حدیث مجموعہ — حدیث #۳۸۰۹۳

حدیث #۳۸۰۹۳
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَ عُمَرُ يُدْخِلُنِي مَعَ أَشْيَاخِ بَدرٍ فَكَأَنَّ بَعْضَهُمْ وَجَدَ في نفسِهِ فَقَالَ : لِمَ يَدْخُلُ هَذَا معنا ولَنَا أبْنَاءٌ مِثلُهُ فَقَالَ عُمَرُ : إنَّهُ مَنْ حَيثُ عَلِمْتُمْ فَدعانِي ذاتَ يَومٍ فَأدْخَلَنِي مَعَهُمْ فَمَا رَأيتُ أَنَّهُ دَعَاني يَومَئذٍ إلاَّ لِيُرِيَهُمْ قَالَ : مَا تَقُولُونَ في قَولِ الله : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ: فَقَالَ بعضهم : أُمِرْنَا نَحْمَدُ اللهَ وَنَسْتَغْفِرُهُ إِذَا نَصَرنَا وَفَتحَ عَلَيْنَا وَسَكتَ بَعْضُهُمْ فَلَمْ يَقُلْ شَيئاً فَقَالَ لي : أَكَذلِكَ تقُولُ يَا ابنَ عباسٍ ؟ فقلت : لا قَالَ : فَمَا تَقُولُ ؟ قُلْتُ : هُوَ أجَلُ رَسُولِ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم أعلَمَهُ لَهُ، قَالَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَذَلِكَ عَلاَمَةُ أجَلِكَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّاباً فَقَالَ عُمَرُ مَا أعلَمُ مِنْهَا إلاَّ مَا تَقُولُ رواه البخاري
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں سے راضی ہے، انہوں نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ مجھے بدر کے شیوخ کے ساتھ لایا کرتے تھے، گویا ان میں سے بعض نے اسے اپنے اندر پایا اور کہا: یہ شخص ہمارے ساتھ کیوں آیا؟ ہمارے ان جیسے بیٹے ہیں، عمر نے کہا: یہ وہ جگہ ہے جہاں سے تم نے سیکھا ہے۔ چنانچہ اس نے ایک دن مجھے بلایا اور مجھے ان کے ساتھ اندر آنے دیا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ اس نے مجھے بلایا سوائے انہیں دکھانے کے۔ اس نے کہا: تم خدا کے اس قول کے بارے میں کیا کہتے ہو: جب خدا کی فتح و نصرت آئے گی؟ ان میں سے بعض نے کہا: ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی حمد و ثناء کریں اور اس سے استغفار کریں جب ہمیں فتح و نصرت ملے۔ اور ان میں سے کچھ خاموش رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابن عباس کیا تم یہی کہتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: تو آپ کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدت ہے، اللہ آپ پر رحم کرے۔ اور سب سے زیادہ عالم نے اسے سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب اللہ کی فتح اور فتح آجائے اور یہ تمہاری موت کی نشانی ہو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو اور اس سے معافی مانگو، کیونکہ وہ توبہ کرنے والا تھا۔‘‘ عمر، میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا سوائے اس کے کہ وہ کیا کہتی ہیں۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔
راوی
عائشہ رضی اللہ عنہا
ماخذ
حدیث مجموعہ # ۱۲۶۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب : باب ۱۱
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث

متعلقہ احادیث