صحیح مسلم — حدیث #۱۵۰۸۲

حدیث #۱۵۰۸۲
قال جابر رضي الله عنه: ثم أتينا الجيش، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا جابر، نادِ على ماء الوضوء. فقلت (ناديًا في كل مكان): أليس هناك ماء للوضوء؟ أليس هناك ماء للوضوء؟ أليس هناك ماء للوضوء؟ قال: قلت: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم، ما وجدت قطرة ماء في القافلة. وكان هناك رجل من الأنصار يصب الماء في قربته البالية لرسول الله صلى الله عليه وسلم، ويعلقها على وتد من سعف نخلة ليبردها. قال جابر: قلت لي: اذهب إلى فلان بن فلان الأنصاري، وانظر هل في قربته شيء. قال: فعلت. فلما نظرت فيها، لم أرَ إلا قطرة عند فوهتها. لو أردتُ إخراجها (إلى إناء آخر)، لشربت الجزء الجاف منها. فأتيتُ رسول الله ﷺ وقلت: يا رسول الله ﷺ! لم أجد في فم هذه القربة إلا قطرة ماء. لو سكبتها لشربت الجزء الجاف منها. فقال ﷺ: اذهب وأحضرها إليّ. فأحضرتها إليه ﷺ. فأخذها بيده وهمّ بالحديث. لم أفهم ما قال. ثم ضغطها بين يديه وحركها. ثم ناولني إياها وقال: يا جابر! اطلب إناءً كبيرًا من الماء. فقلت: أحضروا إناءً كبيرًا للخيل. فأحضروه إليّ فوضعته أمامه. ثم وضع رسول الله ﷺ يده المباركة في الإناء، وبسطها، وفرّق بين أصابعه، ثم وضعها في قاع الإناء وقال: يا جابر! اسكب الماء على يدي وقل بسم الله! فسكبتُ الماء عليه و قال: بسم الله. رأيت الماء يتدفق من بين أصابع رسول الله ﷺ، ثم بدأ الإناء الكبير يدور ويخفق بقوة شديدة. حتى امتلأ، قال رسول الله ﷺ: يا جابر، نادِ من يحتاج إلى ماء. قال: فجاء الناس وأخذوا الماء حتى قُضيت حاجة كل واحد منهم. قال: ناديت: هل بقي أحد محتاج؟ ثم رفع رسول الله ﷺ يده عن الإناء، فإذا هو ممتلئ.
(حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر ہم لشکر کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ !وضو کے پانی کے لیے آوازدو ۔ " تو میں نے ( ہرجگہ پکار کر ) کہا : کیاوضو کا پانی نہیں ہے؟کیا وضو کا پانی نہیں ہے؟کیا وضو کا پانی نہیں ہے؟کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قافلے میں ایک قطرہ ( پانی ) نہیں ملا ۔ انصار میں سے ایک آدمی تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنے پُرانے مشکیزے میں پانی ڈال کراسے کھجور کی ٹہنی ( سے بنی ہوئی ) کھونٹی سے لٹکا کر ٹھنڈا کیا کر تا تھا ۔ ( جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : آپ نے مجھ سے فرمایا " فلاں بن فلاں انصاری کے پاس جاؤ اور دیکھو اس کے پُرانے مشکیزے میں کچھ ہے؟ " کہا : میں کیا ، اس کے اندر دیکھاتو مجھے اس ( مشکیزے ) کے منہ والی جگہ پر ایک قطرے کے سوا کچھ نظر نہ آیا ۔ اگر میں اسے ( دوسرے برتن میں ) نکالتا تو اس کا خشک حصہ اسے پی لیتا ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اس ( مشکیزے ) کے منہ میں پانی کے ایک قطرے کے سواکچھ نہیں ملا ۔ اگر میں اسے انڈیلوں تو اس کا خشک حصہ اسے پی لے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جاؤ اسے میرے پاس لے آؤ ۔ " میں اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا ۔ آپ نے اسے ہاتھ میں پکڑا اور کچھ کہنا شروع کیا مجھے پتہ نہ چلا کہ آپ نے کیاکہا اور اس ( مشکیزے ) کو اپنے دونوں ہاتھوں میں دبانے اور حرکت دینے لگے ، پھر آپ نے مجھے وہ دے دیا تو فرمایا : " جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ !پانی ( پلانے ) کا بڑابرتن منگواؤ ۔ " میں نے آواز دی : سواروں کابڑا برتن ( ٹب ) لاؤ ۔ اسے اٹھا کر میرے پاس لا یاگیا تو میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک ہاتھ پیالے میں اس طرح کیا ، اسے پھیلایا اور اپنی انگیاں الگ الگ کیں پھر اسے برتن کی تہہ میں رکھا اور فرمایا : " جابر!میرے ہاتھ پر پانی انڈیل دو اور بسم اللہ پڑھو! " میں نے اسے آپ ( کے ہاتھ ) پر انڈیلا اور کہا : بسم اللہ ۔ میں نے پانی کو ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کےدرمیان سے پھوٹتے ہوئے دیکھا ، پھر وہ بڑا برتن ( پانی کے ) جوش سے ) زور سے امڈنے اور گھومنے لگا ۔ یہاں تک کہ پورا بھر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جابر!جس جس کو پانی کی ضرورت ہے اسے آواز دو ۔ " کہا : لوگ آئے اور پانی لیا ، یہاں تک کہ سب کی ضرورت پوری ہوگئی ، کہا : میں نے اعلان کیا کوئی باقی ہے جسے ( پانی کی ) ضرورت ہو؟ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن سے اپنا ہاتھ اٹھایا تو وہ ( اسی طرح ) بھرا ہوا تھا ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۵۵/۷۵۱۹
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۵۵: زہد اور نرم دلی
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث