Quran کے بارے میں احادیث
۱۵۵ مستند احادیث ملیں
سنن ابو داؤد : ۴۱
خالد الحدہ رضی اللہ عنہ
Hasan Isnaad
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَخْبِرْنِي عَنْ آدَمَ، لِلسَّمَاءِ خُلِقَ أَمْ لِلأَرْضِ قَالَ لاَ بَلْ لِلأَرْضِ . قُلْتُ أَرَأَيْتَ لَوِ اعْتَصَمَ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الشَّجَرَةِ قَالَ لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْهُ بُدٌّ . قُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى { مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ * إِلاَّ مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ } قَالَ إِنَّ الشَّيَاطِينَ لاَ يَفْتِنُونَ بِضَلاَلَتِهِمْ إِلاَّ مَنْ أَوْجَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَحِيمَ .
خالد الحذاء کہتے ہیں کہ میں نے حسن ( حسن بصری ) سے کہا: اے ابوسعید! آدم کے سلسلہ میں مجھے بتائیے کہ وہ آسمان کے لیے پیدا کئے گئے، یا زمین کے لیے؟ آپ نے کہا: نہیں، بلکہ زمین کے لیے، میں نے عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر وہ نافرمانی سے بچ جاتے اور درخت کا پھل نہ کھاتے، انہوں نے کہا: یہ ان کے بس میں نہ تھا، میں نے کہا: مجھے اللہ کے فرمان «ما أنتم عليه بفاتنين * إلا من هو صال الجحيم» شیاطین تم میں سے کسی کو اس کے راستے سے گمراہ نہیں کر سکتے سوائے اس کے جو جہنم میں جانے والا ہو ( الصافات: ۱۶۳ ) کے بارے میں بتائیے، انہوں نے کہا: شیاطین اپنی گمراہی کا شکار صرف اسی کو بنا سکتے ہیں جس پر اللہ نے جہنم واجب کر دی ہے ۔
سنن ابو داؤد : ۴۲
خالد الحدہ رضی اللہ عنہ
Sahih Isnaad Maqtu
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى { وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ } قَالَ خَلَقَ هَؤُلاَءِ لِهَذِهِ وَهَؤُلاَءِ لِهَذِهِ .
حسن بصری سے اللہ تعالیٰ کے قول «ولذلك خلقهم» اور اسی کے لیے انہیں پیدا کیا ( سورۃ ھود: ۱۱۹ ) کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے کہا: انہیں پیدا کیا اس ( جنت ) کے لیے اور انہیں پیدا کیا اس ( جہنم ) کے لیے ۱؎۔
سنن ابو داؤد : ۴۳
خالد الحدہ رضی اللہ عنہ
Sahih Isnaad Maqtu
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ { مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ * إِلاَّ مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ } قَالَ إِلاَّ مَنْ أَوْجَبَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ أَنَّهُ يَصْلَى الْجَحِيمَ .
خالد الخداء کہتے ہیں کہ میں نے حسن بصری سے کہا «ما أنتم عليه بفاتنين * إلا من هو صال الجحيم» تو انہوں نے کہا: «إلا من هو صال الجحيم» کا مطلب ہے: سوائے اس کے جس کے لیے اللہ نے واجب کر دیا ہے کہ وہ جہنم میں جائے۔
سنن ابو داؤد : ۴۴
Explaining The Quranic Verse; “and Between Them
Daif Isnaad Maqtu
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ رَجُلٍ، قَدْ سَمَّاهُ غَيْرِ ابْنِ كَثِيرٍ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدٍ الصِّيدِ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ } قَالَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الإِيمَانِ .
حسن بصری آیت کریمہ: «وحيل بينهم وبين ما يشتهون» ان کے اور ان کی خواہشات کے درمیان حائل ہو گئی ( سورۃ سبا: ۵۴ ) کی تفسیر میں کہتے ہیں: اس کا مطلب ہے ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہو گئی۔
سنن ابو داؤد : ۴۵
عثمان البطی رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، قَالَ مَا فَسَّرَ الْحَسَنُ آيَةً قَطُّ إِلاَّ عَلَى الإِثْبَاتِ .
عثمان کہتے ہیں کہ حسن نے جب بھی کسی آیت کی تفسیر کی تو تقدیر کا اثبات کیا۔
سنن ابو داؤد : ۴۶
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ : " أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ " . ثُمَّ يَقُولُ : " كَانَ أَبُوكُمْ يُعَوِّذُ بِهِمَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : هَذَا دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْقُرْآنَ لَيْسَ بِمَخْلُوقٍ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے لیے ( ان الفاظ میں ) اللہ تعالیٰ پناہ مانگتے تھے «أعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» میں تم دونوں کے لیے پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلمات کے ذریعہ، ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے ( سانپ بچھو وغیرہ ) سے اور ہر نظر بد والی آنکھ سے پھر فرماتے: تمہارے باپ ( ابراہیم ) اسماعیل و اسحاق کے لیے بھی انہی کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مخلوق نہیں ہے۔
سنن ابو داؤد : ۴۷
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : بَعَثَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا، فَقَسَّمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةٍ بَيْنَ : الأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ الْمُجَاشِعِيِّ، وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْلِ الطَّائِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلاَثَةَ الْعَامِرِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلاَبٍ قَالَ فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَالأَنْصَارُ وَقَالَتْ : يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا . فَقَالَ : " إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ " . قَالَ : فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ نَاتِئُ الْجَبِينِ كَثُّ اللِّحْيَةِ مَحْلُوقٌ قَالَ : اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ . فَقَالَ : " مَنْ يُطِعِ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُهُ أَيَأْمَنُنِي اللَّهُ عَلَى أَهْلِ الأَرْضِ وَلاَ تَأْمَنُونِي " . قَالَ : فَسَأَلَ رَجُلٌ قَتْلَهُ أَحْسِبُهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ - قَالَ - فَمَنَعَهُ . قَالَ : فَلَمَّا وَلَّى قَالَ : " إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا أَوْ فِي عَقِبِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الإِسْلاَمِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الأَوْثَانِ لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ قَتَلْتُهُمْ قَتْلَ عَادٍ " .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مٹی سے آلودہ سونے کا ایک ٹکڑا بھیجا ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار لوگوں: اقرع بن حابس حنظلی مجاشعی، عیینہ بن بدر فزاری، زید الخیل طائی جو بنی نبہان کے ایک فرد ہیں اور علقمہ بن علاثہ عامری جو بنی کلاب سے ہیں کے درمیان تقسیم کر دیا، اس پر قریش اور انصار کے لوگ ناراض ہو گئے اور کہنے لگے: آپ اہل نجد کے رئیسوں کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں اتنے میں ایک شخص آیا ( جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، رخسار ابھرے ہوئے اور پیشانی بلند، داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا ) اور کہنے لگا: اے محمد! اللہ سے ڈرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں ہی اس کی نافرمانی کرنے لگوں گا تو کون اس کی فرمانبرداری کرے گا، اللہ تو زمین والوں میں مجھے امانت دار سمجھتا ہے اور تم مجھے امانت دار نہیں سمجھتے؟ تو ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت چاہی، میرا خیال ہے وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، اور جب وہ لوٹ گیا تو آپ نے فرمایا: اس کی نسل میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے، وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے تیر اس شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے جسے تیر مارا جاتا ہے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پوجنے والوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میں نے انہیں پایا تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا ۲؎ ۔
سنن ابو داؤد : ۴۸
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " . قَالَ أَبُو عَلِيٍّ بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهُ قَالَ وَجْهُهُ أَنْ يَمْتَلِئَ قَلْبُهُ حَتَّى يَشْغَلَهُ عَنِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ فَإِذَا كَانَ الْقُرْآنُ وَالْعِلْمُ الْغَالِبُ فَلَيْسَ جَوْفُ هَذَا عِنْدَنَا مُمْتَلِئًا مِنَ الشِّعْرِ وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا . قَالَ كَأَنَّ الْمَعْنَى أَنْ يَبْلُغَ مِنْ بَيَانِهِ أَنْ يَمْدَحَ الإِنْسَانَ فَيَصْدُقَ فِيهِ حَتَّى يَصْرِفَ الْقُلُوبَ إِلَى قَوْلِهِ ثُمَّ يَذُمَّهُ فَيَصْدُقَ فِيهِ حَتَّى يَصْرِفَ الْقُلُوبَ إِلَى قَوْلِهِ الآخَرِ فَكَأَنَّهُ سَحَرَ السَّامِعِينَ بِذَلِكَ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے لیے اپنا پیٹ پیپ سے بھر لینا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ شعر سے بھرے، ابوعلی کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: اس کی شکل ( شعر سے پیٹ بھرنے کی ) یہ ہے کہ اس کا دل بھر جائے یہاں تک کہ وہ اسے قرآن، اور اللہ کے ذکر سے غافل کر دے اور جب قرآن اور علم اس پر چھایا ہوا ہو تو اس کا پیٹ ہمارے نزدیک شعر سے بھرا ہوا نہیں ہے ( اور آپ نے فرمایا ) بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں یعنی ان میں سحر کی سی تاثیر ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں: اس کے معنی گویا یہ ہیں کہ وہ اپنی تقریر میں اس مقام کو پہنچ جائے کہ وہ انسان کی تعریف کرے اور سچی بات ( تعریف میں ) کہے یہاں تک کہ دلوں کو اپنی بات کی طرف موڑ لے پھر اس کی مذمت کرے اور اس میں بھی سچی بات کہے، یہاں تک کہ دلوں کو اپنی دوسری بات جو پہلی بات کے مخالف ہو کی طرف موڑ دے، تو گویا اس نے سامعین کو اس کے ذریعہ سے مسحور کر دیا ۔
سنن ابو داؤد : ۴۹
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ ثُمَّ قَالَ تَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
" أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَكِ " . وَقَرَأَ عَلَيْهَا الْقُرْآنَ فَقَالَ أَبَوَاىَ قُومِي فَقَبِّلِي رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَتْ أَحْمَدُ اللَّهَ لاَ إِيَّاكُمَا .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! خوش ہو جاؤ اللہ نے کلام پاک میں تیرے عذر سے متعلق آیت نازل فرما دی ہے اور پھر آپ نے قرآن پاک کی وہ آیتیں انہیں پڑھ کر سنائیں، تو اس وقت میرے والدین نے کہا: اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو چوم لو، میں نے کہا: میں تو اللہ عزوجل کا شکر ادا کرتی ہوں ( کہ اس نے میری پاکدامنی کے متعلق آیتیں اتاریں ) نہ کہ آپ دونوں کا ( کیونکہ آپ دونوں کو بھی تو مجھ پر شبہ ہونے لگا تھا ) ۔
سنن نسائی : ۵۰
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ، قَالَ لَمَّا رَجَعَ قَوْمِي مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا إِنَّهُ قَالَ
" لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قِرَاءَةً لِلْقُرْآنِ " . قَالَ فَدَعَوْنِي فَعَلَّمُونِي الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَكُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ وَكَانَتْ عَلَىَّ بُرْدَةٌ مَفْتُوقَةٌ فَكَانُوا يَقُولُونَ لأَبِي أَلاَ تُغَطِّي عَنَّا اسْتَ ابْنِكَ .
عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میرے قبیلہ کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوٹ کر آئے تو کہنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم میں جسے قرآن زیادہ یاد ہو وہ تمہاری امامت کرائے ، تو ان لوگوں نے مجھے بلا بھیجا، اور مجھے رکوع اور سجدہ کرنا سکھایا تو میں ان لوگوں کو نماز پڑھاتا تھا، میرے جسم پر ایک پھٹی چادر ہوتی، تو وہ لوگ میرے والد سے کہتے تھے کہ تم ہم سے اپنے بیٹے کی سرین کیوں نہیں ڈھانپ دیتے؟۔
سنن نسائی : ۵۱
عمرو بن سلمہ الجرمی رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَلِمَةَ الْجَرْمِيُّ، قَالَ كَانَ يَمُرُّ عَلَيْنَا الرُّكْبَانُ فَنَتَعَلَّمُ مِنْهُمُ الْقُرْآنَ فَأَتَى أَبِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا " . فَجَاءَ أَبِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا " . فَنَظَرُوا فَكُنْتُ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَأَنَا ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ .
عمرو بن سلمہ جرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سے قافلے گزرتے تھے تو ہم ان سے قرآن سیکھتے تھے ( جب ) میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے امامت وہ آدمی کرے جسے قرآن زیادہ یاد ہو ، تو جب میرے والد لوٹ کر آئے تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم میں سے امامت وہ آدمی کرے جسے قرآن زیادہ یاد ہو ، تو لوگوں نے نگاہ دوڑائی تو ان میں سب سے بڑا قاری میں ہی تھا، چنانچہ میں ہی ان کی امامت کرتا تھا، اور اس وقت میں آٹھ سال کا بچہ تھا ۱؎۔
سنن نسائی : ۵۲
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . فَرَجَعَ فَصَلَّى كَمَا صَلَّى ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَعَلِّمْنِي . قَالَ " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاَتِكَ كُلِّهَا " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، اور ایک اور شخص داخل ہوا، اس نے آ کر نماز پڑھی، پھر وہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا، اور فرمایا: واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی تو وہ لوٹ گئے اور جا کر پھر سے نماز پڑھی جس طرح پہلی بار پڑھی تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو سلام کئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ( پھر ) فرمایا: وعلیک السلام، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا، پھر عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث فرمایا ہے، میں اس سے بہتر نماز نہیں پڑھ سکتا، آپ مجھے ( نماز پڑھنا ) سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوں تو اللہ اکبر کہیں ۱؎ پھر قرآن میں سے جو آسان ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں آپ کو اطمینان ہو جائے، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سجدہ سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ پھر اسی طرح اپنی پوری نماز میں کرو ۲؎۔
سنن نسائی : ۵۳
ابو الصائب رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَلَّى صَلاَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ هِيَ خِدَاجٌ هِيَ خِدَاجٌ " . غَيْرُ تَمَامٍ . فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَحْيَانًا أَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ . فَغَمَزَ ذِرَاعِي وَقَالَ اقْرَأْ بِهَا يَا فَارِسِيُّ فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَسَمْتُ الصَّلاَةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَءُوا يَقُولُ الْعَبْدُ { الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ } يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَمِدَنِي عَبْدِي . يَقُولُ الْعَبْدُ { الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ } يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَثْنَى عَلَىَّ عَبْدِي . يَقُولُ الْعَبْدُ { مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ } يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَجَّدَنِي عَبْدِي . يَقُولُ الْعَبْدُ { إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ } فَهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ . يَقُولُ الْعَبْدُ { اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ * صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ } فَهَؤُلاَءِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " .
ابوسائب مولی ہشام بن زہرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، پوری نہیں ، میں نے پوچھا: ابوہریرہ! کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو ( کیسے پڑھوں؟ ) تو انہوں نے میرا ہاتھ دبایا، اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے جی میں پڑھ لیا کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز ۱؎ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں بانٹ دیا ہے، تو آدھی میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سورۃ فاتحہ پڑھو، جب بندہ «الحمد لله رب العالمين» کہتا ہے ۲؎ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد ( تعریف ) کی، اسی طرح جب بندہ «الرحمن الرحيم» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی، جب بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعظیم و تمجید کی، اور جب بندہ «إياك نعبد وإياك نستعين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے: یہ آیت میرے اور میرے بندے دونوں کے درمیان مشترک ہے، اور جب بندہ «اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ تینوں آیتیں میرے بندے کے لیے ہیں، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ۔
سنن نسائی : ۵۴
ابو سعید بن المعلم رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَعَاهُ - قَالَ - فَصَلَّيْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي " قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي . قَالَ " أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ } أَلاَ أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ " . قَالَ فَذَهَبَ لِيَخْرُجَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْلَكَ . قَالَ " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي الَّذِي أُوتِيتُ وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ " .
ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، اور انہیں بلایا، تو میں نے نماز پڑھی، پھر آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ابوسعید تمہیں مجھے جواب دینے سے کس چیز نے روکا؟ کہا: میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا ہے!: «يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم» اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب وہ تمہیں ایسی چیز کی طرف بلائیں جو تمہارے لیے حیات بخش ہو ( الحجر: ۸۷ ) کیا تم کو مسجد سے نکلنے سے پہلے میں ایک عظیم ترین سورت نہ سکھاؤں؟ آپ مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے جو کہا تھا بتا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سورت«الحمد لله رب العالمين» ہے، اور یہی «سبع المثاني» ۱؎ ہے جو مجھے دی گئی ہے، یہی قرآن عظیم ہے ۔
سنن نسائی : ۵۵
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي التَّوْرَاةِ وَلاَ فِي الإِنْجِيلِ مِثْلَ أُمِّ الْقُرْآنِ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَهِيَ مَقْسُومَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " .
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ جیسی کوئی سورت نہ تو رات میں اتاری ہے اور نہ انجیل میں، یہی «سبع المثاني» ہے، یہ میرے اور میرے بندے کے بیچ بٹی ہوئی ہے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ۔
سنن نسائی : ۵۶
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْصَرَفَ مِنْ صَلاَةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ " هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا " . قَالَ رَجُلٌ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ " . قَالَ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْقِرَاءَةِ مِنَ الصَّلاَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے جس میں آپ نے زور سے قرآت فرمائی تھی سلام پھیر کر پلٹے تو پوچھا: کیا تم میں سے کسی نے ابھی میرے ساتھ قرآت کی ہے؟ تو ایک شخص نے کہا: جی ہاں! اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج بھی میں کہہ رہا تھا کہ کیا بات ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے ۔ زہری کہتے ہیں: جب لوگوں نے یہ بات سنی تو جن نمازوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زور سے قرآت فرماتے تھے ان میں قرآت سے رک گئے ۱؎۔
سنن نسائی : ۵۷
It Was
Daif
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ صَدَقَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يُجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ
" لاَ يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ إِلاَّ بِأُمِّ الْقُرْآنِ " .
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ نمازیں پڑھائیں جن میں قرآت بلند آواز سے کی جاتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں بآواز بلند قرآت کروں تو تم میں سے کوئی بھی سورۃ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھے ۔
سنن نسائی : ۵۸
It Was
Hasan
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي لاَ أَسْتَطِيعُ أَنْ آخُذَ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ فَعَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِئْنِي مِنَ الْقُرْآنِ . فَقَالَ
" قُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ " .
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: میں قرآن کچھ بھی نہیں پڑھ سکتا، تو مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو میرے لیے قرآن کے بدلے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ واللہ أكبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ» اللہ پاک ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود ( برحق ) نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی توفیق سے ہے پڑھ لیا کرو۔
سنن نسائی : ۵۹
ابن مخرمہ رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ ابْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فَقَرَأَ فِيهَا حُرُوفًا لَمْ يَكُنْ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقْرَأَنِيهَا قُلْتُ مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قُلْتُ كَذَبْتَ مَا هَكَذَا أَقْرَأَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ أَقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ وَإِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ فِيهَا حُرُوفًا لَمْ تَكُنْ أَقْرَأْتَنِيهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَأْ يَا هِشَامُ " . فَقَرَأَ كَمَا كَانَ يَقْرَأُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " . ثُمَّ قَالَ " اقْرَأْ يَا عُمَرُ " . فَقَرَأْتُ فَقَالَ " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ " .
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا، انہوں نے اس میں کچھ الفاظ اس طرح پڑھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس طرح نہیں پڑھائے تھے تو میں نے پوچھا: یہ سورت آپ کو کس نے پڑھائی ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، میں نے کہا: آپ غلط کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اس طرح کبھی نہیں پڑھائی ہو گی! چنانچہ میں نے ان کا ہاتھ پکڑا، اور انہیں کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے مجھے سورۃ الفرقان پڑھائی ہے، اور میں نے انہیں اس میں کچھ ایسے الفاظ پڑھتے سنا ہے جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہشام! ذرا پڑھو تو ، تو انہوں نے ویسے ہی پڑھا جس طرح پہلے پڑھا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سورت اسی طرح اتری ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! اب تم پڑھو تو ، تو میں نے پڑھا، تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح اتری ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے ۱؎۔
سنن نسائی : ۶۰
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، - رضى الله عنه - يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا عَلَيْهِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقْرَأَنِيهَا فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَأْ " . فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " . ثُمَّ قَالَ لِي " اقْرَأْ " . فَقَرَأْتُ فَقَالَ " هَكَذَا أُنْزِلَتْ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ { فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ } " .
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا، جس طرح میں پڑھ رہا تھا وہ اس کے خلاف پڑھ رہے تھے، جبکہ مجھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا، تو قریب تھا کہ میں ان کے خلاف جلد بازی میں کچھ کر بیٹھوں ۱؎، لیکن میں نے انہیں مہلت دی یہاں تک کہ وہ پڑھ کر فارغ ہو گئے، پھر میں نے ان کی چادر سمیت ان کا گریبان پکڑ کر انہیں کھینچا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورۃ الفرقان ایسے طریقہ پر پڑھتے سنا ہے جو اس طریقہ کے خلاف ہے جس طریقہ پر آپ نے مجھے یہ سورت پڑھائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ( اچھا ) تم پڑھو! ، انہوں نے اسی طریقہ پر پڑھا جس پر میں نے ان کو پڑھتے ہوئے سنا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے ، پھر مجھ سے فرمایا: تم پڑھو! تو میں نے بھی پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے، یہ قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے، ان میں سے جو آسان ہو تم اسی طرح پڑھو ۔