Neighbor کے بارے میں احادیث

۲۳۱ مستند احادیث ملیں

سنن ابن ماجہ : ۱۲۱
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا ‌أَبُو ‌بَكْرِ ​بْنُ ‌أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضٌ لَيْسَ فِيهَا لأَحَدٍ قِسْمٌ وَلاَ شِرْكٌ إِلاَّ الْجِوَارُ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ ‏"‏ ‏.‏
شرید ‌بن ‌سوید ​رضی ‌اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک زمین ہے جس میں کسی کا حصہ نہیں اور نہ کوئی شرکت ہے، سوائے پڑوسی کے ( تو اس کے بارے میں فرمائیے؟! ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنی نزدیکی زمین کا زیادہ حقدار ہے
It Was سنن ابن ماجہ #۲۴۹۶ Sahih
سنن ابن ماجہ : ۱۲۲
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا ​مُحَمَّدُ ​بْنُ ‌يَحْيَى، ‌حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَتْ قُرَيْشٌ نَحْنُ قَوَاطِنُ الْبَيْتِ لاَ نُجَاوِزُ الْحَرَمَ ‏.‏ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ }‏ ‏.‏
ام ​المؤمنین ​عائشہ ‌رضی ‌اللہ عنہا کہتی ہیں: قریش کہتے تھے کہ ہم بیت اللہ کے رہنے والے ہیں، حرم کے باہر نہیں جاتے ۱؎، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ: «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» پھر تم بھی وہیں سے لوٹو جہاں سے اور لوگ لوٹتے ہیں ( یعنی عرفات سے ) اتاری۔
It Was سنن ابن ماجہ #۳۰۱۸ Sahih
سنن ابن ماجہ : ۱۲۳
It Was
Sahih Isnaad
حَدَّثَنَا ​إِسْحَاقُ ​بْنُ ​مَنْصُورٍ، ‌أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ بَيَانٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ، قَالَ حَمَلَنِي أَهْلِي عَلَى الْجَفَاءِ بَعْدَمَا عَلِمْتُ مِنَ السُّنَّةِ كَانَ أَهْلُ الْبَيْتِ يُضَحُّونَ بِالشَّاةِ وَالشَّاتَيْنِ وَالآنَ يُبَخِّلُنَا جِيرَانُنَا ‏.‏
ابوسریحہ ​کہتے ​ہیں ​کہ ‌سنت کا طریقہ معلوم ہو جانے کے بعد بھی ہمارے اہل نے ہمیں زیادتی پر مجبور کیا، حال یہ تھا کہ ایک گھر والے ایک یا دو بکریوں کی قربانی کرتے تھے، اور اب ( اگر ہم ایسا کرتے ہیں ) تو ہمارے ہمسائے ہمیں بخیل کہتے ہیں ۱؎۔
It Was سنن ابن ماجہ #۳۱۴۸ Sahih Isnaad
سنن ابن ماجہ : ۱۲۴
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا ‌أَبُو ​بَكْرِ ‌بْنُ ‌أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ غَيْرُ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، - ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِدَارٍ مِنْ دُورِ الأَنْصَارِ فَوَجَدَ رِيحَ قُتَارٍ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذَا الَّذِي ذَبَحَ ‏"‏ ‏.‏ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَّا فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ لأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي ‏.‏ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ ‏.‏ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ مَا عِنْدِي إِلاَّ جَذَعٌ أَوْ حَمَلٌ مِنَ الضَّأْنِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْبَحْهَا وَلَنْ تُجْزِئَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"‏ ‏.‏
ابوزید ‌انصاری ​رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر انصار کے گھروں میں سے ایک گھر سے ہوا، تو آپ نے وہاں گوشت بھوننے کی خوشبو پائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس شخص نے ذبح کیا ہے ؟ ہم میں سے ایک شخص آپ کی طرف نکلا، اور آ کر اس نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! میں نے نماز عید سے پہلے ذبح کر لیا، تاکہ گھر والوں اور پڑوسیوں کو کھلا سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ قربانی کا حکم دیا، اس شخص نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میرے پاس ایک جذعہ یا بھیڑ کے بچہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کو ذبح کر لو اور تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ کافی نہیں ہو گا ۔
It Was سنن ابن ماجہ #۳۱۵۴ Sahih
سنن ابن ماجہ : ۱۲۵
ابو ذر غفاری (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مُحَمَّدُ ​بْنُ ‌بَشَّارٍ، ‌حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ إِذَا عَمِلْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا وَاغْتَرِفْ لِجِيرَانِكَ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏
ابوذر ‌رضی ​اللہ ‌عنہ ‌کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سالن پکاؤ تو اس میں شوربا بڑھا لو، اور اس میں سے ایک ایک چمچہ پڑوسیوں کو بھجوا دو ۔
ابو ذر غفاری (رضی اللہ عنہ) سنن ابن ماجہ #۳۳۶۲ Sahih
سنن ابن ماجہ : ۱۲۶
ابو موسی اشعری (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​مُحَمَّدُ ‌بْنُ ‌بَشَّارٍ، ​حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَسِيدُ بْنُ الْمُتَشَمِّسِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ إِنَّ بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ لَهَرْجًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْهَرْجُ قَالَ ‏"‏ الْقَتْلُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَقْتُلُ الآنَ فِي الْعَامِ الْوَاحِدِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ لَيْسَ بِقَتْلِ الْمُشْرِكِينَ وَلَكِنْ يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا حَتَّى يَقْتُلَ الرَّجُلُ جَارَهُ وَابْنَ عَمِّهِ وَذَا قَرَابَتِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَعَنَا عُقُولُنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ لاَ تُنْزَعُ عُقُولُ أَكْثَرِ ذَلِكَ الزَّمَانِ وَيَخْلُفُ لَهُ هَبَاءٌ مِنَ النَّاسِ لاَ عُقُولَ لَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ الأَشْعَرِيُّ وَايْمُ اللَّهِ إِنِّي لأَظُنُّهَا مُدْرِكَتِي وَإِيَّاكُمْ وَايْمُ اللَّهِ مَا لِي وَلَكُمْ مِنْهَا مَخْرَجٌ إِنْ أَدْرَكَتْنَا فِيمَا عَهِدَ إِلَيْنَا نَبِيُّنَا ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلاَّ أَنْ نَخْرُجَ كَمَا دَخَلْنَا فِيهَا ‏.‏
ابوموسیٰ ​اشعری ‌رضی ‌اللہ ​عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان کیا: قیامت سے پہلے «ہرج» ہو گا ، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول!«ہرج» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل ، کچھ مسلمانوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم تو اب بھی سال میں اتنے اتنے مشرکوں کو قتل کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کا قتل مراد نہیں بلکہ تم آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو گے، حتیٰ کہ آدمی اپنے پڑوسی، اپنے چچا زاد بھائی اور قرابت داروں کو بھی قتل کرے گا ، تو کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس وقت ہم لوگ عقل و ہوش میں ہوں گے کہ نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس زمانہ کے اکثر لوگوں کی عقلیں سلب کر لی جائیں گی، اور ان کی جگہ ایسے کم تر لوگ لے لیں گے جن کے پاس عقلیں نہیں ہوں گی ۔ پھر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہ زمانہ مجھے اور تم کو پا لے، اللہ کی قسم! اگر ایسا زمانہ مجھ پر اور تم پر آ گیا تو ہمارے اور تمہارے لیے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو گا، جیسا کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وصیت کی ہے، سوائے اس کے کہ ہم اس سے ویسے ہی نکلیں جیسے داخل ہوئے
ابو موسی اشعری (رضی اللہ عنہ) سنن ابن ماجہ #۳۹۵۹ Sahih
سنن ابن ماجہ : ۱۲۷
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ
Hasan Sahih
حَدَّثَنَا ‌أَبُو ‌بَكْرِ ​بْنُ ​أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الشَّهْرُ مَا يُرَى فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ الدُّخَانُ ‏.‏ قُلْتُ فَمَا كَانَ طَعَامُهُمْ قَالَتِ الأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنَ الأَنْصَارِ جِيرَانُ صِدْقٍ وَكَانَتْ لَهُمْ رَبَائِبُ فَكَانُوا يَبْعَثُونَ إِلَيْهِ أَلْبَانَهَا ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَكَانُوا تِسْعَةَ أَبْيَاتٍ ‏.‏
ام ‌المؤمنین ‌عائشہ ​رضی ​اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کبھی کبھی آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر پورا مہینہ ایسا گزر جاتا تھا کہ ان کے گھروں میں سے کسی گھر میں دھواں نہ دیکھا جاتا تھا، ابوسلمہ نے پوچھا: پھر وہ کیا کھاتے تھے؟ کہا: دو کالی چیزیں یعنی کھجور اور پانی، البتہ ہمارے کچھ انصاری پڑوسی تھے، جو صحیح معنوں میں پڑوسی تھے، ان کی کچھ پالتو بکریاں تھیں، وہ آپ کو ان کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نو گھر تھے۔
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سنن ابن ماجہ #۴۱۴۵ Hasan Sahih
سنن ابن ماجہ : ۱۲۸
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​عَلِيُّ ‌بْنُ ​مُحَمَّدٍ، ​حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كُنْ وَرِعًا تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ وَكُنْ قَنِعًا تَكُنْ أَشْكَرَ النَّاسِ وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا وَأَحَسِنْ جِوَارَ مَنْ جَاوَرَكَ تَكُنْ مُسْلِمًا وَأَقِلَّ الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ ​رضی ‌اللہ ​عنہ ​کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! ورع و تقویٰ والے بن جاؤ، لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار ہو جاؤ گے، قانع بن جاؤ، لوگوں میں سب سے زیادہ شکر کرنے والے ہو جاؤ گے، اور لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، مومن ہو جاؤ گے، پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرو، مسلمان ہو جاؤ گے، اور کم ہنسا کرو، کیونکہ زیادہ ہنسی دل کو مردہ کر دیتی ہے ۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سنن ابن ماجہ #۴۲۱۷ Sahih
سنن ابن ماجہ : ۱۲۹
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا ‌أَبُو ‌بَكْرِ ‌بْنُ ‌أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ كُلْثُومٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ أَنِّي قَدْ أَحْسَنْتُ وَإِذَا أَسَأْتُ أَنِّي قَدْ أَسَأْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا قَالَ جِيرَانُكَ إِنَّكَ قَدْ أَحْسَنْتَ فَقَدْ أَحْسَنْتَ وَإِذَا قَالُوا إِنَّكَ قَدْ أَسَأْتَ فَقَدْ أَسَأْتَ ‏"‏ ‏.‏
کلثوم ‌خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں اچھا کام کروں تو مجھے کیسے پتا چلے گا کہ میں نے اچھا کام کیا، اور جب برا کروں تو کیسے سمجھوں کہ میں نے برا کام کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جب تمہارے پڑوسی کہیں کہ تم نے اچھا کام کیا ہے تو سمجھ لو کہ تم نے اچھا کیا ہے، اور جب وہ کہیں کہ تم نے برا کام کیا ہے تو سمجھ لو کہ تم نے برا کیا ہے ۔
It Was سنن ابن ماجہ #۴۲۲۲ Sahih
سنن ابن ماجہ : ۱۳۰
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مُحَمَّدُ ‌بْنُ ‌يَحْيَى، ​حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏:‏ كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ وَإِذَا أَسَأْتُ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏:‏ ‏ "‏ إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ قَدْ أَحْسَنْتَ فَقَدْ أَحْسَنْتَ وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ ‏:‏ قَدْ أَسَأْتَ فَقَدْ أَسَأْتَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ ‌بن ‌مسعود ‌رضی ​اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: جب میں کوئی اچھا کام کروں تو کیسے سمجھوں کہ میں نے اچھا کام کیا ہے؟ اور جب برا کام کروں تو کیسے جانوں کہ میں نے برا کام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے پڑوسیوں کو کہتے ہوئے سنو کہ تم نے اچھا کام کیا ہے، تو سمجھ لو کہ تم نے اچھا کام کیا ہے، اور جب تمہارے پڑوسی کہیں کہ تم نے برا کام کیا ہے، تو سمجھ لو کہ تم نے برا کام کیا ہے ۔
It Was سنن ابن ماجہ #۴۲۲۳ Sahih
الادب المفرد : ۱۳۱
حسین بن
Sahih
حَدَّثَنَا ​الْحُسَيْنُ ​بْنُ ‌حُرَيْثٍ، ‌قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْجَارِ، فَقَالَ‏:‏ أَرْبَعِينَ دَارًا أَمَامَهُ، وَأَرْبَعِينَ خَلْفَهُ، وَأَرْبَعِينَ عَنْ يَمِينِهِ، وَأَرْبَعِينَ عَنْ يَسَارِهِ‏.‏
ہم ​سے ​حسین ‌بن ‌حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے الفضل بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے ولید بن دینار سے، انہوں نے حسن رضی اللہ عنہ سے کہ ان سے پڑوسی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس کے آگے چالیس گھر، اس کے پیچھے چالیس، دائیں طرف چالیس اور بائیں طرف چالیس گھر۔
حسین بن الادب المفرد #۱۰۹ Sahih
اللولو والمرجان : ۱۳۲
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
فقال ​النبي ‌(صلى ​الله ​عليه وآله وسلم): ما زال جبريل (عليه السلام) يعاتبني في جيراني. اعتقدت أنه سيجعل الجار وريثًا. (البخاري ج 78 باب 28 حديث رقم 6014 ومسلم 45 باب 42 هـ 2624)
رسول ​اللہ ‌صلی ​اللہ ​علیہ وسلم اور ان کے اہل خانہ نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام میرے پڑوسیوں میں مجھ پر الزام لگاتے رہتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ پڑوسی کو وارث بنا دے گا۔ (البخاری، حصہ 78، باب 28، حدیث نمبر 6014 اور مسلم 45، باب 42 ہجری 2624)
عائشہ (رضی اللہ عنہا) اللولو والمرجان #۱۶۸۵ Sahih
الادب المفرد : ۱۳۳
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​الْحُمَيْدِيُّ، ‌قَالَ‏:‏ ‌حَدَّثَنَا ​أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ‏:‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏:‏ يَا أَبَا ذَرٍّ، إِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَ الْمَرَقَةِ، وَتَعَاهَدْ جِيرَانَكَ، أَوِ اقْسِمْ فِي جِيرَانِكَ‏.‏
ہم ​سے ‌الحمیدی ‌نے ​بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو عبد الصمد العمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو عمران نے عبداللہ بن صامت کی سند سے، انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر جب تم شوربہ پکاؤ تو اس میں زیادہ پانی ڈالو یا اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ملاؤ، آپ کے پڑوسی...
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) الادب المفرد #۱۱۴ Sahih
الادب المفرد : ۱۳۴
عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌عَبْدُ ‌اللهِ ​بْنُ ‌يَزِيدَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ‏:‏ خَيْرُ الأَصْحَابِ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ، وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ‏.‏
ہم ‌سے ‌عبداللہ ​بن ‌یزید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حیوا نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شرحبیل بن شریک نے بیان کیا، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن حبلی سے سنا، وہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ صاحب علم وہ ہے جو سب سے زیادہ قادر ہو۔ اپنے دوست کے لیے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک پڑوسیوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے بہترین ہے۔
عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ الادب المفرد #۱۱۵ Sahih
الادب المفرد : ۱۳۵
Ubayy Bin Kab
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مُحَمَّدُ ‌بْنُ ​كَثِيرٍ، ​قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي خَمِيلٌ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ‏:‏ مِنْ سَعَادَةِ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ‏:‏ الْمَسْكَنُ الْوَاسِعُ، وَالْجَارُ الصَّالِحُ، وَالْمَرْكَبُ الْهَنِيءُ‏.‏
ہم ‌سے ‌محمد ​بن ​کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے حبیب بن ابی ثابت کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے خلیل نے نافع بن عبد الحارث سے روایت کی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کا ہمسایہ اور گھر کی خوشنودی، گھر کی خوشنودی اور سکون کا حصہ ہے۔ کشتی
Ubayy Bin Kab الادب المفرد #۱۱۶ Sahih
الادب المفرد : ۱۳۶
سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مَخْلَدُ ​بْنُ ​مَالِكٍ، ‌قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم‏:‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَقْتُلَ الرَّجُلُ جَارَهُ وَأَخَاهُ وَأَبَاهُ‏.‏
ہم ‌سے ​مخلد ​بن ‌مالک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مغیرہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے برید بن عبداللہ نے ابو بردہ سے، انہوں نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کوئی آدمی اپنے بھائی اور پڑوسی کو قتل نہ کرے۔
سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ الادب المفرد #۱۱۸ Sahih
الادب المفرد : ۱۳۷
Ibn Abbas Made This Supplication When He
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مُسَدَّدٌ، ​قَالَ‏:‏ ​حَدَّثَنَا ​عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ‏:‏ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ فُلاَنَةً تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ، وَتَفْعَلُ، وَتَصَّدَّقُ، وَتُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا‏؟‏ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم‏:‏ لاَ خَيْرَ فِيهَا، هِيَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، قَالُوا‏:‏ وَفُلاَنَةٌ تُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ، وَتَصَّدَّقُ بِأَثْوَارٍ، وَلاَ تُؤْذِي أَحَدًا‏؟‏ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم‏:‏ هِيَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ‏.‏
ہم ‌سے ​مسدد ​نے ​بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبد الواحد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے امش نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے جعدہ بن ہبیرہ کے مؤکل ابو یحییٰ نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ، فلاں رات بھر جاگتا ہے اور دن میں روزہ رکھتا ہے۔ اور وہ ایسا کرتی ہے اور صدقہ کرتی ہے اور اپنے پڑوسیوں کو زبان سے تکلیف دیتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی خیر نہیں۔ وہ جہنمیوں میں سے ہے۔ انہوں نے کہا: اور فلاں نماز پڑھتا ہے۔ مشروع ہے، اور صدقہ کریں، اور کسی کو نقصان نہ پہنچائیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اہل جنت میں سے ہے۔
Ibn Abbas Made This Supplication When He الادب المفرد #۱۱۹ Sahih
الادب المفرد : ۱۳۸
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​عَلِيُّ ​بْنُ ​عَبْدِ ​اللهِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ قَالَ رَجُلٌ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لِي جَارًا يُؤْذِينِي، فَقَالَ‏:‏ انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَتَاعَكَ إِلَى الطَّرِيقِ، فَانْطَلَقَ فَأَخْرِجَ مَتَاعَهُ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَقَالُوا‏:‏ مَا شَأْنُكَ‏؟‏ قَالَ‏:‏ لِي جَارٌ يُؤْذِينِي، فَذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَقَالَ‏:‏ انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَتَاعَكَ إِلَى الطَّرِيقِ، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ‏:‏ اللَّهُمَّ الْعَنْهُ، اللَّهُمَّ أَخْزِهِ‏.‏ فَبَلَغَهُ، فَأَتَاهُ فَقَالَ‏:‏ ارْجِعْ إِلَى مَنْزِلِكَ، فَوَاللَّهِ لاَ أُؤْذِيكَ‏.‏
ہم ​سے ​علی ​بن ​عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے صفوان بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن عجلان نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے میرے والد نے بیان کیا، وہ میرے والد ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ، میرا ایک پڑوسی ہے جو مجھے تکلیف دے رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، اپنا سامان سڑک پر لے جاؤ، چنانچہ وہ چلا گیا۔ چنانچہ اس نے اپنا سامان نکالا اور لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے اور کہا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: میرا ایک پڑوسی ہے جو مجھے تکلیف دے رہا ہے، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ۔ تو اپنا سامان باہر سڑک پر لے جا، اور وہ کہنے لگے: اے خدا اس پر لعنت بھیج، اے خدا اسے رسوا کر۔ پس وہ اس کے پاس پہنچا اور اس کے پاس آیا اور کہنے لگا: اپنے گھر واپس چلو، خدا کی قسم میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) الادب المفرد #۱۲۴ Sahih
الادب المفرد : ۱۳۹
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌عِصَامُ ​بْنُ ‌خَالِدٍ، ​قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ، يَعْنِي أَبَا عَامِرٍ الْحِمْصِيَّ، قَالَ‏:‏ كَانَ ثَوْبَانُ يَقُولُ‏:‏ مَا مِنْ رَجُلَيْنِ يَتَصَارَمَانِ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ، فَيَهْلِكُ أَحَدُهُمَا، فَمَاتَا وَهُمَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الْمُصَارَمَةِ، إِلاَّ هَلَكَا جَمِيعًا، وَمَا مِنْ جَارٍ يَظْلِمُ جَارَهُ وَيَقْهَرُهُ، حَتَّى يَحْمِلَهُ ذَلِكَ عَلَى أَنْ يَخْرُجَ مِنْ مَنْزِلِهِ، إِلاَّ هَلَكَ‏.‏
ہم ‌سے ​عصام ‌بن ​خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ارتضیٰ بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے سنا، یعنی ابو عامر حمصی، انہوں نے کہا: ثوبان تھے، وہ کہتے ہیں: اگر دو آدمی تین دن سے زیادہ لڑیں اور ان میں سے ایک ہلاک ہو جائے اور وہ اسی حالت میں ہو تو وہ دونوں ہلاک ہو جائیں۔ یہ سب، اور کوئی پڑوسی ایسا نہیں ہے جو اپنے پڑوسی پر ظلم و ستم کرے، یہاں تک کہ یہ اسے اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور کرے، لیکن وہ ہلاک ہو جائے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ الادب المفرد #۱۲۷ Sahih
اللولو والمرجان : ۱۴۰
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
وقال ​رسول ‌الله ​صلى ‌الله عليه وسلم: "لا يمنع جار جاره أن يدفن سارية في جداره". فقال أبو هريرة رضي الله عنه: الذي حدث، أرى أنك تهاون بهذا الحديث. والله أنا دائما
رسول ​اللہ ‌صلی ​اللہ ‌علیہ وسلم نے فرمایا: "پڑوسی اپنے پڑوسی کو دیوار میں کھمبے لگانے سے نہیں روکتا۔" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا ہوا، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اس حدیث کی نفی کر رہے ہو۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ہمیشہ ہوں۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) اللولو والمرجان #۱۰۳۸ Sahih