Quran کے بارے میں احادیث
۱۵۵ مستند احادیث ملیں
سنن نسائی : ۱۰۱
It Was
Sahih Isnaad
أَخْبَرَنَا أَبُو حَصِينٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ زَوَّجَنِي أَبِي امْرَأَةً فَجَاءَ يَزُورُهَا فَقَالَ كَيْفَ تَرَيْنَ بَعْلَكِ فَقَالَتْ نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لاَ يَنَامُ اللَّيْلَ وَلاَ يُفْطِرُ النَّهَارَ . فَوَقَعَ بِي وَقَالَ زَوَّجْتُكَ امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَعَضَلْتَهَا . قَالَ فَجَعَلْتُ لاَ أَلْتَفِتُ إِلَى قَوْلِهِ مِمَّا أَرَى عِنْدِي مِنَ الْقُوَّةِ وَالاِجْتِهَادِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لَكِنِّي أَنَا أَقُومُ وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ فَقُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ " . قَالَ " صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ " . فَقُلْتُ أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا " . قُلْتُ أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ " . ثُمَّ انْتَهَى إِلَى خَمْسَ عَشْرَةَ وَأَنَا أَقُولُ أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ .
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد نے میری شادی ایک عورت سے کر دی، وہ اس سے ملاقات کے لیے آئے، تو اس سے پوچھا: تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا؟ اس نے کہا: کیا ہی بہترین آدمی ہیں نہ رات میں سوتے ہیں اور نہ دن میں کھاتے پیتے ہیں، ۱؎ تو انہوں نے مجھے سخت سست کہا اور بولے: میں نے تیری شادی ایک مسلمان لڑکی سے کی ہے، اور تو اسے چھوڑے رکھے ہے۔ میں نے ان کی بات پر دھیان نہیں دیا اس لیے کہ میں اپنے اندر قوت اور ( نیکیوں میں ) آگے بڑھنے کی صلاحیت پاتا تھا، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: ”میں رات میں قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں، تو تم بھی قیام کرو اور سوؤ بھی۔ اور روزہ رکھو اور افطار بھی کرو، ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو“ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو پھر تم «صیام داودی» رکھا کرو، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن کھاؤ پیو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ہر مہینہ ایک مرتبہ قرآن پڑھا کرو“، پھر آپ ( کم کرتے کرتے ) پندرہ دن پر آ کر ٹھہر گئے، اور میں کہتا ہی رہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔
سنن نسائی : ۱۰۲
It Was
Munkar
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ - عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قُلْتُ أَىْ عَمِّ حَدِّثْنِي عَمَّا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي كُنْتُ أَجْمَعْتُ عَلَى أَنْ أَجْتَهِدَ اجْتِهَادًا شَدِيدًا حَتَّى قُلْتُ لأَصُومَنَّ الدَّهْرَ وَلأَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَانِي حَتَّى دَخَلَ عَلَىَّ فِي دَارِي فَقَالَ " بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ لأَصُومَنَّ الدَّهْرَ وَلأَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ " . فَقُلْتُ قَدْ قُلْتُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَلاَ تَفْعَلْ صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ " . قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " فَصُمْ مِنَ الْجُمُعَةِ يَوْمَيْنِ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ " . قُلْتُ فَإِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَإِنَّهُ أَعْدَلُ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمًا صَائِمًا وَيَوْمًا مُفْطِرًا وَإِنَّهُ كَانَ إِذَا وَعَدَ لَمْ يُخْلِفْ وَإِذَا لاَقَى لَمْ يَفِرَّ " .
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا۔ میں نے عرض کیا: چچا جان! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے جو کہا تھا اسے مجھ سے بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! میں نے پختہ عزم کر لیا تھا کہ میں اللہ کی عبادت کے لیے بھرپور کوشش کروں گا یہاں تک کہ میں نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، اور ہر روز دن و رات قرآن پڑھا کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنا تو میرے پاس تشریف لائے یہاں تک کہ گھر کے اندر میرے پاس آئے، پھر آپ نے فرمایا: ”مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے کہا ہے کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور قرآن پڑھوں گا؟“ میں نے عرض کیا: ہاں اللہ کے رسول! میں نے ایسا کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا مت کرو ( بلکہ ) ہر مہینے تین دن روزہ رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ہر ہفتہ سے دو دن دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کو روزہ رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”داود علیہ السلام کا روزہ رکھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سب سے زیادہ بہتر اور مناسب روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے، اور وہ جب وعدہ کر لیتے تو وعدہ خلافی نہیں کرتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تھی تو بھاگتے نہیں تھے“۔
سنن نسائی : ۱۰۳
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَائِشَةَ { فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا } قُلْتُ مَا أُبَالِي أَنْ لاَ أَطُوفَ بَيْنَهُمَا . فَقَالَتْ بِئْسَمَا قُلْتَ إِنَّمَا كَانَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ لاَ يَطُوفُونَ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا كَانَ الإِسْلاَمُ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ } الآيَةَ فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَطُفْنَا مَعَهُ فَكَانَتْ سُنَّةً .
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے آیت کریمہ: «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» پڑھی اور کہا: میں صفا و مروہ کے درمیان نہ پھروں، تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ۱؎، تو انہوں نے کہا: تم نے کتنی بری بات کہی ہے ( صحیح یہ ہے ) کہ لوگ ایام جاہلیت میں صفا و مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے ( بلکہ اسے گناہ سمجھتے تھے ) تو جب اسلام آیا، اور قرآن اترا، اور یہ آیت «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی کی، اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی کی، تو یہی سنت ہے۔
سنن نسائی : ۱۰۴
It Was
Daif Isnaad
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَحْبُوبٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ الْخُمُسُ الَّذِي لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ كَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَرَابَتِهِ لاَ يَأْكُلُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ شَيْئًا فَكَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خُمُسُ الْخُمُسِ وَلِذِي قَرَابَتِهِ خُمُسُ الْخُمُسِ وَلِلْيَتَامَى مِثْلُ ذَلِكَ وَلِلْمَسَاكِينِ مِثْلُ ذَلِكَ وَلاِبْنِ السَّبِيلِ مِثْلُ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ { وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَىْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ } وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلَّهِ ابْتِدَاءُ كَلاَمٍ لأَنَّ الأَشْيَاءَ كُلَّهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَعَلَّهُ إِنَّمَا اسْتَفْتَحَ الْكَلاَمَ فِي الْفَىْءِ وَالْخُمُسِ بِذِكْرِ نَفْسِهِ لأَنَّهَا أَشْرَفُ الْكَسْبِ وَلَمْ يَنْسُبِ الصَّدَقَةَ إِلَى نَفْسِهِ عَزَّ وَجَلَّ لأَنَّهَا أَوْسَاخُ النَّاسِ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ وَقَدْ قِيلَ يُؤْخَذُ مِنَ الْغَنِيمَةِ شَىْءٌ فَيُجْعَلُ فِي الْكَعْبَةِ وَهُوَ السَّهْمُ الَّذِي لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسَهْمُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الإِمَامِ يَشْتَرِي الْكُرَاعَ مِنْهُ وَالسِّلاَحَ وَيُعْطِي مِنْهُ مَنْ رَأَى مِمَّنْ رَأَى فِيهِ غَنَاءً وَمَنْفَعَةً لأَهْلِ الإِسْلاَمِ وَمِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَالْعِلْمِ وَالْفِقْهِ وَالْقُرْآنِ وَسَهْمٌ لِذِي الْقُرْبَى وَهُمْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ بَيْنَهُمُ الْغَنِيُّ مِنْهُمْ وَالْفَقِيرُ وَقَدْ قِيلَ إِنَّهُ لِلْفَقِيرِ مِنْهُمْ دُونَ الْغَنِيِّ كَالْيَتَامَى وَابْنِ السَّبِيلِ وَهُوَ أَشْبَهُ الْقَوْلَيْنِ بِالصَّوَابِ عِنْدِي وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ وَالصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ وَالذَّكَرُ وَالأُنْثَى سَوَاءٌ لأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ ذَلِكَ لَهُمْ وَقَسَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهِمْ وَلَيْسَ فِي الْحَدِيثِ أَنَّهُ فَضَّلَ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَلاَ خِلاَفَ نَعْلَمُهُ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ فِي رَجُلٍ لَوْ أَوْصَى بِثُلُثِهِ لِبَنِي فُلاَنٍ أَنَّهُ بَيْنَهُمْ وَأَنَّ الذَّكَرَ وَالأُنْثَى فِيهِ سَوَاءٌ إِذَا كَانُوا يُحْصَوْنَ فَهَكَذَا كُلُّ شَىْءٍ صُيِّرَ لِبَنِي فُلاَنٍ أَنَّهُ بَيْنَهُمْ بِالسَّوِيَّةِ إِلاَّ أَنْ يُبَيِّنَ ذَلِكَ الآمِرُ بِهِ وَاللَّهُ وَلِيُّ التَّوْفِيقِ وَسَهْمٌ لِلْيَتَامَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَسَهْمٌ لِلْمَسَاكِينِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَسَهْمٌ لاِبْنِ السَّبِيلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَلاَ يُعْطَى أَحَدٌ مِنْهُمْ سَهْمُ مِسْكِينٍ وَسَهْمُ ابْنِ السَّبِيلِ وَقِيلَ لَهُ خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ وَالأَرْبَعَةُ أَخْمَاسٍ يَقْسِمُهَا الإِمَامُ بَيْنَ مَنْ حَضَرَ الْقِتَالَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْبَالِغِينَ .
ہم کو عمرو بن یحییٰ بن الحارث نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں محبوب نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابو اسحاق نے خبر دی، انہوں نے شارق کی سند سے، خصیف کی سند سے، مجاہد کی سند سے، انہوں نے کہا: پانچواں جو خدا کا ہے اور رسول کا ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے کسی چیز کو نہ کھائیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کو یہ چیز نہ کھاؤ۔ خدا اس پر رحم کرے اور اسے سلامتی عطا کرے۔ پانچویں کا پانچواں حصہ اور اپنے رشتہ داروں کو پانچویں کا پانچواں، اور یتیموں کو، مسکینوں کو اور مسافر کو بھی۔ اس نے کہا۔ ابوعبدالرحمٰن اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اور جان لو کہ جو چیز تمہیں ملے اس کا پانچواں حصہ خدا اور رسول اور رشتہ داروں کا ہے۔ اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کو۔ اس نے ف اور خمس کی بحث کا آغاز اپنے تذکرہ سے کیا کیونکہ یہ سب سے افضل کمائی ہے، اور اس نے اپنی ذات، قادر مطلق کی طرف صدقہ منسوب نہیں کیا۔ کیونکہ یہ لوگوں کی گندگی ہے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ غنیمت میں سے کوئی چیز لے کر کعبہ میں رکھ دی جاتی ہے اور وہ تیر ہے جو اللہ تعالیٰ کا ہے۔ وہ پاک ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، امام کے لیے اپنا حصہ بھیجا، ان سے مویشی اور ہتھیار خریدے، اور جس کو بھی مال و دولت کا ذریعہ سمجھتے تھے، ان سے دے دیا۔ اور اہل اسلام اور اہل حدیث، علم، فقہ اور قرآن کے فائدے کے لیے، اور رشتہ داروں کے لیے جو بنو ہاشم اور بنو المطلب ہیں۔ ان میں امیر بھی ہے اور غریب بھی، اور کہا گیا ہے کہ یہ ان میں سے غریبوں پر لاگو ہوتا ہے نہ کہ امیروں پر، جیسے یتیموں اور مسافروں پر، اور یہ زیادہ اس طرح ہے۔ میرے خیال میں دونوں قول صحیح ہیں، اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر جانتا ہے، اور جوان اور بوڑھے، اور مرد اور عورت سب یکساں ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ان کے لیے بنایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کے درمیان تقسیم کیا، اور حدیث میں یہ نہیں ہے کہ آپ نے ان میں سے بعض کو بعض پر ترجیح دی، اور ان کے درمیان ہمیں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی اپنے مال کا تہائی حصہ فلاں کی اولاد کو دے تو وہ ان میں سے ہے اور اس میں مرد اور عورتیں برابر ہیں۔ چنانچہ فلاں کی اولاد کے لیے ہر چیز کا حکم دیا گیا کہ ان کے درمیان برابری کی جائے، الا یہ کہ حکم دینے والا واضح کر دے۔ اور خدا کامیابی کا عطا کرنے والا اور یتیموں کے لیے ایک تیر ہے۔ مسلمانوں میں سے مسلمانوں میں سے غریبوں کو تیر دیا جاتا ہے اور مسلمانوں میں سے مسافر کو تیر دیا جاتا ہے، ان میں سے کسی غریب کو تیر نہیں دیا جاتا اور مسلمانوں میں سے کسی مسافر کو تیر نہیں دیا جاتا۔ راستہ، اور اس سے کہا گیا: جو چاہو لے لو، اور چار پانچواں حصہ امام کی طرف سے ان مسلمانوں میں تقسیم کیا جائے گا جو لڑائی میں شریک تھے۔ بالغ...
سنن ابن ماجہ : ۱۰۵
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنْ يَتَزَوَّجُهَا " . فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ " . فَقَالَ لَيْسَ مَعِي . قَالَ " قَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " .
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو آپ نے فرمایا: اس سے کون نکاح کرے گا ؟ ایک شخص نے کہا: میں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اسے کچھ دو چاہے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو ، وہ بولا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس کا نکاح تمہارے ساتھ اس قرآن کے بدلے کر دیا جو تمہیں یاد ہے ۱؎۔
سنن ابن ماجہ : ۱۰۶
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ، قَالَ كُنْتُ امْرَأً أَسْتَكْثِرُ مِنَ النِّسَاءِ لاَ أُرَى رَجُلاً كَانَ يُصِيبُ مِنْ ذَلِكَ مَا أُصِيبُ فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي حَتَّى يَنْسَلِخَ رَمَضَانُ فَبَيْنَمَا هِيَ تُحَدِّثُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ انْكَشَفَ لِي مِنْهَا شَىْءٌ فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا فَوَاقَعْتُهَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي وَقُلْتُ لَهُمْ سَلُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . فَقَالُوا مَا كُنَّا لِنَفْعَلَ إِذًا يُنْزِلَ اللَّهُ فِينَا كِتَابًا أَوْ يَكُونَ فِينَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَوْلٌ فَيَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهُ وَلَكِنْ سَوْفَ نُسَلِّمُكَ لِجَرِيرَتِكَ اذْهَبْ أَنْتَ فَاذْكُرْ شَأْنَكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . قَالَ فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَنْتَ بِذَاكَ " . فَقُلْتُ أَنَا بِذَاكَ وَهَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَابِرٌ لِحُكْمِ اللَّهِ عَلَىَّ . قَالَ " فَأَعْتِقْ رَقَبَةً " . قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ إِلاَّ رَقَبَتِي هَذِهِ . قَالَ " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ دَخَلَ عَلَىَّ مَا دَخَلَ مِنَ الْبَلاَءِ إِلاَّ بِالصَّوْمِ قَالَ " فَتَصَدَّقْ وَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " . قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ مَا لَنَا عَشَاءٌ . قَالَ " فَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقُلْ لَهُ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ وَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَانْتَفِعْ بِبَقِيَّتِهَا " .
سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے عورتوں کی بڑی چاہت رہتی تھی، میں کسی مرد کو نہیں جانتا جو عورت سے اتنی صحبت کرتا ہو جتنی میں کرتا تھا، جب رمضان آیا تو میں نے اپنی بیوی سے رمضان گزرنے تک ظہار کر لیا، ایک رات وہ مجھ سے باتیں کر رہی تھی کہ اس کا کچھ بدن کھل گیا، میں اس پہ چڑھ بیٹھا، اور اس سے مباشرت کر لی، جب صبح ہوئی تو میں اپنے لوگوں کے پاس گیا، اور ان سے اپنا قصہ بیان کیا، میں نے ان سے کہا: تم لوگ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھو، تو انہوں نے کہا: ہم نہیں پوچھیں گے، ایسا نہ ہو کہ ہماری شان میں وحی اترے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے سلسلے میں کچھ فرما دیں، اور اس کا عار ہمیشہ کے لیے باقی رہے لیکن اب یہ کام ہم تمہارے ہی سپرد کرتے ہیں، اب تم خود ہی جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا حال بیان کرو۔ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں خود ہی چلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے واقعہ بیان کیا، آپ نے فرمایا: تم نے یہ کام کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں اور اپنے بارے میں اللہ کے حکم پر صابر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک غلام آزاد کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں تو صرف اپنی جان کا مالک ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لگاتار دو ماہ کے روزے رکھو، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول یہ بلا جو میرے اوپر آئی ہے روزے ہی کہ وجہ سے تو آئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو صدقہ دو، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ، میں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم نے یہ رات اس حالت میں گزاری ہے کہ ہمارے پاس رات کا کھانا نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی زریق کا صدقہ وصول کرنے والے کے پاس جاؤ، اور اس سے کہو کہ وہ تمہیں کچھ مال دیدے، اور اس میں سے ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ اور جو بچے اپنے کام میں لے لو ۱؎۔
سنن ابن ماجہ : ۱۰۷
ابن عباس رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَطُولَ، بِالنَّاسِ زَمَانٌ حَتَّى يَقُولَ قَائِلٌ مَا أَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ أَلاَ وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ إِذَا أُحْصِنَ الرَّجُلُ وَقَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ حَمْلٌ أَوِ اعْتِرَافٌ وَقَدْ قَرَأْتُهَا الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ . رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اندیشہ ہے کہ جب زمانہ زیادہ گزر جائے گا تو کہنے والا یہ کہے گا کہ میں کتاب اللہ میں رجم ( کا حکم ) نہیں پاتا، اور اس طرح لوگ اللہ تعالیٰ کے ایک فریضے کو ترک کر کے گمراہ ہو جائیں، واضح رہے کہ رجم حق ہے، جب کہ آدمی شادی شدہ ہو گواہی قائم ہو، یا حمل ٹھہر جائے، یا زنا کا اعتراف کر لے، اور میں نے رجم کی یہ آیت پڑھی ہے: «الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة» جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت زنا کریں تو ان دونوں کو ضرور رجم کرو … ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا، اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا
سنن ابن ماجہ : ۱۰۸
It Was
Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ وَتَلاَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا نَزَلَ أَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میری براءت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اس کا تذکرہ کر کے قرآنی آیات کی تلاوت کی، اور جب منبر سے اتر آئے، تو دو مردوں اور ایک عورت کے بارے میں حکم دیا چنانچہ ان کو حد لگائی گئی ۱؎۔
سنن ابن ماجہ : ۱۰۹
ابن بریدہ رضی اللہ عنہ
Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ فَيَقُولُ أَنَا الَّذِي أَسْهَرْتُ لَيْلَكَ وَأَظْمَأْتُ نَهَارَكَ " .
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن قرآن ایک تھکے ماندے شخص کی صورت میں آئے گا، اور حافظ قرآن سے کہے گا کہ میں نے ہی تجھے رات کو جگائے رکھا، اور دن کو پیاسا رکھا ۱؎۔
سنن ابن ماجہ : ۱۱۰
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَثَلُ الْقُرْآنِ مَثَلُ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِنْ تَعَاهَدَهَا صَاحِبُهَا بِعُقُلِهَا أَمْسَكَهَا عَلَيْهِ وَإِنْ أَطْلَقَ عُقُلَهَا ذَهَبَتْ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جب تک مالک اسے باندھ کر دیکھ بھال کرتا رہے گا تب تک وہ قبضہ میں رکھے گا، اور جب اس کی رسی کھول دے گا تو وہ بھاگ جائے گا ۱؎۔
سنن ابن ماجہ : ۱۱۱
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَلاَ أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ " . قَالَ فَذَهَبَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِيَخْرُجَ فَأَذْكَرْتُهُ فَقَالَ " { الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ " .
ابوسعید بن معلّیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا میں مسجد سے نکلنے سے پہلے تمہیں وہ سورت نہ سکھاؤں جو قرآن مجید میں سب سے عظیم سورت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میں نے آپ کو یاد دلایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سورت«الحمد لله رب العالمين» ہے جو سبع مثانی ہے، اور قرآن عظیم ہے، جو مجھے عطا کیا گیا ہے ۔
سنن ابن ماجہ : ۱۱۲
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو الله أحد» ( یعنی سورۃ الاخلاص ) ( ثواب میں ) تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
سنن ابن ماجہ : ۱۱۳
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو الله أحد» ( یعنی سورۃ الاخلاص ) ( ثواب میں ) تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
سنن ابن ماجہ : ۱۱۴
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" اللَّهُ أَحَدٌ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " .
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الله أحد الواحد الصمد» ( یعنی سورۃ الاخلاص ثواب میں ) تہائی قرآن کے برابر ہے ۱؎۔
مؤطا امام مالک : ۱۱۵
Mauquf Sahih
وعن عروة أن عمر بن الخطاب كان على المنبر فقرأ سورة في سجدة يوم الجمعة ثم نزل فسجد ففعل الرجال مثل ذلك. وقرأ عمر نفس السورة في يوم آخر من يوم الجمعة، فبينما الرجال يسجدون، قال لهم: رفقاً، ما كتب الله لنا هذه السجدة إلا ونحن نريدها. ولم يركع ومنع الرجال من ذلك». قال مالك: ولا يجب على الإمام أن يخرج من منبره ليسجد إذا قرأ الآية التي تقتضي ذلك. قال مالك: ونحسب أن في القرآن إحدى عشرة سجدة، لم توجد واحدة منها في سورة المفصل. وقال مالك: "لا ينبغي لأحد أن يقرأ بعد صلاة الفجر والعصر قرآناً سجدياً لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن صلاة بعد صلاة الفجر إلى طلوع الشمس وبعد صلاة العصر إلى غروب الشمس. وبما أن السجود جزء من الصلاة فلا ينبغي أن يقرأ من المصحف الذي فيه سجود في الوقتين. وسئل مالك عن السجود". "من قرأ القرآن وهو ساجد وامرأته حائض هل تسجد؟" قال: "لا يسجد رجل ولا امرأة إلا على طهارة" وسئل مالك عن المرأة التي تقرأ القرآن وهو ساجد وزوجها يسمع هل يسجد معها؟ ولا يجب السجود إلا عندما يكون الرجل مع الآخرين فيؤم الصلاة، ثم يقرأ آية السجود، فيسجد ويفعل معه الرجال. لكن من سمع مثل هذه الآية يقرأ من غير إمامه فلا يسجد. الفصل السادس: سورتا “الإخلاص والملك”.
عروہ سے مروی ہے کہ عمر بن الخطاب منبر پر تھے اور جمعہ کے دن سجدے میں ایک سورہ پڑھی، پھر نیچے اتر کر سجدہ کیا، اور مردوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے دوسرے دن جمعہ کے دن یہی سورت پڑھی۔ جب وہ لوگ سجدہ کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: نرمی کرو، اللہ تعالیٰ نے یہ سجدہ ہمارے لیے نہیں لکھا جب تک ہم نہ چاہیں۔ اس نے گھٹنے نہیں ٹیکے اور مردوں کو ایسا کرنے سے روک دیا۔ مالک نے کہا: امام کو سجدہ کے لیے اپنے منبر کو چھوڑنا ضروری نہیں ہے اگر وہ اس آیت کو پڑھے جس کا تقاضا ہے۔ مالک نے کہا: ہمارا خیال ہے کہ میں قرآن کے گیارہ سجدے ہیں جن میں سے ایک بھی سورۃ المفصل میں نہیں ہے۔ مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "کوئی شخص فجر اور عصر کی نماز کے بعد سجدہ قرآن نہ پڑھے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک منع فرمایا ہے، کیونکہ سجدہ نماز کا حصہ ہے، اس لیے وہ قرآن میں سے نہ پڑھے جس میں دونوں وقت سجدہ ہو۔" مالک رضی اللہ عنہ سے سجدہ کے بارے میں پوچھا گیا؟ "جو شخص سجدہ کی حالت میں قرآن کی تلاوت کرتا ہے۔ اور اس کی بیوی حائضہ ہے تو کیا وہ سجدہ کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ مرد اور نہ عورت سجدہ کرتا ہے سوائے طہارت کے“۔ مالک سے ایک عورت کے بارے میں پوچھا گیا جو سجدے میں قرآن پڑھتی ہے اور اس کا شوہر سن رہا ہے۔ کیا اس کے ساتھ سجدہ کرے؟ سجدہ واجب نہیں سوائے اس کے کہ آدمی دوسروں کے ساتھ ہو اور نماز پڑھائے، پھر سجدہ کی آیت پڑھے، پھر سجدہ کرے اور مرد اس کے ساتھ سجدہ کرے۔ لیکن جو شخص ایسی آیت کو بغیر امام کے پڑھتے ہوئے سنے تو سجدہ نہیں کرے گا۔ چھٹا باب: سورہ اخلاص اور ملک۔
مؤطا امام مالک : ۱۱۶
Maqtu Daif
وروي عن مالك أن سعيد بن المسيب كان يكره أن يرى الدابة تقتل مثل صيد الصيد بسهم أو نحوه. قال مالك: لا أرى بأساً بالحيوان الذي يقتله المعراض فيحفر في جسده فيموت ويؤكل، لقول الله تبارك وتعالى: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا!» "ليبلوكم الله في صيد ما أخذت أيديكم ورماحكم" القرآن الخامس، 94. فكل ما استطاع الرجل أن يصيبه بيده أو برمحه أو بأي سلاح فيغرق في بدن الصيد ويموته فهو صيد حلال كما أثبت الله.
مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سعید بن المسیب کو یہ ناپسند تھا کہ وہ کسی جانور کو تیر سے یا اس طرح کے جانور کو مارا جائے۔ مالک نے کہا: میں اس جانور میں کوئی حرج نہیں دیکھتا جسے کسی ضدی جانور نے مارا اور اس کی لاش کھود لی، پھر وہ مر جاتا ہے اور کھا جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اے ایمان والو! "تاکہ جو کچھ تمہارے ہاتھ اور نیزوں نے پکڑا ہے اس کی تلاش میں خدا تمہاری آزمائش کرے۔" Quran V, 94. انسان جس چیز کو بھی اپنے ہاتھ سے یا نیزے سے یا کسی ہتھیار سے مار سکتا ہے وہ شکار کے جسم میں ڈوب جاتا ہے۔ اور اگر وہ مر جائے تو یہ ایک حلال کھیل ہے جیسا کہ خدا نے ثابت کیا ہے۔
ادب المفرد : ۱۱۷
جابر رضی اللہ عنہ
Sahih
وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا ينام حتى يقرأ سورة "ألم تنخل" (سورة السجدة - 32) وتبارك الله باديهل الملك (سورة الملك - 67). (الترمذي)\nقال أبو الزبير (رضي الله عنه): هذه السورة أكثر من سائر سور القرآن بسبعين مرة. استحقاق الكرامة. ومن قرأ هذه السورة كتب له سبعون حسنة، وزادت درجاته سبعين درجة، وغفرت له سبعين ذنبا. -(النسائي، الدارمي، الحاكم، ابن أبي شيبة)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک کہ وہ سورۃ "کیا تم نے یہ نہیں گایا" (سورۃ السجدہ - 32) پڑھتے تھے اور خدا بادشاہ کے خادم کو برکت دے (سورۃ الملک - 67)۔ (الترمذی) ابو الزبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سورت قرآن کی باقی سورتوں سے ستر گنا زیادہ ہے۔ وقار کا حق۔ جو شخص اس سورہ کو پڑھے گا اس کے لیے ستر نیکیاں لکھی جائیں گی، اس کے ستر درجے بڑھائے جائیں گے اور ستر گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ (النسائی، الدارمی، الحکیم، ابن ابی شیبہ)
بلغ المرام : ۱۱۸
عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہ
Sahih
وَأَخْرَجَ اَلطَّبَرَانِيُّ اَلنَّهْيَ عَن ْ 1 تَحْتِ اَلْأَشْجَارِ اَلْمُثْمِرَةِ, وَضَفَّةِ اَلنَّهْرِ الْجَارِي. مِنْ حَدِيثِ اِبْنِ عُمَرَ بِسَنَدٍ ضَعِيف ٍ 2 .1 - أي: التخلي.2 - منكر. رواه الطبراني بتمامه في "الأوسط" كما في مجمع البحرين (349)، وفي "الكبير" الشطر الأخير منه كما في "مجمع الزوائد" (104).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم کے لیے جو کتاب لکھی ہے اس میں یہ بھی ہے: ’’قرآن کو پاکیزہ کے سوا کوئی ہاتھ نہ لگائے‘‘۔ .
مشکوٰۃ المصابیح : ۱۱۹
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ
Sahih
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَابْنُ أَمَتِهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَالْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَقٌّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ من الْعَمَل»
میں نے عرض کیا اے خدا کے رسول مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور کر دے۔ اس نے جواب دیا کہ تم نے بڑا سنجیدہ سوال کیا ہے لیکن جس کی مدد اللہ کرے اس کے لیے آسان ہے، اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، نماز پڑھو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کی زیارت کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں، روزہ حفاظت ہے، اور صدقہ گناہوں کو اس طرح بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اور آدمی کی نماز آدھی رات میں۔ پھر اس نے تلاوت کی، "خود کو اپنے صوفوں سے ہٹانا... وہ کرتے رہے ہیں۔" 1 پھر اس نے کہا، "کیا میں آپ کو معاملے کے سر اور سہارے اور اس کے کوہان کے اوپری حصے کی رہنمائی نہ کروں؟" میں نے جواب دیا: جی ہاں، خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا: ’’معاملہ کا سر اسلام ہے، اس کا سہارا نماز ہے اور اس کے کوہان کی چوٹی جہاد ہے۔‘‘ پھر اس نے کہا: کیا میں تمہیں ان سب کے کنٹرول کے بارے میں نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے نبی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ لی اور فرمایا کہ اسے روکو۔ میں نے عرض کیا، "خدا کے نبی، کیا ہمیں واقعی اس کی سزا ملے گی جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں؟" اس نے جواب دیا، "میں تم پر حیران ہوں، 2 معاذ! کیا ان کی زبانوں کی فصلوں کے علاوہ کوئی چیز مردوں کو ان کے چہرے (یا، ان کے نتھنوں پر) جہنم میں گرا دے گی؟"
اسے احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
1 قرآن، xxxii، 16f.
2 لفظی طور پر، آپ کی والدہ آپ سے محروم رہیں۔
مشکوٰۃ المصابیح : ۱۲۰
عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الانسان مجْرى الدَّم»
ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ "شیطان انسان کے قریب آتا ہے اور فرشتہ بھی۔ شیطان کا نقطہ نظر برائی کے وعدے اور سچائی کے انکار پر مشتمل ہوتا ہے، جب کہ فرشتے کا نقطہ نظر نیکی کے وعدے اور سچائی کی تصدیق پر مشتمل ہوتا ہے۔ جب کسی کو بعد کا تجربہ ہو تو اسے خدا کی طرف سے تجربہ کرنا چاہیے، لیکن اگر اسے خدا کی طرف سے تجربہ ہو تو اسے بتانا چاہیے۔ وہ شیطان مردود سے خدا کی پناہ مانگتا ہے۔" پھر اس نے تلاوت کی، "شیطان تم سے غربت کا وعدہ کرتا ہے اور تمہیں بدکاری کی ترغیب دیتا ہے۔" 1
اسے ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ غریب روایت ہے۔
1 قرآن۔ ii، 268۔