Neighbor کے بارے میں احادیث

۲۳۱ مستند احادیث ملیں

سنن ابو داؤد : ۶۱
Al-Bara' Bin 'azib
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مُسَدَّدٌ، ​حَدَّثَنَا ​أَبُو ‌الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلاَةِ وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا جَذَعَةً وَهِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ فَهَلْ تُجْزِئُ عَنِّي قَالَ ‏"‏ نَعَمْ وَلَنْ تُجْزِئَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"‏ ‏.‏
براء ‌بن ​عازب ​رضی ‌اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں ذی الحجہ کو نماز عید کے بعد ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: جس نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی، اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی، تو اس نے قربانی کی ( یعنی اس کو قربانی کا ثواب ملا ) اور جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی تو وہ گوشت کی بکری ۱؎ ہو گی ، یہ سن کر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پہلے قربانی کر ڈالی اور میں نے یہ سمجھا کہ یہ دن کھانے اور پینے کا دن ہے، تو میں نے جلدی کی، میں نے خود کھایا، اور اپنے اہل و عیال اور ہمسایوں کو بھی کھلایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گوشت کی بکری ہے ۲؎ ، تو انہوں نے کہا: میرے پاس ایک سالہ جوان بکری اور وہ گوشت کی دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا وہ میری طرف سے کفایت کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن تمہارے بعد کسی کے لیے کافی نہ ہو گی ( یعنی یہ حکم تمہارے لیے خاص ہے ) ۔
Al-Bara' Bin 'azib سنن ابو داؤد #۲۸۰۰ Sahih
سنن ابو داؤد : ۶۲
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌أَحْمَدُ ‌بْنُ ‌حَنْبَلٍ، ‌حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ إِنَّمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلاَ شُفْعَةَ ‏.‏
جابر ‌بن ‌عبداللہ ‌رضی ‌اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ ہر اس چیز میں رکھا ہے، جو تقسیم نہ ہوئی ہو، لیکن جب حد بندیاں ہو گئی ہوں، اور راستے الگ الگ نکا ل دئیے گئے ہوں تو اس میں شفعہ نہیں ہے۔
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) سنن ابو داؤد #۳۵۱۴ Sahih
سنن ابو داؤد : ۶۳
ابو رافع رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌عَبْدُ ‌اللَّهِ ​بْنُ ‌مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ، سَمِعَ أَبَا رَافِعٍ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابورافع ‌رضی ‌اللہ ​عنہ ‌نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پڑوسی اپنے سے لگے ہوئے مکان یا زمین کا زیادہ حقدار ہے ۔
ابو رافع رضی اللہ عنہ سنن ابو داؤد #۳۵۱۶ Sahih
سنن ابو داؤد : ۶۴
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مُسَدَّدٌ، ​حَدَّثَنَا ‌حَمَّادٌ، ​عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى قُلْتُ لَيُوَرِّثَنَّهُ ‏"‏ ‏.‏
ام ‌المؤمنین ​عائشہ ‌رضی ​اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل مجھے برابر پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین اور وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں ( دل میں ) کہنے لگا کہ وہ ضرور اسے وارث بنا دیں گے ۔
عائشہ (رضی اللہ عنہا) سنن ابو داؤد #۵۱۵۱ Sahih
سنن ابو داؤد : ۶۵
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Hasan Sahih
حَدَّثَنَا ‌الرَّبِيعُ ​بْنُ ​نَافِعٍ ​أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَشْكُو جَارَهُ فَقَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَاصْبِرْ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَاهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَقَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَاطْرَحْ مَتَاعَكَ فِي الطَّرِيقِ ‏"‏ ‏.‏ فَطَرَحَ مَتَاعَهُ فِي الطَّرِيقِ فَجَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ فَيُخْبِرُهُمْ خَبَرَهُ فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْعَنُونَهُ فَعَلَ اللَّهُ بِهِ وَفَعَلَ وَفَعَلَ فَجَاءَ إِلَيْهِ جَارُهُ فَقَالَ لَهُ ارْجِعْ لاَ تَرَى مِنِّي شَيْئًا تَكْرَهُهُ ‏.‏
ابوہریرہ ‌رضی ​اللہ ​عنہ ​کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اپنے پڑوسی کی شکایت کر رہا تھا، آپ نے فرمایا: جاؤ صبر کرو پھر وہ آپ کے پاس دوسری یا تیسری دفعہ آیا، تو آپ نے فرمایا: جاؤ اپنا سامان نکال کر راستے میں ڈھیر کر دو تو اس نے اپنا سامان نکال کر راستہ میں ڈال دیا، لوگ اس سے وجہ پوچھنے لگے اور وہ پڑوسی کے متعلق لوگوں کو بتانے لگا، لوگ ( سن کر ) اس پر لعنت کرنے اور اسے بد دعا دینے لگے کہ اللہ اس کے ساتھ ایسا کرے، ایسا کرے، اس پر اس کا پڑوسی آیا اور کہنے لگا: اب آپ ( گھر میں ) واپس آ جائے آئندہ مجھ سے کوئی ایسی بات نہ دیکھیں گے جو آپ کو ناپسند ہو۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سنن ابو داؤد #۵۱۵۳ Hasan Sahih
سنن ابو داؤد : ۶۶
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​مُحَمَّدُ ‌بْنُ ‌الْمُتَوَكِّلِ ‌الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِ جَارَهُ - وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ ​رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت ( قیامت ) پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اچھی بات کہے یا چپ رہے ۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سنن ابو داؤد #۵۱۵۴ Sahih
سنن نسائی : ۶۷
سیار بن سلمہ رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا ​مُحَمَّدُ ​بْنُ ‌بَشَّارٍ، ​قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ، قَالَ حَدَّثَنِي سَيَّارُ بْنُ سَلاَمَةَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي بَرْزَةَ فَسَأَلَهُ أَبِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ قَالَ كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَكَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ حِينَ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلاَةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ ‏.‏
سیار ​بن ​سلامہ ‌کہتے ​ہیں کہ میں ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو میرے والد نے ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کیسے ( یعنی کب ) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ظہر جسے تم لوگ پہلی نماز کہتے ہو اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا، اور عصر پڑھتے جب ہم میں سے مدینہ کے آخری کونے پر رہنے والا آدمی اپنے گھر لوٹ کر آتا، تو سورج تیز اور بلند ہوتا، مغرب کے سلسلہ میں جو انہوں نے کہا میں اسے بھول گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کو جسے تم لوگ عتمہ کہتے ہو مؤخر کرنا پسند کرتے تھے، اور اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد گفتگو کرنا ناپسند فرماتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے اس وقت فارغ ہوتے جب آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا، اور آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔
سیار بن سلمہ رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۵۲۵ Sahih
سنن نسائی : ۶۸
سیار بن سلمہ رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌سُوَيْدُ ‌بْنُ ​نَصْرٍ، ‌قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي، عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ فَقَالَ لَهُ أَبِي أَخْبِرْنَا كَيْفَ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ قَالَ كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَكَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ قَالَ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ قَالَ وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ تُؤَخَّرَ صَلاَةُ الْعِشَاءِ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ قَالَ وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلاَةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ ‏.‏
سیار ‌بن ‌سلامہ ​کہتے ‌ہیں کہ میں اور میرے والد دونوں ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو میرے والد نے ان سے پوچھا: ہمیں بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کیسے ( یعنی کب ) پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر جسے تم لوگ پہلی نماز کہتے ہو اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے تھے پھر ہم میں سے ایک آدمی ( نماز پڑھ کر ) مدینہ کے آخری کونے پر واقع اپنے گھر کو لوٹ آتا، اور سورج تیز اور بلند ہوتا، اور انہوں نے مغرب کے بارے میں جو کہا میں ( اسے ) بھول گیا، اور کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء جسے تم لوگ عتمہ کہتے ہوتا خیر سے پڑھنے کو پسند کرتے تھے، اور اس سے قبل سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے اس وقت فارغ ہوتے جب آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا، آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔
سیار بن سلمہ رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۵۳۰ Sahih
سنن نسائی : ۶۹
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​قُتَيْبَةُ، ​قَالَ ‌حَدَّثَنَا ​أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلاَةِ عَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَإِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ فَهَلْ تُجْزِي عَنِّي قَالَ ‏"‏ نَعَمْ وَلَنْ تُجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"‏ ‏.‏
براء ​رضی ​اللہ ‌عنہ ​کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا، پھر فرمایا: جس نے ہماری ( طرح ) نماز پڑھی، اور ہماری طرح قربانی کی تو اس نے قربانی کو پا لیا، اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کر دی، تو وہ گوشت کی بکری ہے ۱؎ تو ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا، میں نے سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے، اس لیے میں نے جلدی کر دی، چنانچہ میں نے ( خود ) کھایا، اور اپنے گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو گوشت کی بکری ہوئی ( اب قربانی کے طور پر دوسری کرو ) تو انہوں نے کہا: میرے پاس ایک سال کا ایک دنبہ ہے، جو گوشت کی دو بکریوں سے ( بھی ) اچھا ہے، تو کیا وہ میری طرف سے کافی ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، مگر تمہارے بعد وہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گا ۔
It Was سنن نسائی #۱۵۸۱ Sahih
سنن نسائی : ۷۰
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​أَبُو ​بَكْرِ ‌بْنُ ‌نَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَارٌ فَارِسِيٌّ طَيِّبُ الْمَرَقَةِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ بِيَدِهِ أَنْ تَعَالَ وَأَوْمَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى عَائِشَةَ أَىْ وَهَذِهِ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ الآخَرُ هَكَذَا بِيَدِهِ أَنْ لاَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ‏.‏
انس ​رضی ​الله ‌عنہ ‌کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فارسی پڑوسی تھا جو اچھا شوربہ بناتا تھا۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عائشہ رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں، اس نے آپ کو اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بلایا، آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے پوچھا: ”کیا انہیں بھی لے کر آؤں“، اس نے ہاتھ سے اشارہ سے منع کیا دو یا تین بار کہ نہیں ۱؎۔
It Was سنن نسائی #۳۴۳۶ Sahih
سنن نسائی : ۷۱
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​مُحَمَّدُ ​بْنُ ‌بَشَّارٍ، ​قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ‏"‏ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ‏"‏ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ ‏"‏ ‏.‏
ہم ​سے ​محمد ‌بن ​بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ واصل کے واسطہ سے، وہ ابووائل سے، وہ عمرو بن شرہبیل سے، انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ اس نے کہا: "خدا کا حریف بنانا جب کہ اس نے تمہیں پیدا کیا۔" میں نے کہا: پھر اس نے کیا کہا؟ ’’تمہارے بیٹے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ شریک ہوجائے گا۔‘‘ میں نے پھر کہا اس نے کیا کہا؟ "اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنا۔"
It Was سنن نسائی #۴۰۱۳ Sahih
سنن نسائی : ۷۲
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا ​عَمْرُو ​بْنُ ​عَلِيٍّ، ‌قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ ‏"‏ ‏.‏
ہم ​سے ​عمرو ​بن ‌علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے واصل نے بیان کیا، انہوں نے ابو وائل سے، انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ اس نے کہا، "خدا کا حریف بنانا جب کہ اس نے تمہیں پیدا کیا۔" میں نے پھر کہا، "کیا؟" اس نے کہا اپنے ہی بچے کو قتل کرنا۔ تاکہ وہ تمہارے ساتھ کھائے۔‘‘ میں نے کہا پھر اس نے کہا پھر تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرتا ہے۔
It Was سنن نسائی #۴۰۱۴ Sahih
سنن نسائی : ۷۳
It Was
Sahih Lighairihi
أَخْبَرَنَا ​عَبْدَةُ، ​قَالَ ​أَنْبَأَنَا ​يَزِيدُ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ قَالَ ‏"‏ الشِّرْكُ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَأَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ الْفَقْرِ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ ‏{‏ وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ ‏}‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ وَحَدِيثُ يَزِيدَ هَذَا خَطَأٌ إِنَّمَا هُوَ وَاصِلٌ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ ‏.‏
ہمیں ​عبدہ ​نے ​خبر ​دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں یزید نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم کو شعبہ نے خبر دی، وہ عاصم کی روایت سے، ابو وائل سے، انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شرک یہ ہے کہ تم کسی کو خدا کے برابر کر دو اور اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو اور اپنے ہی بچے کو خوف سے قتل کرو۔ غربت آپ کے ساتھ کھانا ہے۔ پھر عبداللہ نے تلاوت کی: "اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔" ابو عبدالرحمٰن نے کہا۔ یہ ایک نقص ہے، اور اس سے پہلے والا صحیح قول اور یزید کی حدیث میں غلطی ہے، لیکن یہ ایک تسلسل ہے، اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
It Was سنن نسائی #۴۰۱۵ Sahih Lighairihi
سنن نسائی : ۷۴
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​أَحْمَدُ ​بْنُ ​عَبْدِ ‌اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، - وَكَانَ لَنَا جَارًا وَدَخِيلاً وَرَبِيطًا بِالنَّهْرَيْنِ - أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا قَدْ أَخَذَ لاَ أَدْرِي أَيَّهُمَا أَخَذَ قَالَ ‏ "‏ لاَ تَأْكُلْ فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ ‏"‏ ‏.‏
ہم ​سے ​احمد ​بن ‌عبداللہ بن الحکم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد نے بیان کیا اور وہ ابن جعفر ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے سعید بن مسروق سے، انہوں نے کہا: ہم سے الشعبی نے عدی بن حاتم کے واسطہ سے بیان کیا جو ہمارا پڑوسی اور گھسنے والا تھا اور آپس میں جڑا ہوا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دو دریاؤں پر سلام پھیر دیا۔ میں اپنے کتے کو بھیجتا ہوں، اور مجھے اپنے کتے کے ساتھ ایک کتا ملتا ہے جس نے اسے لے لیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ کس نے لیا ہے۔ اس نے کہا: مت کھاؤ، کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے کا نام رکھا اور میرا نام نہیں رکھا۔ اس کے علاوہ۔
It Was سنن نسائی #۴۲۷۰ Sahih
سنن نسائی : ۷۵
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​هَنَّادُ ‌بْنُ ​السَّرِيِّ، ‌عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبِي، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، ح وَأَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، - فَذَكَرَ أَحَدُهُمَا مَا لَمْ يَذْكُرِ الآخَرُ - قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَضْحَى فَقَالَ ‏"‏ مَنْ وَجَّهَ قِبْلَتَنَا وَصَلَّى صَلاَتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَلاَ يَذْبَحْ حَتَّى يُصَلِّيَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ خَالِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَجَّلْتُ نُسُكِي لأُطْعِمَ أَهْلِي وَأَهْلَ دَارِي أَوْ أَهْلِي وَجِيرَانِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَعِدْ ذِبْحًا آخَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ لَبَنٍ هِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْبَحْهَا فَإِنَّهَا خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ وَلاَ تَقْضِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"‏ ‏.‏
ہم ​کو ‌ہناد ​بن ‌الساری نے خبر دی، انہوں نے ابن ابی زیدہ سے، انہوں نے کہا: ہمیں میرے والد نے فراس کی سند سے، عامر کی سند سے، براء بن عازب کی سند سے، انہوں نے کہا: ہمیں داؤد بن ابی ہند نے الشعبی کی سند سے اور البراء کی سند سے خبر دی - ان میں سے ایک نے وہ بات ذکر کی جس کا دوسرے نے ذکر نہیں کیا - انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن اٹھے۔ عید الاضحی اور آپ نے فرمایا جو شخص ہمارے قبلے کی طرف منہ کر کے ہماری نماز پڑھے اور ہمارے عبادات ادا کرے تو اسے چاہیے کہ جب تک نماز نہ پڑھ لے ذبح نہ کرے۔ پھر میرے چچا اٹھے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! میں نے اپنے گھر والوں اور اپنے گھر والوں یا اپنے اہل و عیال اور پڑوسیوں کا پیٹ پالنے کے لیے قربانی میں جلدی کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک اور ذبح کی تیاری کرو۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دودھ والی اونٹنی ہے جو مجھے گوشت کی بکری سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ذبح کرو، کیونکہ یہ تمہارے گوشت میں سب سے بہتر ہے، اور گوشت کے ایک لوتھڑے کو مت مارو۔ آپ کے بعد کسی کے اختیار پر۔"
It Was سنن نسائی #۴۳۹۴ Sahih
سنن نسائی : ۷۶
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​قُتَيْبَةُ، ‌قَالَ ​حَدَّثَنَا ​أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلاَةِ وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمَ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا جَذَعَةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ فَهَلْ تُجْزِئُ عَنِّي قَالَ ‏"‏ نَعَمْ وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"‏ ‏.‏
ہم ​سے ‌قتیبہ ​نے ​بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابو الاحواس نے بیان کیا، انہوں نے منصور کی سند سے، وہ الشعبی نے، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب فرمایا۔ قربانی کے دن نماز کے بعد پھر فرمایا: جس نے ہماری نماز پڑھی اور ہمارے عبادات ادا کیے اس نے رسومات ادا کیں اور جس نے نماز سے پہلے اپنے عبادات ادا کیں اس نے ادا کیا۔ "گوشت کی بھیڑ۔" پھر ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ، خدا کی قسم، ہم نماز کے لیے نکلنے سے پہلے خاموش تھے اور مجھے معلوم تھا کہ آج کا دن ہے۔ کھانا پینا، چنانچہ میں نے جلدی کی اور اپنے گھر والوں اور پڑوسیوں کو کھایا اور کھلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ گوشت کی بکری ہے۔ اس نے کہا میرے پاس ایک اونٹنی ہے جو دو بھیڑ کے بچوں سے بہتر ہے۔ کیا یہ میرے لیے کافی ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اور یہ تمہارے بعد کسی کے لیے کافی نہیں ہوگا۔
It Was سنن نسائی #۴۳۹۵ Sahih
سنن نسائی : ۷۷
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​يَعْقُوبُ ​بْنُ ‌إِبْرَاهِيمَ، ‌قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ ‏ "‏ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ فَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَدَّقَهُ ‏.‏ قَالَ عِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ ‏.‏ فَرَخَّصَ لَهُ فَلاَ أَدْرِي أَبَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لاَ ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا ‏.‏
ہم ​سے ​یعقوب ‌بن ‌ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن اولیاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا، انہوں نے محمد سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا: جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا، وہ اسے دوبارہ کرے۔ پھر ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ یہ وہ دن ہے جس میں گوشت کی خواہش ہوتی ہے۔ اس نے اپنے پڑوسیوں میں سے ایک بکری کا ذکر کیا، گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ایمان لائے تھے۔ اس نے کہا میرے پاس ایک بکری ہے جو مجھے گوشت کی بکری سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ چنانچہ اس نے اسے اجازت دے دی۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کی اجازت کسی اور کو ملی یا نہیں۔ پھر وہ دو مینڈھوں کے پاس واپس گیا اور انہیں ذبح کیا۔
It Was سنن نسائی #۴۳۹۶ Sahih
سنن نسائی : ۷۸
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​عَلِيُّ ​بْنُ ​حُجْرٍ، ‌قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ ‏"‏ ‏.‏
أَخْبَرَنَا ​عَلِيُّ ​بْنُ ​حُجْرٍ، ‌قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو رَبِيْنِ الشَّيْرِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نازل فرمائے "پڑوسی اپنی سزا کا زیادہ حقدار ہے۔"
It Was سنن نسائی #۴۷۰۲ Sahih
سنن نسائی : ۷۹
عمرو بن الشرید رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا ​إِسْحَاقُ ​بْنُ ​إِبْرَاهِيمَ، ​قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضِي لَيْسَ لأَحَدٍ فِيهَا شَرِكَةٌ وَلاَ قِسْمَةٌ إِلاَّ الْجُوَارَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ ‏"‏ ‏.‏
ہم ​سے ​اسحاق ​بن ​ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے حسین المعلم نے عمرو بن شعیب سے، وہ عمرو بن شرید نے اپنے والد سے بیان کیا کہ ایک شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری سرزمین میں سوائے اس کے کسی کی شراکت داری اور رشتہ داری نہیں ہے۔ تو رسول خدا نے فرمایا: خدا کی دعا اور سلام ہو: "پڑوسی اس کو اجر دینے کا زیادہ حقدار ہے۔"
عمرو بن الشرید رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۴۷۰۳ Sahih
سنن نسائی : ۸۰
It Was
Sahih Lighairihi
أَخْبَرَنَا ‌مُحَمَّدُ ‌بْنُ ‌عَبْدِ ​الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنٍ، - وَهُوَ ابْنُ وَاقِدٍ - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالشُّفْعَةِ وَالْجِوَارِ ‏.‏
ہمیں ‌محمد ‌بن ‌عبدالعزیز ​بن ابی رزمہ نے خبر دی، کہا: ہم سے الفضل بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے حسین کی سند سے جو کہ ابن واقد ہیں، انہوں نے ابی الزبیر سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ اول کی حکومت کی تھی۔
It Was سنن نسائی #۴۷۰۵ Sahih Lighairihi