سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۱۳۲۸
حدیث #۳۱۳۲۸
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِحْدَى صَلاَتَىِ الْعَشِيِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ كَانَتْ فِي الْمَسْجِدِ يَسْتَنِدُ إِلَيْهَا فَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ يَقُولُونَ قَصُرَتِ الصَّلاَةُ . وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَهَابَاهُ أَنْ يَقُولاَ لَهُ شَيْئًا وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ طَوِيلُ الْيَدَيْنِ يُسَمَّى ذَا الْيَدَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ " لَمْ تَقْصُرْ وَلَمْ أَنْسَ " . قَالَ فَإِنَّمَا صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ . فَقَالَ " أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء ( یعنی زوال کے بعد کی دو نمازوں ظہر یا عصر ) میں سے کوئی نماز دو ہی رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، جلد باز لوگ تو یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم ہو گئی، مقتدیوں میں ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہنے کی ہمت نہ کر سکے، لوگوں میں ذوالیدین نامی ایک لمبے ہاتھوں والے آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ تو وہ کم ہوئی، نہ میں بھولا ہوں تو انہوں نے کہا: آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ایسا ہی ہے جیسا کہ ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟ ، تو لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا ۱؎۔
راوی
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۵/۱۲۱۴
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۵: نماز قائم کرنا