Quran کے بارے میں احادیث

۱۵۵ مستند احادیث ملیں

سنن نسائی : ۸۱
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​أَبُو ​دَاوُدَ، ​سُلَيْمَانُ ‌بْنُ سَيْفٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ حَدَّثَنَا وَقَالَ، عُثْمَانُ أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، - رضى الله عنه - قَالَ نَهَانِي حِبِّي صلى الله عليه وسلم عَنْ ثَلاَثٍ - لاَ أَقُولُ نَهَى النَّاسَ - نَهَانِي عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَعَنِ الْمُعَصْفَرِ الْمُفَدَّمَةِ وَلاَ أَقْرَأُ سَاجِدًا وَلاَ رَاكِعًا ‏"‏ ‏.‏
علی ​بن ​ابی ​طالب ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں سے منع کیا ہے، میں نہیں کہتا کہ لوگوں کو بھی منع کیا ہے، مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے سے، قسی کے بنے ہوئے ریشمی کپڑے پہننے سے، اور کُسم میں رنگے ہوئے گہرے سرخ کپڑے پہننے سے منع کیا ہے، اور میں رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن نہیں پڑھتا۔
It Was سنن نسائی #۱۱۱۸ Sahih
سنن نسائی : ۸۲
علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ)
Sahih
أَخْبَرَنَا ​أَحْمَدُ ​بْنُ ​عَمْرِو ​بْنِ السَّرْحِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَلِيًّا، قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا ‏.‏
علی ​رضی ​اللہ ​عنہ ​کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے۔
علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) سنن نسائی #۱۱۱۹ Sahih
سنن نسائی : ۸۳
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌سُوَيْدُ ‌بْنُ ​نَصْرٍ، ‌قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ ‏ "‏ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ‏"‏ ‏.‏ يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ ‏.‏
ام ‌المؤمنین ‌عائشہ ​رضی ‌اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں «سبحانك اللہم ربنا وبحمدك اللہم اغفر لي اے اللہ! ہمارے رب! تو پاک ہے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے کہہ رہے تھے، آپ قرآن کی عملی تفسیر فرما رہے تھے ۱؎۔
It Was سنن نسائی #۱۱۲۲ Sahih
سنن نسائی : ۸۴
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌مَحْمُودُ ‌بْنُ ​غَيْلاَنَ، ​قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ ‏ "‏ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ‏"‏ ‏.‏ يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ ‏.‏
ام ‌المؤمنین ‌عائشہ ​رضی ​اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدے میں «سبحانك اللہم ربنا وبحمدك اللہم اغفر لي» اے اللہ ہمارے رب! تو پاک ہے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے کہہ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی عملی تفسیر فر مار ہے تھے۔
It Was سنن نسائی #۱۱۲۳ Sahih
سنن نسائی : ۸۵
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​سَوَّارُ ‌بْنُ ‌عَبْدِ ​اللَّهِ بْنِ سَوَّارٍ الْقَاضِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ ‏ "‏ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ ‏"‏ ‏.‏
ام ​المؤمنین ‌عائشہ ‌رضی ​اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تلاوت قرآن کے سجدوں میں کہتے: «سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته» میرے چہرہ نے سجدہ کیا اس ذات کے لیے جس نے اسے پیدا کیا، اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں اپنی قوت و طاقت سے بنائیں ۔
It Was سنن نسائی #۱۱۲۹ Sahih
سنن نسائی : ۸۶
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌مُحَمَّدُ ‌بْنُ ‌عَبْدِ ‌اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ أَبُو يَحْيَى، بِمَكَّةَ - وَهُوَ بَصْرِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ يَحْيَى بْنِ خَلاَّدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَالِكٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ، رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَأَتَى الْقِبْلَةَ فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَعَلَيْكَ اذْهَبْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ‏"‏ ‏.‏ فَذَهَبَ فَصَلَّى فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْمُقُ صَلاَتَهُ وَلاَ يَدْرِي مَا يَعِيبُ مِنْهَا فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَعَلَيْكَ اذْهَبْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ‏"‏ ‏.‏ فَأَعَادَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِبْتَ مِنْ صَلاَتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّهَا لَمْ تَتِمَّ صَلاَةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَغْسِلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَيَمْسَحَ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُكَبِّرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَحْمَدَهُ وَيُمَجِّدَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَمَّامٌ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ وَيَحْمَدَ اللَّهَ وَيُمَجِّدَهُ وَيُكَبِّرَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَكِلاَهُمَا قَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ ‏"‏ وَيَقْرَأَ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ وَأَذِنَ لَهُ فِيهِ ثُمَّ يُكَبِّرَ وَيَرْكَعَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ ثُمَّ يَقُولَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ يَسْتَوِيَ قَائِمًا حَتَّى يُقِيمَ صُلْبَهُ ثُمَّ يُكَبِّرَ وَيَسْجُدَ حَتَّى يُمَكِّنَ وَجْهَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ جَبْهَتَهُ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ وَيُكَبِّرَ فَيَرْفَعَ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمَ صُلْبَهُ ثُمَّ يُكَبِّرَ فَيَسْجُدَ حَتَّى يُمَكِّنَ وَجْهَهُ وَيَسْتَرْخِيَ فَإِذَا لَمْ يَفْعَلْ هَكَذَا لَمْ تَتِمَّ صَلاَتُهُ ‏"‏ ‏.‏
رفاعہ ‌بن ‌رافع ‌رضی ‌اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے، اور ہم لوگ آپ کے اردگرد تھے، اتنے میں ایک شخص آیا اور وہ قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنے لگا، جب وہ اپنی نماز پوری کر چکا تو آیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم پر بھی سلامتی ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، تو وہ گیا، اور اس نے جا کر پھر سے نماز پڑھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز کو کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے لیکن وہ یہ جان نہیں رہا تھا کہ اس میں وہ کیا غلطی کر رہا ہے؟ تو جب وہ اپنی نماز پوری کر چکا تو آیا، اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے فرمایا: تم پر بھی سلامتی ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، چنانچہ اس نے دو یا تین بار نماز دہرائی، پھر اس شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! میری نماز میں آپ نے کیا خامی پائی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کی نماز پوری نہیں ہوتی جب تک کہ وہ اچھی طرح وضو نہ کر لے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے کرنے کا حکم دیا ہے، وہ اپنا چہرہ دھوئے، اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے، اپنے سر کا مسح کرے، اور اپنے دونوں پیر ٹخنوں سمیت دھوئے، پھر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کرے ( یعنی تکبیر تحریمہ کہے ) اور اس کی حمد و ثناء اور بزرگی بیان کرے ( یعنی دعائے ثناء پڑھے ) ۔ ہمام کہتے ہیں: میں نے اسحاق کو «ويحمد اللہ ويمجده ويكبره» بھی کہتے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دونوں طرح سے انہیں کہتے سنا ہے۔ آگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور قرآن میں سے حسب توفیق اور مرضی الٰہی جو آسان ہو پڑھے، پھر اللہ اکبر کہے، اور رکوع کرے یہاں تک کہ اس کے تمام جوڑ اپنی جگہ آ جائیں، اور ڈھیلے پڑ جائیں، پھر «سمع اللہ لمن حمده» کہے، پھر سیدھا کھڑا ہو جائے یہاں تک اس کی پیٹھ برابر ہو جائے، پھر اللہ اکبر کہے، اور سجدہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنا چہرہ زمین پر ٹکا دے ، ( میں نے اسحاق کو اپنی پیشانی بھی کہتے سنا ہے ) ، اور تمام جوڑ اپنی جگہ آ جائیں اور ڈھیلے پڑ جائیں، پھر اللہ اکبر کہے، اور اپنا سر اٹھائے یہاں تک کہ اپنی سرین پر سیدھا ہو کر بیٹھ جائے، اور اپنی پیٹھ سیدھی کر لے، پھر اللہ اکبر کہے، اور سجدہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنا چہرہ زمین سے اچھی طرح ٹکا دے، اور ڈھیلا پڑ جائے، اگر اس نے اس طرح نہیں کیا تو اس کی نماز پوری نہیں ہوئی ۱؎۔
It Was سنن نسائی #۱۱۳۶ Sahih
سنن نسائی : ۸۷
علقمہ بن قیس رضی اللہ عنہ
Hasan Sahih
أَخْبَرَنِي ​مُحَمَّدُ ​بْنُ ​جَبَلَةَ ​الرَّافِقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو - عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا لاَ نَدْرِي مَا نَقُولُ إِذَا صَلَّيْنَا فَعَلَّمَنَا نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَوَامِعَ الْكَلِمِ فَقَالَ لَنَا ‏ "‏ قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ زَيْدٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يُعَلِّمُنَا هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ ‏.‏
عبداللہ ​بن ​مسعود ​رضی ​اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ جب ہم صلاۃ پڑھیں تو کیا کہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جامع کلمات سکھائے، آپ نے ہم سے فرمایا: کہو: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ہمیں یہ کلمات اسی طرح سکھاتے تھے جیسے وہ ہمیں قرآن سکھاتے تھے۔
علقمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۱۱۶۷ Hasan Sahih
سنن نسائی : ۸۸
عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌إِسْحَاقُ ‌بْنُ ​إِبْرَاهِيمَ، ​قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَيْفٌ الْمَكِّيُّ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ وَكَفُّهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ‏ "‏ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ ‌بن ‌مسعود ​رضی ​اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے جیسے ہمیں قرآن کی سورۃ سکھاتے تھے اور میری ہتھیلی آپ کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان ہوتی ( آپ فرماتے: کہو ) «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله»۔
عبداللہ (رضی اللہ عنہ) سنن نسائی #۱۱۷۱ Sahih
سنن نسائی : ۸۹
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌قُتَيْبَةُ، ​قَالَ ​حَدَّثَنَا ‌اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَطَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ وَكَانَ يَقُولُ ‏ "‏ التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ سَلاَمٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ سَلاَمٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ ‌بن ​عباس ​رضی ‌اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے جیسے ہمیں قرآن پڑھنا سکھاتے تھے، آپ کہتے تھے: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته سلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله»۔
It Was سنن نسائی #۱۱۷۴ Sahih
سنن نسائی : ۹۰
It Was
Daif
أَخْبَرَنَا ‌مُحَمَّدُ ​بْنُ ​عَبْدِ ​الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ أَيْمَنَ، - وَهُوَ ابْنُ نَابِلٍ - يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏ "‏ بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
جابر ‌رضی ​اللہ ​عنہ ​کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد پڑھنا سکھاتے جیسے ہمیں قرآن کی سورۃ پڑھنا سکھاتے، فرماتے: «بسم اللہ وباللہ التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أسأل اللہ الجنة وأعوذ باللہ من النار»۔
It Was سنن نسائی #۱۱۷۵ Daif
سنن نسائی : ۹۱
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​أَحْمَدُ ​بْنُ ​سُلَيْمَانَ، ‌قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏.‏
عبداللہ ​بن ​عباس ​رضی ‌اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔
It Was سنن نسائی #۱۲۷۸ Sahih
سنن نسائی : ۹۲
It Was
Daif
أَخْبَرَنَا ‌عَمْرُو ‌بْنُ ‌عَلِيٍّ، ​قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏ "‏ بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ أَيْمَنَ بْنَ نَابِلٍ عَلَى هَذِهِ الرِّوَايَةِ وَأَيْمَنُ عِنْدَنَا لاَ بَأْسَ بِهِ وَالْحَدِيثُ خَطَأٌ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ ‏.‏
جابر ‌بن ‌عبداللہ ‌رضی ​اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تشہد اسی طرح سکھاتے تھے، جس طرح آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے«بسم اللہ وباللہ التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأن محمدا عبده ورسوله وأسأل اللہ الجنة وأعوذ به من النار» اللہ کے نام سے اور اسی کے واسطے سے، تمام قولی فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور برکت نازل ہو آپ پر، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور میں اللہ سے جنت مانگتا ہوں، اور آگ ( جہنم ) سے اس کی پناہ چاہتا ہوں۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں: ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اس روایت پر ایمن بن نابل کی متابعت کی ہو، ایمن ہمارے نزدیک قابل قبول ہیں، لیکن حدیث میں غلطی ہے، ہم اللہ سے توفیق کے طلب گار ہیں۔
It Was سنن نسائی #۱۲۸۱ Daif
سنن نسائی : ۹۳
It Was
Hasan Sahih
أَخْبَرَنَا ‌قُتَيْبَةُ، ‌قَالَ ‌حَدَّثَنَا ​اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَلِيٍّ، - وَهُوَ ابْنُ يَحْيَى - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمٍّ، لَهُ بَدْرِيٍّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلاً دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْمُقُهُ وَنَحْنُ لاَ نَشْعُرُ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ‏"‏ ‏.‏ فَرَجَعَ فَصَلَّى ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ‏"‏ ‏.‏ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ جَهِدْتُ فَعَلِّمْنِي فَقَالَ ‏"‏ إِذَا قُمْتَ تُرِيدُ الصَّلاَةَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ ثُمَّ ارْكَعْ فَاطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ ثُمَّ افْعَلْ كَذَلِكَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ صَلاَتِكَ ‏"‏ ‏.‏
یحییٰ ‌اپنے ‌چچا ‌بدری ​صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے بیان کیا کہ ایک آدمی مسجد میں آیا اور نماز پڑھنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے، اور ہم نہیں سمجھ رہے تھے، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آ کر اس نے آپ کو سلام کیا، آپ نے ( جواب دینے کے بعد ) فرمایا: واپس جاؤ دوبارہ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے ، چنانچہ وہ واپس گیا، اور اس نے پھر سے نماز پڑھی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے ( ابھی بھی ) نماز نہیں پڑھی ہے ، دو یا تین بار ایسا ہوا تو اس آدمی نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو عزت دی ہے، میں اپنی بھر کوشش کر چکا ہوں لہٰذا آپ مجھے سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو وضو کرو اور اچھی طرح سے وضو کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر تحریمہ کہو، پھر قرآن پڑھو، پھر رکوع کرو اور اطمینان سے رکوع کرو، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سجدہ سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سر اٹھاؤ، پھر اس کے بعد دوسری رکعت میں اسی طرح کرو یہاں تک کہ تم نماز سے فارغ ہو جاؤ ۔
It Was سنن نسائی #۱۳۱۳ Hasan Sahih
سنن نسائی : ۹۴
علی بن یحییٰ بن خلاد بن رف بن مالک الانصاری۔
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌سُوَيْدُ ‌بْنُ ​نَصْرٍ، ‌قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلاَّدِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمٍّ، لَهُ بَدْرِيٍّ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَرْمُقُهُ فِي صَلاَتِهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ ثُمَّ قَالَ لَهُ ‏"‏ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ‏"‏ ‏.‏ فَرَجَعَ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى كَانَ عِنْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَقَالَ وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ لَقَدْ جَهِدْتُ وَحَرَصْتُ فَأَرِنِي وَعَلِّمْنِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُصَلِّيَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ فَإِذَا أَتْمَمْتَ صَلاَتَكَ عَلَى هَذَا فَقَدْ تَمَّتْ وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ هَذَا فَإِنَّمَا تَنْتَقِصُهُ مِنْ صَلاَتِكَ ‏"‏ ‏.‏
یحییٰ ‌بن ‌خلاد ​بن ‌رافع بن مالک انصاری کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے چچا بدری صحابی روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر وہ آیا، اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہے تھے، آپ نے سلام کا جواب دیا، پھر اس سے فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے ، چنانچہ وہ واپس آیا، اور پھر سے اس نے نماز پڑھی، پھر وہ دوبارہ آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے ، یہاں تک کہ تیسری یا چوتھی بار میں اس نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے، میں اپنی کوشش کر چکا ہوں، اور میری خواہش ہے آپ مجھے ( صحیح نماز پڑھنے کا طریقہ ) دکھا، اور سکھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو پہلے اچھی طرح وضو کرو پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر تحریمہ کہو پھر قرآت کرو پھر رکوع میں جاؤ اور رکوع میں رہو یہاں تک کہ تمہیں اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ میں جاؤ اور اطمینان سے سجدہ کرو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم آرام سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کر اور سجدہ میں رہو یہاں تک کہ تمہیں اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ تو جب تم اپنی نماز کو اس نہج پر پورا کرو گے تو وہ مکمل ہو گی، اور اگر تم نے اس میں سے کچھ کمی کی تو تم اپنی نماز میں کمی کرو گے۔
علی بن یحییٰ بن خلاد بن رف بن مالک الانصاری۔ سنن نسائی #۱۳۱۴ Sahih
سنن نسائی : ۹۵
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​قُتَيْبَةُ، ​عَنْ ​مَالِكٍ، ​عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏ "‏ قُولُوا اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ ​بن ​عباس ​رضی ​الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا انہیں اسی طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے، آپ فرماتے کہو: «اللہم إنا نعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ”اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں جہنم کے عذاب سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں موت اور زندگی کی آزمائش سے“۔
It Was سنن نسائی #۲۰۶۳ Sahih
سنن نسائی : ۹۶
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​مُحَمَّدُ ‌بْنُ ​مَعْمَرٍ، ​قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ نُهِينَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ نَسْأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَىْءٍ فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ الْعَاقِلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَسْأَلَهُ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُكَ فَأَخْبَرَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَكَ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الأَرْضَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَنْ نَصَبَ فِيهَا الْجِبَالَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَنْ جَعَلَ فِيهَا الْمَنَافِعَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَالأَرْضَ وَنَصَبَ فِيهَا الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا الْمَنَافِعَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةَ أَمْوَالِنَا قَالَ ‏"‏ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي كُلِّ سَنَةٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا الْحَجَّ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لاَ أَزِيدَنَّ عَلَيْهِنَّ شَيْئًا وَلاَ أَنْقُصُ ‏.‏ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
انس ​رضی ‌الله ​عنہ ​کہتے ہیں: ہمیں قرآن کریم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لایعنی بات پوچھنے سے منع کیا گیا تھا، تو ہمیں یہ بات اچھی لگتی کہ دیہاتیوں میں سے کوئی عقلمند شخص آئے، اور آپ سے نئی نئی باتیں پوچھے، چنانچہ ایک دیہاتی آیا، اور کہنے لگا: اے محمد! ہمارے پاس آپ کا قاصد آیا، اور اس نے ہمیں بتایا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، اس نے پوچھا: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے کہا: ”اللہ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: اس میں پہاڑ کو کس نے نصب کیے ہیں؟ آپ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: اس میں نفع بخش ( چیزیں ) کس نے بنائیں؟ آپ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، اور اس میں پہاڑ نصب کیے، اور اس میں نفع بخش ( چیزیں ) بنائیں کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے؟ آپ نے کہا: ”ہاں“، پھر اس نے کہا: اور آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہمارے اوپر ہر روز دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ( نمازوں ) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ہاں، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہم پر اپنے مالوں کی زکاۃ فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا، ( پھر ) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ”ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم پر ہر سال ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں، آپ نے کہا: ”اس نے سچ کہا“ ( پھر ) اس نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ( دنوں کے روزوں ) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ”ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم میں سے جو کعبہ تک جانے کی طاقت رکھتے ہوں، ان پر حج فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا فرمایا: میں ہرگز نہ اس میں کچھ بڑھاؤں گا اور نہ گھٹاؤں گا، جب وہ لوٹا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ ضرور جنت میں داخل ہو گا“۔
It Was سنن نسائی #۲۰۹۱ Sahih
سنن نسائی : ۹۷
عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا ​سُلَيْمَانُ ​بْنُ ​دَاوُدَ، ​عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ ‏.‏ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ ‏.‏
عبداللہ ​بن ​عباس ​رضی ​الله عنہما کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی آدمی تھے، اور رمضان میں جس وقت جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملتے تھے آپ اور زیادہ سخی ہو جاتے تھے، جبرائیل علیہ السلام آپ سے ماہ رمضان میں ہر رات ملاقات کرتے ( اور ) قرآن کا دور کراتے تھے۔ ( راوی ) کہتے ہیں: جس وقت جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔
عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۲۰۹۵ Sahih
سنن نسائی : ۹۸
It Was
Sahih Isnaad
أَخْبَرَنَا ‌مُحَمَّدُ ‌بْنُ ‌إِسْمَاعِيلَ، ‌قَالَ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ لَعْنَةٍ تُذْكَرُ وَكَانَ إِذَا كَانَ قَرِيبَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ يُدَارِسُهُ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ حَدِيثُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ وَأَدْخَلَ هَذَا حَدِيثًا فِي حَدِيثٍ ‏.‏
ام ‌المؤمنین ‌عائشہ ‌رضی ‌الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی لعنت ایسی نہیں کی جسے ذکر کیا جائے، ( اور ) جب جبرائیل علیہ السلام کے آپ کو قرآن دور کرانے کا زمانہ آتا تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ فیاض ہوتے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ ( روایت ) غلط ہے، اور صحیح یونس بن یزید والی حدیث ہے ( جو اوپر گزری ) راوی نے اس حدیث میں ایک ( دوسری ) حدیث داخل کر دی ہے۔
It Was سنن نسائی #۲۰۹۶ Sahih Isnaad
سنن نسائی : ۹۹
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌هَارُونُ ​بْنُ ​إِسْحَاقَ، ‌عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لاَ أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلاَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ وَلاَ صَامَ شَهْرًا كَامِلاً قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ ‏.‏
ام ‌المؤمنین ​عائشہ ​رضی ‌الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک ہی رات میں سارا قرآن پڑھا ہو، یا پوری رات صبح تک قیام کیا ہو، یا رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں۔
It Was سنن نسائی #۲۱۸۲ Sahih
سنن نسائی : ۱۰۰
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​إِسْمَاعِيلُ ​بْنُ ‌مَسْعُودٍ، ‌عَنْ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لاَ أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلاَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ وَلاَ صَامَ شَهْرًا قَطُّ كَامِلاً غَيْرَ رَمَضَانَ ‏.‏
ام ​المؤمنین ​عائشہ ‌رضی ‌الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو، اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں کہ آپ نے کبھی پوری رات صبح تک قیام کیا ہو، اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں کہ رمضان کے علاوہ آپ نے کبھی کوئی پورا مہینہ روزہ رکھا ہو۔
It Was سنن نسائی #۲۳۴۸ Sahih