Patience کے بارے میں احادیث

۱۱۶ مستند احادیث ملیں

صحیح بخاری : ۲۱
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مُوسَى ​بْنُ ​إِسْمَاعِيلَ، ‌سَمِعَ سَلاَّمَ بْنَ مِسْكِينٍ، قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا، يَقُولُ حَدَّثَنَا أَنَسٌ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ‏.‏ وَلاَ لِمَ صَنَعْتَ وَلاَ أَلاَّ صَنَعْتَ‏.‏
ہم ‌سے ​موسیٰ ​بن ‌اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے سلام بن مسکین سے سنا، کہا کہ میں نے ثابت سے سنا، کہا کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی لیکن آپ نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ کبھی یہ کہا کہ فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا۔
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۶۰۳۸ Sahih
صحیح بخاری : ۲۲
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌عَبْدُ ​اللَّهِ ‌بْنُ ‌يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ يَقُولُ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي ‏"‏‏.‏
ہم ‌سے ​عبداللہ ‌بن ‌یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبدالرحمٰن بن ازہر کے غلام ابوعبید نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بندہ کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک کہ وہ جلدی نہ کرے کہ کہنے لگے کہ میں نے دعا کی تھی اور میری دعا قبول نہیں ہوئی۔“
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۶۳۴۰ Sahih
صحیح بخاری : ۲۳
ابو سعید رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌أَبُو ​الْيَمَانِ، ​أَخْبَرَنَا ‌شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُنَاسًا مِنَ الأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَسْأَلْهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلاَّ أَعْطَاهُ حَتَّى نَفِدَ مَا عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُمْ حِينَ نَفِدَ كُلُّ شَىْءٍ أَنْفَقَ بِيَدَيْهِ ‏ "‏ مَا يَكُنْ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ لاَ أَدَّخِرْهُ عَنْكُمْ، وَإِنَّهُ مَنْ يَسْتَعِفَّ يُعِفُّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَلَنْ تُعْطَوْا عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ ‏"‏‏.‏
ہم ‌سے ​ابوالیمان ​نے ‌بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عطاء بن یزید لیثی نے خبر دی اور انہیں ابوسعید رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ چند انصاری صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا اور جس نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیا، یہاں تک کہ جو مال آپ کے پاس تھا وہ ختم ہو گیا۔ جب سب کچھ ختم ہو گیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بھی اچھی چیز میرے پاس ہو گی میں اسے تم سے بچا کے نہیں رکھتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ جو تم میں ( سوال سے ) بچتا رہے گا اللہ بھی اسے غیب سے دے گا اور جو شخص دل پر زور ڈال کر صبر کرے گا اللہ بھی اسے صبر دے گا اور جو بےپرواہ رہنا اختیار کرے گا اللہ بھی اسے بےپرواہ کر دے گا اور اللہ کی کوئی نعمت صبر سے بڑھ کر تم کو نہیں ملی۔
ابو سعید رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۶۴۷۰ Sahih
صحیح بخاری : ۲۴
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنِي ​إِسْحَاقُ ‌بْنُ ​إِبْرَاهِيمَ ​الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الطَّاعُونِ فَقَالَ ‏ "‏ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، فَجَعَلَهُ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، مَا مِنْ عَبْدٍ يَكُونُ فِي بَلَدٍ يَكُونُ فِيهِ، وَيَمْكُثُ فِيهِ، لاَ يَخْرُجُ مِنَ الْبَلَدِ، صَابِرًا مُحْتَسِبًا، يَعْلَمُ أَنَّهُ لاَ يُصِيبُهُ إِلاَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، إِلاَّ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ ‏"‏‏.‏
مجھ ​سے ‌اسحاق ​بن ​ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو نضر نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے داؤد بن ابی الفرات نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ عذاب تھا اور اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اسے بھیجتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے مومنوں کے لیے رحمت بنا دیا، کوئی بھی بندہ اگر کسی ایسے شہر میں ہے جس میں طاعون کی وبا پھوٹی ہوئی ہے اور اس میں ٹھہرا ہے اور اس شہر سے بھاگا نہیں صبر کئے ہوئے ہے اور اس پر اجر کا امیدوار ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اس تک صرف وہی چیز پہنچ سکتی ہے جو اللہ نے اس کی تقدیر میں لکھ دی ہے تو اسے شہید کے برابر ثواب ملے گا۔
عائشہ (رضی اللہ عنہا) صحیح بخاری #۶۶۱۹ Sahih
صحیح بخاری : ۲۵
ثابت البنانی رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌إِسْحَاقُ، ‌أَخْبَرَنَا ​عَبْدُ ‌الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، يَقُولُ لاِمْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ تَعْرِفِينَ فُلاَنَةَ قَالَتْ نَعَمْ‏.‏ قَالَ فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِهَا وَهْىَ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ ‏"‏ اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي ‏"‏‏.‏ فَقَالَتْ إِلَيْكَ عَنِّي، فَإِنَّكَ خِلْوٌ مِنْ مُصِيبَتِي‏.‏ قَالَ فَجَاوَزَهَا وَمَضَى فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ فَقَالَ مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَتْ مَا عَرَفْتُهُ قَالَ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَجَاءَتْ إِلَى بَابِهِ فَلَمْ تَجِدْ عَلَيْهِ بَوَّابًا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُكَ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ ‏"‏‏.‏
ہم ‌سے ‌اسحاق ​نے ‌بیان کیا، کہا ہم کو عبدالصمد نے خبر دی، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے ثابت البنانی نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ وہ اپنے گھر کی ایک عورت سے کہہ رہے تھے فلانی کو پہچانتی ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے اور وہ ایک قبر کے پاس رو رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ اس عورت نے جواب دیا۔ آپ میرے پاس سے چلے جاؤ، میری مصیبت آپ پر نہیں پڑی ہے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے ہٹ گئے اور چلے گئے۔ پھر ایک صاحب ادھر سے گزرے اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا تھا؟ اس عورت نے کہا کہ میں نے انہیں پہچانا نہیں۔ ان صاحب نے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ پھر وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ انہوں نے آپ کے یہاں کوئی دربان نہیں پایا پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں ( تھا ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبر تو صدمہ کے شروع میں ہی ہوتا ہے۔
ثابت البنانی رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۷۱۵۴ Sahih
صحیح بخاری : ۲۶
الحسن رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​أَبُو ​النُّعْمَانِ، ​حَدَّثَنَا ​جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَالٌ فَأَعْطَى قَوْمًا وَمَنَعَ آخَرِينَ فَبَلَغَهُ أَنَّهُمْ عَتَبُوا فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي أُعْطِي الرَّجُلَ وَأَدَعُ الرَّجُلَ، وَالَّذِي أَدَعُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنَ الَّذِي أُعْطِي، أُعْطِي أَقْوَامًا لِمَا فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ، وَأَكِلُ أَقْوَامًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْغِنَى وَالْخَيْرِ مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ عَمْرٌو مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُمْرَ النَّعَمِ‏.‏
ہم ​سے ​ابوالنعمان ​نے ​بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال آیا اور آپ نے اس میں سے کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ کو نہیں دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ اس پر کچھ لوگ ناراض ہوئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک شخص کو دیتا ہوں اور دوسرے کو نہیں دیتا اور جسے نہیں دیتا وہ مجھے اس سے زیادہ عزیز ہوتا ہے جسے دیتا ہوں۔ میں کچھ لوگوں کو اس لیے دیتا ہوں کہ ان کے دلوں میں گھبراہٹ اور بے چینی ہے اور دوسرے لوگوں پر اعتماد کرتا ہوں کہ اللہ نے ان کے دلوں کو بے نیازی اور بھلائی عطا فرمائی ہے۔ انہیں میں سے عمرو بن تغلب بھی ہیں۔ عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کلمہ کے مقابلہ میں مجھے لال لال اونٹ ملتے تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔
الحسن رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۷۵۳۵ Sahih
صحیح مسلم : ۲۷
It His Been
Sahih
وَحَدَّثَنِي ​ابْنُ ​أَبِي ‌خَلَفٍ، ‌حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
خلف ​بن ​ہشام ‌اور ‌ابوکامل نے کہا : ہمیں حماد بن زیدنے انس بن سیرن سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی : صبح کی نماز سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ، کیا میں ان میں طویل قراءت کرسکتا ہوں؟انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور ایک رکعت سے اس کو وتر بناتے ، میں نے کہا : میں آپ سے اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا ۔ انھوں نے کہا : تم ایک بوجھل آدمی ہو ( اپنی سوچ کو ترجیح دیتے ہو ) کیا مجھے موقع نہ دو گے کہ میں تمہارے لئے بات کو مکمل کروں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور ایک وتر پڑھتے اور صبح ( کی نماز ) سے پہلے ( مختصر سی ) دو رکعتیں پڑھتے ، گویا کہ اذان ( اقامت ) آ پ کے کانوں میں ( سنائی دے رہی ) ہے ۔ خلف نے اپنی حدیث میں "" صبح سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟کہا اور انھوں نے "" صلاۃ "" کا لفظ بیان نہیں کیا ۔
It His Been صحیح مسلم #۱۷۶۱ Sahih
صحیح مسلم : ۲۸
It Has Been
Sahih
حَدَّثَنَا ‌أَبُو ​بَكْرِ ​بْنُ ​أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَى - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - عَنْ زَكَرِيَّاءَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ - قَبِيلٍ مِنَ الأَنْصَارِ - فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّكَ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ‏.‏ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ عَمِلَ هَذَا يَسِيرًا وَأُجِرَ كَثِيرًا ‏"‏ ‏.‏
یونس ‌نے ​ابن ​شہاب ​سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ مسود بن مخرمہ اور عبدالرحمان بن عبدالقاری نے بتایا کہ ان دونوں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہشام بن حکیم کو سورہ فرقان پڑھتے سنا ۔ ۔ ۔ آگے اسی کے مانند حدیث سنائی اور یہ اضافہ کیا کہ قریب تھا کہ میں اس پر نماز پر ہی پل پڑوں ، میں نے بڑی مشکل سے صبر کیا یہاں تک کہ اس نے سلام پھیرا ۔
It Has Been صحیح مسلم #۱۹۰۰ Sahih
صحیح مسلم : ۲۹
Sahih
حَدَّثَنَا ​سُرَيْجُ ‌بْنُ ‌يُونُسَ، ​حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا فَتَحَ حُنَيْنًا قَسَمَ الْغَنَائِمَ فَأَعْطَى الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ فَبَلَغَهُ أَنَّ الأَنْصَارَ يُحِبُّونَ أَنْ يُصِيبُوا مَا أَصَابَ النَّاسُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَطَبَهُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلاَّلاً فَهَدَاكُمُ اللَّهُ بِي وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ بِي وَمُتَفَرِّقِينَ فَجَمَعَكُمُ اللَّهُ بِي ‏"‏ ‏.‏ وَيَقُولُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ تُجِيبُونِي ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ شِئْتُمْ أَنْ تَقُولُوا كَذَا وَكَذَا وَكَانَ مِنَ الأَمْرِ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ لأَشْيَاءَ عَدَّدَهَا ‏.‏ زَعَمَ عَمْرٌو أَنْ لاَ يَحْفَظُهَا فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَالإِبِلِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى رِحَالِكُمُ الأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ وَلَوْلاَ الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ وَشِعْبَهُمْ إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ ‏"‏ ‏.‏
عمرو ​بن ‌یحییٰ ‌بن ​عمارہ نے عباد بن تمیم سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین فتح کیا ، غنائم تقسیم کیے تو جن کی تالیف قلب مقصودتھی ان کو ( بہت زیادہ ) عطافرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی کہ انصار بھی اتنا لیناچاہتے ہیں جتنا دوسرے لوگوں کو ملا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان کو خطاب فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " ا ے گروہ انصار!کیا میں نے تم کو گمراہ نہیں پایا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمھیں ہدایت نصیب فرمائی!اور تمھیں محتاج وضرورت مند نہ پایا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے زریعے سےتمھیں غنی کردیا!کیا تمھیں منتشر نہ پایا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمھیں متحد کردیا! " ان سب نے کہا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی بڑھ کر احسان فرمانے والے ہیں ۔ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم مجھے جواب نہیں دو گے؟ " انھوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ احسان کرنے والے ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم بھی ، اگرچاہو توکہہ سکتے ہو ایساتھا ایساتھا اور معاملہ ایسے ہوا ، ایسےہوا " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں گنوائیں ، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارےپاس اس حالت میں آئے کہ آپ کو جھٹلایا گیا تھا ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلاچھوڑ دیاگیاتھا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیاگیاتھا ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھکانہ مہیاکیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ذمہ داریوں کابوجھ تھا ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مواسات کی ) عمرو ( بن یحییٰ ) کا خیال ہے وہ انھیں یاد نہیں رکھ سکے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " کیا تم اس پر راضی نہیں ہوتے کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ا پنے ساتھ لے کر گھروں کو جاؤ؟انصار قریب تر ہیں اور لوگ ان کے بعد ہیں ( شعار وہ کپڑے جو سب سے پہلے جسم پر پہنے جاتے ہیں ، دثار وہ کپڑے جو بعد میں اوڑھے جاتے ہیں ) اور اگر ہجرت ( کا فرق ) نہ ہوتا تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور ان کی گھاٹی میں چلوں گا ، بلاشبہ تم میرے بعد ( خود پر دوسروں کو ) ترجیح ملتی پاؤگے تو صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھے حوض پر آملو ۔
صحیح مسلم #۲۴۴۶ Sahih
صحیح مسلم : ۳۰
Sahih
حَدَّثَنَا ​زُهَيْرُ ‌بْنُ ​حَرْبٍ، ‌وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاسًا فِي الْقِسْمَةِ فَأَعْطَى الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِكَ وَأَعْطَى أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ وَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ فَقَالَ رَجُلٌ وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا عُدِلَ فِيهَا وَمَا أُرِيدَ فِيهَا وَجْهُ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ - قَالَ - فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ حَتَّى كَانَ كَالصِّرْفِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ فَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ يَعْدِلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لاَ جَرَمَ لاَ أَرْفَعُ إِلَيْهِ بَعْدَهَا حَدِيثًا ‏.‏
منصور ​نے ‌ابو ​وائل ‌( شقیق ) سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب حنین کی جنگ ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ( مال غنیمت کی ) تقسیم میں ترجیح دی ۔ آپ نے اقرع بن حابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ دیے ، عینیہ کو بھی اتنے ہی ( اونٹ ) دیے اور عرب کے دوسرے اشراف کو بھی عطا کیا اور اس دن ( مال غنیمت کی ) تقسیم میں نہ عدل کیا گیا اور نہ اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھاگیا ہے ۔ کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : اللہ کی قسم!میں ( اس بات سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور آگاہ کروں گا ، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کی اطلاع دی جو اس نے کہی تھی ۔ ( غصے سے ) آپ کا چہرہ مبارک متغیر ہوا یہاں تک کہ وہ سرخ رنگ کی طرح ہوگیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے تو پھر کون عدل کرے گا! "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے!انھیں اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی تو انھوں نے صبر کیا ۔ "" ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نےدل میں سوچا آئندہ کبھی ( اس قسم کی ) کوئی بات آپ کے سامنے پیش نہیں کروں گا ۔
صحیح مسلم #۲۴۴۷ Sahih
صحیح مسلم : ۳۱
Sahih
حَدَّثَنَا ​أَبُو ‌بَكْرِ ​بْنُ ​أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَسْمًا فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ - قَالَ - فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَارَرْتُهُ فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ غَضَبًا شَدِيدًا وَاحْمَرَّ وَجْهُهُ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَذْكُرْهُ لَهُ - قَالَ - ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ قَدْ أُوذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ‏"‏ ‏.‏
اعمش ​نے ‌( ​ابو ​وائل ) شقیق سے اور ا نھوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ( مال ) تقسیم کیا توع ایک آدمی نے کہا : اس تقسیم میں اللہ کی رضا کو پیش نظر نہیں رکھا گیا ۔ کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور چپکے چپکے سے آپ کو بتادیا ، اس سے آپ انتہائی غصے میں آگئے ، آپ کاچہرہ سرخ ہوگیا حتیٰ کہ میں نے خواہش کی ، کاش!یہ بات میں آپ کو نہ بتاتا ، کہا : پھر آپ نے فرمایا : " موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی تو انھوں نے صبر کیا ۔
صحیح مسلم #۲۴۴۸ Sahih
صحیح مسلم : ۳۲
Sahih
وَحَدَّثَنِي ​مُحَمَّدُ ‌بْنُ ‌رَافِعٍ، ​حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى، بْنُ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ كِتَابِ، رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ حِينَ سَارَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ يُخْبِرُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ يَنْتَظِرُ حَتَّى إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فِيهِمْ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّيُوفِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ ‏"‏ ‏.‏
ابونضر ​سے ‌روایت ‌ہے ​، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی ، جنہیں عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا ، کے خط سے روایت کی ، انہوں نے عمر بن عبیداللہ کو ، جب انہوں نے ( جہاد کی غرض سے ) حروریہ کی طرف کوچ کیا ، یہ بتانے کے لیے خط لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعض ایام ( جنگ ) میں ، جن میں آپ کا دشمن سے مقابلہ ہوتا ، انتظار کرتے ، یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جاتا ، آپ ان ( ساتھیوں ) کے درمیان کھڑے ہوتے اور فرماتے : " لوگو! دشمن سے مقابلے کی تمنا مت کرو اور اللہ سے عافیت مانگو ، ( لیکن ) جب تم ان کا سامنا کرو تو صبر کرو اور جان رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے ۔ " پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا : " اے اللہ! کتاب کو اتارنے والے ، بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے! انہیں شکست دے اور ہمیں ان پر نصرت عطا فرما
صحیح مسلم #۴۵۴۲ Sahih
صحیح مسلم : ۳۳
Sahih
حَدَّثَنَا ‌حَسَنُ ‌بْنُ ‌الرَّبِيعِ، ​حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي، رَجَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، يَرْوِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ‏"‏ ‏.‏
ابن ‌عباس ‌رضی ‌اﷲ ​عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے حاکم سے بری بات دیکھے وہ صبر کرے اس لیے کہ جو جماعت سے بالشت بھر جدا ہوجاوے اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔
صحیح مسلم #۴۷۹۰ Sahih
صحیح مسلم : ۳۴
Sahih
حَدَّثَنَا ​عَمْرُو ​بْنُ ​مُحَمَّدٍ ‌النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الْبِكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَيْسَ هُوَ مُوسَى صَاحِبَ الْخَضِرِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏.‏ فَقَالَ كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ سَمِعْتُ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ قَامَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَسُئِلَ أَىُّ النَّاسِ أَعْلَمُ فَقَالَ أَنَا أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ قَالَ مُوسَى أَىْ رَبِّ كَيْفَ لِي بِهِ فَقِيلَ لَهُ احْمِلْ حُوتًا فِي مِكْتَلٍ فَحَيْثُ تَفْقِدُ الْحُوتَ فَهُوَ ثَمَّ ‏.‏ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقَ مَعَهُ فَتَاهُ وَهُوَ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ فَحَمَلَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ حُوتًا فِي مِكْتَلٍ وَانْطَلَقَ هُوَ وَفَتَاهُ يَمْشِيَانِ حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ فَرَقَدَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَفَتَاهُ فَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمِكْتَلِ فَسَقَطَ فِي الْبَحْرِ - قَالَ - وَأَمْسَكَ اللَّهُ عَنْهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ حَتَّى كَانَ مِثْلَ الطَّاقِ فَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا وَكَانَ لِمُوسَى وَفَتَاهُ عَجَبًا فَانْطَلَقَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا وَلَيْلَتِهِمَا وَنَسِيَ صَاحِبُ مُوسَى أَنْ يُخْبِرَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا - قَالَ - وَلَمْ يَنْصَبْ حَتَّى جَاوَزَ الْمَكَانَ الَّذِي أُمِرَ بِهِ ‏.‏ قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلاَّ الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا ‏.‏ قَالَ مُوسَى ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا ‏.‏ قَالَ يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ فَرَأَى رَجُلاً مُسَجًّى عَلَيْهِ بِثَوْبٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ مُوسَى ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الْخَضِرُ أَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلاَمُ قَالَ أَنَا مُوسَى ‏.‏ قَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ إِنَّكَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَكَهُ اللَّهُ لاَ أَعْلَمُهُ وَأَنَا عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ لاَ تَعْلَمُهُ ‏.‏ قَالَ لَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلاَ أَعْصِي لَكَ أَمْرًا ‏.‏ قَالَ لَهُ الْخَضِرُ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلاَ تَسْأَلْنِي عَنْ شَىْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَانْطَلَقَ الْخَضِرُ وَمُوسَى يَمْشِيَانِ عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ فَمَرَّتْ بِهِمَا سَفِينَةٌ فَكَلَّمَاهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهُمَا فَعَرَفُوا الْخَضِرَ فَحَمَلُوهُمَا بِغَيْرِ نَوْلٍ فَعَمَدَ الْخَضِرُ إِلَى لَوْحٍ مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ فَنَزَعَهُ فَقَالَ لَهُ مُوسَى قَوْمٌ حَمَلُونَا بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا ‏.‏ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ لاَ تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلاَ تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا ثُمَّ خَرَجَا مِنَ السَّفِينَةِ فَبَيْنَمَا هُمَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ إِذَا غُلاَمٌ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَأَخَذَ الْخَضِرُ بِرَأْسِهِ فَاقْتَلَعَهُ بِيَدِهِ فَقَتَلَهُ ‏.‏ فَقَالَ مُوسَى أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَاكِيَةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا ‏.‏ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ وَهَذِهِ أَشَدُّ مِنَ الأُولَى ‏.‏ قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَىْءٍ بَعْدَهَا فَلاَ تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا ‏.‏ فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ ‏.‏ يَقُولُ مَائِلٌ ‏.‏ قَالَ الْخَضِرُ بِيَدِهِ هَكَذَا فَأَقَامَهُ ‏.‏ قَالَ لَهُ مُوسَى قَوْمٌ أَتَيْنَاهُمْ فَلَمْ يُضَيِّفُونَا وَلَمْ يُطْعِمُونَا لَوْ شِئْتَ لَتَخِذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا ‏.‏ قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى لَوَدِدْتُ أَنَّهُ كَانَ صَبَرَ حَتَّى يُقَصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَخْبَارِهِمَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَانَتِ الأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَجَاءَ عُصْفُورٌ حَتَّى وَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ ثُمَّ نَقَرَ فِي الْبَحْرِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الْخَضِرُ مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعِلْمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِلاَّ مِثْلَ مَا نَقَصَ هَذَا الْعُصْفُورُ مِنَ الْبَحْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَكَانَ يَقْرَأُ وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا ‏.‏ وَكَانَ يَقْرَأُ وَأَمَّا الْغُلاَمُ فَكَانَ كَافِرًا ‏.‏
عمرو ​بن ​محمد ​ناقد ‌، اسحاق بن ابراہیم حنظلی ، عبیداللہ بن سعید اور محمد بن ابی عمر مکی ، ان سب نے ہمیں ابن عیینہ سے حدیث بیان کی ۔ الفاظ ابن ابی عمر کے ہیں ۔ سفیان بن عیینہ نے کہا : ہمیں عمرو بن دینار نے سعید بن جبیر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کہتا ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے ، وہ اور ہیں اور جو موسیٰ خضر علیہ السلام کے پاس گئے تھے وہ اور ہیں انہوں نے کہا کہ اللہ کا دشمن جھوٹ بولتا ہے ۔ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم بنی اسرائیل پر خطبہ پڑھنے کو کھڑے ہوئے ، ان سے پوچھا گیا کہ سب لوگوں میں زیادہ علم کس کو ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھ کو ہے ( یہ بات اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہوئی ) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر اس وجہ سے ناراضگی کا اظہار کیا کہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وحی بھیجی کہ دو دریاؤں کے ملاپ پر میرا ایک بندہ ہے ، وہ تجھ سے زیادہ عالم ہے سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے پروردگار! میں اس سے کیسے ملوں؟ حکم ہوا کہ ایک مچھلی زنبیل ( ٹوکرے ) میں رکھ ، جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے ، وہیں وہ بندہ ملے گا ۔ یہ سن کر سیدنا موسیٰ علیہ السلام اپنے ساتھی یوشع بن نون علیہ السلام کو ساتھ لے کر چلے اور انہوں نے ایک مچھلی زنبیل میں رکھ لی ۔ دونوں چلتے چلتے صخرہ ( ایک مقام ہے ) کے پاس پہنچے تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی سو گئے ۔ مچھلی تڑپی یہاں تک کہ زنبیل سے نکل کر دریا میں جا پڑی اور اللہ تعالیٰ نے پانی کا بہنا اس پر سے روک دیا ، یہاں تک کہ پانی کھڑا ہو کر طاق کی طرح ہو گیا اور مچھلی کے لئے خشک راستہ بن گیا ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی کے لئے تعجب ہوا پھر دونوں چلے دن بھر اور رات بھر اور موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی مچھلی کا حال ان سے کہنا بھول گئے جب صبح ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے کہا کہ ہمارا ناشتہ لاؤ ، ہم تو اس سفر سے تھک گئے ہیں اور تھکاوٹ اسی وقت ہوئی جب اس جگہ سے آگے بڑھے جہاں جانے کا حکم ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ جب ہم ( مقام ) صخرہ پر اترے تو میں مچھلی بھول گیا اور شیطان نے مجھے بھلایا اور تعجب ہے کہ اس مچھلی نے دریا میں جانے کی راہ لی ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ ہم تو اسی مقام کو ڈھونڈھتے تھے ، پھر دونوں اپنے پاؤں کے نشانوں پر لوٹے یہاں تک کہ صخرہ پر پہنچے ۔ وہاں ایک شخص کو کپڑا اوڑھے ہوئے دیکھا تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے کہا کہ تمہارے ملک میں سلام کہاں سے ہے؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں موسیٰ ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ سیدنا موسیٰ نے کہا کہ ہاں ۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے وہ علم دیا ہے جو میں نہیں جانتا ۔ اور مجھے وہ علم دیا ہے جو تم نہیں جانتے سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں اس لئے کہ مجھے وہ علم سکھلاؤ جو تمہیں دیا گیا ہے ۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے اور تم سے اس بات پر کیسے صبر ہو سکے گا جس کو تم نہیں جانتے ہو ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اگر اللہ نے چاہا تو تم مجھے صابر پاؤ گے اور میں کسی بات میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں گا ۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا کہ اچھا اگر میرے ساتھ ہوتے ہو تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر نہ کروں ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ بہت اچھا ۔ پس خضر علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام دونوں سمندر کے کنارے چلے جاتے تھے کہ ایک کشتی سامنے سے نکلی ، دونوں نے کشتی والوں سے کہا کہ ہمیں بٹھا لو ، انہوں نے سیدنا خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور دونوں کو بغیر کرایہ چڑھا لیا ۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ ڈالا ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ ان لوگوں نے تو ہمیں بغیر کرایہ کے چڑھایا اور تم نے ان کی کشتی کو توڑ ڈالا تاکہ کشتی والوں کو ڈبو دو ، یہ تم نے بڑا بھاری کام کیا ۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا کہ کیا میں نہیں کہتا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ بھول چوک پر مت پکڑو اور مجھ پر تنگی مت کرو ۔ پھر دونوں کشتی سے باہر نکلے اور سمندر کے کنارے چلے جاتے تھے کہ ایک لڑکا ملا جو اور لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، سیدنا خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑ کر اکھیڑ لیا اور مار ڈالا ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ تم نے ایک بےگناہ کو ناحق مار ڈالا ، یہ تو بہت برا کام کیا ۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا کہ کیا میں نہ کہتا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے؟ اور یہ کام پہلے کام سے بھی زیادہ سخت تھا ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اب میں تم سے کسی بات پر اعتراض کروں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا بیشک تمہارا اعتراض بجا ہو گا ۔ پھر دونوں چلے یہاں تک کہ ایک گاؤں میں پہنچے ، گاؤں والوں سے کھانا مانگا تو انہوں نے انکار کیا ، پھر ایک دیوار ملی جو گرنے کے قریب تھی اور جھک گئی تھی ، سیدنا خضر علیہ السلام نے اس کو اپنے ہاتھ سے سیدھا کر دیا ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ ان گاؤں والوں سے ہم نے کھانا مانگا اور انہوں نے انکار کیا اور کھانا نہ کھلایا ( ایسے لوگوں کا کام مفت کرنا کیا ضروری تھا؟ ) اگر تم چاہتے تو اس کی مزدوری لے سکتے تھے ۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا کہ بس ، اب میرے اور تمہارے درمیان جدائی ہے ، اب میں تم سے ان باتوں کا مطلب کہے دیتا ہوں جن پر تم سے صبر نہ ہو سکا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے ، مجھے آرزو ہے کہ کاش وہ صبر کرتے اور ہمیں ان کی اور باتیں معلوم ہوتیں ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلی بات سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے بھولے سے کی ۔ پھر ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے پر بیٹھی اور اس نے سمندر میں چونچ ڈالی ، سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا کہ میں نے اور تم نے اللہ تعالیٰ کے علم میں سے اتنا ہی علم سیکھا ہے جتنا اس چڑیا نے سمندر میں سے پانی کم کیا ہے ۔ سیدنا سعید بن جبیر نے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس طرح پڑھتے تھے کہ ”ان کشتی والوں کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر ثابت کشتی کو ناحق جبر سے چھین لیتا تھا“ اور پڑھتے تھے کہ ”وہ لڑکا کافر تھا“ ۔
صحیح مسلم #۶۱۶۳ Sahih
صحیح مسلم : ۳۵
Sahih
حَدَّثَنَا ‌أُبَىُّ ‌بْنُ ‌كَعْبٍ، ‌قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّهُ بَيْنَمَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فِي قَوْمِهِ يُذَكِّرُهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ وَأَيَّامُ اللَّهِ نَعْمَاؤُهُ وَبَلاَؤُهُ إِذْ قَالَ مَا أَعْلَمُ فِي الأَرْضِ رَجُلاً خَيْرًا أَوْ أَعْلَمَ مِنِّي ‏.‏ قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ إِنِّي أَعْلَمُ بِالْخَيْرِ مِنْهُ أَوْ عِنْدَ مَنْ هُوَ إِنَّ فِي الأَرْضِ رَجُلاً هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ ‏.‏ قَالَ يَا رَبِّ فَدُلَّنِي عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ فَقِيلَ لَهُ تَزَوَّدْ حُوتًا مَالِحًا فَإِنَّهُ حَيْثُ تَفْقِدُ الْحُوتَ ‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقَ هُوَ وَفَتَاهُ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَعُمِّيَ عَلَيْهِ فَانْطَلَقَ وَتَرَكَ فَتَاهُ فَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمَاءِ فَجَعَلَ لاَ يَلْتَئِمُ عَلَيْهِ صَارَ مِثْلَ الْكُوَّةِ قَالَ فَقَالَ فَتَاهُ أَلاَ أَلْحَقُ نَبِيَّ اللَّهِ فَأُخْبِرَهُ قَالَ فَنُسِّيَ ‏.‏ فَلَمَّا تَجَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا ‏.‏ قَالَ وَلَمْ يُصِبْهُمْ نَصَبٌ حَتَّى تَجَاوَزَا ‏.‏ قَالَ فَتَذَكَّرَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلاَّ الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا ‏.‏ قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي ‏.‏ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا فَأَرَاهُ مَكَانَ الْحُوتِ قَالَ هَا هُنَا وُصِفَ لِي ‏.‏ قَالَ فَذَهَبَ يَلْتَمِسُ فَإِذَا هُوَ بِالْخَضِرِ مُسَجًّى ثَوْبًا مُسْتَلْقِيًا عَلَى الْقَفَا أَوْ قَالَ عَلَى حَلاَوَةِ الْقَفَا قَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ ‏.‏ فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ قَالَ وَعَلَيْكُمُ السَّلاَمُ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا مُوسَى ‏.‏ قَالَ وَمَنْ مُوسَى قَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ‏.‏ قَالَ مَجِيءٌ مَا جَاءَ بِكَ قَالَ جِئْتُ لِتُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا ‏.‏ قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا ‏.‏ شَىْءٌ أُمِرْتُ بِهِ أَنْ أَفْعَلَهُ إِذَا رَأَيْتَهُ لَمْ تَصْبِرْ ‏.‏ قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلاَ أَعْصِي لَكَ أَمْرًا ‏.‏ قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلاَ تَسْأَلْنِي عَنْ شَىْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا ‏.‏ فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَقَهَا ‏.‏ قَالَ انْتَحَى عَلَيْهَا ‏.‏ قَالَ لَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا ‏.‏ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ لاَ تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلاَ تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا ‏.‏ فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا لَقِيَا غِلْمَانًا يَلْعَبُونَ ‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقَ إِلَى أَحَدِهِمْ بَادِيَ الرَّأْىِ فَقَتَلَهُ فَذُعِرَ عِنْدَهَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ ذَعْرَةً مُنْكَرَةً ‏.‏ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَاكِيَةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ هَذَا الْمَكَانِ ‏"‏ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى لَوْلاَ أَنَّهُ عَجَّلَ لَرَأَى الْعَجَبَ وَلَكِنَّهُ أَخَذَتْهُ مِنْ صَاحِبِهِ ذَمَامَةٌ ‏.‏ قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَىْءٍ بَعْدَهَا فَلاَ تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا ‏.‏ وَلَوْ صَبَرَ لَرَأَى الْعَجَبَ - قَالَ وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ أَحَدًا مِنَ الأَنْبِيَاءِ بَدَأَ بِنَفْسِهِ ‏"‏ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وََلَى أَخِي كَذَا رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا - ‏"‏ فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ لِئَامًا فَطَافَا فِي الْمَجَالِسِ فَاسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ ‏.‏ قَالَ لَوْ شِئْتَ لاَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا ‏.‏ قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ وَأَخَذَ بِثَوْبِهِ ‏.‏ قَالَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏ فَإِذَا جَاءَ الَّذِي يُسَخِّرُهَا وَجَدَهَا مُنْخَرِقَةً فَتَجَاوَزَهَا فَأَصْلَحُوهَا بِخَشَبَةٍ وَأَمَّا الْغُلاَمُ فَطُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا وَكَانَ أَبَوَاهُ قَدْ عَطَفَا عَلَيْهِ فَلَوْ أَنَّهُ أَدْرَكَ أَرْهَقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا فَأَرَدْنَا أَنْ يُبَدِّلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا ‏.‏ وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلاَمَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ ‏"‏ ‏.‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏
حضرت ‌ابی ‌ابن ‌کعب ‌رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " ایک دن موسیٰ علیہ السلام اپنے لوگوں میں بیٹھے انھیں اللہ کے دن یاد دلارہے تھے ( اور ) اللہ کے دنوں سے مراد اللہ کی نعمتیں اوراس کی آزمائشیں ہیں ، اس وقت انھوں نے ( ایک سوال کے جواب میں ) کہا : میرے علم میں اس وقت روئے زمین پر مجھ سے بہتر اور مجھ سے زیادہ علم رکھنے والا اور کوئی نہیں ، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ میں اس شخص کو جانتاہوں جوان ( موسیٰ علیہ السلام ) سے بہتر ہےیا ( فرمایا : ) جس کے پاس ان سے بڑھ کر ہے زمین پر ایک آدمی ہے جو آپ سے بڑھ کر عالم ہے ۔ ( موسیٰ علیہ السلام نے ) کہا : میرے پروردگار مجھے اس کا پتہ بتائیں ، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : ان سے کہا گیا : ایک نمکین مچھلی کا زاد راہ لے لیں ، وہ آدمی وہیں ہوگا جہاں آپ سے وہ مچھلی گم ہوجائے گی ۔ فرمایا : موسیٰ علیہ السلام اور ان کا نوجوان ساتھی چل پڑے ، یہاں تک کہ وہ ایک چٹان کے پاس پہنچے تو ان ( حضرت موسیٰ علیہ السلام ) پر ایک طرح کی بے خبری طاری ہو گئی اور وہ اپنے جوان کو چھوڑ کر آگے چلے گئے ۔ مچھلی ( زندہ ہو کر ) تڑپی اور پانی میں چلی گئی ۔ پانی اس کے اوپر اکٹھا نہیں ہو رہا تھا ، ایک طاقچے کی طرح ہو گیا تھا ۔ اس نو جوان نے ( اس مچھلی کو پانی میں جاتا ہوا دیکھ لیا اور ) کہا : کیا میں اللہ کے نبی ( موسیٰ علیہ السلام ) کے پاس پہنچ کر انھیں اس بات کی خبر نہ دوں!فرمایا : پھر اسے بھی یہ بات بھلا دی گئی ۔ جب وہ آگے نکل گئے تو انھوں نے اپنے جوان سے کہا : ہمارا دن کا کھانا لے آؤ ، اس سفر میں ہمیں بہت تھکاوٹ ہوگئی فرمایا : ان کو اس وقت تک تھکاوٹ محسوس نہ ہوئی تھی ۔ یہاں تک کہ وہ ( اس جگہ سے ) آگے نکل گئے تھے ۔ فرمایا : تو اس ( جوان ) کو یادآگیا اور اس نے کہا : آپ نے دیکھا کہ جب ہم چٹان کے پاس بیٹھے تھے تو میں مچھلی بھول گیا اور مجھے شیطان ہی نے یہ بات بھلائی کہ میں اس کا ذکر کروں اور عجیب بات یہ ہے کہ اس ( مچھلی ) نے ( زندہ ہوکر ) پانی میں اپنا ر استہ پکڑ لیا ۔ انھوں نے فرمایا ہمیں اسی کی تلاش تھی پھر وہ دونوں واپس اپنے قدموں کےنشانات پر چل پڑے ۔ اس نے انھیں مچھلی کی جگہ دیکھائی ۔ انھوں نے کہا مجھے اسی جگہ کے بارے میں بتایا گیا تھا وہ تلاش میں چل پڑے تو انھیں حضرت خضر علیہ السلام اپنے اردگرد کپڑا لپیٹے نظرآگئے گدی کے بل ( سیدھے ) لیٹے ہوئے تھے یا کہا : گدی کے درمیانے حصے کےبل لیٹے ہوئے تھے ۔ انھوں نے کہا : السلام علیکم! ( خضر علیہ السلام نے ) کہا : وعلیکم السلام! پوچھا : آپ کون ہیں؟کہا : میں موسیٰ علیہ السلام ہوں ، پوچھا ، کون موسیٰ؟کہا : بنی اسرائیل کے موسیٰ ، پوچھا : کیسے آنا ہوا ہے؟ کہا : میں اس لئے آیا ہوں کہ صحیح ر استے کا جو علم آپ کو دیاگیا ہے وہ آپ مجھے بھی سکھا دیں ۔ ( خضر علیہ السلام نے ) کہا : میری معیت میں آپ صبر نہ کرپائیں گے ۔ ( موسیٰ علیہ السلام نے ) کہا : ان شاء اللہ ، آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں کسی بات میں آپ کی خلاف ورزی نہیں کروں گا ۔ انھوں نے کہا : اگر آپ میرے پیچھے چلتے ہیں تو مجھ سے اس وقت تک کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کریں جب تک میں خود اس کا ذکر شروع نہ کروں ، پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ دونوں ایک کشتی میں سوار ہوئے تو انھوں ( خضر علیہ السلام ) نے اس میں لمبا سا سوراخ کردیا ۔ کہا : انھوں نے کشتی پر اپنا پہلو کازور ڈالا ( جس سے اس میں درز آگئی ) موسیٰ علیہ السلام نے انھیں کہا : آپ نے اس لئے اس میں درز ڈالی کہ انھیں غرق کردیں ۔ آپ نے عجیب کام کیا ۔ ( خضر علیہ السلام نے ) کہا : میں نے آپ سے کہا نہ تھا کہ آپ میرے ساتھ کسی صورت صبر نہ کرسکیں گے ۔ ( موسیٰ علیہ السلام نے ) کہا : میرے بھول جانے پر میرا مواخذہ نہ کریں اور میرے معاملے میں مجھ سے سخت برتاؤ نہ کریں ۔ دونوں ( پھر ) چل پڑے یہاں تک کہ وہ کچھ لڑکوں کے پاس پہنچے ، ، وہ کھیل رہے تھے ۔ وہ ( خضر علیہ السلام ) تیزی سے ایک لڑکے کی طرف بڑھے اور اسے قتل کردیا ۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام سخت گھبراہٹ کا شکار ہوگئے ۔ انھوں نے کہا : کیا آپ نے ایک معصوم جان کو کسی جان کے بدلے کے بغیر مار دیا؟ " اس مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم پر اور موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کی رحمت ہو! اگر وہ جلدبازی نہ کرتے تو ( اور بھی ) عجیب کام دیکھتے ، لیکن انھیں اپنے ساتھی سے شرمندگی محسوس ہو ئی ، کہا : اگر میں اس کے بعد آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں ، آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے اور ( فرما یا : ) اگر موسیٰ علیہ السلام صبر کرتے تو ( اوربھی ) عجائبات کا مشاہدہ کرتے ۔ " ( ابھی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب انبیاء علیہ السلام میں سے کسی کا ذکر کرتے تو اپنی ذات سے شروع ( فرما تے ) : " ہم پر اللہ کی رحمت ہو اور ہمارے فلاں بھا ئی پر ہم اللہ کی رحمت ہو! ۔ ۔ ۔ پھر وہ دونوں ( آگے ) چل پڑے یہاں تک کہ ایک بستی کے بخیل لو گوں کے پاس آئے ۔ کئی مجا لس میں پھر ےاور ان لوگوں سے کھا نا طلب کیا لیکن انھوں نے ان کی مہمانداری سے صاف انکار کردیا ، پھر انھوں نے اس ( بستی ) میں ایک دیوار دیکھی جو گرنے ہی والی تھی کہ انھوں ( خضر علیہ السلام ) نے اسے سیدھا کھڑا کردیا ۔ ( موسیٰ علیہ السلام نے ) کہا : اگرآپ چاہتے تو اس پر اُجرت ( بھی ) لے سکتے تھے ۔ انھوں نےکہا : یہ میرے اور آپ کے درمیان مفارقت ( کا وقت ) ہے ۔ اور انھوں ( موسیٰ علیہ السلام ) نے ان کا کپڑا تھام لیا ( تاکہ وہ جدا نہ ہوجائیں اور کہا کہ مجھے ان کی حقیقت بتادو ) کہا : میں ابھی آپ کوان ( کاموں ) کی حقیقت بتاتاہوں جن پر آپ صبر نہیں کرسکے ۔ جو کشتی تھی وہ ایسے مسکین لوگوں کی تھی جو سمندر میں ( ملاحی کا ) کام کرتے ہیں ۔ " آیت کے آخر تک " جب اس پر قبضہ کرنے والا آئے گا تو اسے سوراخ والی پائے گا اور آگے بڑھ جائے گا اور یہ لوگ ایک لکڑی ( کے تختے ) سے اس کو ٹھیک کرلیں گے اور جو لڑکا تھا تو جس دن اس کی سرشت ( فطرت ) بنائی گئی وہ کفر پر بنائی گئی ۔ اس کے والدین کو اس کے ساتھ شدید لگاؤ ہے ۔ اگروہ اپنی بلوغت تک پہنچ جاتا تو اپنی سرکشی اور کفر سے انہیں عاجز کردیتا ۔ ہم نے چاہا کہ اللہ ان دنوں کو اس کے بدلے میں پاکبازی میں بڑھ کر صلہ رحمی کے اعتبارسے بہتر بدل عطا فرمادے اور رہی دیوار تو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی ( اور اس کے نیچے ان دونوں کاخزانہ دفن تھا ۔ ) " آیت کے آخرتک ۔
صحیح مسلم #۶۱۶۵ Sahih
صحیح مسلم : ۳۶
Sahih
حبان ‌ب. ​حدثنا ​موسى. ​(قال): عبد الله ب. أخبرنا مبارك. (قال): يونس ب. أخبرنا يزيد العيلي. إسحاق ب. إبراهيم الحنظلي، محمد ب. رافع، وعبد بن. وروى حميد أيضاً. (استخدم ابن رافع "حدسناً" وقال الآخرون: أخبرنا عبد الرزاق. قال): أخبرنا معمر. السياق حديث معمر من رواية عبد وابن رافع. وقال يونس ومعمر عن الزهري. (قال الزهري): سعيد بن. المسيب، عروة ب. الزبير، علقمة ب. وقاص، وعبيد الله ب. عبد الله ب. عتبة ب. روى مسعود عن عائشة رضي الله عنها، زوجة النبي صلى الله عليه وسلم، أنه لما قال لها المفترون ما قالوه، وبرأها الله من تهمهم، جاءني جميع الرواة بجزء من حديثها. وكان بعضهم أحفظ حديثها من بعض، فكانت روايته أصح. فحفظت الحديث الذي روته لي عن كل واحد منهم. وتؤيد الأحاديث بعضها بعضًا. وبحسب ما قالته عائشة رضي الله عنها، زوجة النبي صلى الله عليه وسلم، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أراد أن يخرج في غزوة، كان يقرع بين نسائه، فمن وقعت عليها القرعة خرج معها رسول الله صلى الله عليه وسلم. وقالت: لقد قرعت بيننا في غزوة كانت ستخوضها، فوقعت عليّ القرعة، فخرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم. وكان ذلك بعد نزول آية الحجاب. كنتُ راكبةً على الجمل داخل هودجي، ونزلتُ منه عند وصولنا. ولما انتهى رسول الله صلى الله عليه وسلم من حملته وعاد، وكنا نقترب من المدينة، أعلن عن مسيرة ليلية. فلما أعلن المسيرة، نهضتُ على الفور وسرتُ، حتى أنني سبقتُ الجيش. ولما قضيتُ حاجتي، ذهبتُ إلى أغراضي. لمستُ صدري فرأيتُ أن قلادتي المصنوعة من حبات الزعفران قد انقطعت. فالتفتُّ على الفور وبحثتُ عنها. وقد منعني البحث عنها من المضيّ. أما المجموعة التي حمّلت سرجي فقد حمّلت هودجي وانصرفت. وحمّلته على الجمل الذي كنتُ راكبةً عليه. ظنّوا أنني بداخله أيضًا. قال: في ذلك الوقت، كانت النساء ذوات بشرة فاتحة. لم يكنّ قد سمنّ، ولم تكن أجسادهنّ مغطاة باللحم. كنّ يأكلن القليل من الطعام. حمّل الجمع الهودج على الجمل ورفعوها دون أن يسألوا عن وزنها. كنتُ فتاةً صغيرةً رقيقة. طار الجمل بعيدًا. وجدتُ قلادتي بعد رحيل الجيش. ثم وصلتُ إلى المكان الذي كانوا فيه، فلم أجد أحدًا يناديني أو يجيبني. عدتُ إلى مكاني، ظنًا مني أن الجماعة ستبحث عني وتعود. وبينما كنتُ جالسة، شعرتُ بالنعاس وغفوت. استراح صفوان بن معطل السلام لاحقًا خلف جيش زكوان. وفي نهاية الليل، انطلق في الطريق، وقضى الليلة حيث كنتُ، فرأى خيال شخص نائم. فأتى إليّ على الفور وعرفني؛ بل إنه رآني قبل أن يُفرض عليّ ارتداء الحجاب. ولما عرفني، استيقظتُ على استرجائه. وغطيتُ وجهي على الفور بحجابي. والله، لم ينطق بكلمة. لم أسمع منه شيئًا سوى استرجائه. ثم أنزل جمله، وداس على رجله الأمامية، فركبتُ الجمل. وقادني على جملي وانطلقنا. وأخيرًا، لحقنا بالجيش بعد أن خيّموا حين اشتدّ حرّ الظهيرة. حينها، كان ما قُدّر لي قد تمّ. تولّى عبد الله بن أبيّ بن سلول معظم هذه المهمة. بعد ذلك، وصلنا إلى المدينة المنورة. ولما وصلنا، كنت مريضًا لمدة شهر. كان الناس ينشرون كلام المُفترين. لم أشعر بشيء من ذلك. لكن خلال مرضي، أثار شكوكي عدم رؤيتي نفس اللطف من رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي رأيته من قبل حين كنت مريضًا. كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدخل، يُسلّم، ثم يقول: [يقول شيئًا]. وهذا أيضًا أثار شكوكي. لكنني لم أشعر بأي ضغينة. أخيرًا، بعد أن شفيت، خرجت. وذهبت معي أم مسته إلى مناسي. كان هذا المكان مرحاضنا. كنا نخرج فقط في الليل. حدث هذا قبل أن نبني المراحيض قرب بيوتنا. كانت عادتنا في المراحيض عادة العرب الأوائل، وكنا نجد صعوبة في بنائها بجوار بيوتنا. مشينا أنا وأم مسته، وهي ابنة أبي رم بن مطلب بن عبدي مناف، وأمها ابنة سحر بن عامر، عمة أبي بكر الصديق. وابن أم مسته هو مسته بن أساسة بن عباد بن مطلفة. وبعد أن قضينا أنا وبنت أبي رم حاجتنا، توجهنا نحو بيتي. فدست أم مسته على نقابها وقالت: "لعنة مسته!" فقلت لها: "يا لكِ من امرأة عظيمة! أتلعنين رجلاً كان في بدر؟" فقالت: "يا امرأة، ألم تسمعي ما قاله؟" فسألتها: "ماذا قال؟" فأخبرتني بما قاله المفترون، فازداد مرضي سوءًا. عندما عدتُ إلى المنزل، دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم وسلم عليّ، ثم سألني: "أتأذنين لي بالذهاب إلى والديّ؟" فقلت: "أردتُ في تلك اللحظة أن أفهم الخبر منهما جيدًا". فأذن لي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذهبتُ إلى والديّ وقلتُ لأمي: "يا أمي! ما يقول الناس؟" فقالت أمي: "يا ابنتي، اهدئي! والله، ما أقلّ امرأة جميلة متزوجة من رجل يحبها، وإن كان لها أزواج، إلا وتكلمت عليهم بسوء". فقلت: "سبحان الله! هل يقول الناس هذا حقًا؟" ثم بكيتُ تلك الليلة، وقضيتُها أبكي بلا انقطاع، ولم أنم. ثم قضيتُها أبكي مرة أخرى. ولما انقطع الوحي، دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم علي بن أبي طالب وأسامة بن زيد ليستشيراه في أمر فراق أهله. قال أسامة بن زيد، مُظهِرًا معرفته ببراءة أهله ومحبته لهم، لرسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا رسول الله، هؤلاء أهلك، لا نعلم إلا الخير». أما علي بن أبي طالب فقال: «لن يُصيبك الله بضيق، فهناك نساء كثيرات غيرها، ولو سألت الجارية لصدقتك». عندئذٍ دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بريرة وسأله: «بريرة، هل رأيت في عائشة ما يُثير الشك فيك؟» فقال له بريرة: «والله الذي بعثك بالحق، ما رأيت فيه ما أُعيبه، ولكنه شاب يافع، ينام على عجينه الذي يعجنه لأهله، وتأتي الغنم فتأكله». عندئذٍ، قام رسول الله صلى الله عليه وسلم وصعد المنبر، طالباً الاعتذار من عبد الله بن أبي بن سلول. قالت عائشة رضي الله عنها: "بينما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر، قال: يا أيها المسلمون! من يقبل اعتذاري من رجل ألحق بأهلي أشد الأذى؟ والله، ما أعلم بأهلي إلا خيراً، إنما دخل عليهم معي." فقام سعد بن معاذ الأنصاري وقال: "أنا أقبل اعتذارك منه يا رسول الله!" فإن كان من قبيلة الأوس، قطعنا عنقه. قال: "إن كان من إخواننا الخزرج، فأصدر الأمر وسنطيعه". ثم قام سعد بن عبادة، وكان شيخ الخزرج ورجلاً صالحاً، إلا أن حماسته أضلته. فقال لسعد بن معاذ: "لقد أخطأت! والله لا تستطيع قتله، ولا أنت قادر على قتله!". ثم قام أسيد بن حضير، وكان ابن عم سعد بن معاذ. فقال لسعد بن عبادة: "لقد أخطأت! والله لا بد أن نقتله. إنك منافق حقاً". «أنتم تقاتلون في سبيل المنافقين». فثارت القبيلتان (الأوس والخزرج)، بل وعزمتا على القتال. وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم واقفًا على المنبر، يُهدئهما حتى سكتتا، فسكت هو أيضًا. قالت عائشة: «بكيتُ ذلك اليوم، ولم تتوقف دموعي، ولم أستطع النوم. ثم بكيتُ في الليلة التالية، ولم تتوقف دموعي، ولم أستطع النوم. ظنّ والداي أن بكائي سيُفطر قلبي. وبينما كانا جالسين بجانبي وأنا أبكي، استأذنت امرأة من الأنصار بالدخول، فأذنتُ لها. فجلست المرأة وبدأت تبكي. وبينما كنا على هذه الحال، دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم وسلم علينا، ثم جلس. لم يكن قد جلس بجانبي منذ أن قيل ما قيل عني، فقد انتظر شهرًا ولم يُوحَ إليه شيء عني». لما جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم، تشهد. ثم قال: يا عائشة، إن الأمر هو أنكِ قد أتيتني بتهم كذا وكذا. فإن كنتِ بريئة، برأكِ الله. وإن كنتِ قد ارتكبتِ ذنبًا، فاستغفري الله! توبي إليه! فإن العبد إذا اعترف بذنبه ثم تاب، قبل الله توبته. قالت عائشة: لما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم من الكلام، انقطعت دموعي، ولم أشعر بقطرة واحدة. فقلت لأبي: أجب عني فيما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم! فقال أبي: والله، ما أدري ما أقول لرسول الله صلى الله عليه وسلم. ثم قلت لأمي: «أجيبيني عما قاله رسول الله صلى الله عليه وسلم!» فقلت: «والله ما أدري ما أقول لرسول الله صلى الله عليه وسلم». فقلت، مع أنني كنت صغيرًا لا أعرف الكثير من القرآن: «والله أعلم أنكِ سمعتِ ما قيل، بل ترسخ في حصونكِ وآمنتِ به. ولو قلت لكِ إني بريء - والله يعلم براءتي - لما صدقتني. ولو اعترفت لكِ بشيء - والله يعلم براءتي - لأثبتِ لي. والله ما أجد لكِ مثلاً أضربه لكِ. ولكن كما قال أبو يوسف، فإن أمري من صبر جميل. والله هو الذي يُستعان به فيما قلت». فقال: «ثم انقلبتُ على فراشي». والله، علمتُ في تلك اللحظة أنني بريئة وأن الله سيبرئني. ولكن والله، لم يخطر ببالي أن ينزل الوحي (القرآن) في شأني. لم تكن حالتي النفسية وتوقعاتي توحي بأن الله (جل جلاله وعظمته) سينزل آية عني. بل كنتُ أتوقع أن يرى رسول الله (صلى الله عليه وسلم) رؤيا في منامه، وأن الله سيبرئني من خلالها. والله، لم يكن رسول الله (صلى الله عليه وسلم) قد غادر مجلسه، ولم يخرج أحد من أهل البيت حين أنزل الله (جل جلاله وعظمته) الوحي على نبيه (صلى الله عليه وسلم). فعادت إليه تلك الشدة التي غمرته لحظة الوحي. ومن ثقل الكلمات التي أُنزلت عليه، انهمرت حبات العرق من جبينه في ذلك اليوم البارد. ولما انقضى الوحي، ابتسم رسول الله (صلى الله عليه وسلم). وكانت أولى كلماته: "يا عائشة! قال لي الله: «لقد برأك». فقالت لي أمي: «قم واذهب إليه». فقلت: «والله لا أستطيع الذهاب إليه، ولا أستطيع أن أمدح أحدًا غير الله! فهو الذي أنزل براءتي». فأنزل الله تعالى عشر آيات، بدءًا من سورة النور، الآية 11. هذه الآيات أنزلها الله تعالى بشأن براءتي. فقال أبو بكر، الذي كان ينفق على مستة لقرابتهما وفقرهما: «والله، بعد ما قاله عن عائشة، لن أعطيه شيئًا بعد الآن!». فأنزل الله تعالى الآية: «ولا يحلف أهل البيت والمال على أن لا ينصروا أهل القربى...» حتى الآية الكريمة: «ألا تحبون أن يغفر الله لكم؟». قال ابن موسى: «عبد الله بن...» قال مبارك: "هذه أكثر الآيات رجاءً في كتاب الله". قال بكر: "والله، ليغفر لي الله"، ثم عاد يُطعم مسته كما كان يُطعمه سابقًا، قائلاً: "لن أتوقف عن إطعامه أبدًا". قال: "سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم زوجته زينب بنت جحش عن أمري، فقال: هل كنتِ تعلمين أم ماذا رأيتِ؟ فأجابت: يا رسول الله، إني أحفظ أذني وعيني، والله ما أعلم إلا خيرًا". قال: "ومع ذلك، كانت هي التي تحدتني من زوجات النبي صلى الله عليه وسلم، فحفظها الله بالتقوى والصلاح. فبدأت أختها حنينة بنت جحش تُخاصمها، فماتت مع الذين هلكوا". قال: "هذا ما جاءنا من أمر هذه الأمة!". وفي الحديث، استخدم التعبير التالي: "أغضبه حماسه..."
حبان ‌بی۔ ​موسیٰ ​نے ​ہم سے بیان کیا۔ (اس نے کہا): عبداللہ بن مبارک نے ہمیں اطلاع دی۔ (اس نے کہا): یونس بن۔ ہمیں یزید العیلی نے اطلاع دی۔ اسحاق بی۔ ابراہیم الحنظلی، محمد بن۔ رافع اور عبد بن حمید نے بھی بیان کیا۔ (ابن رافع نے "حدیثنا" کا لفظ استعمال کیا، دوسروں نے کہا: ہمیں عبد الرزاق نے خبر دی، انہوں نے کہا: معمر نے ہمیں خبر دی۔ سیاق و سباق عبد اور ابن رافع کی روایت سے معمر کی حدیث ہے۔ یونس اور معمر دونوں نے زہری سے کہا۔ (زہری نے کہا): سعید بن مسیب، عروہ بی۔ زبیر، الکامہ بی۔ وقاص، اور عبید اللہ بن۔ عبداللہ بی عتبہ بی۔ مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جب طعن کرنے والوں نے وہی کہا جو انہوں نے ان سے کہا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے الزامات سے بری کر دیا تو تمام راویوں نے ان کی حدیث کا ایک حصہ مجھ سے بیان کیا۔ ان میں سے بعض نے ان کی حدیث کو دوسروں سے بہتر حفظ کیا تھا اور اس کی روایت زیادہ معتبر تھی۔ میں نے ان میں سے ہر ایک سے جو حدیث بیان کی تھی وہ مجھے یاد تھی۔ احادیث ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ ان کے کہنے کے مطابق، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر پر جانا چاہتے تو اپنی ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ ڈالتے تھے۔ جس پر بھی قرعہ اندازی ہوتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ غزوہ میں تشریف لے جاتے۔ اس نے کہا: اس نے ہمارے درمیان اس جنگ کے لیے قرعہ ڈالا جو وہ لڑنے والی تھی، اور قرعہ مجھ پر پڑا۔ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر نکلا۔ یہ پردہ کے بارے میں آیت کے نازل ہونے کے بعد ہوا۔ مجھے پالکی کے اندر اونٹ پر سوار کیا گیا، اور اس سے اپنی منزل پر اتار دیا گیا۔ آخر کار جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مہم ختم کر کے واپس تشریف لائے اور ہم مدینہ کے قریب پہنچ رہے تھے تو آپ نے رات کے مارچ کا اعلان کیا۔ جب اس نے مارچ کا اعلان کیا تو میں فوراً اٹھا اور چل پڑا، یہاں تک کہ فوج کو پیچھے چھوڑ دیا۔ جب میں نے خود کو فارغ کیا تو میں اپنے سامان کی طرف چلا گیا۔ میں نے اپنے سینے کو چھو کر دیکھا کہ زعفرانی موتیوں سے بنا میرا ہار ٹوٹ چکا تھا۔ میں فوراً پیچھے مڑا اور اپنا ہار تلاش کرنے لگا۔ اس کی تلاش نے مجھے جانے سے روک دیا۔ جس گروہ نے میری کاٹھی لادی تھی وہ میری پالکی لاد کر چلا گیا۔ انہوں نے اسے اس اونٹ پر لاد دیا جس پر میں سوار تھا۔ ان کا خیال تھا کہ میں بھی اس کے اندر ہوں۔ فرمایا: اس وقت عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں۔ وہ موٹے نہیں ہوئے تھے، ان کے جسم گوشت سے ڈھکے ہوئے نہیں تھے۔ وہ صرف تھوڑا سا کھانا کھا رہے تھے۔ جماعت نے پالکیوں کو اونٹ پر لاد کر وزن کا سوال کیے بغیر اٹھا لیا۔ میں ایک جوان، نرم لڑکی تھی۔ انہوں نے اونٹ کو بھگا دیا۔ مجھے اپنا ہار فوج کے جانے کے بعد ملا۔ پھر مَیں اُس جگہ پہنچا جہاں وہ تھے، صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ کوئی مجھے پکارتا یا جواب نہیں دیتا۔ میں وہیں واپس چلا گیا جہاں میں تھا، یہ سوچ کر کہ جماعت مجھے ڈھونڈے گی اور واپس آئے گی۔ وہیں بیٹھے بیٹھے مجھے نیند آئی اور نیند آ گئی۔ صفوان بن معطل السلم بعد میں ذکوان کی فوج کے پیچھے آرام کر لیا۔ رات کے آخر میں، وہ سڑک پر نکلا، رات وہیں گزاری جہاں میں تھا، اور ایک سوئے ہوئے شخص کا سایہ دیکھا۔ وہ فوراً میرے پاس آیا اور مجھے پہچان لیا۔ درحقیقت اس نے مجھ پر نقاب پہننے کے فرض ہونے سے پہلے مجھے دیکھا تھا۔ جب اس نے مجھے پہچان لیا تو میں اس کے استرجاء (حفاظت کی دعا) سے بیدار ہوا۔ اور میں نے فوراً اپنے چہرے کو نقاب سے ڈھانپ لیا۔ اللہ کی قسم اس نے مجھ سے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ میں نے ان سے استرجا کے علاوہ کچھ نہیں سنا۔ اس نے اپنے اونٹ کو گھٹنے ٹیک دیا۔ اس نے اپنی اگلی ٹانگ پر قدم رکھا اور میں نے اونٹ پر سوار کیا۔ اور اس نے مجھے اپنے اونٹ پر بٹھایا اور ہم روانہ ہوگئے۔ آخر کار، جب دوپہر کی گرمی شدید ہو گئی تو ہم نے فوج کے ساتھ ڈیرے ڈال لیے۔ تب تک جو میرے مقدر میں تھا وہ ہو گیا۔ عبداللہ بن ابی بن سلول نے اس کام کی اکثریت اپنے سر لے لی تھی۔ اس کے بعد ہم مدینہ منورہ پہنچے۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو میں ایک ماہ سے بیمار تھا۔ لوگ تہمت لگانے والوں کی باتیں پھیلا رہے تھے۔ مجھے اس سے کچھ محسوس نہیں ہوا۔ لیکن اپنی بیماری کے دوران یہ حقیقت کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ مہربانی نہیں دیکھی جو میں نے اس سے پہلے بیمار ہونے پر دیکھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف داخل ہوتے، سلام پھیرتے، پھر کہتے: [وہ کچھ کہتا]۔ اس نے مجھے بھی مشکوک بنا دیا۔ لیکن مجھے کوئی شرارت محسوس نہیں ہوئی۔ آخر کار صحت یاب ہونے کے بعد میں باہر چلا گیا۔ ام مسطح بھی میرے ساتھ مناسی کی طرف چلی گئی۔ یہ جگہ ہماری لیٹرین تھی۔ ہم صرف رات کو نکلے تھے۔ یہ واقعہ اس سے پہلے پیش آیا جب ہم نے اپنے گھروں کے قریب بیت الخلا بنائے۔ لیٹرین کے حوالے سے ہمارا رواج ابتدائی عربوں کا رواج تھا۔ ہمیں اپنے گھروں کے قریب بیت الخلاء بنانے میں تکلیف محسوس ہوئی۔ ام مسطح اور میں چل پڑے۔ یہ عورت ابورحم بن کی بیٹی ہے۔ مطلب ب۔ عبدی مناف۔ اس کی والدہ سحر بی کی بیٹی ہیں۔ امیر ابوبکر صدیق کی خالہ۔ ام مستح کے بیٹے کا نام مسطح ہے۔ Usasa b. آباد بی۔ متلیفہ۔ پھر جب میں اور بنت ابو رحمہ نے آرام کیا تو ہم اپنے گھر کی طرف چل پڑے۔ پھر ام مسطح نے اپنے پردے پر قدم رکھا اور کہا: "مستعہ پر لعنت ہو!" میں نے اس سے کہا: "تم نے کیا بری بات کہی ہے! کیا تم بدر میں اس شخص پر لعنت بھیج رہے ہو؟" اس نے کہا: "عورت، کیا تم نے نہیں سنا کہ اس نے کیا کہا؟" میں نے پوچھا: اس نے کیا کہا؟ اس پر اس نے مجھے ان طعنوں سے آگاہ کیا۔ اور میری بیماری کئی گنا بڑھ گئی۔ جب میں گھر واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور مجھے سلام کیا۔ پھر پوچھا کہ کیا تم مجھے اپنے والدین کے پاس جانے کی اجازت دو گے؟ میں نے کہا، "اس وقت، میں نے ان کی خبروں کو ٹھیک طرح سے سمجھنا چاہا۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ چنانچہ میں اپنے والدین کے پاس گیا اور اپنی ماں سے کہا کہ اے میری ماں! لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟ میری والدہ نے کہا اے میری بیٹی، پرسکون ہو جا، اللہ کی قسم بہت کم ایسی خوبصورت عورتیں ہیں جن کی شادی ایسے مرد سے ہوئی ہے جو ان سے محبت کرتا ہو، چاہے ان کے شریک ہوں، پھر بھی وہ ان کے بارے میں برا نہیں کہتیں۔ میں نے کہا، "سبحان اللہ! کیا واقعی لوگوں نے ایسا کہا؟" پھر میں اس رات رو پڑا۔ میں نے رات روتے ہوئے گزاری کہ میری آنکھیں نہیں رکیں اور بغیر نیند آئے۔ پھر میں نے رات روتے ہوئے گزاری۔ جب وحی کا سلسلہ بند ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ابن ابی طالب اور اسامہ بن زید کو اپنے اہل خانہ سے علیحدگی کے بارے میں مشورہ کرنے کے لیے بلایا۔ اسامہ بن زید نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ وہ اپنے گھر والوں کی بے گناہی کو جانتے تھے اور ان سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! وہ آپ کے اہل خانہ ہیں، ہم خیر کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ جہاں تک علی ابن ابی طالب کا تعلق ہے تو آپ نے فرمایا: "اللہ تمہیں تکلیف میں نہیں ڈالے گا، اس کے علاوہ اور بھی بہت سی عورتیں ہیں، اگر تم لونڈی سے پوچھو تو وہ تمہیں سچ بتائے گی۔" اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو بلایا اور پوچھا: بریرہ! کیا تم نے عائشہ کے بارے میں کوئی ایسی چیز دیکھی ہے جس سے تمہیں شک ہو؟ بریرہ نے اس سے کہا: "مجھے اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے اس میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس کی وجہ سے میں اس پر عیب لگا سکوں۔ البتہ وہ ایک جوان ہے، محض جوانی ہے۔ وہ اپنے گھر والوں کے لیے جو آٹا گوندھتا ہے اس پر سوتا ہے، اور بھیڑیں آ کر اسے کھا جاتی ہیں۔" اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور عبداللہ بن ابی بن سلول سے معافی مانگتے ہوئے منبر پر تشریف لے گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے مسلمانوں کی جماعت، اس شخص کی طرف سے میری معافی کون قبول کرے گا جس نے میرے اہل و عیال کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہو، اللہ کی قسم میں اپنے اہل و عیال کے بارے میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتی، وہ صرف میرے ساتھ ان کی موجودگی میں داخل ہوا۔“ اس پر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کی طرف سے یا رسول اللہ! اگر وہ اوس قبیلہ سے ہے تو ہم اس کی گردن کاٹ دیں گے۔ اگر وہ ہمارے بھائی خزرج میں سے ہے تو آپ حکم دیں، ہم آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے، اس کے بعد سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اٹھے، یہ شخص قبیلہ خزرج کا سردار اور نیک آدمی تھا، لیکن اس کے جوش نے اسے جاہل بنا دیا تھا، اس نے سعد بن معاذ سے کہا: تم نے غلطی کی ہے! میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم اسے قتل نہیں کر سکتے اور نہ ہی تم اسے قتل کرنے پر قادر ہو!" اس کے بعد اسید بن حضیر اٹھے، یہ شخص سعد بن معاذ کا چچا زاد بھائی تھا، اس نے سعد بن عبادہ سے کہا: "تم نے غلطی کی! میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہم اسے ضرور قتل کریں گے۔ تم واقعی منافق ہو۔ تم منافقین کی طرف سے لڑ رہے ہو" اور دو قبیلے (یعنی اوس اور خزرج) اٹھ کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ انہوں نے لڑنے کا ارادہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تسلی دیتے رہے، یہاں تک کہ وہ خاموش ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاموش ہو گئے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس دن روئی تھی۔ میرے آنسو نہیں رکے، اور میں سو نہیں سکا۔ پھر اگلی رات میں پھر رو پڑا۔ میرے آنسو نہیں رکے، اور میں سو نہیں سکا۔ میری ماں اور باپ نے سوچا کہ میرا رونا میرا دل پھاڑ دے گا۔ جب وہ میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میں رو رہا تھا کہ انصار کی ایک عورت نے اندر جانے کی اجازت چاہی۔ میں نے اسے اجازت دے دی۔ عورت بیٹھ گئی اور رونے لگی۔ ہم اسی حالت میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمیں سلام کیا۔ پھر وہ بیٹھ گیا۔ جب سے میرے بارے میں کہا گیا تھا وہ میرے پاس نہیں بیٹھا تھا۔ اس نے ایک مہینہ انتظار کیا تھا، اور میرے بارے میں اس پر کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے تو تشہد پڑھا، پھر فرمایا: "اے عائشہ، حال یہ ہے کہ مجھ پر تمہاری طرف سے فلاں فلاں الزام آیا ہے۔ اگر تم بے گناہ ہو تو اللہ تمہیں بری کر دے گا۔ اگر آپ نے کوئی گناہ کیا ہے تو اللہ سے معافی مانگیں! اس سے توبہ کرو! کیونکہ اگر کوئی بندہ گناہ کا اقرار کر کے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بات ختم کی تو میرے آنسو رک گئے۔ مجھے اب ایک قطرہ بھی محسوس نہیں ہوا۔ میں نے اپنے والد سے کہا: میری طرف سے جواب دو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا! میرے والد نے کہا: 'خدا کی قسم، میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کہوں؟' (پھر) میں نے اپنی والدہ سے کہا: میری طرف سے اس کا جواب دو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، میں نے کہا، تو انہوں نے جواب دیا، "خدا کی قسم، میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہوں" اس پر اگرچہ میں چھوٹا تھا اور قرآن کا زیادہ حصہ نہیں جانتا تھا، میں نے جو کہا، اللہ تعالیٰ نے جو کہا، میں نے اسے اچھی طرح سنا ہے۔ یہ تمہارے قلعوں میں بھی جڑ پکڑ چکا ہے، اور تم اس پر یقین کر چکے ہو۔ اگر میں تم سے کہوں کہ میں بے قصور ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں بے قصور ہوں تو تم میری بات پر یقین نہیں کرو گے۔ اگر میں آپ کے سامنے کسی بات کا اقرار کروں اور اللہ جانتا ہے کہ میں بے قصور ہوں تو آپ میری تصدیق کریں گے۔ اللہ کی قسم مجھے آپ کے لیے کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم، جیسا کہ جوزف کے والد نے کہا، میرا معاملہ ایک خوبصورت صبر کا ہے۔ اللہ ہی ہے جس سے آپ کی باتوں کے بارے میں مدد مانگی جاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں پلٹا اور اپنے بستر پر لیٹ گیا۔ اور اللہ کی قسم میں اس وقت جانتا تھا کہ میں بے گناہ ہوں اور اللہ مجھے بری کر دے گا۔ لیکن خدا کی قسم میں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ میرے بارے میں وحی نازل ہو گی۔میری حالت اور توقعات ایسی نہ تھیں کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کوئی آیت نازل فرماتا بلکہ میں یہ توقع کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند میں خواب دیکھیں گے اور اس خواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بری نہیں فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل فرمائی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے الفاظ کے وزن سے پسینے کے موتی لوٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسکراہٹ کا پہلا منظر آپ پر نازل ہوا۔ الفاظ تھے: "اے عائشہ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں بری کر دیا ہے۔‘‘ اس پر میری والدہ نے مجھ سے کہا: ’’اٹھو اور اس کے پاس جاؤ۔‘‘ میں نے کہا: ’’اللہ کی قسم میں اس کے پاس نہیں جا سکتی۔ میں اللہ کے سوا کسی کی تعریف نہیں کر سکتا! وہی ہے جس نے میری معصومیت کو نازل کیا۔" پھر اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی آیت نمبر 11 سے شروع ہونے والی دس آیات نازل کیں۔ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری بے گناہی کے بارے میں نازل ہوئیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ جو ان کی قرابت کی وجہ سے مستحب کا انتظام کیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "بعد میں نے فرمایا: اسے پھر کبھی کچھ نہیں دیں گے!‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی، ’’جو لوگ بڑے مرتبے اور مال والے ہیں وہ قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں کی مدد نہیں کریں گے...‘‘ تک آیت کریمہ ’’کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے؟‘‘ ابن موسیٰ نے کہا: ’’عبداللہ بن ابی طالب۔ مبارک نے کہا کہ یہ اللہ کی کتاب میں سب سے زیادہ امید والی آیت ہے۔ بکر نے کہا، "خدا کی قسم، میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کر دے،" اور اس نے مسطح کو وہ رزق دینا شروع کیا جو اس نے پہلے دیا تھا، اور کہا، "میں اسے دینا کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ محترمہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ سے میرے معاملہ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: کیا تم جانتے ہو (یا) تم نے کیا دیکھا؟ اس نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول! اس نے کہا، 'پھر بھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک تھیں جنہوں نے مجھے للکارا، اللہ نے ان کی حفاظت تقویٰ اور نیکی سے کی۔' اس کی بہن حنینہ بنت جحش اس سے جھگڑنے لگی اور وہ ہلاک ہونے والوں میں سے ہو گئی۔ اس نے کہا کہ اس جماعت کے معاملہ سے ہمارے پاس یہی آیا ہے! اور حدیث میں، اس نے یہ لفظ استعمال کیا، "اس کے جوش نے اسے ناراض کیا..."
صحیح مسلم #۷۰۲۰ Sahih
صحیح مسلم : ۳۷
Sahih
حَدَّثَنَا ​حَبَّانُ ‌بْنُ ‌مُوسَى، ‌أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، الأَيْلِيُّ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَالسِّيَاقُ، حَدِيثُ مَعْمَرٍ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدٍ وَابْنِ رَافِعٍ قَالَ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَعَلْقَمَةُ بْنِ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا وَبَعْضُهُمْ كَانَ أَوْعَى لِحَدِيثِهَا مِنْ بَعْضٍ وَأَثْبَتَ اقْتِصَاصًا وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا ذَكَرُوا أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُ - قَالَتْ عَائِشَةُ - فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَخَرَجَ فِيهَا سَهْمِي فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ فَأَنَا أُحْمَلُ فِي هَوْدَجِي وَأُنْزَلُ فِيهِ مَسِيرَنَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَزْوِهِ وَقَفَلَ وَدَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ آذَنَ لَيْلَةً بِالرَّحِيلِ فَقُمْتُ حِينَ آذَنُوا بِالرَّحِيلِ فَمَشَيْتُ حَتَّى جَاوَزْتُ الْجَيْشَ فَلَمَّا قَضَيْتُ مِنْ شَأْنِي أَقْبَلْتُ إِلَى الرَّحْلِ فَلَمَسْتُ صَدْرِي فَإِذَا عِقْدِي مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ قَدِ انْقَطَعَ فَرَجَعْتُ فَالْتَمَسْتُ عِقْدِي فَحَبَسَنِي ابْتِغَاؤُهُ وَأَقْبَلَ الرَّهْطُ الَّذِينَ كَانُوا يَرْحَلُونَ لِي فَحَمَلُوا هَوْدَجِي فَرَحَلُوهُ عَلَى بَعِيرِيَ الَّذِي كُنْتُ أَرْكَبُ وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنِّي فِيهِ - قَالَتْ - وَكَانَتِ النِّسَاءُ إِذْ ذَاكَ خِفَافًا لَمْ يُهَبَّلْنَ وَلَمْ يَغْشَهُنَّ اللَّحْمُ إِنَّمَا يَأْكُلْنَ الْعُلْقَةَ مِنَ الطَّعَامِ فَلَمْ يَسْتَنْكِرِ الْقَوْمُ ثِقَلَ الْهَوْدَجِ حِينَ رَحَلُوهُ وَرَفَعُوهُ وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةَ السِّنِّ فَبَعَثُوا الْجَمَلَ وَسَارُوا وَوَجَدْتُ عِقْدِي بَعْدَ مَا اسْتَمَرَّ الْجَيْشُ فَجِئْتُ مَنَازِلَهُمْ وَلَيْسَ بِهَا دَاعٍ وَلاَ مُجِيبٌ فَتَيَمَّمْتُ مَنْزِلِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ وَظَنَنْتُ أَنَّ الْقَوْمَ سَيَفْقِدُونِي فَيَرْجِعُونَ إِلَىَّ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسَةٌ فِي مَنْزِلِي غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ ثُمَّ الذَّكْوَانِيُّ قَدْ عَرَّسَ مِنْ وَرَاءِ الْجَيْشِ فَادَّلَجَ فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِي فَرَأَى سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ فَأَتَانِي فَعَرَفَنِي حِينَ رَآنِي وَقَدْ كَانَ يَرَانِي قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ الْحِجَابُ عَلَىَّ فَاسْتَيْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِهِ حِينَ عَرَفَنِي فَخَمَّرْتُ وَجْهِي بِجِلْبَابِي وَوَاللَّهِ مَا يُكَلِّمُنِي كَلِمَةً وَلاَ سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ حَتَّى أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَوَطِئَ عَلَى يَدِهَا فَرَكِبْتُهَا فَانْطَلَقَ يَقُودُ بِي الرَّاحِلَةَ حَتَّى أَتَيْنَا الْجَيْشَ بَعْدَ مَا نَزَلُوا مُوغِرِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ فَهَلَكَ مَنْ هَلَكَ فِي شَأْنِي وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَاشْتَكَيْتُ حِينَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ شَهْرًا وَالنَّاسُ يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَهْلِ الإِفْكِ وَلاَ أَشْعُرُ بِشَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ يَرِيبُنِي فِي وَجَعِي أَنِّي لاَ أَعْرِفُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللُّطْفَ الَّذِي كُنْتُ أَرَى مِنْهُ حِينَ أَشْتَكِي إِنَّمَا يَدْخُلُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُولُ ‏"‏ كَيْفَ تِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَذَاكَ يَرِيبُنِي وَلاَ أَشْعُرُ بِالشَّرِّ حَتَّى خَرَجْتُ بَعْدَ مَا نَقِهْتُ وَخَرَجَتْ مَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ وَهُوَ مُتَبَرَّزُنَا وَلاَ نَخْرُجُ إِلاَّ لَيْلاً إِلَى لَيْلٍ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنَّ نَتَّخِذَ الْكُنُفَ قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الأُوَلِ فِي التَّنَزُّهِ وَكُنَّا نَتَأَذَّى بِالْكُنُفِ أَنْ نَتَّخِذَهَا عِنْدَ بُيُوتِنَا فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ وَهِيَ بِنْتُ أَبِي رُهْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَأُمُّهَا ابْنَةُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ خَالَةُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنُهَا مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَبِنْتُ أَبِي رُهْمٍ قِبَلَ بَيْتِي حِينَ فَرَغْنَا مِنْ شَأْنِنَا فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ ‏.‏ فَقُلْتُ لَهَا بِئْسَ مَا قُلْتِ أَتَسُبِّينَ رَجُلاً قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ‏.‏ قَالَتْ أَىْ هَنْتَاهُ أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ قُلْتُ وَمَاذَا قَالَ قَالَتْ فَأَخْبَرَتْنِي بِقَوْلِ أَهْلِ الإِفْكِ فَازْدَدْتُ مَرَضًا إِلَى مَرَضِي فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ تِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ آتِيَ أَبَوَىَّ قَالَتْ وَأَنَا حِينَئِذٍ أُرِيدُ أَنْ أَتَيَقَّنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا ‏.‏ فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجِئْتُ أَبَوَىَّ فَقُلْتُ لأُمِّي يَا أُمَّتَاهْ مَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّةُ هَوِّنِي عَلَيْكِ فَوَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِيئَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا وَلَهَا ضَرَائِرُ إِلاَّ كَثَّرْنَ عَلَيْهَا - قَالَتْ - قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهَذَا قَالَتْ فَبَكَيْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَصْبَحْتُ لاَ يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ ثُمَّ أَصَبَحْتُ أَبْكِي وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْىُ يَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ - قَالَتْ - فَأَمَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَأَشَارَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ وَبِالَّذِي يَعْلَمُ فِي نَفْسِهِ لَهُمْ مِنَ الْوُدِّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُمْ أَهْلُكَ وَلاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَيْرًا ‏.‏ وَأَمَّا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لَمْ يُضَيِّقِ اللَّهُ عَلَيْكَ وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ وَإِنْ تَسْأَلِ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْكَ - قَالَتْ - فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَرِيرَةَ فَقَالَ ‏"‏ أَىْ بَرِيرَةُ هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَىْءٍ يَرِيبُكِ مِنْ عَائِشَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ لَهُ بَرِيرَةُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا قَطُّ أَغْمِصُهُ عَلَيْهَا أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ - قَالَتْ - فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ ابْنِ سَلُولَ - قَالَتْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ‏"‏ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَ أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلاَّ خَيْرًا وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلاً مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلاَّ خَيْرًا وَمَا كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلاَّ مَعِي ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ أَنَا أَعْذِرُكَ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ مِنَ الأَوْسِ ضَرَبْنَا عُنُقَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَكَ - قَالَتْ - فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ وَكَانَ رَجُلاً صَالِحًا وَلَكِنِ اجْتَهَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لاَ تَقْتُلُهُ وَلاَ تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ ‏.‏ فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِينَ فَثَارَ الْحَيَّانِ الأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَقْتَتِلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا وَسَكَتَ - قَالَتْ - وَبَكَيْتُ يَوْمِي ذَلِكَ لاَ يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ ثُمَّ بَكَيْتُ لَيْلَتِي الْمُقْبِلَةَ لاَ يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ وَأَبَوَاىَ يَظُنَّانِ أَنَّ الْبُكَاءَ فَالِقٌ كَبِدِي فَبَيْنَمَا هُمَا جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا أَبْكِي اسْتَأْذَنَتْ عَلَىَّ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَأَذِنْتُ لَهَا فَجَلَسَتْ تَبْكِي - قَالَتْ - فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ - قَالَتْ - وَلَمْ يَجْلِسْ عِنْدِي مُنْذُ قِيلَ لِي مَا قِيلَ وَقَدْ لَبِثَ شَهْرًا لاَ يُوحَى إِلَيْهِ فِي شَأْنِي بِشَىْءٍ - قَالَتْ - فَتَشَهَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ جَلَسَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا وَكَذَا فَإِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبٍ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِي حَتَّى مَا أُحِسُّ مِنْهُ قَطْرَةً فَقُلْتُ لأَبِي أَجِبْ عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيمَا قَالَ ‏.‏ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لأُمِيِّ أَجِيبِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ لاَ أَقْرَأُ كَثِيرًا مِنَ الْقُرْآنِ إِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ بِهَذَا حَتَّى اسْتَقَرَّ فِي نُفُوسِكُمْ وَصَدَّقْتُمْ بِهِ فَإِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي بَرِيئَةٌ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ لاَ تُصَدِّقُونِي بِذَلِكَ وَلَئِنِ اعْتَرَفْتُ لَكُمْ بِأَمْرٍ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ لَتُصَدِّقُونَنِي وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلاً إِلاَّ كَمَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ ‏.‏ قَالَتْ ثُمَّ تَحَوَّلْتُ فَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي - قَالَتْ - وَأَنَا وَاللَّهِ حِينَئِذٍ أَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ مُبَرِّئِي بِبَرَاءَتِي وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ يُنْزَلَ فِي شَأْنِي وَحْىٌ يُتْلَى وَلَشَأْنِي كَانَ أَحْقَرَ فِي نَفْسِي مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى وَلَكِنِّي كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ بِهَا قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا رَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَجْلِسَهُ وَلاَ خَرَجَ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ أَحَدٌ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَهُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ مِنَ الْبُرَحَاءِ عِنْدَ الْوَحْىِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنَ الْعَرَقِ فِي الْيَوْمِ الشَّاتِ مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ - قَالَتْ - فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَضْحَكُ فَكَانَ أَوَّلَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ ‏"‏ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ بَرَّأَكِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ لِي أُمِّي قُومِي إِلَيْهِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لاَ أَقُومُ إِلَيْهِ وَلاَ أَحْمَدُ إِلاَّ اللَّهَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَاءَتِي - قَالَتْ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ‏}‏ عَشْرَ آيَاتٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلاَءِ الآيَاتِ بَرَاءَتِي - قَالَتْ - فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ وَاللَّهِ لاَ أُنْفِقُ عَلَيْهِ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَلاَ يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ أَلاَ تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ‏}‏ قَالَ حِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ هَذِهِ أَرْجَى آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي ‏.‏ فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ وَقَالَ لاَ أَنْزِعُهَا مِنْهُ أَبَدًا ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَمْرِي ‏"‏ مَا عَلِمْتِ أَوْ مَا رَأَيْتِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْمِي سَمْعِي وَبَصَرِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِلاَّ خَيْرًا ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِالْوَرَعِ وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُحَارِبُ لَهَا فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَهَذَا مَا انْتَهَى إِلَيْنَا مِنْ أَمْرِ هَؤُلاَءِ الرَّهْطِ ‏.‏ وَقَالَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ ‏.‏
ابو ​ربیع ‌عتکی ‌نے ‌مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں فلیح بن سلیمان نے حدیث سنائی ، نیز ہمیں حسن بن علی حلوانی اور عبد بن حمید نے حدیث سنائی ، دونوں نے کہا : ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے صالح بن کیسان سے حدیث سنائی ، ان دونوں ( فلیح بن سلیمان اور صالح بن کیسان ) نے زہری سے یونس اور معمر کی روایت کے مطابق انہی کی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ فلیح کی حدیث میں اسی طرح ہے جیسے معمر نے بیان کیا : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے جاہلیت ( کے دور ) میں گھسیٹ لیا ۔ اور صالح کی حدیث میں یونس کے قول کی طرح ہے : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے اکسا دیا ۔ اور صالح کی حدیث میں مزید یہ ہے : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ حسان ( بن ثابت رضی اللہ عنہ ) کو ان کے سامنے برا بھلا کہا جائے ۔ وہ فرماتی تھیں : انہوں نے یہ ( عظیم شعر ) کہا ہے : "" بےشک میرا باپ اور اس کا باپ اور میری عزت ، تم لوگوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو کی حفاظت کے لیے ڈھال ہیں ۔ "" اور انہوں نے مزید بھی کہا : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ کی قسم! جس شخص کے بارے میں وہ ساری باتیں ، جو گھڑی گئی تھیں ، وہ کہتا تھا : سبحان اللہ! ( یہ کیسی باتیں ہیں ) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے کبھی کسی عورت کے حجلہ عروسی 0تک کا ) پردہ بھی نہیں اٹھایا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : پھر بعد میں وہ اللہ کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہو گیا ۔ اور یعقوب بن ابراہیم کی حدیث میں موغرين في نحر الظهيرة ( لوگ دوپہر کے وقت بے سایہ بنجر راستے میں سفر سے بے حال ہو گئے تھے ۔ ) عبدالرزاق نے موغرين ( گرمی کی شدت سے بے حال ہوئے ) کہا ہے ۔ عبد بن حمید نے کہا : میں نے عبدالرزاق سے پوچھا : "" موغرين "" کا مطلب کیا ہے؟ کہا : الوغرة گرمی کی شدت ہوتی ہے ۔
صحیح مسلم #۷۰۲۱ Sahih
صحیح مسلم : ۳۸
Sahih
حَدَّثَنَا ‌أَبُو ‌بَكْرِ ​بْنُ ​أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّهُ يُشْرَكُ بِهِ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ ثُمَّ هُوَ يُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِهِ إِلاَّ قَوْلَهُ ‏"‏ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ ‏"‏ ‏.‏ فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ ‏.‏
ابو ‌بکر ‌بن ​ابی ​شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو معاویہ اور ابو اسامہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سعید بن جبیر سے ، انھوں نے ابو عبدالرحمان سلمی سے اور انھوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تکلیف دل باتیں سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں ، ا س کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے اور اس کی اولاد بنائی جاتی ہے پھر بھی وہ انھیں عافیت میں رکھتا ہے اور انھیں رزق عطا کرتا ہے ۔
صحیح مسلم #۷۰۸۰ Sahih
صحیح مسلم : ۳۹
Sahih
حَدَّثَنَا ‌أَبُو ​بَكْرِ ‌بْنُ ‌أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّهُ يُشْرَكُ بِهِ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ ثُمَّ هُوَ يُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِهِ إِلاَّ قَوْلَهُ ‏"‏ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ ‏"‏ ‏.‏ فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ ‏.‏
ابو ‌بکر ​بن ‌ابی ‌شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو معاویہ اور ابو اسامہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سعید بن جبیر سے ، انھوں نے ابو عبدالرحمان سلمی سے اور انھوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تکلیف دل باتیں سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں ، ا س کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے اور اس کی اولاد بنائی جاتی ہے پھر بھی وہ انھیں عافیت میں رکھتا ہے اور انھیں رزق عطا کرتا ہے ۔
صحیح مسلم #۷۰۸۱ Sahih
صحیح مسلم : ۴۰
Sahih
حَدَّثَنَا ​عَبْدُ ‌الْمَلِكِ ​بْنُ ‌شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُلَىٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ الْمُسْتَوْرِدُ الْقُرَشِيُّ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو أَبْصِرْ مَا تَقُولُ ‏.‏ قَالَ أَقُولُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ إِنَّ فِيهِمْ لَخِصَالاً أَرْبَعًا إِنَّهُمْ لأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ وَأَسْرَعُهُمْ إِفَاقَةً بَعْدَ مُصِيبَةٍ وَأَوْشَكُهُمْ كَرَّةً بَعْدَ فَرَّةٍ وَخَيْرُهُمْ لِمِسْكِينٍ وَيَتِيمٍ وَضَعِيفٍ وَخَامِسَةٌ حَسَنَةٌ جَمِيلَةٌ وَأَمْنَعُهُمْ مِنْ ظُلْمِ الْمُلُوكِ ‏.‏
موسیٰ ​بن ‌علی ​نے ‌اپنے والد سے روایت کی انھوں نے کہا : حضرت مستورد قرشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " قیامت آئے گی تورومی ( عیسائی ) لوگوں میں سب سے زیادہ ہوں گے ۔ : " حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : دیکھ لوتم کیا کہہ رہے ہو ۔ انھوں نے کہا : میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہے ۔ ( حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اگر تم نے یہ کہا ہے تو ان میں چار خصلتیں ہیں وہ آزمائش کے وقت سب لوگوں سے زیادہ برد بار ہیں اور مصیبت کے بعد سب لوگوں کی نسبت جلد اس سے سنبھلتے ہیں اور پیچھے ہٹنے کے بعد سب لوگوں کی نسبت جلد دوبارہ حملہ کرتے ہیں اور مسکینوں یتیموں اور کمزوروں کے لیے سب لوگوں کی نسبت بہتر ہیں اور پانچویں خصلت بہت اچھی اور خوبصورت ہے وہ سب لوگوں سے بڑھ کر بادشاہوں کے ظلم کو روکنے والے ہیں ۔
صحیح مسلم #۷۲۷۹ Sahih