صحیح مسلم — حدیث #۱۵۰۸۱
حدیث #۱۵۰۸۱
انطلقنا مع رسول الله ﷺ حتى وصلنا إلى وادٍ واسع. فذهب رسول الله ﷺ لقضاء حاجته، فتبعته بقارورة ماء. فنظر رسول الله ﷺ حوله فلم يرَ شيئًا يفوته، فظهرت شجرتان على طرف الوادي. فذهب إلى إحداهما فأخذ بفرع منها وقال: «بأمر الله». فأطاعته كما يُطاع البعل. ثم أتى إلى الأخرى فأخذ بفرع منها وقال: «بأمر الله». فتبعته كذلك حتى بلغ منتصف المسافة بينهما، ثم أنزلهما وجمعهما معًا، وقال: «تعاليا إليّ بأمر الله». فذهبتا معًا (وغطتاه). قال جابر رضي الله عنه: هربت من هناك خشية أن يقترب مني رسول الله صلى الله عليه وسلم فيبتعد. قال محمد بن عباد في روايته: كان عليك أن تبتعد. جلستُ في مكانٍ ما، وأخذتُ أُحدث نفسي. فجأةً رفعتُ بصري فرأيتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم قادمًا، ورأيتُ الشجرتين قد انفصلتا، وكل شجرةٍ منهما قائمةٌ على جذعها. ثم رأيتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوقف مرةً واحدةً، ويشير برأسه المبارك هكذا. فأشار أبو إسماعيل (حاتم بن إسماعيل) برأسه يمينًا وشمالًا. ثم تقدم، فلما وصل إليّ قال: يا جابر رضي الله عنه! أترى أين كنتُ واقفًا؟ قلتُ: نعم. قال: اذهب إلى الشجرتين، واقطع غصنًا من كلٍّ منهما حتى تأتي وتقف في مكاني، ثم ضع غصنًا عن يمينك وغصنًا عن شمالك. قال جابر رضي الله عنه: أخذتُ حجراً أو كسرته وسحقته، فلما صار حاداً لي، أتيتُ الشجرتين فقطعتُ غصناً من كلٍّ منهما، ثم جررتهما حتى وصلتُ إلى الموضع الذي وقف فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم وضعتُ غصناً عن يميني وغصناً عن شمالي، ثم أتيتُك فقلتُ: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم! ما كان قصدي مما فعلت؟ قال: مررتُ بالقبور فوجدتهم يُعذَّبون، فأردتُ أن أشفع لهم فيخفَّف عذابهم ما دام هذان الغصنان رطبين.
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( ایک مہم کے لیے ) روانہ ہوئے حتیٰ کہ ہم کشادہ وادی میں جا اترے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے میں ( چمڑے کا بناہوا ) پانی کا ایک برتن لے کر آپ کے پیچھے گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر دوڑائی ایسی چیز نظر نہ آئی جس کی آپ اوٹ لے سکتے ۔ وادی کے کنارے پردودرخت نظر آئے آپ ان میں سے ایک درخت کے پاس تشریف لے گئے اس کی ٹہنیوں میں سے ایک کو پکڑ ا اور فرمایا : "" اللہ کے حکم سے میرے مطیع ہو جاؤ ۔ "" تو وہ نکیل ڈالے ہوئے اونٹ کی طرح آپ کا فرمانبردار بن گیا پھر دوسرے درخت کے پاس آئے اور اس کی ٹہنیوں میں سے ایک کو پکڑا اور کہا : "" اللہ کے حکم سے میرے مطیع ہو جاؤ ۔ "" تو وہ بھی اسی طرح آپ کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ ( اسے چلاتے ہوئے ) دونوں کے درمیان کے آدھے فاصلے پر پہنچے تو آپ نے ان دونوں کو جھکا کر آپس میں ملا ( کراکٹھا کر ) دیا آپ نے فرمایا : "" دونوں اللہ کے حکم سے میرے آگے مل جاؤ ۔ تو وہ دونوں ساتھ گئے ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پردہ مہیا کر دیا ) حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں ڈر سے بھاگتا ہوا وہاں سے نکلا کہ میرے قریب ہونے کو محسوس کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے ( مزید ) دور ( جانے پر مجبور ) نہ ہو جائیں اور محمد بن عباد نے ( اپنی روایت میں ) کہا : آپ کو دورجانے کی زحمت کرنی پڑے میں ( ایک جگہ ) بیٹھ گیا اور اپنے آپ سے باتیں کرنے لگا ۔ اچانک میری نگاہ پڑی تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لارہے ہیں اور دیکھا کہ دونوں درخت الگ الگ ہو چکے ہیں ۔ ہر ایک درخت تنے پر سیدھا کھڑاہو گیا ہے پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار رکے اور اپنے سر مبارک سے اس طرح اشارہ کیا ۔ ابو اسماعیل ( حاتم بن اسماعیل ) نے اپنے سر سے دائیں بائیں اشارہ کیا ۔ پھر آپ آگے تشریف لائے جب میرے پاس پہنچے تو فرمایا : "" جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ !کیا تم میرے کھڑے ہونے کی جگہ دیکھی تھی؟میں نے عرض کی جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : "" دونوں درختوں کی طرف جاؤ اور دونوں میں سے ہر ایک سے ایک ( ایک ) شاخ کاٹ لاؤ یہاں تک کہ آکر جب میری جگہ پر کھڑے ہو جاؤ تو ایک شاخ اپنی دائیں طرف ڈال دینا اور ایک شاخ بائیں طرف ۔ "" حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں اٹھا ایک پتھر اٹھا یا اسے توڑا اور اسے گھسایا جب وہ میرے ( کام کے ) کے لئے تیز ہوگیا تو ان دونوں درختوں کی طرف آیا ہر ایک سے ایک ( ایک ) شاخ کاٹی ، پھر ان کو گھسیٹتا ہوا آیا ، یہاں تک کہ آکر اس جگہ کھڑا ہوا جہاں پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے تو ایک شاخ اپنی دائیں طرف ڈال دی اور ایک اپنی بائیں طرف ۔ پھر میں آپ کے ساتھ جاملا اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( جو آپ نے فرمایا تھا ) میں نے کردیا ہے وہ کس لیے تھا؟فرمایا : "" میں و قبروں کے پاس سے گزرا ان کو عذاب دیاجارہاتھا ۔ میں نے ان کے بارے میں شفاعت کرنی چاہی کہ ان سے اس وقت تک کے لیے تخفیف کردی جائے جب تک یہ شاخیں گیلی رہیں ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۵۵/۷۵۱۸
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۵۵: زہد اور نرم دلی