Honest کے بارے میں احادیث
۱۰۲ مستند احادیث ملیں
سنن ابن ماجہ : ۶۱
اسماعیل بن عبید بن رفاعہ رضی اللہ عنہ
Daif
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رِفَاعَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَإِذَا النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ بُكْرَةً فَنَادَاهُمْ " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ " . فَلَمَّا رَفَعُوا أَبْصَارَهُمْ وَمَدُّوا أَعْنَاقَهُمْ قَالَ " إِنَّ التُّجَّارَ يُبْعَثُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا إِلاَّ مَنِ اتَّقَى اللَّهَ وَبَرَّ وَصَدَقَ " .
رفاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ اچانک کچھ لوگ صبح کے وقت خرید و فروخت کرتے نظر آئے، آپ نے ان کو پکارا: اے تاجروں کی جماعت! جب ان لوگوں نے اپنی نگاہیں اونچی اور گردنیں لمبی کر لیں ۱؎ تو آپ نے فرمایا: تاجر قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے جائیں گے کہ وہ فاسق و فاجر ہوں گے، سوائے ان کے جو اللہ سے ڈریں، اور نیکوکار اور سچے ہوں ۱؎۔
سنن ابن ماجہ : ۶۲
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Mawdu
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" أَكْذَبُ النَّاسِ الصَّبَّاغُونَ وَالصَّوَّاغُونَ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹے رنگ ریز اور سنار ہوتے ہیں ۔
سنن ابن ماجہ : ۶۳
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتٌ يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ وَيُخَوَّنُ فِيهَا الأَمِينُ وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ قِيلَ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ قَالَ الرَّجُلُ التَّافِهُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکر و فریب والے سال آئیں گے، ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن، اور اس زمانہ میں «رويبضة» بات کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: «رويبضة» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حقیر اور کمینہ آدمی، وہ لوگوں کے عام انتظام میں مداخلت کرے گا
سنن ابن ماجہ : ۶۴
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَدِيثَيْنِ قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الآخَرَ حَدَّثَنَا " أَنَّ الأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ " . - قَالَ الطَّنَافِسِيُّ يَعْنِي وَسْطَ قُلُوبِ الرِّجَالِ - وَنَزَلَ الْقُرْآنُ فَعَلِمْنَا مِنَ الْقُرْآنِ وَعَلِمْنَا مِنَ السُّنَّةِ . ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهِمَا فَقَالَ " يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُرْفَعُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَظَلُّ أَثَرُهَا كَأَثَرِ الْوَكْتِ ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ فَتُنْزَعُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَظَلُّ أَثَرُهَا كَأَثَرِ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَىْءٌ " . ثُمَّ أَخَذَ حُذَيْفَةُ كَفًّا مِنْ حَصًى فَدَحْرَجَهُ عَلَى سَاقِهِ . قَالَ " فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ وَلاَ يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الأَمَانَةَ حَتَّى يُقَالَ إِنَّ فِي بَنِي فُلاَنٍ رَجُلاً أَمِينًا . وَحَتَّى يُقَالَ لِلرَّجُلِ مَا أَعْقَلَهُ وَأَجْلَدَهُ وَأَظْرَفَهُ . وَمَا فِي قَلْبِهِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ " . وَلَقَدْ أَتَى عَلَىَّ زَمَانٌ وَلَسْتُ أُبَالِي أَيَّكُمْ بَايَعْتُ لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَىَّ إِسْلاَمُهُ وَلَئِنْ كَانَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَىَّ سَاعِيهِ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ لأُبَايِعَ إِلاَّ فُلاَنًا وَفُلاَنًا .
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دو حدیثیں بیان کیں، جن میں سے ایک تو میں نے دیکھ لی ۱؎ اور دوسری کا منتظر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ بیان فرمایا: امانت آدمیوں کے دلوں کی جڑ میں اتری ( پیدا ہوئی ) ، ( طنافسی نے کہا: یعنی آدمیوں کے دلوں کے بیچ میں اتری ) اور قرآن کریم نازل ہوا، تو ہم نے قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کی ۲؎، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کے اٹھ جانے کے متعلق ہم سے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی رات کو سوئے گا تو امانت اس کے دل سے اٹھا لی جائے گی، ( اور جب وہ صبح کو اٹھے گا تو ) امانت کا اثر ایک نقطے کی طرح دل میں رہ جائے گا، پھر جب دوسری بار سوئے گا تو امانت اس کے دل سے چھین لی جائے گی، تو اس کا اثر ( اس کے دل میں ) کھال موٹا ۲؎ ہونے کی طرح رہ جائے گا، جیسے تم انگارے کو پاؤں پر لڑھکا دو تو کھال پھول کر آبلے کی طرح دکھائی دے گی، حالانکہ اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا ، پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مٹھی بھر کنکریاں لیں اور انہیں اپنی پنڈلی پر لڑھکا لیا، اور فرمانے لگے: پھر لوگ صبح کو ایک دوسرے سے خرید و فروخت کریں گے، لیکن ان میں سے کوئی بھی امانت دار نہ ہو گا، یہاں تک کہ کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں فلاں امانت دار شخص ہے، اور یہاں تک آدمی کو کہا جائے گا کہ کتنا عقلمند، کتنا توانا اور کتنا ذہین و چالاک ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہو گا، اور مجھ پر ایک زمانہ ایسا گزرا کہ مجھے پروا نہ تھی کہ میں تم میں سے کس سے معاملہ کروں، یعنی مجھے کسی کی ضمانت کی حاجت نہ تھی، اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا اسلام اسے مجھ پر زیادتی کرنے سے روکتا، اور اگر وہ یہودی یا نصرانی ہوتا تو اس کا گماشتہ بھی انصاف سے کام لیتا ( یعنی ان کے عامل اور عہدہ دار بھی ایماندار اور منصف ہوتے ) اور اب آج کے دن مجھے کوئی بھی ایسا نظر نہیں آتا کہ میں اس سے معاملہ کروں سوائے فلاں فلاں کے ۔
سنن ابن ماجہ : ۶۵
It Was
Mawdu
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ أَبِي شَجَرَةَ، كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ عَبْدًا نَزَعَ مِنْهُ الْحَيَاءَ فَإِذَا نَزَعَ مِنْهُ الْحَيَاءَ لَمْ تَلْقَهُ إِلاَّ مَقِيتًا مُمَقَّتًا فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلاَّ مَقِيتًا مُمَقَّتًا نُزِعَتْ مِنْهُ الأَمَانَةُ فَإِذَا نُزِعَتْ مِنْهُ الأَمَانَةُ لَمْ تَلْقَهُ إِلاَّ خَائِنًا مُخَوَّنًا فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلاَّ خَائِنًا مُخَوَّنًا نُزِعَتْ مِنْهُ الرَّحْمَةُ فَإِذَا نُزِعَتْ مِنْهُ الرَّحْمَةُ لَمْ تَلْقَهُ إِلاَّ رَجِيمًا مُلَعَّنًا فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلاَّ رَجِيمًا مُلَعَّنًا نُزِعَتْ مِنْهُ رِبْقَةُ الإِسْلاَمِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے شرم و حیاء کو نکال لیتا ہے، پھر جب حیاء اٹھ جاتی ہے تو اللہ کے قہر میں گرفتار ہو جاتا ہے، اور اس حالت میں اس کے دل سے امانت بھی چھین لی جاتی ہے، اور جب اس کے دل سے امانت چھین لی جاتی ہے تو وہ چوری اور خیانت شروع کر دیتا ہے، اور جب چوری اور خیانت شروع کر دیتا ہے تو اس کے دل سے رحمت چھین لی جاتی ہے، اور جب اس سے رحمت چھین لی جاتی ہے تو تم اسے ملعون و مردود پاؤ گے، اور جب تم ملعون و مردود دیکھو تو سمجھ لو کہ اسلام کا قلادہ اس کی گردن سے نکل چکا ہے ۔
حدیث مجموعہ : ۶۶
راوی رضی اللہ عنہ
Sahih
وَعَن أَبي سُفيَانَ صَخرِ بنِ حَربٍ في حَديثِهِ الطويل في قِصَّةِ هِرَقْلَ: أنَّ هِرَقْلَ قَالَ لأَبِي سُفْيَانَ: فَمَاذَا يَأمُرُكُمْ بِهِ؟ يَعْنِي النَّبيّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: قُلْتُ: يَقُولُ اعْبُدُوا اللهَ وَحْدَهُ وَلاَ تُشْرِكُوا بِهِ شَيئاً، واتْرُكُوا مَا يَقُولُ آبَاؤُكُمْ وَيَأمُرُنَا بِالصَّلاةِ وَالصِّدْقِ والعَفَافِ والصِّلَةِ مُتَّفَقٌ عَلَيهِ
ابو سفیان صخر بن حرب سے روایت ہے کہ ہرقل کے قصے کے بارے میں اپنی طویل حدیث میں: ہرقل نے ابو سفیان سے کہا: وہ تمہیں کیا حکم دیتا ہے؟ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور جو کچھ تمہارے باپ دادا کہتے ہیں اسے چھوڑ دو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز کا حکم دیتے ہیں۔
بلغ المرام : ۶۷
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
Sahih
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: «عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ، وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ، حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ، وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ، حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا» مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سچے رہو، کیونکہ ایمانداری نیکی کی طرف لے جاتی ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور آدمی سچ بولتا رہتا ہے اور سچائی کی تلاش میں رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ خدا کے ہاں سچائی کے لیے لکھ دیا جائے، اور اللہ کے نزدیک سچائی سے ڈرو۔ جھوٹ بے حیائی کی طرف لے جاتا ہے اور بے حیائی جہنم کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ بولتا رہے گا اور وہ جھوٹ بولتا رہے گا یہاں تک کہ خدا کے ہاں اس کا ذکر ہو جائے۔ جھوٹا ہے۔" پر اتفاق ہوا۔
حدیث مجموعہ : ۶۸
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ
Sahih
كنا عند الرسول صلى الله عليه وسلم فدعا فقال: "مرحبا بتلك القلة من الناس". قيل: ومن القلائل؟ يا رسول الله! قال: هؤلاء كثيرون قلة من الشرفاء بين الناس غير الشرفاء. هناك أشخاص عصاة أكثر من الأشخاص المخلصين. (আহমদ ৬৬৫০)
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی اور فرمایا: ان چند لوگوں کو خوش آمدید۔ عرض کیا گیا: تھوڑے کون ہیں؟ اے خدا کے رسول! اس نے کہا: یہ بے ایمان لوگوں میں بہت، چند معزز لوگ ہیں۔ مخلص لوگوں سے زیادہ نافرمان لوگ ہیں۔ (احمد ۶۶۵۰)
حدیث مجموعہ : ۶۹
সাহাবী
Sahih
وَعَن أَبي سُفيَانَ صَخرِ بنِ حَربٍ في حَديثِهِ الطويل في قِصَّةِ هِرَقْلَ: أنَّ هِرَقْلَ قَالَ لأَبِي سُفْيَانَ: فَمَاذَا يَأمُرُكُمْ بِهِ؟ يَعْنِي النَّبيّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: قُلْتُ: يَقُولُ اعْبُدُوا اللهَ وَحْدَهُ وَلاَ تُشْرِكُوا بِهِ شَيئاً، واتْرُكُوا مَا يَقُولُ آبَاؤُكُمْ وَيَأمُرُنَا بِالصَّلاةِ وَالصِّدْقِ والعَفَافِ والصِّلَةِ مُتَّفَقٌ عَلَيهِ
ابو سفیان صخر بن حرب سے روایت ہے کہ ہرقل کے قصے کے بارے میں اپنی طویل حدیث میں: ہرقل نے ابو سفیان سے کہا: وہ تمہیں کیا حکم دیتا ہے؟ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور جو کچھ تمہارے باپ دادا کہتے ہیں اسے چھوڑ دو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز کا حکم دیتے ہیں۔ اور دیانت، عفت اور راستبازی پر اتفاق ہے۔
حدیث مجموعہ : ۷۰
سعد بن ابی اکاس رضی اللہ عنہ
Sahih
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (للرجل أربع من السعادة والحظ: المرأة الصالحة، والبيت الواسع، والجار الصالح، والمركبة اليسيرة. وأربع من الشقاء والشقاء: جار خائن، وامرأة خائنة، وبيت ضيق، ومركبة سوء). (ابن حبان 4032، بيكبير شعب الإيمان 9556، السلسلة الصحيحة رقم 282)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مرد کے لیے چار قسم کی سعادتیں اور خوش قسمتی ہیں: نیک عورت، کشادہ گھر، اچھا پڑوسی، اور آسان گاڑی۔ اور چار قسم کے مصائب و آلام: خیانت کرنے والا پڑوسی، غدار عورت، تنگ گھر اور خراب گاڑی)۔ (ابن حبان 4032، بکبیر شعب الایمان 9556، صحیح سلسلہ نمبر 282)
حدیث مجموعہ : ۷۱
ابو حنیفہ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ
Sahih
سأل سلمة بن يزيد الجعفي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا نبي الله! قل لو ولي علينا حاكم فطالبنا بحقهم وحرمنا حقنا. فماذا تأمر في هذا الأمر؟ فابتعد عنه. فلما سأل مرة أخرى، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اسمعوا وأطيعوا، فإن عليهم حقا ما أمروا به (أي العدل والقسط)، وعليك ما استأمنتم عليه". (مسلم رقم: 4888-4889)
سلمہ بن یزید الجعفی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! کہو: اگر کوئی حکمران ہم پر حکومت کرے تو ہم ان کے حقوق مانگیں گے اور اپنے حق سے انکار کریں گے۔ آپ اس معاملے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ اس لیے اس سے دور رہو۔ جب اس نے دوبارہ سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اور اطاعت کرو، کیونکہ وہ اس کے حقدار ہیں جس کا انہیں حکم دیا گیا ہے (یعنی عدل و انصاف) اور تم اس کے ذمہ دار ہو جو تمہیں سونپے گئے ہیں۔ (مسلم نمبر: 4888-4889)
مشکوٰۃ المصابیح : ۷۲
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الجهاد واجب على كل أمير منكم، سواء كان أميرا صادقا أو فاجرا». وإذا ارتكب ذنب الكبيرة أيضاً. ولك أن تصلي خلف كل مسلم ضروري (من يصلي) سواء كان صادقاً أو فاجراً. إذا كان قد ارتكب ذنب الكبيرة. ومن الفريضة على كل مسلم أن يصلي. أريده أن يكون عاملاً أمينًا أو محتالًا. حتى لو ارتكب ذنبا. (أبو داود) [1]
انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شہزادے پر جہاد فرض ہے، خواہ وہ ایماندار شہزادہ ہو یا بد اخلاق۔ اور اگر وہ کبیرہ گناہ کا مرتکب بھی ہو جائے۔ آپ ہر ضروری مسلمان (جو نماز پڑھتا ہے) کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں، خواہ وہ ایماندار ہو یا بد اخلاق۔ اگر اس نے کبیرہ گناہ کیا ہے۔ نماز پڑھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ ایک ایماندار کارکن یا بدمعاش بنے۔ خواہ اس نے کوئی گناہ کیا ہو۔ (ابو داؤد) [1]
ریاض الصالحین : ۷۳
ফাত্বেমাহ বিন্তে ক্বাইস
Sahih
وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :
" إن الصدق يهدي إلى البر، وإن البر يهدي إلى الجنة، وإن الرجل ليصدق حتى يكتب عند الله صديقًا، وإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وإن الرجل ليكذب حتى يكتب عند الله كذابًا" ((متفق عليه)).
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’دیانت نیکی کی طرف لے جاتی ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور انسان سچا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں اس کا دوست لکھا جائے، اور جھوٹ بے حیائی کی طرف لے جاتا ہے، اور بے حیائی جہنم کی طرف لے جاتی ہے، اور بے شک آدمی جھوٹ بولتا ہے جب تک کہ وہ اللہ کے ہاں جھوٹا نہ لکھا جائے۔‘‘ (متفق علیہ)۔
سلسلہ صحیحہ : ۷۴
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
Sahih
قال: طاف رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفتح على بعيره مقطوع الأذن، ويستلم الحجر بعصاه (أي يقبل الحجر الأسود) ولا يستطيع أن يقعد البعير في المسجد (أي منطقة الجلوس). (ليس لديها) تذهب الجمال إلى الوادي في باتان وتوضع الجمال في سخون. ثم حمد رسول الله (صلى الله عليه وسلم) الله وقرأ الشانا. ثم قال: أيها الناس! أبعد الله عنك الكبرياء والكبرياء بجهلك أعطى الناس صنفان: (أ) صادقون، تقيون، محبوبون عند الله. (ب) وخائن، وبائس، وساخط لله. ثم قرأ - (عربي) - أي يا أيها الناس! إني خلقتكم (بعضا) ذكرا (وبعضا) أنثى. لك مقسمة إلى قبائل ومجموعات مختلفة. لكي تعرفوا بعضكم البعض.\nاقرأوا الآية في نقطة واحدة. فقال: قد قلت، وأستغفر الله لي ولك. (الصحيحة-2803) \n\nالحديث صحيح.
انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے دن اپنی اونٹنی پر اس کا کان کٹا ہوا طواف کیا اور اپنی لاٹھی سے حجر اسود کو چھوا (یعنی حجر اسود کو بوسہ دیا) اور اونٹ مسجد (یعنی بیٹھنے کی جگہ) میں نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ (اس کے پاس نہیں ہے) اونٹ بطان میں وادی میں جاتے ہیں اور اونٹوں کو ہیٹر میں رکھا جاتا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد کی اور چنا پڑھا۔ پھر فرمایا: اے لوگو! خدا تم سے غرور دور کرے اور لوگوں کو تمہاری جہالت پر فخر کرے۔ دو قسمیں: (الف) دیانت دار، پرہیزگار، خدا کو محبوب۔ (ب) وہ غدار، دکھی اور خدا سے ناراض ہے۔ پھر اس نے پڑھا - (عربی) - یعنی اے لوگو! میں نے تمہیں (کچھ) مرد اور (کچھ) مادہ پیدا کیا۔ آپ مختلف قبیلوں اور گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ تاکہ آپ ایک دوسرے کو جان سکیں۔\nایک موقع پر آیت کو پڑھیں۔ اس نے کہا: میں نے کہا ہے اور میں اللہ سے اپنے اور تمہارے لیے بخشش مانگتا ہوں۔ (صحیح 2803) \n\nحدیث صحیح ہے۔
مسند احمد : ۷۵
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَوْسَطَ، قَالَ خَطَبَنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامِي هَذَا عَامَ الْأَوَّلِ وَبَكَى أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ سَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ أَوْ قَالَ الْعَافِيَةَ فَلَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ قَطُّ بَعْدَ الْيَقِينِ أَفْضَلَ مِنْ الْعَافِيَةِ أَوْ الْمُعَافَاةِ عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّهُ مَعَ الْبِرِّ وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّهُ مَعَ الْفُجُورِ وَهُمَا فِي النَّارِ وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمْ اللَّهُ تَعَالَى.
ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ یزید بن خمیر سے، انہوں نے سلیم بن عامر سے، انہوں نے اوسط کی سند سے، انہوں نے کہا: ابو نے ہم سے بکر رضی اللہ عنہ سے خطاب کیا، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس سال ابو بکر رضی اللہ عنہ نے میری نماز کے لیے دعا کی۔ روئے اور ابوبکر نے کہا: ان سے پوچھو۔ اللہ عافیت دیتا ہے، یا اس نے کہا، خیریت۔ کسی کو یقین کے بعد خیر و عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی۔ آپ کو ایماندار ہونا چاہئے، کیونکہ یہ راستبازی کے ساتھ ہے۔ وہ جنت میں ہوں گے۔ جھوٹ سے بچو کیونکہ اس کے ساتھ بے حیائی بھی ہوتی ہے اور وہ جہنم میں ہوں گے۔ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو۔ ایک دوسرے کی طرف متوجہ نہ ہو، اور بھائی بھائی بنو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔
مسند احمد : ۷۶
It was narrâted that Abu 'Ubaidah said
Sahih
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَامٍ فَقَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامِي عَامَ الْأَوَّلِ فَقَالَ سَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يُعْطَ عَبْدٌ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ الْعَافِيَةِ وَعَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ وَالْبِرِّ فَإِنَّهُمَا فِي الْجَنَّةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ وَالْفُجُورَ فَإِنَّهُمَا فِي النَّارِ.
ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو عبیدہ سے، انہوں نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے پہلے سال کے بعد جی اٹھے، اور فرمایا: اللہ سے مانگو۔ تندرستی، کیونکہ کسی بندے کو عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی۔ آپ کو ایماندار اور نیک ہونا چاہیے، کیونکہ وہ جنت میں ہیں۔ جھوٹ اور بے حیائی سے بچو۔ وہ دونوں جہنم میں ہوں گے۔
مسند احمد : ۷۷
ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَامٍ فَقَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَوَّلِ فَقَالَ إِنَّ ابْنَ آدَمَ لَمْ يُعْطَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ الْعَافِيَةِ فَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ وَعَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ وَالْبِرِّ فَإِنَّهُمَا فِي الْجَنَّةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ وَالْفُجُورَ فَإِنَّهُمَا فِي النَّارِ.
ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ عمرو بن مرہ سے، انہوں نے ابو عبیدہ سے، انہوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ایک سال بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے درمیان گلاب" پہلے سال آپ نے فرمایا کہ ابن آدم کو خیر و عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی، لہٰذا اللہ سے عافیت مانگو اور ایماندار اور پرہیزگار بنو، کیونکہ وہ جنت میں ہوں گے۔ اور جھوٹ اور بے حیائی سے بچو، کیونکہ وہ دوزخ میں ہوں گے۔
مسند احمد : ۷۸
حمید بن عبدالرحمٰن الحمیری رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، وَعَفَّانُ، قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، بِالْبَصْرَةِ قَالَ أَنَا أَوَّلُ، مَنْ أَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ طُعِنَ فَقَالَ احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا يُدْرِكَنِي النَّاسُ أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَقْضِ فِي الْكَلَالَةِ قَضَاءً وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ عَلَى النَّاسِ خَلِيفَةً وَكُلُّ مَمْلُوكٍ لَهُ عَتِيقٌ فَقَالَ لَهُ النَّاسُ اسْتَخْلِفْ فَقَالَ أَيَّ ذَلِكَ أَفْعَلُ فَقَدْ فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي إِنْ أَدَعْ إِلَى النَّاسِ أَمْرَهُمْ فَقَدْ تَرَكَهُ نَبِيُّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدْ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ صَاحَبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَلْتَ صُحْبَتَهُ وَوُلِّيتَ أَمْرَ الْمُؤْمِنِينَ فَقَوِيتَ وَأَدَّيْتَ الْأَمَانَةَ فَقَالَ أَمَّا تَبْشِيرُكَ إِيَّايَ بِالْجَنَّةِ فَوَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي قَالَ عَفَّانُ فَلَا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَوْ أَنَّ لِي الدُّنْيَا بِمَا فِيهَا لَافْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ هَوْلِ مَا أَمَامِي قَبْلَ أَنْ أَعْلَمَ الْخَبَرَ وَأَمَّا قَوْلُكَ فِي أَمْرِ الْمُؤْمِنِينَ فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَفَافًا لَا لِي وَلَا عَلَيَّ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَلِكَ.
ہم سے یحییٰ بن حماد اور عفان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابو عونہ نے بیان کیا، انہوں نے داؤد بن عبداللہ العودی سے، انہوں نے حمید بن عبد کی سند سے۔ رحمن الحمیری، ابن عباس نے بصرہ میں ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں سب سے پہلا شخص ہوں جو عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جب ان پر وار کیا گیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے تین چیزیں بچاؤ۔ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ لوگ مجھے پہچان نہ لیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں نے حکم کو پورا نہیں کیا اور نہ ہی لوگوں پر جانشین مقرر کیا ہے اور اس کا ہر غلام بوڑھا ہے۔ تو لوگوں نے اس سے کہا اپنے جانشین کو چھوڑ دو۔ اس نے کہا کہ میں اس میں سے کیا کروں؟ جو مجھ سے بہتر ہے اس نے کیا ہے۔ اگر میں لوگوں کے معاملات ان پر چھوڑ دوں تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، اور اگر آپ کو جانشین مقرر کیا گیا ہے تو آپ نے مجھ سے بہتر کسی کو جانشین مقرر کیا ہے، ابوبکر رضی اللہ عنہ کو۔ تو میں نے اس سے کہا کہ خوشخبری سنا دو۔ جنت میں آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی اور طویل عرصے تک آپ کے ساتھ رہے اور آپ مؤمنین کے امور کے انچارج تھے، اس لیے آپ مضبوط ہو گئے اور اس پر عمل کیا۔ ایمانداری، تو اس نے کہا، "جہاں تک آپ مجھے جنت کی بشارت دیتے ہیں، خدا کی قسم، کاش میرے پاس ہوتا۔" عفان نے کہا: نہیں، خدا کی قسم، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، کاش میرے پاس ہوتا۔ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، میں اس کے لیے اپنے آپ کو اس دہشت سے فدیہ دے چکا ہوتا جو مجھے خبر ہونے سے پہلے ہی اپنے سامنے تھی۔ جہاں تک مومنین کے معاملے میں آپ کا بیان ہے، خدا کی قسم، مجھے پسند آئے گا۔ یہ نہ تو میرے لیے کافی ہے اور نہ میرے لیے، اور جہاں تک آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا ذکر کیا ہے، وہ یہ ہے۔
مسند احمد : ۷۹
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِعَوْرَاءَ وَلَا مُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا شَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ قَالَ زُهَيْرٌ قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ أَذَكَرَ عَضْبَاءَ قَالَ لَا قُلْتُ مَا الْمُقَابَلَةُ قَالَ يُقْطَعُ طَرَفُ الْأُذُنِ قُلْتُ مَا الْمُدَابَرَةُ قَالَ يُقْطَعُ مُؤَخَّرُ الْأُذُنِ قُلْتُ مَا الشَّرْقَاءُ قَالَ تُشَقُّ الْأُذُنُ قُلْتُ مَا الْخَرْقَاءُ قَالَ تَخْرِقُ أُذُنَهَا السِّمَةُ.
ہم سے حسن بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے شریح بن النعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سچے آدمی تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم آنکھ اور کان کا خیال رکھیں اور ایک عورت کی قربانی نہ کریں۔ نہ کوئی تصادم ہے، نہ کوئی مفاہمت، نہ کوئی شرعا، اور نہ کوئی اناڑی ہے۔ زہیر کہتے ہیں کہ میں نے ابو اسحاق سے کہا کہ پگڑی کا ذکر کرو۔ اس نے کہا: ’’نہیں۔‘‘ میں نے کہا: "ملاقات کیا ہے؟" اس نے کہا: ایک سرے کو کاٹنا۔ کان۔ میں نے کہا، "کیا سازش ہے؟" فرمایا: کان کا پچھلا حصہ کٹ گیا ہے۔ میں نے کہا شرق کیا ہے؟ اس نے کہا: کان پھٹ گیا ہے۔ میں نے کہا، "اناڑی پن کیا ہے؟" اس نے کہا۔ نشان اس کے کانوں میں چھیدتا ہے...
مسند احمد : ۸۰
سالم بن ابی امیہ ابلندر رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ أَبُو النَّضْرِ، قَالَ جَلَسَ إِلَيَّ شَيْخٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فِي مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ وَمَعَهُ صَحِيفَةٌ لَهُ فِي يَدِهِ قَالَ وَفِي زَمَانِ الْحَجَّاجِ فَقَالَ لِي يَا عَبْدَ اللَّهِ أَتَرَى هَذَا الْكِتَابَ مُغْنِيًا عَنِّي شَيْئًا عِنْدَ هَذَا السُّلْطَانِ قَالَ فَقُلْتُ وَمَا هَذَا الْكِتَابُ قَالَ هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَهُ لَنَا أَنْ لَا يُتَعَدَّى عَلَيْنَا فِي صَدَقَاتِنَا قَالَ فَقُلْتُ لَا وَاللَّهِ مَا أَظُنُّ أَنْ يُغْنِيَ عَنْكَ شَيْئًا وَكَيْفَ كَانَ شَأْنُ هَذَا الْكِتَابِ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ بِإِبِلٍ لَنَا نَبِيعُهَا وَكَانَ أَبِي صَدِيقًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ فَنَزَلْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ أَبِي اخْرُجْ مَعِي فَبِعْ لِي إِبِلِي هَذِهِ قَالَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَكِنْ سَأَخْرُجُ مَعَكَ فَأَجْلِسُ وَتَعْرِضُ إِبِلَكَ فَإِذَا رَضِيتُ مِنْ رَجُلٍ وَفَاءً وَصِدْقًا مِمَّنْ سَاوَمَكَ أَمَرْتُكَ بِبَيْعِهِ قَالَ فَخَرَجْنَا إِلَى السُّوقِ فَوَقَفْنَا ظُهْرَنَا وَجَلَسَ طَلْحَةُ قَرِيبًا فَسَاوَمَنَا الرِّجَالُ حَتَّى إِذَا أَعْطَانَا رَجُلٌ مَا نَرْضَى قَالَ لَهُ أَبِي أُبَايِعُهُ قَالَ نَعَمْ رَضِيتُ لَكُمْ وَفَاءَهُ فَبَايِعُوهُ فَبَايَعْنَاهُ فَلَمَّا قَبَضْنَا مَا لَنَا وَفَرَغْنَا مِنْ حَاجَتِنَا قَالَ أَبِي لِطَلْحَةَ خُذْ لَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا أَنْ لَا يُتَعَدَّى عَلَيْنَا فِي صَدَقَاتِنَا قَالَ فَقَالَ هَذَا لَكُمْ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ قَالَ عَلَى ذَلِكَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابٌ فَخَرَجَ حَتَّى جَاءَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ صَدِيقٌ لَنَا وَقَدْ أَحَبَّ أَنْ تَكْتُبَ لَهُ كِتَابًا لَا يُتَعَدَّى عَلَيْهِ فِي صَدَقَتِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا لَهُ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي مِنْكَ كِتَابٌ عَلَى ذَلِكَ قَالَ فَكَتَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْكِتَابَ آخِرُ حَدِيثِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ہم سے یعقوب نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے ابن اسحاق نے بیان کیا، ہم سے سالم بن ابی امیہ ابو النضر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: بنو تمیم کا ایک شیخ میرے پاس مسجد بصرہ میں بیٹھا تھا، اس کے ہاتھ میں ایک اخبار تھا۔ فرمایا حجاج کے زمانے میں۔ اس نے مجھ سے کہا کہ اے عبداللہ کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ کتاب میرے کام کی نہیں؟ اس نے اس اتھارٹی کے بارے میں کچھ کہا تو میں نے کہا یہ خط کیا ہے؟ اس نے کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک خط ہے جو آپ نے ہمارے لیے لکھا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ ہمارے صدقے میں ہم پر زیادتی کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، خدا کی قسم، میں نہیں سمجھتا کہ اس سے آپ کو کوئی فائدہ ہو گا۔ اور اس کتاب کی کیا حیثیت تھی؟ اس نے کہا میں نے عرض کیا۔ مدینہ میرے والد اور میں، ایک نوجوان لڑکے کے ساتھ، اپنے اونٹوں کے ساتھ جو ہم بیچتے ہیں۔ میرے والد طلحہ بن عبید اللہ تیمی کے دوست تھے، ہم ان کے پاس گئے تو انہوں نے ان سے کہا: ابا جان، میرے ساتھ چلو اور یہ اونٹ مجھے بیچ دو۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام کو غلام بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ لیکن میں آپ کے ساتھ باہر جاؤں گا اور بیٹھ کر آپ کے اونٹ دکھاؤں گا۔ اگر آپ کسی وفادار اور دیانت دار آدمی سے مطمئن ہیں جس نے آپ کے ساتھ سودا کیا ہے تو میں آپ کو حکم دوں گا کہ آپ اسے بیچ دیں۔ تو ہم باہر نکل گئے۔ بازار تک ہم کھڑے ہوئے اور طلحہ قریب ہی بیٹھ گیا۔ ان لوگوں نے ہم سے سودا کیا یہاں تک کہ جب ایک آدمی نے ہمیں وہ چیز دے دی جس سے ہم راضی ہو گئے تو اس نے اس سے کہا کہ ابا جان میں اس سے بیعت کرتا ہوں۔ اس نے کہا ہاں، میں آپ سے اس کی وفاداری سے مطمئن تھا، لہٰذا آپ اس سے بیعت کرلیں، چنانچہ ہم نے اس کی بیعت کی۔ جب ہم نے جو کچھ ہمارا تھا وہ حاصل کر لیا اور اپنی ضرورت پوری کر لی تو میرے والد نے طلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یہ ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے لو۔ خدا کی دعا اور سلامتی ہو، ایک خط کہ ہمارے صدقہ میں ہمارے خلاف زیادتی نہ ہو۔ آپ نے فرمایا یہ تمہارے لیے اور ہر مسلمان کے لیے ہے۔ اس نے کہا، "میں ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خط ہو۔ چنانچہ وہ چلا گیا اور ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، یہ صحرا کا آدمی ہمارا دوست ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ آپ اسے ایسا خط لکھیں جس کی خلاف ورزی نہ ہو۔ میں اس پر ایمان لایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے لیے اور ہر مسلمان کے لیے ہے۔ اس نے کہا یا رسول اللہ میں آپ کی طرف سے ایک خط چاہتا ہوں۔ اس بنا پر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے یہ کتاب لکھی، طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ کی آخری حدیث ہے۔ خدا اس کا بھلا کرے۔