Mercy کے بارے میں احادیث

۹۴۲ مستند احادیث ملیں

صحیح مسلم : ۱۲۱
It Is
Sahih
حَدَّثَنَا ‌يَحْيَى ‌بْنُ ​يَحْيَى، ‌قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ السَّمَاءِ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ ‏.‏ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ ‏"‏ ‏.‏
ہم ‌سے ‌یحییٰ ​بن ‌یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے صالح بن کیسان سے، عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ، زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے مالک کے پاس پڑھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رات کی بارش کے بعد صبح کی نماز پڑھائی۔ جب وہ فارغ ہوا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میرے بعض بندے مجھ پر ایمان لانے والے اور کافر ہو گئے ہیں، جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں اللہ کے فضل و کرم سے بارش ہوئی ہے، وہ مجھ پر ایمان لانے والے اور ستاروں کے منکر ہیں، اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں فلاں ستارے نے بارش دی ہے، وہ مجھ پر ایمان لانے والے اور ستارے کے ماننے والے ہیں۔
It Is صحیح مسلم #۷۱ Sahih
صحیح مسلم : ۱۲۲
It Is
Sahih
وَحَدَّثَنِي ‌عَبَّاسُ ​بْنُ ‌عَبْدِ ‌الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ شَاكِرٌ وَمِنْهُمْ كَافِرٌ قَالُوا هَذِهِ رَحْمَةُ اللَّهِ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَقَدْ صَدَقَ نَوْءُ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ فَلاَ أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ‏}‏ حَتَّى بَلَغَ ‏{‏ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ‏{‏
مجھ ‌سے ​عباس ‌بن ‌عبد العظیم الانباری نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عکرمہ (جو ابن عمار تھے) نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو زمیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بارش ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ بعض لوگ خوش مزاج ہیں اور وہ لوگ ہیں خدا کی رحمت۔‘‘ اور ان میں سے بعض نے کہا، ’’اس نے سچ کہا ہے۔‘‘ ’’فلاں کا ستارہ۔‘‘ آپ نے فرمایا: پھر یہ آیت نازل ہوئی: {تو میں ستاروں کے مقام کی قسم کھاتا ہوں} یہاں تک کہ وہ پہنچ گیا {اور تم اپنا رزق بنا لو جس کا تم انکار کرتے ہو}
It Is صحیح مسلم #۷۳ Sahih
صحیح مسلم : ۱۲۳
Sahih
حَدَّثَنَا ‌يَحْيَى ‌بْنُ ​يَحْيَى، ‌قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ السَّمَاءِ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ ‏.‏ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ‌زید ‌بن ​جہنی ‌‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر رات کو ہونے والی بارش کے بعد ، ہمیں صبح کی نماز پڑھائی ۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ’’کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ ‘ ‘ انہوں نےجواب دیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( آج ) میرے بندوں میں سے کوئی مجھ پر ایمان لانےو الا اور ( کوئی میرےساتھ ) کفر کرنے والا ہو گیا ۔ جس نے یہ کہا ہے کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کےفضل اور رحمت سےبارش ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا اور ستارے کے ساتھ کفر کرنے والا ہے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے ( کےغروب و طلوع ہونے ) کی وجہ سے بارش ہوئی ہے تو وہ میرے ساتھ کفر کرنے والا اور ستارے پر ایمان رکھنے والا ہے
صحیح مسلم #۲۳۱ Sahih
صحیح مسلم : ۱۲۴
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
Sahih
وَحَدَّثَنَا ​قُتَيْبَةُ ​بْنُ ‌سَعِيدٍ، ​وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ، أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ ‏.‏
حضرت ​ابن ​عباس ‌‌رضی ​‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ ( جاہلی دور میں ) مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے قتل کیے تھے تو بہت کیے تھے اور زنا کیا تھا تو بہت کیا تھا ، پھر وہ حضرت محمدﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگے : آپ جو کچھ فرماتے ہیں اور جس ( راستے ) کی دعوت دیتے ہیں ، یقیناً وہ بہت اچھا ہے ۔ اگر آپ ہمیں بتا دیں کہ جو کام ہم کر چکے ہیں ، ان کا کفارہ ہو سکتا ہے ( تو ہم ایمان لے آئیں گے ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی : ’’ جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے ، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے ، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا ‘ ‘ ( ہر مسلمان پر ان ابدی احکام کی پابندی ضروری ہے ) اور یہ آیت نازل ہوئی : ’’اے میرے بندو! جو اپنے اوپر زیادتی کر چکے ہو ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ۔ ( جو اسلام سے پہلے یہ کام کر چکے ان کے بارے میں وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں ۔ ‘ ‘)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما صحیح مسلم #۳۲۲ Sahih
صحیح مسلم : ۱۲۵
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
وَحَدَّثَنَا ‌مُحَمَّدُ ​بْنُ ‌الْمُثَنَّى، ‌حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ جَنَابَةٍ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثَ حَفَنَاتٍ مِنْ مَاءٍ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ ‏.‏ قَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ لَهُ يَا ابْنَ أَخِي كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ ‏.‏
حضرت ‌ابو ​ہریرہ ‌‌رضی ‌‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت اتری : ’’ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، اللہ ہی کا ہے اور تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کرو یا چھپاؤ ، اللہ تعالیٰ اس پر تمہارا محاسبہ کرے گا ، پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور ا للہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ ‘ ‘ تو رسول اللہ ﷺ سے ساتھیوں پر یہ بات انتہائی گراں گزری ۔ کہا : وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! ( پہلے ) ہمیں ایسے اعمال کا پابند کیا گیا جو ہماری طاقت میں ہیں : نماز ، روزہ ، جہاد اور صدقہ او راب آپ پر یہ آیت اتری ہے جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا تم وہی بات کہنا چاہتے ہو جو تم سے پہلے دونوں اہل کتاب نے کہی : ہم نے سنا اور نافرمانی کی ! بلکہ تم کہو : ہم نے سنا اور اطاعت کی ۔ اے ہمارے رب ! تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے ۔ ‘ ‘ جب صحابہ نے یہ الفاظ دہرانے لگے اور ان کی زبانیں ان الفاظ پر رواں ہو گئیں ، تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : ’’رسو ل اللہ ﷺ اس ( ہدایت ) پر ایمان لائے جوان کے رب کی طرف ان پر نازل کی گئی اور سارے مومن بھی ۔ سب ایمان لائے اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ، ( اورکہا : ) ہم ( ایمان لانے میں ) اس کے رسولوں کے درمیان فرق نہیں کرتے اور انہوں نے کہا : ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی ، اے ہمارے رب !تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ ‘ ‘ چنانچہ جب انہوں نے یہ ( مان کر اس پر عمل ) کیا تو اللہ عزوجل نےاس آیت ( کے ابتدائی معنی ) منسوخ کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی : ’’ اللہ کسی شخص پر اس کی طاق سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔ اس نے جو ( نیکی ) کمائی اورجو ( برائی ) کمائی ( اس کا وبال ) اسی پر ہے ، اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا ہم خطا کریں تو ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں ۔ ( انہوں نے کہا : ) ’’ اے ہمارے پروردگار ! اور ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ان لوگوں پر ڈالا جوہم سے پہلے ( گزر چکے ) ہیں ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں! ( پھر کہا : ) ’’اے ہمارے رب ! ہم سے وہ چیز نہ اٹھوا جس کے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں ! ( پھر کہا : ) ’’ او رہم سےدرگزر فرما اور ہمیں بخشش دے اور ہم پر مہربانی فرما ۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے ، پس تو کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں ۔
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) صحیح مسلم #۳۲۹ Sahih
صحیح مسلم : ۱۲۶
Sahih
حَدَّثَنَا ‌أَبُو ​بَكْرِ ‌بْنُ ​أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا - وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، مَوْلَى خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ‏}‏ قَالَ دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَىْءٌ لَمْ يَدْخُلْ قُلُوبَهُمْ مِنْ شَىْءٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَلْقَى اللَّهُ الإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏ لاَ يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا‏}‏ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ ‏{‏ رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا‏}‏ - قَالَ قَدْ فَعَلْتُ ‏{‏ وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلاَنَا‏}‏ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ ‏.‏
حضرت ‌ابن ​عبا ‌‌رضی ​‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے ، اس کو ظاہر کر دیا چھپاؤ ، اللہ اس پر تمہارا مؤاخذہ کرے گا ۔ ‘ ‘ ( ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : اس سے صحابہ کے دلوں میں ایک چیز ( شدید خوف کی کیفیت کہ احکام الہٰی کے اس تقاضے پر عمل نہ ہو سکے گا ) در آئی جو کسی اور بات سے نہیں آئی تھی ۔ تب نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ کہو : ہم نے سنا او رہم نے اطاعت کی او رہم نے تسلیم کیا ۔ ‘ ‘ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اس پر اللہ تعالیٰ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔ اسی کے لیے ہے جو اس نے کمایا اور اسی پر ( وبال ) پڑتا ہے ( اسی پر برائی کا ) جس کا اس نے ارتکاب کیا ۔ اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں تو ہماری مؤاخذہ نہ کرنا ۔ ‘ ‘ اللہ نے فرمایا : میں نے ایسا کر دیا ۔ ’’ اے ہمارے رب ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا کہ تو ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے ۔ ‘ ‘ فرمایا : میں ایسا کر دیا ۔ ’’ہمیں بخش دے او رہم پر رحم فرما ، تو ہی ہمارا مولیٰ ہے ۔ ‘ ‘ اللہ نے فرمایا : میں نے ایسا کر دیا ۔
صحیح مسلم #۳۳۰ Sahih
صحیح مسلم : ۱۲۷
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
وَحَدَّثَنِي ​زُهَيْرُ ‌بْنُ ‌حَرْبٍ، ​حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُغِيرُ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ وَكَانَ يَسْتَمِعُ الأَذَانَ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلاَّ أَغَارَ فَسَمِعَ رَجُلاً يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عَلَى الْفِطْرَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ فَنَظَرُوا فَإِذَا هُوَ رَاعِي مِعْزًى ‏.‏
یونس ​نے ‌ابن ‌شہاب ​زہری سے خبر دی ، انہوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن اور سعید بن مسیب سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ہم ابراہیم سے زیادہ شک کرنے کا حق رکھتے ہیں ، جب انہوں نے کہا تھا : ’’ اے میرے رب ! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا تمہیں یقین نہیں ؟ کہا : کیوں نہیں ! لیکن ( میں اس لیے جاننا چاہتا ہوں ) تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے ۔ ‘ ‘ آپ نے فرمایا : ’’ اور اللہ لوط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ پر رحم فرمائے ، ( وہ کسی سہارے کی تمنا کر رہے تھے ) حالانکہ انہوں نے ایک مضبوط سہارے کی پناہ لی ہوئی تھی ۔ اور اگر میں قید خانے میں یوسف علیہ السلام جتنا طویل عرصہ ٹھہرتا تو ( ہوسکتا ہے ) بلانے والے کی بات مان لیتا ۔ ‘ ‘ ( عملاً آپ نے دوسرے انبیاء سے بڑھ کر ہی صبر و تحمل سے کام لیا ۔)
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) صحیح مسلم #۳۸۲ Sahih
صحیح مسلم : ۱۲۸
Sahih
حَدَّثَنِي ​زُهَيْرُ ​بْنُ ​حَرْبٍ، ‌حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ نَاسًا قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ ‏.‏ فَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ وَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ وَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ وَتَبْقَى هَذِهِ الأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي صُورَةٍ غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ ‏.‏ فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ ‏.‏ فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ تَعَالَى فِي صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ ‏.‏ فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا ‏.‏ فَيَتَّبِعُونَهُ وَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَىْ جَهَنَّمَ فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ وَلاَ يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ إِلاَّ الرُّسُلُ وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ ‏.‏ وَفِي جَهَنَّمَ كَلاَلِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ هَلْ رَأَيْتُمُ السَّعْدَانَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهُ لاَ يَعْلَمُ مَا قَدْرُ عِظَمِهَا إِلاَّ اللَّهُ تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمُ الْمُؤْمِنُ بَقِيَ بِعَمَلِهِ وَمِنْهُمُ الْمُجَازَى حَتَّى يُنَجَّى حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ بِرَحْمَتِهِ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا مِمَّنْ أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَرْحَمَهُ مِمَّنْ يَقُولُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏.‏ فَيَعْرِفُونَهُمْ فِي النَّارِ يَعْرِفُونَهُمْ بِأَثَرِ السُّجُودِ تَأْكُلُ النَّارُ مِنِ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ أَثَرَ السُّجُودِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ ‏.‏ فَيُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ وَقَدِ امْتَحَشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ مِنْهُ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ ثُمَّ يَفْرُغُ اللَّهُ تَعَالَى مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَيَبْقَى رَجُلٌ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ وَهُوَ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولاً الْجَنَّةَ فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ فَإِنَّهُ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا فَيَدْعُو اللَّهَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَهُ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ ذَلِكَ بِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ ‏.‏ فَيَقُولُ لاَ أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ ‏.‏ وَيُعْطِي رَبَّهُ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ مَا شَاءَ اللَّهُ فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ فَإِذَا أَقْبَلَ عَلَى الْجَنَّةِ وَرَآهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ ثُمَّ يَقُولُ أَىْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ ‏.‏ فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ لاَ تَسْأَلُنِي غَيْرَ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ ‏.‏ فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ وَيَدْعُو اللَّهَ حَتَّى يَقُولَ لَهُ فَهَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ ‏.‏ فَيَقُولُ لاَ وَعِزَّتِكَ ‏.‏ فَيُعطِي رَبَّهُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ فَيُقَدِّمُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا قَامَ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ فَرَأَى مَا فِيهَا مِنَ الْخَيْرِ وَالسُّرُورِ فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ ثُمَّ يَقُولُ أَىْ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ ‏.‏ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لاَ تَسْأَلَ غَيْرَ مَا أُعْطِيتَ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ ‏.‏ فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ لاَ أَكُونُ أَشْقَى خَلْقِكَ ‏.‏ فَلاَ يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ فَإِذَا ضَحِكَ اللَّهُ مِنْهُ قَالَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ‏.‏ فَإِذَا دَخَلَهَا قَالَ اللَّهُ لَهُ تَمَنَّهْ ‏.‏ فَيَسْأَلُ رَبَّهُ وَيَتَمَنَّى حَتَّى إِنَّ اللَّهَ لَيُذَكِّرُهُ مِنْ كَذَا وَكَذَا حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ لاَ يَرُدُّ عَلَيْهِ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا ‏.‏ حَتَّى إِذَا حَدَّثَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ اللَّهَ قَالَ لِذَلِكَ الرَّجُلِ وَمِثْلُهُ مَعَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا حَفِظْتُ إِلاَّ قَوْلَهُ ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَشْهَدُ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَوْلَهُ ذَلِكَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولاً الْجَنَّةَ ‏.‏
یعقوب ​بن ​ابراہیم ​نے ‌حدیث بیان کی ، کہا : میرے والد نے ہمیں ابن شہاب زہری سے حدیث سنائی ، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے روایت کی کہ ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں بتایا : کچھ لوگوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے عرض کی کہ اللہ کے رسول ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کیا تمہیں پورے چاند کی رات کو چاند دیکھنے میں کوئی دقت محسوس ہوتی ہے ؟ ‘ ‘ لوگوں نے کہا : نہیں ، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا : ’’ جب بادل حائل نہ ہوں تو کیا سورج دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت محسوس ہوتی ہے ؟ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : نہیں ، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ’’ تم اسے ( اللہ ) اسی طرح دیکھو گے ، اللہ تعالیٰ قیامت کےدن تمام لوگوں کو جمع کرے گا ، پھر فرمائے گا : جو شخص جس چیز کی عبادت کرتا تھا اسی کے پیچھے چلا جائے ، چنانچہ جوسورج کی پوجا کرتا تھا وہ سورج کے پیچھے چلا جائے گا ، جو چاند کی پرستش کرتا تھا وہ ا س کے پیچھے چلا جائے گااور جو طاغوتوں ( شیطانوں ، بتوں وغیرہ ) کی پوجا کرتا تھا وہ طاغوتی کے پیچھے چلا جائے گا اور صرف یہ امت ، اپنے منافقوں سمیت ، باقی رہ جائے گی ۔ اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے پاس اپنی اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچان سکتےہوں گے ، پھر فرمائے گا : میں تمہارارب ہوں ۔ وہ کہیں گے : ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ، ہم اسی جگہ ٹھہرے رہیں گے یہاں تک کہ ہمارارب ہمارے پاس آ جائے ، جب ہمارا رب آئے گا ہم اسے پہچان لیں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جس میں وہ اس کو پہچانتے ہوں گے اور فرمائے گا : میں تمہارا پروردگار ہوں ۔ وہ کہیں گے ، تو ( ہی ) ہمارا رب ہے اور اس کے ساتھ ہو جائیں گے ، پھر ( پل ) صراط جہنم کے درمیانی حصے پر رکھ دیا جائے گاتو میں اور امت سب سے پہلے ہوں گے جو اس سے گزریں گے ۔ اس دن رسولوں کے سوا کوئی بول نہ سکے گا ۔ اور رسولوں کو پکار ( بھی ) اس دن یہی ہو گی : اے اللہ ! سلامت رکھ ، سلامت رکھ ۔ اور دوزخ میں سعدان کے کانٹوں کی طرح مڑے ہوئے سروں والے آنکڑے ہوں گے ، کیا تم نے سعدان دیکھا ہے ؟ ‘ ‘ صحابہ نے جواب دیا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول !آپ نے فرمایا : ’’وہ ( آنکڑے ) سعدان کے کانٹوں کی طرح کے ہوں گے لیکن وہ کتنے بڑے ہوں گے اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ، وہ لوگ کو ان کے اعمال کا بدلہ چکانا ہوگا ۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہو جائے گا اور ارادہ فرمائے گا کہ اپنی رحمت سے ، جن دوزخیوں کو چاہتا ہے ، آگ سے نکالے تو وہ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ان لوگوں میں سے جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے ، لا الہ الا اللہ کہنے والوں میں سے جن پر اللہ تعالیٰ رحمت کرنا چاہے گا انہیں آگ سے نکال لیں ۔ فرشتے ان کو آگ میں پہچان لیں گے ۔ وہ ا نہیں سجدوں کے نشان سے پہچانیں گے ۔ آگ سجدے کے نشانات کے سوا ، آدم کے بیٹے ( کی ہر چیز ) کو کھا جائے گی ۔ ( کیونکہ ) اللہ تعالیٰ نے آگ پر سجدے کے نشانات کو کھانا حرام کر دیا ہے ، چنانچہ وہ اس حال میں آگ سے نکالے جائیں گےکہ جل کر کوئلہ بن گئے ہوں گے ، ان پر آپ حیات ڈالا جائے گا تو وہ اس کے ذریعے سے اس طرح اگ آئیں گے ، جیسے سیلاب کی لائی ہوئی مٹی میں گھاس کا بیج پھوٹ کر اگ آتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہو جائے گا ۔ بس ایک شخص باقی ہو گا ، جس نے آگ کی طرف منہ کیا ہو ا ہو گا ، یہی آدمی ، تمام اہل جنت میں سے ، جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہو گا ۔ وہ عرض کرے گا : میرا باپ ! میرا چہرہ آگ سے پھیر دے کیونکہ اس کی بدبونے میری سانسوں میں زہر بھر دیا ہے اور اس کی تپش نے مجھے جلا ڈالا ہے ، چنانچہ جب تک اللہ کو منظور ہو گا ، وہ اللہ کو پکارتا رہے گاپھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا : کیا ایسا ہو گا کہ اگر میں تمہارے ساتھ یہ ( حسن سلوک ) کر دوں تو تم کچھ اور مانگنا شروع کر دو گے؟وہ عرض کرے گا : میں تجھ سے اور کچھ نہیں مانگوں گا ۔ وہ اپنے رب عز وجل کو جو عہد و پیمان وہ ( لینا ) چاہے گا ، دے گا ، تو اللہ اس کا چہرہ دوزخ سے پھیر دے گاجب وہ جنت کی طرف رخ کرے گا اور اسے دیکھا گا تو جتنی دیر اللہ چاہے گا کہ وہ چپ رہے ( اتنی دیر ) چپ رہے گا ، پھر کہے گا : میرا رب! مجھے جنت کے دروازے تک آگے کر دے ، اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا : کیا تم نے عہد و پیمان نہیں دیے تھے کہ جو کچھ میں نے تمہیں عطاکر دیا ہے اس کےسوا مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے؟ تجھ پر ا فسوس ہے ! آدم کے بیٹے ! تم کس قدر عہد شکن ہو ! وہ کہے گا : اے میرے رب ! اور اللہ سے دعا کرتا رہے گا حتی کہ اللہ اس سے کہے گا : کیا ایسا ہو گا کہ اگر میں نے تمہیں یہ عطا کر دیا تو اس کے بعد تو اور کچھ مانگنا شروع کر دے گا؟ وہ کہے گا : تیری عزت کی قسم ! ( اور کچھ ) نہیں ( مانگوں گا ۔ ) وہ اپنے رب کو ، جواللہ چاہے گا ، عہد و پیمان دے گا ، اس پر اللہ اسے جنت کے دروازے تک آگے کر دے گا ، پھرجب وہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہو گا تو جنت اس کے سامنے کھل جائے گی ۔ اس میں جو خیر اور سرور ہے وہ اس کو ( اپنی آنکھوں سے ) دیکھے گا ۔ تو جب تک اللہ کو منظور ہو گا وہ خاموش رہے گا ، پھر کہے گا : میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے ، تو اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا ، کیا تو نے پختہ عہد و پیمان نہ کیے تھے کہ جو کچھ تجھے دے دیا گیا ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگے گا؟ ابن آدم تجھ پر افسوس! تو کتنا بڑا وعدہ شکن ہے ۔ وہ کہے گا : اے میرے رب ! میں تیری مخلوق کا سب سے زیادہ بدنصیب شخص نہ بنوں ، وہ اللہ تعالیٰ کو پکارتا رہے گا حتی کہ اللہ عزوجل اس پر ہنسے گا اور جب اللہ تعالیٰ ہنسے گا ( تو ) فرمائے گا : جنت میں داخل ہو جا ۔ جب وہ اس میں داخل ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، تمنا کر ! تو وہ اپنے رب سے مانگے گا اور تمنا کرے گا یہاں تک کہ اللہ اسے یاد دلائے گا ، فلاں چیز ( مانگ ) فلاں چیز ( مانگ ) حتی کہ جب اس کی تمام آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تواللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ سب کچھ تیرا ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی ۔ ‘ ‘ عطاء بن یزید نے کہا کہ ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بھی ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ موجود تھے ، انہوں نے ان کی کسی بات کی تردید نہ کی لیکن جب ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے یہ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے فرمائے گا : ’’ یہ سب کچھ تیرا ہوا اور اس کے ساتھ اتناہی اور بھی ‘ ‘ تو ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ فرمانے لگے : ابو ہریرہ! اس کے ساتھ اس سے دس گنا ( اور بھی ) ، ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : مجھے تو آپ کا یہی فرمان یاد ہے : ’’یہ سب کچھ تیرا ہے اور اس کے ساتھ اتناہی اور بھی ۔ ‘ ‘ ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر آپ کا یہ فرمان دیکھا ہے : ’’ یہ سب تیرا ہوا اور اس سے دس گنا اور بھی ۔ ‘ ‘ ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : یہ جنت میں داخل ہونے والا سب سے آخری شخص ہو گا
صحیح مسلم #۴۵۱ Sahih
صحیح مسلم : ۱۲۹
Sahih
وَحَدَّثَنِي ‌هَارُونُ ​بْنُ ‌سَعِيدٍ ‌الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يُدْخِلُ اللَّهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ بِرَحْمَتَهِ وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارَ ثُمَّ يَقُولُ انْظُرُوا مَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ ‏.‏ فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا حُمَمًا قَدِ امْتَحَشُوا ‏.‏ فَيُلْقَوْنَ فِي نَهْرِ الْحَيَاةِ أَوِ الْحَيَا فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ إِلَى جَانِبِ السَّيْلِ أَلَمْ تَرَوْهَا كَيْفَ تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً ‏"‏ ‏.‏
مالک ‌بن ​انس ‌نے ‌عمرو بن یحییٰ بن عمارہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے مجھے حضرت ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ اہل جنت میں سے جسے چاہے گا اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا ، اور دوزخیوں کو دوزخ میں ڈالے گا ، پھر فرمائے گا : دیکھو ( اور ) جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان پاؤ اس کو نکال لو ، ( ایسے ) لوگ اس حال میں نکالے جائیں گے کہ وہ جل بھن کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے ۔ انہیں زندگی یا شادابی کی نہر میں ڈالا جائے گا تو اس میں وہ اس طرح اگیں گے جس طرح گھاس پھونس کا چھوٹا سا بیج سیلاب کے کنارے میں اگتا ہے تم نے اسے دیکھا نہیں کس طرح زرد ، لپٹا ہوا ، اگتا ہے ؟ ‘ ‘
صحیح مسلم #۴۵۷ Sahih
صحیح مسلم : ۱۳۰
Sahih
وَحَدَّثَنَا ​مُحَمَّدُ ​بْنُ ​سَلَمَةَ ​الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ - خَتَنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنَّ هَذَا عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ فِي مِرْكَنٍ فِي حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى تَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَقَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ هِنْدًا لَوْ سَمِعَتْ بِهَذِهِ الْفُتْيَا وَاللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَتَبْكِي لأَنَّهَا كَانَتْ لاَ تُصَلِّي ‏.‏
(لیث ​کے ​بجائے ​) ​عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ بن زبیر اورعمرہ بنت عبدالرحمن سے ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی زوجہ عائشہ ؓ سے روایت کی کہ ام حبیبہ بنت جحش رسول اللہ ﷺ کی خواہر نسبتی کو ، جو ( ام المومنین زینب بن جحش کی بہن اور ) عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی بیوی تھیں ، سات سال تک استحاضہ کا عارضہ لاحق رہا ۔ انہو ں نے ا س کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یہ حیض ( کا خون ) نہیں بلکہ یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے ، لہٰذا تم غسل کرو اور نماز پڑھو ۔ ‘ ‘ عائشہ ؓ نے کہا : وہ اپنی بہن زینب بن جحش ؓ کے حجرے میں ایک بڑے تشت ( ٹب ) میں غسل کرتیں تو پانی پر خون کی سرخی غالب آ جاتی ۔ ابن شہاب نے کہا : میں یہ حدیث ابو بکر بن عبدالرحمن بن حارث کوسنائی تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ ہند پر رحم فرمائے! کاش وہ بھی یہ فتویٰ سن لیتیں ۔ اللہ کی قسم ! وہ اس بات پر روتی رہتی تھیں کہ استحاضے کی وجہ سے وہ نماز نہیں پڑھ سکتی تھیں ۔
صحیح مسلم #۷۵۶ Sahih
صحیح مسلم : ۱۳۱
Sahih
حَدَّثَنَا ​زُهَيْرُ ​بْنُ ‌حَرْبٍ، ‌وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نَقُولُ فِي الصَّلاَةِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَى فُلاَنٍ ‏.‏ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلاَمُ فَإِذَا قَعَدَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاَةِ فَلْيَقُلِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ فَإِذَا قَالَهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ مَا شَاءَ ‏"‏ ‏.‏
۔ ​جریر ​نے ‌منصور ‌سے ، انہوں نے ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم نماز میں رسول اللہﷺ کے پیچھے کہتے تھے : اللہ پر سلام ہو ، فلاں پر سلام ہو ۔ ( بخاری کی روایت میں جبریل پر میکائیل پر سلام ہو ۔ ) تو ایک دن رسول اللہﷺ نے ہم سے فرمایا : ’’بلاشبہ اللہ خود سلام ہے ، لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو کہے : بقا وبادشاہت ، اختیار وعظمت اللہ ہی کےلیے ہے ، اور ساری دعائیں اور ساری پاکیزہ چیزیں ( بھی اسی کےلیے ہیں ) ، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ جب کوئی شخص یہ ( دعائیہ ) کلمات کہے گا تو یہ آسمان و زمین میں اللہ کے ہر نیک بندے تک پہنچیں گے ۔ ( پھر کہے : ) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کےبندے اور رسول ہیں ، پھر جو مانگنا چاہے اس کا انتخاب کر لے ۔ ‘ ‘
صحیح مسلم #۸۹۷ Sahih
صحیح مسلم : ۱۳۲
Sahih
حَدَّثَنَا ‌قُتَيْبَةُ ‌بْنُ ‌سَعِيدٍ، ​حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ فَكَانَ يَقُولُ ‏ "‏ التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ ‏.‏
امام ‌مسلم ‌نے ‌قتیبہ ​بن سعید اور محمد بن رمح بن مہاجر کی سندوں سے لیث سے ، انہوں نے ابو زبیر سے ، انہوں نے سعید بن جبیر اور طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے ، چنانچہ آپ فرماتے تھے : ’’بقا وبادشاہت ، عظمت و اختیار اور کثرت خیر ، ساری دعائیں اور ساری پاکیزہ چیزیں اللہ ہی کےلیے ہیں ۔ آپ پر سلام ہو اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ ‘ ‘
صحیح مسلم #۹۰۲ Sahih
صحیح مسلم : ۱۳۳
Sahih
حَدَّثَنَا ‌سَعِيدُ ‌بْنُ ​مَنْصُورٍ، ​وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كَامِلٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ صَلاَةً فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أُقِرَّتِ الصَّلاَةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ - قَالَ - فَلَمَّا قَضَى أَبُو مُوسَى الصَّلاَةَ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَقَالَ أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ ثُمَّ قَالَ أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتَهَا قَالَ مَا قُلْتُهَا وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا قُلْتُهَا وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلاَّ الْخَيْرَ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَمَا تَعْلَمُونَ كَيْفَ تَقُولُونَ فِي صَلاَتِكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَنَا فَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا وَعَلَّمَنَا صَلاَتَنَا فَقَالَ ‏"‏ إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ ‏.‏ يُجِبْكُمُ اللَّهُ فَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏.‏ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ‏.‏ يَسْمَعُ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏.‏ وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَتِلْكَ بِتِلْكَ ‏.‏ وَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمُ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏
ابو ‌عوانہ ‌نے ​قتادہ ​سے ، انہوں نے یونس بن جبیر سے اور انہوں نے حطان بن عبد اللہ رقاشی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ ایک نماز پڑھی ، جب وہ قعدہ ( نماز میں تشہد کے لیے بیٹھنے ) کے قریب تھے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : نماز کو نیکی اور زکاۃ کے ساتھ رکھا گیا ہے؟ جب ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے نماز پوری کر لی تو مڑے اور کہا : تم میں سے یہ یہ بات کہنے والا کون تھا؟ تو سب لوگ مارے ہیبت کے چپ رہے ، انہوں نے پھر کہا : تم میں سے یہ یہ بات کہنے والا کون تھا؟ تو لوگ ہیبت کے مارے پھر چپ رہے تو انہوں نے کہا : اے حطان! لگتا ہے تو نے یہ بات کہی؟ انہوں نے کہا : میں نے یہ نہیں کہا ، البتہ مجھے ڈر تھا کہ آپ اس کے سبب میری سرزنش کریں گے ۔ تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : میں نے یہ بات کہی تھی اور میں نے اس سے بھلائی کے سوا اور کچھ نہ چاہا تھا ۔ تو ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے کہا : کیا تم نہیں جانتے کہ تمہیں اپنی نماز میں کیسے کہنا چاہیے؟ رسول اللہﷺ نے ہمیں خطبہ دیا ، آپ نے ہمارے لیے ہمارا طریقہ واضح کیا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی ۔ آپ نے فرمایا : ’’جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفوں کو سیدھا کرو ، پھر تم میں سے ایک شخص تمہاری امامت کرائے ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ ﴿غير المغضوب عليهم والا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو ، اللہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا ۔ پھر جب وہ تکبیر کہے اور رکوع کرے تو تم تکبیر کہو اور رکوع کرو ، امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ تو ( مقتدی کی طرف سے رکوع میں جانےکی ) یہ ( تاخیر ) اس ( تاخیر ) کا بدل ہو کی ( جو رکوع سے سر اٹھانے میں ہو گی ) اور جب امام سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ربنا لك الحمد کہو ، اللہ تمہاری ( بات ) سنے گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کی زبان سے فرمایا ہے : اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی اور جب امام تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم تکبیر کہو اور سجدہ کرو ، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ تو یہ ( تاخیر ) اس ( تاخیر ) کابدل ہو گی اور جب وہ قعدہ میں ہو تو تمہارا پہلا بول ( یہ ) ہو : بقا وبادشاہت ، اختیار وعظمت ، سب پاک چیزیں اور ساری دعائیں اللہ کےلیے ہیں ۔ اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کےسوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ ‘ ‘
صحیح مسلم #۹۰۴ Sahih
صحیح مسلم : ۱۳۴
Sahih
حَدَّثَنَا ‌أَبُو ​بَكْرِ ‌بْنُ ​أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ابْنُ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْنَا السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ‏.‏ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ عَلاَمَ تُومِئُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ ‏"‏ ‏.‏
۔ ‌مسعر ​نے ‌کہا ​: مجھ سے عبید اللہ ابن قبطیہ نے حضرت جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت بیان کی ، انہوں نے کہا کہ جب ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم کہتے : السلام عليكم ورحمة الله ، السلام عليكم ورحمة الله اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے دونوں جانب اشارہ کیا ، چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اپنے ہاتھوں کے ساتھ اشارہ کیوں کرتے ہو ، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہوں؟ تم میں سے ( ہر ) ایک کے لیے بس یہی کافی ہے کہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھے ، پھر اپنے بھائی کو سلام کرے جو دائیں جانب ہے اور ( جو ) بائیں جانب ( ہے ۔ ) ‘ ‘
صحیح مسلم #۹۷۰ Sahih
صحیح مسلم : ۱۳۵
Sahih
حَدَّثَنِي ​مُحَمَّدُ ‌بْنُ ​الْمُثَنَّى، ​حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ ‏"‏ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ خَبَّرَنِي رَبِّي أَنِّي سَأَرَى عَلاَمَةً فِي أُمَّتِي فَإِذَا رَأَيْتُهَا أَكْثَرْتُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ‏.‏ فَقَدْ رَأَيْتُهَا ‏{‏ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ‏}‏ فَتْحُ مَكَّةَ ‏{‏ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا * فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا‏}‏ ‏"‏ ‏.‏
عامر ​( ‌شعبی ​) ​نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ کثرت سے یہ فرمایا کرتے تھے : ’’میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی حمد کے ساتھ ، میں اللہ سے بخشش کا طلب گار ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ بکثرت کہتے ہیں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تو آپ نے فرمایا : ’’میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میں جلدی ہی اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا اور جب میں اس کو دیکھ لوں توبکثرت کہوں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه تو ( وہ نشانی ) میں دیکھ چکا ہوں ۔ ’’جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے ‘ ‘ ( یعنی ) فتح مکہ ’’ اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیں تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی پاکیزگی بیان کریں اور اس سے بخشش طلب کریں بلاشبہ وہ توبہ قبول فرمانے والا ہے ۔ ‘ ‘
صحیح مسلم #۱۰۸۸ Sahih
صحیح مسلم : ۱۳۶
Sahih
حَدَّثَنَا ​أَبُو ‌جَعْفَرٍ، ​مُحَمَّدُ ‌بْنُ الصَّبَّاحِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ - قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ‏.‏ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ وَاثُكْلَ أُمِّيَاهْ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَىَّ ‏.‏ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي لَكِنِّي سَكَتُّ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلاَ بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ فَوَاللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلاَ ضَرَبَنِي وَلاَ شَتَمَنِي قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذِهِ الصَّلاَةَ لاَ يَصْلُحُ فِيهَا شَىْءٌ مِنْ كَلاَمِ النَّاسِ إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلاَمِ وَإِنَّ مِنَّا رِجَالاً يَأْتُونَ الْكُهَّانَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ تَأْتِهِمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ شَىْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلاَ يَصُدَّنَّهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ ‏"‏ فَلاَ يَصُدَّنَّكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّيبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَىَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ أُعْتِقُهَا قَالَ ‏"‏ ائْتِنِي بِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ لَهَا ‏"‏ أَيْنَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فِي السَّمَاءِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَنْ أَنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ ‏"‏ ‏.‏
ہم ​سے ‌ابو ​جعفرمحمد ‌بن صباح اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی ۔ حدیث کے لفظوں میں بھی دونوں ایک دوسرے کے قریب ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث بیان کی ‘ انھوں نے حجاج صوّاف سے انھوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ‘ انھوں نے ہلال بن ابی میمونہ سے ‘ انھوں نے عطاء بن یسار سے اور انھوں نے حضرت معاویہ بن ابی حکم سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی انھوں نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑ ھ رہاتھا کہ لوگوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے کہا : یرحمک اللہ’’اللہ تجھ پر رحم کرے ۔ ‘ ‘ لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا ۔ میں نے ( دل میں ) کہا : میری ماں مجھے گم پائے ‘ تم سب کو کیا ہو گیا؟ کہ مجھے گھور رہے ہو پھروہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے ۔ جب میں نے انھیں دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں ( تو مجھے عجیب لگا ) لیکن میں خاموش رہا ‘ جب رسو ل اللہ نماز سے فارغ ہوئے ‘ میرے ماں باپ آپ پرقربان !میں نے آپ سےپہلے اور آپکے بعدآپ سے بہتر کوئی معلم ( سکھانےوالا ) نہیں دیکھا!اللہ کی قسم !نہ تو آپنے مجھے ڈانٹا ‘ نہ مجھے مارا اور نہ مجھے برا بھلا کہا ۔ آپنے فرمایا : ’’یہ نماز ہے اس میں کسی قسم کی گفتگو روانہیں ہے ‘ یہ تو بس تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے ۔ ‘ ‘ یا جیسے رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا ۔ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول اللہ !ابھی تھوڑا عرصہ پہلے جاہلیت میں تھا ‘ اور اللہ نے اسلام سے نوازدیا ہے ‘ ہم میں سے کچھ لوگ ہیں جو کاہنوں ( پیش گوئی کرنے والے ) کے پاس جاتے ہیں ۔ آپنے فرمایا : ’’تم ان کے پاس نہ جانا ۔ ‘ ‘ میں نے عرض کی : ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو بدشگونی لیتےہیں ۔ آپن فرمایا : ’’یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں ( ایک طرح کا وہم ہے ) یہ ( وہم ) انھیں ( ان کے ) کسی کام سے نہ روکے ۔ ‘ ‘ ( محمد ) ابن صباح نے روایت کی : ’’یہ تمہیں کسی صورت ( اپنے کاموں سے ) نہ رزکے ۔ ‘ ‘ میں نے عرض کی : ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچھنے ہیں ۔ ‘ ‘ آپنے فرمایا : ’’سابقہ انبیاء میں سے ایک بنی لکیریں کھینچا کرتے تھے تو جس کی لکیریں ان کے موافق ہو جائیں وہ تو صحیح ہو سکتی ہیں ‘ ‘ ( لیکن اب اس کا جاننا مشکل ہے ۔ ) ( معاویہ بن حکم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے اطراف میں میری بکریا چراتی تھی ‘ ایک دن میں اس طرف جاانکلاتو بھیڑیا اس کی بکری لے جا چکا تھا ۔ میں بھی بنی آدم میں سے ایک آدمی ہوں ‘ مجھے بھی اسی طرح افسوس ہوتا ہے جس طرح ان کو ہوتا ہے ( مجھے صبر کرناچاہیے تھا ) لیکن میں نے اسے زور سے ایک تھپڑجڑدیا اس کے بعد رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو اآپنے میری اس حرکت کو میرے لیے بڑی ( غلط ) حرکت قرار دیا ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !کیا میں اسے آزادنہ کردوں؟آپ نےفرمایا : ’’اسے میرےپاس لے آؤ ۔ ‘ ‘ میں اسے لےکر آپ کےپاس حاضر ہوا ، آپ نےاس سے پوچھا : ’’اللہ کہا ں ہے؟ ‘ ‘ اس نےکہا : آسمان میں ۔ آپ نےپوچھا : ’’میں کون ہوں؟ ‘ ‘ اس نےکہا : آپ اللہ کےرسول ہیں ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’اسے آزاد کردو ، یہ مومنہ ہے
صحیح مسلم #۱۱۹۹ Sahih
صحیح مسلم : ۱۳۷
Sahih
حَدَّثَنَا ​أَبُو ​بَكْرِ ‌بْنُ ​أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، - قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صَلاَةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلاَتِهِ فِي بَيْتِهِ وَصَلاَتِهِ فِي سُوقِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً وَذَلِكَ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لاَ يَنْهَزُهُ إِلاَّ الصَّلاَةُ لاَ يُرِيدُ إِلاَّ الصَّلاَةَ فَلَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلاَّ رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي الصَّلاَةِ مَا كَانَتِ الصَّلاَةُ هِيَ تَحْبِسُهُ وَالْمَلاَئِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏
ابو ​معاویہ ​نے ‌اعمش ​سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ آدمی کی باجماعت ( ادا کی گئی ) نماز اس کی گھر میں یا بازار میں پڑھی ہوئی نماز کی نسبت بیس سے زیادہ درجے بڑھ کر ہے اور وہ یوں کہ جب ان میں سے کوئی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے ، پھر مسجد آتا ہے ، اسے نماز ہی نے اٹھایا ہے اور نماز کے علاوہ کچھ نہیں چاہتا ۔ تو وہ کوئی قدم نہیں اٹھاتا مگر اس کے سبب سے اس کا درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے ، پھر جب مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو جب تک نماز اسے روکے رکھتی ہے وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ( اس کے انتظار کا وقت نماز میں شمار ہوتا ہے ) اور تم میں سے کوئی شخص جب تک اس جگہ رہتا ہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے تو فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں : ‘ ‘ اے اللہ اس پر رحم فرما !اے اللہ ! اس کی توبہ قبول فرما! جب تک وہ اس جگہ ( پر کسی کو ) تکلیف نہیں پہنچاتا اور جب تک وہ اس جگہ بے وضو نہیں ہوتا ۔ ’’
صحیح مسلم #۱۵۰۶ Sahih
صحیح مسلم : ۱۳۸
Sahih
وَحَدَّثَنَا ​ابْنُ ​أَبِي ​عُمَرَ، ​حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ تَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ وَأَحَدُكُمْ فِي صَلاَةٍ مَا كَانَتِ الصَّلاَةُ تَحْبِسُهُ ‏"‏ ‏.‏
ابن ​سیرین ​نے ​حضرت ​ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ‘ ‘ تم میں سے کوئی شخص جب تک اپنی ( نماز پڑھنے کی ) جگہ پر بیٹھا رہتا ہے ، فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں ، کہتے ہیں : اے اللہ! اسے بخش دے! اے اللہ اس پر رحم فرما! جب تک وہ بے وضو نہیں ہوتا ، نیز جب تک تم میں سے کسی شخض کو نماز روکے رکھتی ہے ، وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ۔ ’’
صحیح مسلم #۱۵۰۸ Sahih
صحیح مسلم : ۱۳۹
Sahih
وَحَدَّثَنِي ‌مُحَمَّدُ ‌بْنُ ‌حَاتِمٍ، ‌حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلاَةٍ مَا كَانَ فِي مُصَلاَّهُ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ وَتَقُولُ الْمَلاَئِكَةُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ‏.‏ حَتَّى يَنْصَرِفَ أَوْ يُحْدِثَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ مَا يُحْدِثُ قَالَ يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ ‏.‏
ابو ‌رافع ‌نے ‌حضرت ‌ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ بندہ مسلسل نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک وہ نماز کی جگہ پر نماز کے انتظار میں رہتا ہے اور فرشتے کہتے رہتے ہیں : اے اللہ! اسے معاف فرما!اے اللہ!اس پررحم فرما! یہاں تک کہ وہ چلا جاتا ہے یا بے وضو ہو جاتا ہے ۔ ‘ ‘ ( ابو رافع کہتے ہیں : ) میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : يحدث كا مطلب کیا ہے؟ انھوں نے کہا : آواز کے بغیر یا آواز کے ساتھ ہوا خارج کر دے ۔
صحیح مسلم #۱۵۰۹ Sahih
صحیح مسلم : ۱۴۰
Sahih
حَدَّثَنِي ‌حَرْمَلَةُ ‌بْنُ ​يَحْيَى، ‌أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَحَدُكُمْ مَا قَعَدَ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ فِي صَلاَةٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ تَدْعُو لَهُ الْمَلاَئِكَةُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ‏"‏ ‏.‏
ابن ‌شہاب ‌نے ​( ‌عبدالرحمان ) بن ہرمز ( اعرج ) سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ تم میں سے کوئی شخص جتنی دیر نماز کے انتظار میں بیٹھا ہے نماز ہی میں رہتا ہے جب تک بے وضو نہ ہو جائے ۔ فرشتے اس کے لئے دعا کرتے رہتے : اے اللہ ! اسے معاف فرما! اے اللہ!اس پؓر رحم فرما ۔ ’’
صحیح مسلم #۱۵۱۱ Sahih