیح بخاری : ۶۷
Al-Bara' Bin 'azib
Sahih
حَدَّثَنَا ‌الْحَسَنُ ​بْنُ ​الرَّبِيعِ، ​حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنِ الأَشْعَثِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجِنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِفْشَاءِ السَّلاَمِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ، وَالْقَسِّيَّةِ، وَالإِسْتَبْرَقِ وَالدِّيبَاجِ‏.‏ تَابَعَهُ أَبُو عَوَانَةَ وَالشَّيْبَانِيُّ عَنْ أَشْعَثَ فِي إِفْشَاءِ السَّلاَمِ‏.‏
ہم ‌سے ​حسن ​بن ​ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص (سلام بن سلیم) نے بیان کیا، ان سے اشعث بن ابی الشعثاء نے، ان سے معاویہ بن سوید نے کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات کاموں کا حکم دیا اور سات کاموں سے منع فرمایا۔ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار کی عیادت، جنازہ کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کے جواب دینے ( یرحمک اللہ یعنی اللہ تم پر رحم کرے کہنا ) قسم کو پورا کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، سب کو سلام کرنے اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے کا حکم دیا تھا اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے، چاندی کے برتن استعمال کرنے، ریشمی گدے، قسیہ ( ریشمی کپڑا ) استبرق ( موٹے ریشم کا کپڑا ) اور دیباج ( ایک ریشمی کپڑا ) کے استعمال سے منع فرمایا تھا۔ ابوعوانہ اور شیبانی نے اشعث کی روایت سے لفظ «إفشاء السلام‏.‏» میں ابوالاحوص کی متابعت کی ہے۔
Al-Bara' Bin 'azib صحیح بخاری #۵۱۷۵ Sahih
صحیح بخاری : ۶۸
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا ​إِسْمَاعِيلُ، ​قَالَ ‌حَدَّثَنِي ​مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، مَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا بَالُ هَذِهِ النِّمْرِقَةِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ اشْتَرَيْتُهَا لَكَ لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لاَ تَدْخُلُهُ الْمَلاَئِكَةُ ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ​اسماعیل ‌بن ​ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے ایک چھوٹا سا گدا خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر نہیں آئے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خفگی کے آثار دیکھ لیے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اللہ اور اس کے رسول سے توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا غلطی کی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ گدا یہاں کیسے آیا؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا میں نے ہی اسے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور اس پر ٹیک لگائیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان تصویروں کے ( بنانے والوں کو ) قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے تصویر سازی کی ہے اسے زندہ بھی کرو؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن گھروں میں تصویریں ہوتی ہیں ان میں ( رحمت کے ) فرشتے نہیں آتے۔
عائشہ (رضی اللہ عنہا) صحیح بخاری #۵۱۸۱ Sahih
صحیح بخاری : ۶۹
Al-Bara' Bin 'azib
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مُوسَى ‌بْنُ ​إِسْمَاعِيلَ، ​حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجِنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَإِفْشَاءِ السَّلاَمِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ ـ أَوْ قَالَ آنِيَةِ الْفِضَّةِ ـ وَعَنِ الْمَيَاثِرِ وَالْقَسِّيِّ، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالإِسْتَبْرَقِ‏.‏
ہم ‌سے ‌موسیٰ ​بن ​اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے اشعث بن سلیم نے، ان سے معاویہ بن سوید بن مقرن نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا تھا اور سات چیزوں سے ہم کو منع فرمایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیمار کی عیادت کرنے، جنازے کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کے جواب میں «يرحمك الله» کہنے، دعوت کرنے والے کی دعوت کو قبول کرنے، سلام پھیلانے، مظلوم کی مدد کرنے اور قسم کھانے کے بعد کفارہ ادا کرنے کا حکم فرمایا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھیوں سے، چاندی میں پینے یا ( فرمایا ) چاندی کے برتن میں پینے سے، میثر ( زین یا کجاوہ کے اوپر ریشم کا گدا ) کے استعمال کرنے سے اور قسی ( اطراف مصر میں تیار کیا جانے والا ایک کپڑا جس میں ریشم کے دھاگے بھی استعمال ہوتے تھے ) کے استعمال کرنے سے اور ریشم و دیبا اور استبرق پہننے سے منع فرمایا تھا۔
Al-Bara' Bin 'azib صحیح بخاری #۵۶۳۵ Sahih
صحیح بخاری : ۷۰
ابو عثمان رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌حَجَّاجُ ​بْنُ ​مِنْهَالٍ، ​حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ ابْنَةً لِلنَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ وَهْوَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَسَعْدٍ وَأُبَىٍّ نَحْسِبُ أَنَّ ابْنَتِي قَدْ حُضِرَتْ فَاشْهَدْنَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا السَّلاَمَ وَيَقُولُ ‏"‏ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ مُسَمًّى فَلْتَحْتَسِبْ وَلْتَصْبِرْ ‏"‏‏.‏ فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَيْهِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقُمْنَا، فَرُفِعَ الصَّبِيُّ فِي حَجْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَيْنَا النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ هَذِهِ رَحْمَةٌ وَضَعَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادِهِ، وَلاَ يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ إِلاَّ الرُّحَمَاءَ ‏"‏‏.‏
ہم ‌سے ​حجاج ​بن ​منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عاصم نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوعثمان سے سنا اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی ( زینب رضی اللہ عنہا ) نے آپ کو کہلوا بھیجا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سعد رضی اللہ عنہ اور ہمارا خیال ہے کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے کہ میری بچی بستر مرگ پر پڑی ہے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہلوایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے جو چاہے دے اور جو چاہے لے لے ہر چیز اس کے یہاں متعین و معلوم ہے۔ اس لیے اللہ سے اس مصیبت پر اجر کی امیدوار رہو اور صبر کرو۔ صاحبزادی نے پھر دوبارہ قسم دے کر ایک آدمی بلانے کو بھیجا۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے پھر بچی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں اٹھا کر رکھی گئی اور وہ جانکنی کے عالم میں پریشان تھی۔ آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو خود بھی رحم کرنے والے ہوتے ہیں۔
ابو عثمان رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۶۵۵ Sahih
صحیح بخاری : ۷۱
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​أَبُو ‌الْيَمَانِ، ‌أَخْبَرَنَا ​شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا وَلاَ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ لاَ، وَلاَ أَنَا إِلاَّ أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَلاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ خَيْرًا، وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ‌ابوالیمان ‌نے ​بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا ہمیں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابوعبیدہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کا عمل اسے جنت میں داخل نہیں کر سکے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، میرا بھی نہیں، سوا اس کے کہ اللہ اپنے فضل و رحمت سے مجھے نوازے اس لیے ( عمل میں ) میانہ روی اختیار کرو اور قریب قریب چلو اور تم میں کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ یا وہ نیک ہو گا تو امید ہے کہ اس کے اعمال میں اور اضافہ ہو جائے اور اگر وہ برا ہے تو ممکن ہے وہ توبہ ہی کرے۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۵۶۷۳ Sahih
صحیح بخاری : ۷۲
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا ​عَبْدُ ‌اللَّهِ ​بْنُ ‌أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُسْتَنِدٌ إِلَىَّ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الأَعْلَى ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ‌عبداللہ ​بن ‌ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عباد بن عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا سہارا لیے ہوئے تھے ( مرض الموت میں ) اور فرما رہے تھے «اللهم اغفر لي وارحمني وألحقني بالرفيق الأعلى» ”اے اللہ! میری مغفرت فرما مجھ پر رحم کر اور مجھ کو اچھے رفیقوں ( فرشتوں اور پیغمبروں ) کے ساتھ ملا دے۔“
عائشہ (رضی اللہ عنہا) صحیح بخاری #۵۶۷۴ Sahih
صحیح بخاری : ۷۳
بارہ رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​قَبِيصَةُ، ‌حَدَّثَنَا ‌سُفْيَانُ، ​عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَنَهَانَا عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالْقَسِّيِّ، وَالإِسْتَبْرَقِ، وَمَيَاثِرِ الْحُمْرِ‏.‏
ہم ​سے ‌قبیصہ ‌نے ​بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اشعث نے، ان سے معاویہ بن سوید بن مقرن نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم دیا تھا۔ بیمار کی عیادت کا، جنازہ کے پیچھے چلنے کا، چھینکنے والے کا جواب ( یرحمک اللہ سے ) دینے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ریشم، دیبا، قسی، استبرق اور سرخ زین پوشوں کے استعمال سے بھی منع فرمایا تھا۔
بارہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۸۴۹ Sahih
صحیح بخاری : ۷۴
ابو طلحہ رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌قُتَيْبَةُ، ​حَدَّثَنَا ​اللَّيْثُ، ‌عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ الصُّورَةُ ‏"‏‏.‏ قَالَ بُسْرٌ ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الأَوَّلِ‏.‏ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ إِلاَّ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ـ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ـ حَدَّثَهُ بُكَيْرٌ، حَدَّثَهُ بُسْرٌ، حَدَّثَهُ زَيْدٌ، حَدَّثَهُ أَبُو طَلْحَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم ‌سے ​قتیبہ ​بن ‌سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے بکیر بن عبداللہ نے، ان سے بسر بن سعید نے اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں تصویریں ہوں۔“ بسر نے بیان کیا کہ ( اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد ) پھر زید رضی اللہ عنہ بیمار پڑے تو ہم ان کی مزاج پرسی کے لیے گئے۔ ہم نے دیکھا کہ ان کے دروازہ پر ایک پردہ پڑا ہوا ہے جس پر تصویر ہے۔ میں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ربیب عبیداللہ بن اسود سے کہا کہ زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس سے پہلے ایک مرتبہ تصویروں کے متعلق حدیث سنائی تھی۔ عبیداللہ نے کہا کہ کیا تم نے سنا نہیں تھا، حدیث بیان کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جو مورت کپڑے میں ہو وہ جائز ہے ( بشرطیکہ غیر ذی روح کی ہو ) ۔ اور عبداللہ بن وہب نے کہا، انہیں عمرو نے خبر دی وہ ابن حارث ہیں، ان سے بکیر نے بیان کیا، ان سے بسر نے بیان کیا، ان سے زید نے بیان کیا، ان سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔
ابو طلحہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۹۵۸ Sahih
صحیح بخاری : ۷۵
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا ​مُحَمَّدُ ​بْنُ ​يُوسُفَ، ‌حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ تُقَبِّلُونَ الصِّبْيَانَ فَمَا نُقَبِّلُهُمْ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَوَ أَمْلِكُ لَكَ أَنْ نَزَعَ اللَّهُ مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ​محمد ​بن ‌یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا آپ لوگ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں، ہم تو انہیں بوسہ نہیں دیتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔
عائشہ (رضی اللہ عنہا) صحیح بخاری #۵۹۹۸ Sahih
صحیح بخاری : ۷۶
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌الْحَكَمُ ‌بْنُ ‌نَافِعٍ، ‌أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ، فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ جُزْءًا، وَأَنْزَلَ فِي الأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا، فَمِنْ ذَلِكَ الْجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ، حَتَّى تَرْفَعَ الْفَرَسُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ ‏"‏‏.‏
ہم ‌سے ‌حکم ‌بن ‌نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا ہم کو سعید بن مسیب نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے رحمت کے سو حصے بنائے اور اپنے پاس ان میں سے ننانوے حصے رکھے صرف ایک حصہ زمین پر اتارا اور اسی کی وجہ سے تم دیکھتے ہو کہ مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے، یہاں تک کہ گھوڑی بھی اپنے بچہ کو اپنے سم نہیں لگنے دیتی بلکہ سموں کو اٹھا لیتی ہے کہ کہیں اس سے اس کے بچہ کو تکلیف نہ پہنچے۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۶۰۰۰ Sahih
صحیح بخاری : ۷۷
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​أَبُو ‌الْيَمَانِ، ​أَخْبَرَنَا ‌شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةٍ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ وَهْوَ فِي الصَّلاَةِ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلاَ تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا‏.‏ فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِلأَعْرَابِيِّ ‏ "‏ لَقَدْ حَجَّرْتَ وَاسِعًا ‏"‏‏.‏ يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ‏.‏
ہم ​سے ‌ابوالیمان ​نے ‌بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ نماز پڑھتے ہی ایک دیہاتی نے کہا: اے اللہ! مجھ پر رحم کر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کر۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو دیہاتی سے فرمایا کہ تم نے ایک وسیع چیز کو تنگ کر دیا آپ کی مراد اللہ کی رحمت سے تھی۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۶۰۱۰ Sahih
صحیح بخاری : ۷۸
ابن مسعود (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​مُحَمَّدُ ‌بْنُ ​يُوسُفَ، ​أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قِسْمَةً، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِهَذَا وَجْهَ اللَّهِ‏.‏ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ، فَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ وَقَالَ ‏ "‏ رَحِمَ اللَّهُ مُوسَى، لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ‌محمد ​بن ​یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابووائل نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس تقسیم سے اللہ کی رضا مقصود نہ تھی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس شخص کی یہ بات آپ کو سنائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، انہیں اس سے بھی زیادہ ایذا دی گئی، لیکن انہوں نے صبر کیا۔
ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۶۰۵۹ Sahih
صحیح بخاری : ۷۹
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​آدَمُ، ​حَدَّثَنَا ‌شُعْبَةُ، ​عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَثْنَى عَلَيْهِ رَجُلٌ خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ ـ يَقُولُهُ مِرَارًا ـ إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا لاَ مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ كَذَا وَكَذَا‏.‏ إِنْ كَانَ يُرَى أَنَّهُ كَذَلِكَ، وَحَسِيبُهُ اللَّهُ، وَلاَ يُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا ‏"‏‏.‏ قَالَ وُهَيْبٌ عَنْ خَالِدٍ ‏"‏ وَيْلَكَ ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ​آدم ‌بن ​ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے، ان سے ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک شخص کا ذکر آیا تو ایک دوسرے شخص نے ان کی مبالغہ سے تعریف کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ کئی بار فرمایا، اگر تمہارے لیے کسی کی تعریف کرنی ضروری ہو تو یہ کہنا چاہیئے کہ میں اس کے متعلق ایسا خیال کرتا ہوں، باقی علم اللہ کو ہے وہ ایسا ہے۔ اگر اس کو یہ معلوم ہو کہ وہ ایسا ہی ہے اور یوں نہ کہے کہ وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہی ہے۔ اور وہیب نے اسی سند کے ساتھ خالد سے یوں روایت کی ارے تیری خرابی تو نے اس کی گردن کاٹ ڈالی یعنی لفظ «ويحك» کے بجائے لفظ «ويلك» بیان کیا۔
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۶۰۶۱ Sahih
صحیح بخاری : ۸۰
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا ​أَبُو ‌الْيَمَانِ، ‌أَخْبَرَنَا ​شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ الطُّفَيْلِ ـ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ وَهْوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لأُمِّهَا ـ أَنَّ عَائِشَةَ حُدِّثَتْ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ عَائِشَةُ وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ، أَوْ لأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا‏.‏ فَقَالَتْ أَهُوَ قَالَ هَذَا قَالُوا نَعَمْ‏.‏ قَالَتْ هُوَ لِلَّهِ عَلَىَّ نَذْرٌ، أَنْ لاَ أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَبَدًا‏.‏ فَاسْتَشْفَعَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْهَا، حِينَ طَالَتِ الْهِجْرَةُ فَقَالَتْ لاَ وَاللَّهِ لاَ أُشَفِّعُ فِيهِ أَبَدًا، وَلاَ أَتَحَنَّثُ إِلَى نَذْرِي‏.‏ فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، وَقَالَ لَهُمَا أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ لَمَّا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ، فَإِنَّهَا لاَ يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذُرَ قَطِيعَتِي‏.‏ فَأَقْبَلَ بِهِ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ مُشْتَمِلَيْنِ بِأَرْدِيَتِهِمَا حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ فَقَالاَ السَّلاَمُ عَلَيْكِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، أَنَدْخُلُ قَالَتْ عَائِشَةُ ادْخُلُوا‏.‏ قَالُوا كُلُّنَا قَالَتْ نَعَمِ ادْخُلُوا كُلُّكُمْ‏.‏ وَلاَ تَعْلَمُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ، فَلَمَّا دَخَلُوا دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ، فَاعْتَنَقَ عَائِشَةَ وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِهَا إِلاَّ مَا كَلَّمَتْهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ، وَيَقُولاَنِ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْهِجْرَةِ، فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ‏.‏ فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَى عَائِشَةَ مِنَ التَّذْكِرَةِ وَالتَّحْرِيجِ طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمَا نَذْرَهَا وَتَبْكِي وَتَقُولُ إِنِّي نَذَرْتُ، وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ‏.‏ فَلَمْ يَزَالاَ بِهَا حَتَّى كَلَّمَتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ، وَأَعْتَقَتْ فِي نَذْرِهَا ذَلِكَ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً‏.‏ وَكَانَتْ تَذْكُرُ نَذْرَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَتَبْكِي، حَتَّى تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا‏.‏
عائشہ ​رضی ‌اللہ ‌عنہا ​کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر کہ وہ کسی چیز کو ہدیہ کے طور پر بیچ رہے ہیں یا دے رہے ہیں) کہنے لگے: اللہ کی قسم اگر عائشہ رضی اللہ عنہا یہ نہ چھوڑیں تو میں انہیں اس کے مال میں تصرف کرنے کے لیے نااہل قرار دوں گی۔ میں نے کہا کیا اس نے (عبداللہ بن زبیر) نے ایسا کہا ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں اللہ سے قسم کھاتی ہوں کہ میں ابن زبیر سے کبھی بات نہیں کروں گی۔ جب یہ جدائی طویل رہی تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے شفاعت کی، لیکن انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم میں اس کے حق میں کسی کی شفاعت قبول نہیں کروں گا اور اپنی نذر توڑ کر کوئی گناہ نہیں کروں گا۔ جب ابن زبیر رضی اللہ عنہ پر یہ کیفیت طول پکڑ گئی تو آپ نے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث سے جو قبیلہ بنی زہرہ میں سے تھے، کہا کہ میں تم سے التجا کرتا ہوں کہ اللہ کی قسم میرے لیے اس کے داخل ہونے کے لیے غیر قانونی ہے۔ میرے ساتھ رشتہ۔" چنانچہ المسوار اور عبدالرحمٰن نے اپنی چادریں اپنے گرد لپیٹ کر عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ کہتے ہوئے اجازت طلب کی کہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، کیا ہم اندر آئیں؟ عائشہ نے کہا اندر آجاؤ۔ کہنے لگے ہم سب؟ اس نے کہا ہاں تم سب اندر آؤ، یہ معلوم نہیں تھا کہ ابن زبیر بھی ان کے ساتھ ہیں۔ چنانچہ جب وہ داخل ہوئے تو ابن زبیر پردہ کی جگہ میں داخل ہوئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کو پکڑ کر ان سے معافی مانگنے لگے اور رونے لگے۔ المسوار اور عبدالرحمٰن بھی اس سے بات کرنے اور اس کی توبہ قبول کرنے کی درخواست کرنے لگے۔ انہوں نے (ان سے) کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس چیز سے منع فرمایا ہے جس سے تم جانتی ہو (اپنے مسلمان بھائیوں سے بات نہ کرنا) کیونکہ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ بات نہ کرے۔ چنانچہ جب انہوں نے اسے یاد دلانے میں اضافہ کیا (کیتھ اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے اور دوسروں کے گناہوں کو معاف کرنے کی) اور اسے ایک نازک حالت میں لایا تو وہ انہیں یاد دلانے لگی اور رونے لگی کہ میں نے نذر مانی ہے اور نذر کا سوال مشکل ہے۔ وہ (المسوار اور عبدالرحمٰن) اپنی اپیل پر اڑے رہے یہاں تک کہ اس نے عبداللہ بن زبیر سے بات کی اور اس نے اپنی نذر کے کفارہ کے طور پر چالیس غلاموں کو آزاد کر دیا۔ بعد میں جب بھی اسے اپنی منت یاد آتی تو اتنا روتی کہ اس کا پردہ اس کے آنسوؤں سے تر ہو جاتا۔
عائشہ (رضی اللہ عنہا) صحیح بخاری #۶۰۷۳ Sahih