Mercy کے بارے میں احادیث
۹۴۲ مستند احادیث ملیں
صحیح مسلم : ۱۶۱
Sahih
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَلَقَ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ - مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ - وَالْمُقَصِّرِينَ " .
لیث نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت نے سر منڈایا ، اور ان میں سے کچھ نے بال کٹوائے ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" اللہ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ۔ "" ایک یادو مرتبہ ( دعا کی ) پھر فرمایا : "" اور بال کٹوانے والوں پر بھی "" ( ان کے لئے صرف ایک بار دعا کی ۔)
صحیح مسلم : ۱۶۲
Sahih
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ " . قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ " . قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " وَالْمُقَصِّرِينَ " .
یحییٰ بن یحییٰ نے امام مالک ؒکے سامنے قراءت کی کہ نافع سے روایت ہے ، اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ !سر منڈانے والوں پر رحم فرما ۔ " لوگوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : اور بال کٹوانے والوں پر اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !فرمایا : " اے اللہ ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما ۔ " صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پھر عرض کی : اور بال کٹوانے والوں پر ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا : " اور بال کٹوانے والوں پر ( بھی رحم فرما ۔)
صحیح مسلم : ۱۶۳
Sahih
أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " . قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " . قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " . قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " وَالْمُقَصِّرِينَ " .
ہمیں عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں عبیداللہ بن عمر نے نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" : "" اے اللہ !سر منڈانے والوں پر رحم فرما ۔ "" لوگوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : اور بال کٹوانے والوں پر اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !فرمایا : "" اے اللہ ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما ۔ "" صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پھر عرض کی : اور بال کٹوانے والوں پر ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا : "" اور بال کٹوانے والوں پربھی ۔ حدیث نمبر ۔ 3147 ۔ ہمیں عبدالوہاب نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں عبیداللہ نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور انھوں نے ( اپنی ) حدیث میں کہا : جب چوتھی باری آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اور بال کٹوانے والوں پر بھی ۔
صحیح مسلم : ۱۶۴
Sahih
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ قَالَ " وَالْمُقَصِّرِينَ " .
ہمیں عبدالوہاب نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں عبیداللہ نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور انھوں نے ( اپنی ) حدیث میں کہا : جب چوتھی باری آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اور بال کٹوانے والوں پر بھی ۔
صحیح مسلم : ۱۶۵
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ فَذُكِرَ لاِبْنِ عُمَرَ قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ صَاحِبَ زَرْعٍ .
امام زہری نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جس نے مویشیوں ، شکار یا کھیتی ( کی حفاظت کرنے ) والے کتے کے سوا ( کوئی اور ) کتا رکھا اس کے اجر سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا ۔ "" امام زہری نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے! وہ ( خود ) کھیت کے مالک تھے ۔ ( انہوں نے یہ بات ضبط کی ۔)
صحیح مسلم : ۱۶۶
Sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا . فَقَالَتْ هَذِهِ لِصَاحِبَتِهَا إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ أَنْتِ . وَقَالَتِ الأُخْرَى إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ . فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ فَأَخْبَرَتَاهُ فَقَالَ ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا . فَقَالَتِ الصُّغْرَى لاَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا . فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى " . قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ قَطُّ إِلاَّ يَوْمَئِذٍ مَا كُنَّا نَقُولُ إِلاَّ الْمُدْيَةَ .
ورقاء نے مجھے ابوزناد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : "" دو عورتیں تھیں ، دونوں کے بیٹے ان کے ساتھ تھے ( اتنے میں ) بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک کا بیٹا لے گیا تو اِس نے ( جو بڑی تھی ) اپنی ساتھی عورت سے کہا : وہ تمہارا بیٹا لے گیا ہے اور دوسری نے کہا : وہ تمہارا بیٹا لے گیا ہے ۔ چنانچہ وہ دونوں فیصلے کے لیے حضرت داود علیہ السلام کے پاس آئیں تو انہوں نے بڑی کے حق میں فیصلہ دے دیا ۔ اس کے بعد وہ دونوں نکل کر حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام کے سامنے آئیں اور انہیں ( اپنے معاملے سے ) آگاہ کیا تو انہوں نے کہا : میرے پاس چھری لاؤ ، میں تم دونوں کے مابین آدھا آدھا کر دیتا ہوں ۔ اس پر چھوٹی نے کہا : نہیں ، اللہ آپ پر رحم کرے! وہ اسی کا بیٹا ہے ۔ تو انہوں نے چھوٹی عورت کے حق میں فیصلہ کر دیا کہا : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! میں نے اس دن سے پہلے ( چھری کے لیے ) سِکین کا لفظ نہیں سنا تھا ۔ ہم مدیہ ہی کہا کرتے تھے
صحیح مسلم : ۱۶۷
Sahih
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَوْسٍ، حَدَّثَهُ قَالَ أَرْسَلَ إِلَىَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَجِئْتُهُ حِينَ تَعَالَى النَّهَارُ - قَالَ - فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِهِ جَالِسًا عَلَى سَرِيرٍ مُفْضِيًا إِلَى رِمَالِهِ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ . فَقَالَ لِي يَا مَالُ إِنَّهُ قَدْ دَفَّ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ وَقَدْ أَمَرْتُ فِيهِمْ بِرَضْخٍ فَخُذْهُ فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ - قَالَ - قُلْتُ لَوْ أَمَرْتَ بِهَذَا غَيْرِي قَالَ خُذْهُ يَا مَالُ . قَالَ فَجَاءَ يَرْفَا فَقَالَ هَلْ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ فَقَالَ عُمَرُ نَعَمْ . فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا ثُمَّ جَاءَ . فَقَالَ هَلْ لَكَ فِي عَبَّاسٍ وَعَلِيٍّ قَالَ نَعَمْ . فَأَذِنَ لَهُمَا فَقَالَ عَبَّاسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا الْكَاذِبِ الآثِمِ الْغَادِرِ الْخَائِنِ . فَقَالَ الْقَوْمُ أَجَلْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَاقْضِ بَيْنَهُمْ وَأَرِحْهُمْ . فَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ يُخَيَّلُ إِلَىَّ أَنَّهُمْ قَدْ كَانُوا قَدَّمُوهُمْ لِذَلِكَ - فَقَالَ عُمَرُ اتَّئِدَا أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " . قَالُوا نَعَمْ . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ وَعَلِيٍّ فَقَالَ أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ " . قَالاَ نَعَمْ . فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ كَانَ خَصَّ رَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم بِخَاصَّةٍ لَمْ يُخَصِّصْ بِهَا أَحَدًا غَيْرَهُ قَالَ { مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ} مَا أَدْرِي هَلْ قَرَأَ الآيَةَ الَّتِي قَبْلَهَا أَمْ لاَ . قَالَ فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَكُمْ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ فَوَاللَّهِ مَا اسْتَأْثَرَ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَخَذَهَا دُونَكُمْ حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْمَالُ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْخُذُ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ أُسْوَةَ الْمَالِ . ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ أَتَعْلَمُونَ ذَلِكَ قَالُوا نَعَمْ . ثُمَّ نَشَدَ عَبَّاسًا وَعَلِيًّا بِمِثْلِ مَا نَشَدَ بِهِ الْقَوْمَ أَتَعْلَمَانِ ذَلِكَ قَالاَ نَعَمْ . قَالَ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجِئْتُمَا تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " . فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ وَأَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَوَلِيُّ أَبِي بَكْرٍ فَرَأَيْتُمَانِي كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ فَوَلِيتُهَا ثُمَّ جِئْتَنِي أَنْتَ وَهَذَا وَأَنْتُمَا جَمِيعٌ وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ فَقُلْتُمَا ادْفَعْهَا إِلَيْنَا فَقُلْتُ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللَّهِ أَنْ تَعْمَلاَ فِيهَا بِالَّذِي كَانَ يَعْمَلُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذْتُمَاهَا بِذَلِكَ قَالَ أَكَذَلِكَ قَالاَ نَعَمْ . قَالَ ثُمَّ جِئْتُمَانِي لأَقْضِيَ بَيْنَكُمَا وَلاَ وَاللَّهِ لاَ أَقْضِي بَيْنَكُمَا بِغَيْرِ ذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَرُدَّاهَا إِلَىَّ .
امام مالک نے زہری سے روایت کی کہ انہیں مالک بن اوس نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے میری طرف قاصد بھیجا ، دن چڑھ چکا تھا کہ میں ان کے پاس پہنچا ۔ کہا : میں نے ان کو ان کے گھر میں اپنی چارپائی پر بیٹھے ہوئے پایا ، انہوں نے اپنا جسم کھجور سے بنے ہوئے بان کے ساتھ لگایا ہوا تھا اور چمڑے کے تکیے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی ، تو انہوں نے مجھ سے کہا : اے مال ( مالک ) ! تمہاری قوم میں سے کچھ خاندان لپکتے ہوئے آئے تھے تو میں نے ان کے لیے تھوڑا سا عطیہ دینے کا حکم دیا ہے ، اسے لو اور ان میں تقسیم کر دو ۔ کہا : میں نے کہا : اگر آپ میرے سوا کسی اور کو اس کا حکم دے دیں ( تو کیسا رہے؟ ) انہوں نے کہا : اے مال! تم لے لو ۔ کہا : ( اتنے میں ان کے مولیٰ ) یرفا ان کے پاس آئے اور کہنے لگے : امیر المومنین! کیا آپ کو عثمان ، عبدالرحمان بن عوف ، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم ( کے ساتھ ملنے ) میں دلچسپی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ تو اس نے ان کو اجازت دی ۔ وہ اندر آ گئے ، وہ پھر آیا اور کہنے لگا : کیا آپ کو عباس اور علی رضی اللہ عنہما ( کے ساتھ ملنے ) میں دلچسپی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ تو اس نے ان دونوں کو بھی اجازت دے دی ۔ تو عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : امیر المومنین! میرے اور اس جھوٹے ، گناہ گار ، عہد شکن اور خائن کے درمیان فیصلہ کر دیں ۔ کہا : اس پر ان لوگوں نے کہا : ہاں ، امیر المومنین! ان کے درمیان فیصلہ کر کے ان کو ( جھگڑے کے عذاب سے ) راحت دلا دیں ۔ ۔ مالک بن اوس نے کہا : میرا خیال ہے کہ انہوں نے ان لوگوں کو اسی غرض سے اپنے آگے بھیجا تھا ۔ ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم دونوں رکو ، میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " ہمارا کوئی وارث نہیں بنے گا ، ہم جو چھوڑیں گے وہ صدقہ ہو گا " ؟ ان سب نے کہا : ہاں ۔ پھر وہ حضرت عباس اور علی رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : میں تم دونوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں! کیا تم دونوں جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " تمہارا کوئی وارث نہیں ہو گا ، ہم جو کچھ چھوڑیں گے ، صدقہ ہو گا " ؟ ان دونوں نے کہا : ہاں ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خاص چیز عطا کی تھی جو اس نے آپ کے علاوہ کسی کے لیے مخصوص نہیں کی تھی ، اس نے فرمایا ہے : " جو کچھ بھی اللہ نے ان بستیوں والوں کی طرف سے اپنے رسول پر لوٹایا وہ اللہ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے " ۔ ۔ مجھے پتہ نہیں کہ انہوں نے اس سے پہلے والی آیت بھی پڑھی یا نہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کے اموال تم سب میں تقسیم کر دیے ، اللہ کی قسم! آپ نے ( اپنی ذات کو ) تم پر ترجیح نہیں دی اور نہ تمہیں چھوڑ کر وہ مال لیا ، حتی کہ یہ مال باقی بچ گیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنے سال بھر کا خرچ لیتے ، پھر جو باقی بچ جاتا اسے ( بیت المال کے ) مال کے مطابق ( عام لوگوں کے فائدے کے لیے ) استعمال کرتے ۔ انہوں نے پھر کہا : میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں! کیا تم یہ بات جانتے ہو؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ پھر انہوں نے عباس اور علی رضی اللہ عنہ کو وہی قسم دی جو باقی لوگوں کو دی تھی ( اور کہا ) : کیا تم دونوں یہ بات جانتے ہو؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ پھر کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشیں ہوں تو آپ دونوں آئے ، آپ اپنے بھتیجے کی وراثت مانگ رہے تھے اور یہ اپنی بیوی کی ان کے والد کی طرف سے وراثت مانگ رہے تھے ۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " ہمارا کوئی وارث نہیں ہو گا ، ہم جو چھوڑیں گے ، صدقہ ہے ۔ " تو تم نے انہیں جھوٹا ، گناہ گار ، عہد شکن اور خائن خیال کیا تھا اور اللہ جانتا ہے وہ سچے ، نیکوکار ، راست رَو اور حق کے پیروکار تھے ۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا جانشیں بنا تو تم نے مجھے جھوٹا ، گناہ گار ، عہد شکن اور خائن خیال کیا اور اللہ جانتا ہے کہ میں سچا ، نیکوکار ، راست رَو اور حق کی پیروی کرنے والا ہوں ، میں اس کا منتظم بنا ، پھر تم اور یہ میرے پاس آئے ، تم دونوں اکٹھے ہو اور تمہارا معاملہ بھی ایک ہے ۔ تم نے کہا : یہ ( اموال ) ہمارے سپرد کر دو ۔ میں نے کہا : اگر تم چاہو تو میں اس شرط پر یہ تم دونوں کے حوالے کر دیتا ہوں کہ تم دونوں پر اللہ کے عہد کی پاسداری لازمی ہو گی ، تم بھی اس میں وہی کرو گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے تو تم نے اس شرط پر اسے لے لیا ۔ انہوں نے پوچھا : کیا ایسا ہی ہے؟ ان دونوں نے جواب دیا ۔ ہاں ۔ انہوں نے کہا : پھر تم ( اب ) دونوں میرے پاس آئے ہو کہ میں تم دونوں کے درمیان فیصلہ کروں ۔ نہیں ، اللہ کی قسم! میں قیامت کے قائم ہونے تک تمہارے درمیان اس کے سوا اور فیصلہ نہیں کروں گا ۔ اگر تم اس کے انتظام سے عاجز ہو تو وہ مال مجھے واپس کر دو
صحیح مسلم : ۱۶۸
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ عَبَّادٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَيْبَرَ فَتَسَيَّرْنَا لَيْلاً فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرِ بْنِ الأَكْوَعِ أَلاَ تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلاً شَاعِرًا فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدَاءً لَكَ مَا اقْتَفَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَتَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ هَذَا السَّائِقُ " . قَالُوا عَامِرٌ . قَالَ " يَرْحَمُهُ اللَّهُ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ وَجَبَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْلاَ أَمْتَعْتَنَا بِهِ . قَالَ فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ فَحَصَرْنَاهُمْ حَتَّى أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْكُمْ " . قَالَ فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ مَسَاءَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ تُوقِدُونَ " . فَقَالُوا عَلَى لَحْمٍ . قَالَ " أَىُّ لَحْمٍ " . قَالُوا لَحْمُ حُمُرِ الإِنْسِيَّةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا " . فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ يُهَرِيقُوهَا وَيَغْسِلُوهَا فَقَالَ " أَوْ ذَاكَ " . قَالَ فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ فِيهِ قِصَرٌ فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ فَأَصَابَ رُكْبَةَ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا قَفَلُوا قَالَ سَلَمَةُ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي قَالَ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاكِتًا قَالَ " مَا لَكَ " . قُلْتُ لَهُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ قَالَ " مَنْ قَالَهُ " . قُلْتُ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ " كَذَبَ مَنْ قَالَهُ إِنَّ لَهُ لأَجْرَيْنِ " . وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ " إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَى بِهَا مِثْلَهُ " . وَخَالَفَ قُتَيْبَةُ مُحَمَّدًا فِي الْحَدِيثِ فِي حَرْفَيْنِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّادٍ وَأَلْقِ سَكِينَةً عَلَيْنَا .
قتیبہ بن سعید اور محمد بن عباد نے ۔ ۔ الفاظ ابن عباد کے ہیں ۔ ۔ ہمیں حدیث بیان کی ، ان دونوں نے کہا : ہمیں حاتم بن اسماعیل نے سلمہ بن اکوع کے آزاد کردہ غلام یزید بن ابی عبید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو ہم نے رات کے وقت سفر کیا ، لوگوں میں سے ایک آدمی نے عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا تم ہمیں اپنے نادر جنگی اشعار سے نہیں سناؤ گے؟ اور عامر رضی اللہ عنہ شاعر آدمی تھے ، وہ اتر کر لوگوں کے ( اونٹوں ) کے لیے حدی خوانی کرنے لگے ، وہ کہہ رہے تھے : "" اے اللہ! اگر تو ( فضل و کرم کرنے والا ) نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے ، نہ صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے ، ہم تیرے نام پر قربان ، ہم نے جو گناہ کیے ان کو بخش دے اور اگر ہمارا مقابلہ ہو تو ہمارے قدم جما دے اور ہم پر ضرور بالضرور سکینت اور وقار نازل فرما ۔ ہمیں جب بھی آواز دے کر بلایا گیا ہم آئے ، ہمیں آواز دے کر ان ( آواز دینے والے ) لوگوں نے ہم پر اعتماد کیا ( اور ہم اس پر پورے اترے ۔ ) "" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" یہ ( حدی خوانی کر کے ) اونٹوں کو ہانکنے والا کون ہے؟ "" لوگوں نے کہا : عامر ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اللہ سے اس کی محبت اور شوق کو دیکھتے ہوئے ) فرمایا : "" اللہ اس پر رحم کرے! "" لوگوں میں سے ایک آدمی ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : ( اس کے لیے شہادت ) واجب ہو گئی ، اے اللہ کے رسول! آپ نے ( اس کے حق میں دعا مؤخر فرما کر ) ہمیں اس ( کی صحبت ) سے زیادہ مدت فائدہ کیوں نہیں اٹھانے دیا؟ ( سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ہم خیبر پہنچے تو ہم نے ان کا محاصرہ کر لیا یہاں تک کہ ہمیں ( شدید بھوک کے ) مخمصے نے آ لیا ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بلاشبہ اللہ نے اسے ان ( جہاد کرنے والے ) لوگوں کے لیے فتح کر دیا ہے ۔ "" جب لوگوں نے اس دن کی شام کی جب انہیں فتح عطا کی گئی تھی تو انہوں نے بہت سی ( جگہوں پر ) آگ جلائی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" یہ آگ کیسی ہے اور یہ لوگ کس چیز ( کو پکانے ) کے لیے اسے جلا رہے ہیں؟ "" انہوں نے جواب دیا : گوشت ( کو پکانے ) کے لیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" کون سا گوشت؟ "" انہوں نے جواب دیا : پالتو گدھوں کا گوشت ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اسے ( پانی سمیت ) بہا دو اور ان ( برتنوں ) کو توڑ دو ۔ "" اس پر ایک آدمی نے کہا : یا اسے بہا دیں اور برتن دھو لیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یا ایسے کر لو ۔ "" کہا : جب لوگوں نے مل کر صف بندی کی تو عامر رضی اللہ عنہ کی تلوار چھوٹی تھی ، انہوں نے مارنے کے لیے اس ( تلوار ) سے ایک یہودی کی پنڈلی کو نشانہ بنایا تو تلوار کی دھار لوٹ کر عامر رضی اللہ عنہ کے گھٹنے پر آ لگی اور وہ اسی زخم سے فوت ہو گئے ۔ جب لوگ واپس ہوئے ، سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اور اس وقت انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خاموش دیکھا تو آپ نے پوچھا : "" تمہیں کیا ہوا ہے؟ "" میں نے آپ سے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان! لوگوں کا خیال ہے کہ عامر رضی اللہ عنہ کا عمل ضائع ہو گیا ہے ۔ آپ نے فرمایا : "" کس نے کہا ہے؟ "" میں نے کہا : فلاں ، فلاں اور اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ نے ۔ تو آپ نے فرمایا : "" جس نے بھی یہ کہا ، غلط کہا ہے ، اس کے لیے تو یقینا دو اجر ہیں ۔ "" آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کو اکٹھا کیا ۔ "" وہ تو خود جم کر جہاد کرنے والے مجاہد تھے ، کم ہی کوئی عربی ہو گا جو اس راستے پر ان کی طرح چلا ہو گا ۔ "" قتیبہ نے حدیث کے دو حرفوں ( القين کے آخری دو حرفوں ی اور ن ) میں محمد ( بن عباد ) کی مخالفت کی ہے اور ( محمد ) بن عباد کی روایت میں ( القين کے بجائے ) الق ( ضرور بالضرور کی تاکید کے بغیر محض ) "" نازل کر "" کے الفاظ ہیں
صحیح مسلم : ۱۶۹
Sahih
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - وَنَسَبَهُ غَيْرُ ابْنِ وَهْبٍ فَقَالَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - أَنَّ سَلَمَةَ، بْنَ الأَكْوَعِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالاً شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ وَشَكُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ فِي سِلاَحِهِ . وَشَكُّوا فِي بَعْضِ أَمْرِهِ . قَالَ سَلَمَةُ فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ خَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أَنْ أَرْجُزَ لَكَ . فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَعْلَمُ مَا تَقُولُ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوْلاَ اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صَدَقْتَ " . وَأَنْزِلَنَّ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا قَالَ فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَالَ هَذَا " . قُلْتُ قَالَهُ أَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَرْحَمُهُ اللَّهُ " . قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلاَةَ عَلَيْهِ يَقُولُونَ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلاَحِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنًا لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ مِثْلَ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ - حِينَ قُلْتُ إِنَّ نَاسًا يَهَابُونَ الصَّلاَةَ عَلَيْهِ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَذَبُوا مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ " . وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ .
ابوطاہر نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے عبدالرحمان نے خبر دی ۔ ۔ ابن وہب کے علاوہ دوسرے راوی نے ان کا نسب بیان کیا تو ( عبدالرحمان ) بن عبداللہ بن کعب بن مالک کہا ۔ ۔ کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہا : جب خیبر کا دن تھا ، میرے بھائی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں خوب جنگ لڑی ، ( اسی اثنا میں ) ان کی تلوار پلٹ کر انہی کو جا لگی اور انہیں شہید کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے اس حوالے سے کچھ باتیں کہیں اور اس معاملے میں شک ( کا اظہار کیا ) کہ آدمی اپنے ہی اسلحہ سے فوت ہوا ہے ۔ انہوں نے ان کے معاملے کے بعض پہلوؤں میں شک کیا ۔ سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے واپس ہوئے تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے آگے رجزیہ اشعار پڑھوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ۔ اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : میں جانتا ہوں جو تم کہنے جا رہے ہو ۔ کہا : تو میں نے ( یہ رجزیہ اشعار ) پڑھے : "" اللہ کی قسم! اگر اللہ ( کا کرم ) نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے ، نہ صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے ۔ "" اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم نے سچ کہا ۔ "" "" ہم پر بہت سکینت نازل فرما اور اگر ہمارا مقابلہ ہو تو ہمارے قدم مضبوط کر دے ، مشرکوں نے یقینا ہم پر سخت زیادتی کی ۔ "" کہا : جب میں نے اپنے رجزیہ اشعار ختم کیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" یہ ( اشعار ) کس نے کہے؟ "" میں نے جواب دیا : میرے بھائی نے کہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ ان پر رحم کرے! "" کہا : تو میں نے کہا : اللہ کی قسم! اللہ کے رسول! کچھ لوگ اس کے لیے دعا کرتے ہوئے ڈر رہے تھے ، وہ کہہ رہے تھے : وہ آدمی اپنے ہی اسلحے سے فوت ہوا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ تو جہاد کرتے ہوئے مجاہد کے طور پر فوت ہوا ہے ۔ "" ابن شہاب نے کہا : پھر میں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے سوال کیا تو انہوں نے مجھے اپنے والد سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ، مگر انہوں نے ( حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ دہراتے ہوئے ) کہا : جب میں نے کہا : کچھ لوگ اس کے لیے دعا کرنے سے ڈرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ان لوگوں نے غلط کہا ، وہ تو جہاد کرتے ہوئے مجاہد کے طور پر فوت ہوئے ، ان کے لیے دہرا اجر ہے ۔ "" اور آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ فرمایا
صحیح مسلم : ۱۷۰
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ حَضَرْتُ أَبِي حِينَ أُصِيبَ فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ وَقَالُوا جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا . فَقَالَ رَاغِبٌ وَرَاهِبٌ قَالُوا اسْتَخْلِفْ فَقَالَ أَتَحَمَّلُ أَمْرَكُمْ حَيًّا وَمَيِّتًا لَوَدِدْتُ أَنَّ حَظِّي مِنْهَا الْكَفَافُ لاَ عَلَىَّ وَلاَ لِي فَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي - يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ - وَإِنْ أَتْرُكْكُمْ فَقَدْ تَرَكَكُمْ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حِينَ ذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ .
ہشام کے والد ( عروہ ) نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب میرے والد ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) زخمی ہوئے تو میں ان کے پاس موجود تھا ، لوگوں نے ان کی تعریف کی اور کہا : "" اللہ آپ کو اچھی جزا دے! "" انہوں ( عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں ( بیک وقت ) رغبت رکھنے والا اور ڈرنے والا ہوں ۔ لوگوں نے کہا : آپ کسی کو اپنا ( جانشیں ) بنا دیجیے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں زندگی میں بھی تمہارے معاملات کا بوجھ اٹھاؤں اور مرنے کے بعد بھی؟ مجھے صرف یہ خواہش ہے کہ ( قیامت کے روز ) اس خلافت سے میرے حصے میں یہ آ جاے کہ ( حساب کتاب ) برابر سرابر ہو جائے ۔ نہ میرے خلاف ہو ، نہ میرے حق میں ( چاہے انعام نہ ملے ، مگر سزا سے بچ جاؤں ) اگر میں جانشیں مقرر کروں تو انہوں نے مقرر کیا جو مجھ سے بہتر تھے ، یعنی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور اگر میں تمہیں ایسے ہی چھوڑ دوں تو انہوں نے تمہیں ( جانشیں مقرر کیے بغیر ) چھوڑ دیا جو مجھ سے ( بہت زیادہ ) بہتر تھے ، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو میں نے جان لیا کہ وہ جانشیں مقرر نہیں کریں گے
صحیح مسلم : ۱۷۱
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ كِلاَهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ " . فَقَالُوا كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُسْتَشْهَدُ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْقَاتِلِ فَيُسْلِمُ فَيُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُسْتَشْهَدُ " .
محمد بن ابی عمر مکی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے ابوزناد سے ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف ( دیکھ کر ) ہنستا ہے ، ان دونوں میں سے ایک آدمی دوسرے کو قتل کرتا ہے اور دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ " صحابہ کرام نے پوچھا : اللہ کے رسول! یہ کیسے ( ممکن ) ہے؟ آپ نے فرمایا : " ایک شخص اللہ کی راہ میں جنگ کرتا ہے اور شہید ہو جاتا ، پھر اللہ اس کے قاتل کو توبہ کی توفیق عطا کرتا ہے تو وہ مسلمان ہو جاتا ہے ، پھر وہ ( بھی ) اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور شہید ہو جاتا ہے ۔ " ( جیسا کہ حضرت حمزہ اور وحشی بن حرب رضی اللہ عنہما ہیں ۔)
صحیح مسلم : ۱۷۲
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ، بْنِ خُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَبِي - قَالَ - فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ فَكَانَ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ وَيَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى - قَالَ شُعْبَةُ هُوَ ظَنِّي وَهُوَ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِلْقَاءُ النَّوَى بَيْنَ الإِصْبَعَيْنِ - ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ - قَالَ - فَقَالَ أَبِي وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا فَقَالَ " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ " .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے یزید بن خمیر سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے ہاں مہمان ہو ئے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور پنیر اور گھی سے تیار کیا ہوا حلوہ پیش کیا ، آپ نے اس میں سے تناول فرما یا ، پھر آپ کے سامنے کھجور یں پیش کی گئیں تو آپ کھجوریں کھا رہے تھے ۔ اور گٹھلیاں اپنی دو انگلیوں کے درمیان ڈالتے جا رہے تھے ۔ ( کھا نے کے لیے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی اور درمیانی انگلی اکٹھی کی ہوئی تھیں ۔ شعبہ نے کہا : میر اگمان ( غالب ) ہے اور ان شاء اللہ یہ بات یعنی گٹھلیوں کو دوانگلیوں کے درمیان ڈالنا اس ( حدیث ) میں ہے ۔ پھر ( آپ کےسامنے ) مشروب لا یا گیا ۔ آپ نے اسے پیا ، پھر اپنی دائیں جا نب والے کو دے دیا ۔ ( عبد اللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو میرے والد نے جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگا م پکڑی ہو ئی تھی عرض کی : ہمارے لیے اللہ سے دعا فرما ئیے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دعا کرتے ہو ئے ) فرما یا " اے اللہ !تونے انھیں جو رزق دیا ہے اس میں ان کے لیے برکت ڈال دے اور ان کے گناہ بخش دے اور ان پر رحم فرما ۔
صحیح مسلم : ۱۷۳
Sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي مَجْهُودٌ . فَأَرْسَلَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلاَّ مَاءٌ . ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُخْرَى فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى قُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِكَ لاَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلاَّ مَاءٌ . فَقَالَ " مَنْ يُضِيفُ هَذَا اللَّيْلَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ " . فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ فَقَالَ لاِمْرَأَتِهِ هَلْ عِنْدَكِ شَىْءٌ . قَالَتْ لاَ إِلاَّ قُوتُ صِبْيَانِي . قَالَ فَعَلِّلِيهِمْ بِشَىْءٍ فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَأَطْفِئِي السِّرَاجَ وَأَرِيهِ أَنَّا نَأْكُلُ فَإِذَا أَهْوَى لِيَأْكُلَ فَقُومِي إِلَى السِّرَاجِ حَتَّى تُطْفِئِيهِ . قَالَ فَقَعَدُوا وَأَكَلَ الضَّيْفُ . فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " قَدْ عَجِبَ اللَّهُ مِنْ صَنِيعِكُمَا بِضَيْفِكُمَا اللَّيْلَةَ " .
جریر بن عبدالحمید نےفضیل بن غزوان سے ، انھوں نے ابو حازم اشجعی سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے ( کھانے پینے کی ) بڑی تکلیف ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ مطہرہ کے پاس کہلا بھیجا ، وہ بولیں کہ قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے کہ میرے پاس تو پانی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری زوجہ کے پاس بھیجا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ، یہاں تک کہ سب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے یہی جواب آیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کی رات کون اس کی مہمانی کرتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ، تب ایک انصاری اٹھا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں کرتا ہوں ۔ پھر وہ اس کو اپنے ٹھکانے پر لے گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ وہ بولی کہ کچھ نہیں البتہ میرے بچوں کا کھانا ہے ۔ انصاری نے کہا کہ بچوں سے کچھ بہانہ کر دے اور جب ہمارا مہمان اندر آئے اور دیکھنا جب ہم کھانے لگیں تو چراغ بجھا دینا ۔ پس جب وہ کھانے لگا تو وہ اٹھی اور چراغ بجھا دیا ( راوی ) کہتا ہے وہ بیٹھے اور مہمان کھاتا رہا ۔ اس نے ایسا ہی کیا اور میاں بیوی بھوکے بیٹھے رہے اور مہمان نے کھانا کھایا ۔ جب صبح ہوئی تو وہ انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے تعجب کیا جو تم نے رات کو اپنے مہمان کے ساتھ کیا ( یعنی خوش ہوا ) ۔
صحیح مسلم : ۱۷۴
Sahih
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُضِيفَهُ فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مَا يُضِيفُهُ فَقَالَ " أَلاَ رَجُلٌ يُضِيفُ هَذَا رَحِمَهُ اللَّهُ " . فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو طَلْحَةَ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَذَكَرَ فِيهِ نُزُولَ الآيَةِ كَمَا ذَكَرَهُ وَكِيعٌ .
ابن فضیل نے اپنے والد سے ، انھوں نے ابو حازم سے انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے مہمان بنالیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی میزبانی کےلئے کچھ بھی نہ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی ایسا شخص ہے جواس کو مہمان بنائے؟اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے! " انصار میں سے ایک شخص کھڑے ہوگئے ، انھیں ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہاجاتا تھا ، وہ اس ( مہمان ) کواپنے گھر لے گئے ، اس کے بعد جریر کی حدیث کے مطابق حدیث بیان کی ، انھوں نے بھی وکیع کی طرح آیت نازل ہونے کا ذکر کیا ۔
صحیح مسلم : ۱۷۵
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِقْدَادِ، قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبَانِ، لِي وَقَدْ ذَهَبَتْ أَسْمَاعُنَا وَأَبْصَارُنَا مِنَ الْجَهْدِ فَجَعَلْنَا نَعْرِضُ أَنْفُسَنَا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَقْبَلُنَا فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى أَهْلِهِ فَإِذَا ثَلاَثَةُ أَعْنُزٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " احْتَلِبُوا هَذَا اللَّبَنَ بَيْنَنَا " . قَالَ فَكُنَّا نَحْتَلِبُ فَيَشْرَبُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنَّا نَصِيبَهُ وَنَرْفَعُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَصِيبَهُ - قَالَ - فَيَجِيءُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُسَلِّمُ تَسْلِيمًا لاَ يُوقِظُ نَائِمًا وَيُسْمِعُ الْيَقْظَانَ - قَالَ - ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَأْتِي شَرَابَهُ فَيَشْرَبُ فَأَتَانِي الشَّيْطَانُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ شَرِبْتُ نَصِيبِي فَقَالَ مُحَمَّدٌ يَأْتِي الأَنْصَارَ فَيُتْحِفُونَهُ وَيُصِيبُ عِنْدَهُمْ مَا بِهِ حَاجَةٌ إِلَى هَذِهِ الْجُرْعَةِ فَأَتَيْتُهَا فَشَرِبْتُهَا فَلَمَّا أَنْ وَغَلَتْ فِي بَطْنِي وَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ إِلَيْهَا سَبِيلٌ - قَالَ - نَدَّمَنِي الشَّيْطَانُ فَقَالَ وَيْحَكَ مَا صَنَعْتَ أَشَرِبْتَ شَرَابَ مُحَمَّدٍ فَيَجِيءُ فَلاَ يَجِدُهُ فَيَدْعُو عَلَيْكَ فَتَهْلِكُ فَتَذْهَبُ دُنْيَاكَ وَآخِرَتُكَ . وَعَلَىَّ شَمْلَةٌ إِذَا وَضَعْتُهَا عَلَى قَدَمَىَّ خَرَجَ رَأْسِي وَإِذَا وَضَعْتُهَا عَلَى رَأْسِي خَرَجَ قَدَمَاىَ وَجَعَلَ لاَ يَجِيئُنِي النَّوْمُ وَأَمَّا صَاحِبَاىَ فَنَامَا وَلَمْ يَصْنَعَا مَا صَنَعْتُ - قَالَ - فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ كَمَا كَانَ يُسَلِّمُ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ثُمَّ أَتَى شَرَابَهُ فَكَشَفَ عَنْهُ فَلَمْ يَجِدْ فِيهِ شَيْئًا فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقُلْتُ الآنَ يَدْعُو عَلَىَّ فَأَهْلِكُ . فَقَالَ " اللَّهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي وَأَسْقِ مَنْ أَسْقَانِي " . قَالَ فَعَمَدْتُ إِلَى الشَّمْلَةِ فَشَدَدْتُهَا عَلَىَّ وَأَخَذْتُ الشَّفْرَةَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى الأَعْنُزِ أَيُّهَا أَسْمَنُ فَأَذْبَحُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هِيَ حَافِلَةٌ وَإِذَا هُنَّ حُفَّلٌ كُلُّهُنَّ فَعَمَدْتُ إِلَى إِنَاءٍ لآلِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مَا كَانُوا يَطْمَعُونَ أَنْ يَحْتَلِبُوا فِيهِ - قَالَ - فَحَلَبْتُ فِيهِ حَتَّى عَلَتْهُ رَغْوَةٌ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَشَرِبْتُمْ شَرَابَكُمُ اللَّيْلَةَ " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْرَبْ . فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْرَبْ . فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَلَمَّا عَرَفْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ رَوِيَ وَأَصَبْتُ دَعْوَتَهُ ضَحِكْتُ حَتَّى أُلْقِيتُ إِلَى الأَرْضِ - قَالَ - فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِحْدَى سَوْآتِكَ يَا مِقْدَادُ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ مِنْ أَمْرِي كَذَا وَكَذَا وَفَعَلْتُ كَذَا . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا هَذِهِ إِلاَّ رَحْمَةٌ مِنَ اللَّهِ أَفَلاَ كُنْتَ آذَنْتَنِي فَنُوقِظَ صَاحِبَيْنَا فَيُصِيبَانِ مِنْهَا " . قَالَ فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُبَالِي إِذَا أَصَبْتَهَا وَأَصَبْتُهَا مَعَكَ مَنْ أَصَابَهَا مِنَ النَّاسِ .
شبانہ بن سوار نے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے ، انھوں نے حضرت مقدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے دونوں ساتھی آئے اور ( فاقہ وغیرہ کی ) تکلیف سے ہماری آنکھوں اور کانوں کی قوت جاتی رہی تھی ۔ ہم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر پیش کرتے تھے لیکن کوئی ہمیں قبول نہ کرتا تھا ۔ آخر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھر لے گئے ۔ وہاں تین بکریاں تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا دودھ دوہو ، ہم تم سب پئیں گے پھر ہم ان کا دودھ دوہا کرتے اور ہم میں سے ہر ایک اپنا حصہ پی لیتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ رکھ چھوڑتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تشریف لاتے اور ایسی آواز سے سلام کرتے جس سے سونے والا نہ جاگے اور جاگنے والا سن لے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آتے ، نماز پڑھتے ، پھر اپنے دودھ کے پاس آتے اور اس کو پیتے ۔ ایک رات جب میں اپنا حصہ پی چکا تھا کہ شیطان نے مجھے بھڑکایا ۔ شیطان نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو انصار کے پاس جاتے ہیں ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے دیتے ہیں اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرورت ہے ، مل جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ایک گھونٹ دودھ کی کیا ضرورت ہو گی؟ آخر میں آیا اور وہ دودھ پی گیا ۔ جب دودھ پیٹ میں سما گیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ اب وہ دودھ نہیں ملنے کا تو اس وقت شیطان نے مجھے ندامت کی اور کہنے لگا کہ تیری خرابی ہو تو نے کیا کام کیا؟ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ پی لیا ، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے اور دودھ کو نہ پائیں گے تو تجھ پر بددعا کریں گے اور تیری دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوں گی ۔ میں ایک چادر اوڑھے ہوئے تھا جب اس کو پاؤں پر ڈالتا تو سر کھل جاتا اور جب سر ڈھانپتا تو پاؤں کھل جاتے تھے اور مجھے نیند بھی نہ آ رہی تھی جبکہ میرے ساتھی سو گئے اور انہوں نے یہ کام نہیں کیا تھا جو میں نے کیا تھا ۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور معمول کے موافق سلام کیا ، پھر مسجد میں آئے اور نماز پڑھی ، اس کے بعد دودھ کے پاس آئے ، برتن کھولا تو اس میں کچھ نہ تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا میں سمجھا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بددعا کرتے ہیں اور میں تباہ ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! کھلا اس کو جو مجھے کھلائے اور پلا اس کو جو مجھے پلائے ۔ یہ سن کر میں نے اپنی چادر کو مضبوط باندھا ، چھری لی اور بکریوں کی طرف چلا کہ جو ان میں سے موٹی ہو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ذبح کروں ۔ دیکھا تو اس کے تھن میں دودھ بھرا ہوا ہے ۔ پھر دیکھا تو اور بکریوں کے تھنوں میں بھی دودھ بھرا ہوا ہے ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کا ایک برتن لیا جس میں وہ دودھ نہ دوہتے تھے ( یعنی اس میں دوہنے کی خواہش نہیں کرتے تھے ) ۔ اس میں میں نے دودھ دوہا ، یہاں تک کہ اوپر جھاگ آ گیا ( اتنا بہت دودھ نکلا ) اور میں اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اپنے حصے کا دودھ رات کو پیا یا نہیں؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ دودھ پیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی کر مجھے دیا تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اور پیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور پیا ۔ پھر مجھے دیا ، جب مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیر ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں نے لے لی ہے ، تب میں ہنسا ، یہاں تک کہ خوشی کے مارے زمین پر گر گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے مقداد! تو نے کوئی بری بات کی؟ وہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرا حال ایسا ہوا اور میں نے ایسا قصور کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت کا دودھ ( جو خلاف معمول اترا ) اللہ کی رحمت تھی ۔ تو نے مجھ سے پہلے ہی کیوں نہ کہا ہم اپنے دونوں ساتھیوں کو بھی جگا دیتے کہ وہ بھی یہ دودھ پیتے؟ میں نے عرض کیا کہ قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا کلام دے کر بھیجا ہے کہ اب مجھے کوئی پرواہ نہیں جب آپ نے اللہ کی رحمت حاصل کر لی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاصل کی تو کوئی بھی اس کو حاصل کرے ۔
صحیح مسلم : ۱۷۶
Sahih
(وروانا إسحاق بن إبراهيم أيضًا:) روى لنا يحيى بن آدم وعمرو بن محمد (قالا): روى لنا سفيان عن العساس بن أبي الشاصة بالسند المذكور، وقال دون تردد: «أمر بكشف الخاتم الذهبي ونهى عنه». هذا الحديث وارد في صحيح البخاري في بابي «الجنائز» و«الشراب». بعض الأمور السبعة التي أمر بها رسول الله صلى الله عليه وسلم سنن، وبعضها فرض. زيارة المريض، والمشي خلف الجنازة، وقبول اليمين سنن. نصرة المظلوم فرض كفاية، ورد السلام فرض عين للفرد وفرض كفاية للجماعة. قول «رحمك الله» لمن يعطس سنن. يجب على البعض قولها، وعلى آخرين قولها. شرط الشميم هو سماع العطاس يقول "الحمد لله". أما اليمين فهو نقض اليمين، أي الاستمرار فيه دون نقضه. لكن شرط عدم نقض اليمين هو عدم وجود خوف من ضرر ديني أو دنيوي أو فساد. فإن وُجد مثل هذا، نقض اليمين، ووجوب الكفارة. و"الاستقبال" يعني الدعوات المصحوبة بالطعام، كدعوات الزفاف. وقد بيّنا ذلك في قسم "الوليمة". و"الإعلان" يعني نشره، وإعطائه بسخاء لكل مسلم، سواء كان معروفًا أو غريبًا. وكما رأينا في قسم الإيمان، ورد في الحديث: "سلّم على كل من لا تعرفه". ورأينا أيضًا في قسم الإيمان أن معنى "الإعلان" يشير إلى الأماكن المزدحمة. الوسائد نوع من السجاد الصغير الذي تنسجه النساء لأزواجهن من الحرير أو الصوف، ويفرشنه عادةً على سرج الحصان. وأحيانًا يحشنه بالقطن أو الصوف. هذه العادة موروثة من الفرس. وحسب العلماء، إذا كانت الوسادة مصنوعة من الحرير، يُحظر على الرجال استخدامها في كل زمان ومكان. أما إذا لم تكن مصنوعة من الحرير، فلا حرج في استخدامها. أو، بحسب رواية علماء الحديث، فإن حرير القيس كان أقمشة حريرية مخططة تُنسج في مكان يُسمى قيس في مصر، وهو الآن أطلال. الحرير السميك؛ أما الديباك فهو الحرير الناعم والحريري. الخواتم محرمة بالإجماع على الرجال، وكذلك الملابس الحريرية. إلا أنه في بعض الحالات الاستثنائية، يُسمح بارتداء الملابس الحريرية، ويمكن معرفة ذلك من كتب الفقه. أما خواتم الذهب وأنواع الحرير المختلفة فهي جائزة للنساء، سواء كانت متزوجة أم لا، كبيرة أم صغيرة، غنية أم فقيرة. ذكر القاضي عياض عن بعض العلماء أن الحرير جائز للرجال أيضاً، بينما ذكر ابن الزبير أنه محرم على الرجال والنساء على حد سواء، ثم تم التوصل إلى إجماع لاحقاً على أنه جائز للنساء ولكنه محرم على الرجال.
ہمیں سفیان نے اشعث بن ابی شعثاء سے ان سب کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور شک کے بغیر " سلام عام کرنے اور سونے کی انگوٹھی " کہا ۔
صحیح مسلم : ۱۷۷
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ " . قِيلَ مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ " .
اسماعیل بن جعفر نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں ۔ " پوچھا گیا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کو ن سے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : جب تم اس سے ملو تو اس کو سلام کرو اور جب وہ تم کو دعوت دے تو قبول کرو اور جب وہ تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کو نصیحت کرو ، اور جب اسے چھینک آئے اور الحمدللہ کہے تو اس کے لیے رحمت کی دعاکرو ۔ جب وہ بیمار ہو جا ئے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جا ئے تو اس کے پیچھے ( جنازے میں ) جاؤ ۔
صحیح مسلم : ۱۷۸
Sahih
قَالَ مُسْلِمٌ وَحُدِّثْتُ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَمِمَّنْ، رَوَى ذَلِكَ، عَنْهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا بَيْنَ يَدَيْهَا وَإِذَا أَرَادَ هَلَكَةَ أُمَّةٍ عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَىٌّ فَأَهْلَكَهَا وَهُوَ يَنْظُرُ فَأَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلَكَتِهَا حِينَ كَذَّبُوهُ وَعَصَوْا أَمْرَهُ " .
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا؛ " جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے ایک اُمت پر رحمت کرنا چاہتاہے تو وہ اس امت سے پہلے اس کے نبی کو اٹھا لیتا ہے اور اسے ( امت ) سے آگےپہلے پہنچنے والا ، ( اس کا ) پیش رو بنادیتاہے ۔ اور جب وہ کسی امت کو ہلاک کرنا چاہتاہےتو اسے اس کے نبی کی زندگی میں عذاب میں مبتلا کردیتا ہے اوراس کی نظروں کے سامنے انھیں ہلاک کرتاہے ۔ انھوں نے جو اس کو جھٹلایا تھا اور اس کے حکم کی نافرمانی کی تھی تو وہ انھیں ہلاک کرکے اس ( نبی ) کی آنکھیں ٹھنڈی کرتاہے ۔
صحیح مسلم : ۱۷۹
Sahih
روى لي الوليد بن شجاع بن الوليد السكوني: روى لي أبي رحمه الله: روى لي زياد بن خيثمة عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «احذروا! سأكون أول من يصل إليكم البركة، المسافة بين جانبيها كمسافة صنعاء وأيلا، والجرار فيها كالنجوم».
مجھ سے ولید بن شجاع بن ولید السکونی نے بیان کیا: مجھ سے میرے والد رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا، مجھ سے زیاد بن خیثمہ نے سماک بن حرب سے، انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے کہا: سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچوں گا! اس کے دونوں اطراف کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا کہ اس میں موجود گھڑے ستاروں کی طرح ہیں۔"
صحیح مسلم : ۱۸۰
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَدِمَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا أَتُقَبِّلُونَ صِبْيَانَكُمْ فَقَالُوا نَعَمْ . فَقَالُوا لَكِنَّا وَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَأَمْلِكُ إِنْ كَانَ اللَّهُ نَزَعَ مِنْكُمُ الرَّحْمَةَ " . وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ " مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ " .
ابو اسامہ اور ابن نمیر نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س بادیہ سے کچھ لوگ آئےاور انھوں نےپوچھا : کیا آپ لوگ اپنے بچوں کو کچھ بوسہ دیتے ہیں؟لوگوں نے کہا : ہاں ، تو ان لوگوں نے کہا : لیکن واللہ! ہم تو اپنے بچوں کو بوسہ نہیں دیتے ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اگر اللہ تعالیٰ نے تمھارے اندر سے رحمت نکال دی ہے ( تو کیا ہوسکتا ہے! ) "" ابن نمیر کی روایت میں ہے : "" تمھارے دل سے رحمت نکال دی ہے ۔