Repentance کے بارے میں احادیث
۲۳۲ مستند احادیث ملیں
صحیح مسلم : ۸۱
Sahih
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ إِذَا اسْتَيْقَظَ عَلَى بَعِيرِهِ قَدْ أَضَلَّهُ بِأَرْضِ فَلاَةٍ " . وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ، مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
ہداب بن خالد نے کہا : ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ سے ، تم میں سے کسی ایسے شخص کی نسبت ہمیں زیادہ خوشی ہوتی ہے جب کٹیل صحرا میں اس کے ( اس ) اونٹ ( کے آں ے ) پر اس کی آنکھ کھلتی ہے جسے وہ صحرا میں گم کر چکا ہوتا ہے ۔
صحیح مسلم : ۸۲
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا " . وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عمرہ بن مرہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابوعبید کو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " اللہ عزوجل رات کو اپنا دست ( رحمت بندوں کی طرف ) پھیلا دیتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن کو اپنا دست ( رحمت ) پھیلا دیتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرے ( اور وہ اس وقت تک یہی کرتا رہے گا ) یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے ۔
صحیح مسلم : ۸۳
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا " . وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عمرہ بن مرہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابوعبید کو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " اللہ عزوجل رات کو اپنا دست ( رحمت بندوں کی طرف ) پھیلا دیتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن کو اپنا دست ( رحمت ) پھیلا دیتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرے ( اور وہ اس وقت تک یہی کرتا رہے گا ) یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے ۔
صحیح مسلم : ۸۴
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَاهِبٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لَهُ مِنَ تَوْبَةٍ فَقَالَ لاَ . فَقَتَلَهُ فَكَمَّلَ بِهِ مِائَةً ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ عَالِمٍ فَقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ مِائَةَ نَفْسٍ فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ فَقَالَ نَعَمْ وَمَنْ يَحُولُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ انْطَلِقْ إِلَى أَرْضِ كَذَا وَكَذَا فَإِنَّ بِهَا أُنَاسًا يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاعْبُدِ اللَّهَ مَعَهُمْ وَلاَ تَرْجِعْ إِلَى أَرْضِكَ فَإِنَّهَا أَرْضُ سَوْءٍ . فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا نَصَفَ الطَّرِيقَ أَتَاهُ الْمَوْتُ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلاَئِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلاَئِكَةُ الْعَذَابِ فَقَالَتْ مَلاَئِكَةُ الرَّحْمَةِ جَاءَ تَائِبًا مُقْبِلاً بِقَلْبِهِ إِلَى اللَّهِ . وَقَالَتْ مَلاَئِكَةُ الْعَذَابِ إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ . فَأَتَاهُمْ مَلَكٌ فِي صُورَةِ آدَمِيٍّ فَجَعَلُوهُ بَيْنَهُمْ فَقَالَ قِيسُوا مَا بَيْنَ الأَرْضَيْنِ فَإِلَى أَيَّتِهِمَا كَانَ أَدْنَى فَهُوَ لَهُ . فَقَاسُوهُ فَوَجَدُوهُ أَدْنَى إِلَى الأَرْضِ الَّتِي أَرَادَ فَقَبَضَتْهُ مَلاَئِكَةُ الرَّحْمَةِ " . قَالَ قَتَادَةُ فَقَالَ الْحَسَنُ ذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ لَمَّا أَتَاهُ الْمَوْتُ نَأَى بِصَدْرِهِ .
ہشام نے قتادہ سے ، انہوں نے ابوصدیق سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص تھا اس نے ننانوے قتل کیے ، پھر اس نے زمین پر بسنے والوں میں سے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا ( کہ وہ کون ہے ۔ ) اسے ایک راہب کا پتہ بتایا گیا ۔ وہ اس کے پاس آیا اور پوچھا کہ اس نے ننانوے قتل کیے ہیں ، کیا اس کے لیے توبہ ( کی کوئی سبیل ) ہے؟ اس نے کہا : نہیں ۔ تو اس نے اسے بھی قتل کر دیا اور اس ( کے قتل ) سے سو قتل پورے کر لیے ۔ اس نے پھر اہل زمین میں سے سب سے بڑے عالم کے بارے میں دریافت کیا ۔ اسے ایک عالم کا پتہ بتایا گیا ۔ تو اس نے ( جا کر ) کہا : اس نے سو قتل کیے ہیں ، کیا اس کے لیے توبہ ( کا امکان ) ہے؟ اس ( عالم ) نے کہا : ہاں ، اس کے اور توبہ کے درمیان کون حائل ہو سکتا ہے؟ تم فلاں فلاں سرزمین پر چلے جاؤ ، وہاں ( ایسے ) لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ، تم بھی ان کے ساتھ اللہ کی عبادت میں مشغول ہو جاؤ اور اپنی سرزمین پر واپس نہ آو ، یہ بُری ( باتوں سے بھری ہوئی ) سرزمین ہے ۔ وہ چل پڑا ، یہاں تک کہ جب آدھا راستہ طے کر لیا تو اسے موت آ لیا ۔ اس کے بارے میں رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے جھگڑنے لگے ۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا : یہ شخص توبہ کرتا ہوا اپنے دل کو اللہ کی طرف متوجہ کر کے آیا تھا اور عذاب کے فرشتوں نے کہا : اس نے کبھی نیکی کا کوئی کام نہیں کیا ۔ تو ایک فرشتہ آدمی کے روپ میں ان کے پاس آیا ، انہوں نے اسے اپنے درمیان ( ثالث ) مقرر کر لیا ۔ اس نے کہا : دونوں زمینوں کے درمیان فاصلہ ماپ لو ، وہ دونوں میں سے جس زمین کے زیادہ قریب ہو تو وہ اسی ( زمین کے لوگوں ) میں سے ہو گا ۔ انہوں نے مسافت کو ماپا تو اسے اس زمین کے قریب تر پایا جس کی طرف وہ جا رہا تھا ، چنانچہ رحمت کے فرشتوں نے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ۔ "" قتادہ نے کہا : حسن ( بصری ) نے کہا : ( اس حدیث میں ) ہمیں بتایا گیا کہ جب اسے موت نے آ لیا تھا تو اس نے اپنے سینے سے ( گھسیٹ کر ) خود کو ( گناہوں بھری زمین سے ) دور کر لیا تھا ۔
صحیح مسلم : ۸۵
Sahih
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الصِّدِّيقِ النَّاجِيَّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " أَنَّ رَجُلاً قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَجَعَلَ يَسْأَلُ هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ فَأَتَى رَاهِبًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَيْسَتْ لَكَ تَوْبَةٌ . فَقَتَلَ الرَّاهِبَ ثُمَّ جَعَلَ يَسْأَلُ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَى قَرْيَةٍ فِيهَا قَوْمٌ صَالِحُونَ فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَنَأَى بِصَدْرِهِ ثُمَّ مَاتَ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلاَئِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلاَئِكَةُ الْعَذَابِ فَكَانَ إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ أَقْرَبَ مِنْهَا بِشِبْرٍ فَجُعِلَ مِنْ أَهْلِهَا " .
معاذ بن عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صدیق ناجی سے سنا ، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : " ایک شخص نے ننانوے انسان قتل کیے ، پھر اس نے یہ پوچھنا شروع کر دیا : کیا اس کی توبہ ( کی کوئی سبیل ) ہو سکتی ہے؟ وہ ایک راہب کے پاس آیا ، اس سے پوچھا تو اس نے جواب دیا : تیرے لیے کوئی توبہ نہیں ۔ اس نے اس راہب کو ( بھی ) قتل کر دیا ۔ اس کے بعد اس نے پھر سے ( توبہ کے متعلق ) پوچھنا شروع کر دیا ، پھر ایک بستی سے ( دوسری ) بستی کی طرف نکل پڑا جس میں نیک لوگ رہتے تھے ۔ وہ راستے کے کسی حصے میں تھا کہ اسے موت نے آن لیا ، وہ ( اس وقت ) اپنے سینے کے ذریعے سے ( پچھلی گناہوں بھری بستی سے ) دور ہوا ، پھر مر گیا ۔ تو اس کے بارے میں رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں نے آپس میں جھگڑا کیا ۔ تو وہ شخص ایک بالشت برابر نیک بستی کی طرف قریب تھا ، اسے اس بستی کے لوگوں میں سے ( شمار ) کر لیا گیا ۔
صحیح مسلم : ۸۶
Sahih
روى لي أبو الطاهر أحمد بن عمرو بن عبد الله بن عمرو بن سِش، وهو مولى مُعتَق من بني أمية: وأخبرني ابن وهب: وأخبرني يونس، ناقلاً عن ابن شهاب. قال ابن شهاب: ثم خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى غزوة تبوك، ولكنه أراد أن يقاتل الروم والعرب النصارى في الشام. قال شهاب: أخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك أنه لما أصيب كعب، أحد أبناء عبد الله بن كعب، بالعمى، أصبح خليفةً له. سمعت كعب بن مالك يروي تجربته عندما تأخر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك. قال كعب بن مالك: لم أغب عن أي غزوة شارك فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا غزوة تبوك! كما غبت عن غزوة بدر، لكنه لم يوبخ أحدًا غائبًا عنها. كان رسول الله صلى الله عليه وسلم والمسلمون قد انطلقوا لاستهداف قافلة قريش، وفي النهاية ساقهم الله وأعداءهم إلى مكان لم يتوقعوه. في الواقع، كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة العقبة حين عاهدناه على الإسلام. مع أن بدر أشهر بين الناس من العقبة، إلا أنني لا أتمنى لو وقعت غزوة بدر بدلًا من العقبة. قصتي منذ أن فارقت رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك... قال كعب: لم أكن أقوى ولا أغنى مما كنت عليه حين فارقته في تلك المعركة. والله، ما كنت قد جمعت قطّتين من الإبل معًا. وأخيرًا، في تلك المعركة، جمعت جملين معًا. خاض رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه المعركة في حرّ شديد. وسار في رحلة طويلة في الصحراء. وواجه جيشًا كبيرًا من الأعداء، وشرح للمسلمين بوضوح ما عليهم فعله حتى يستعدوا لمعركتهم. وأخبرهم إلى أين ينوي أن يقودهم. وكان عدد المسلمين مع رسول الله صلى الله عليه وسلم كبيرًا جدًا حتى أن سجل الحرس لم يسعهم. (يشير كعب بهذا القول إلى سجل الجيش). وتابع روايته: كان هناك قليل ممن أرادوا الفرار (من الجيش) ولم يظنوا أن النبي صلى الله عليه وسلم لن يعلم بذلك إلا إذا جاء وحي من الله سبحانه وتعالى. وقد قام رسول الله صلى الله عليه وسلم بهذه الحملة حين كانت الثمار والظلال في في أوج ازدهاري. كنتُ أكثر المشاركين حماسًا في هذه الحملة. ثم استعد رسول الله صلى الله عليه وسلم والمسلمين معه. بدأتُ أسهر الليل لأستعد معهم. لكنني عدتُ دون أن أفعل شيئًا؛ وقلتُ في نفسي: أنا قادر على ذلك متى شئت. واستمر هذا الحال معي. استمر الناس في العمل. وسهر رسول الله صلى الله عليه وسلم مع المسلمين معه الليل لينطلقوا. لم أفعل شيئًا من ناحية الاستعداد. ثم سهرتُ الليل وعدتُ مرة أخرى دون أن أفعل شيئًا. واستمر هذا الحال. حتى المسلمون أسرعوا إلى وجهتهم، وتقدم المحاربون. شعرتُ برغبة ملحة في الانطلاق واللحاق بهم. ليتني فعلت. لكن لم يُكتب لي ذلك. بعد أن خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وخرج إلى الناس، بدأتُ أشعر بالحزن لأني لم أتبعه. فقط من اتُهموا بالنفاق أو الضعفاء الذين عذرهم الله يمكن إعفاؤهم من ذلك. رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يذكرني (عليه السلام) حتى وصل إلى تبوك. وبينما كان جالسًا بين الناس في تبوك، سأل: "ماذا فعل كعب بن مالك؟" فقال رجل من بني سليمة: "يا رسول الله، إن ثوبه ونظرته إلى ياقته منعته". فقال له معاذ بن جبل: "يا لك من قول فظيع!" فقال: "والله يا رسول الله، ما نعلم عنه إلا خيرًا". فسكت رسول الله (صلى الله عليه وسلم). وبينما هو على هذه الحال، رأى رجلاً يرتدي ثيابًا بيضاء اختفى السراب معه. فقال رسول الله (صلى الله عليه وسلم): "لا بد أنك أبو حيسمة!" فرأوا أنه أبو حيسرات الأنصاري. هذا هو الرجل الذي إذا عيَّره المنافقون، تصدق بكيل من التمر. ب. وتابع مالك قصته: "لما سمعت أن رسول الله (صلى الله عليه وسلم) عائد من يا تبوك، غمرني الحزن. بدأت تراودني أفكار الكذب. كنت أفكر: "كيف لي أن أهرب من أقاربه غدًا؟" استشرت كل ذي علم في عائلتي في هذا الأمر. عندما أُخبرت باقتراب مجيء رسول الله صلى الله عليه وسلم، تلاشت مني الأفكار الخاطئة. أدركت أنني لن أستطيع التخلص منها بأي حال من الأحوال. فقررت أن أقول له الحقيقة. كان مجيء رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصباح. عندما يعود من سفره، كان يبدأ عمله في المسجد. هناك يصلي ركعتين. ثم يجلس للقاء الناس. عندما يفعل ذلك، يأتي إليه من لم يشاركوا في المعركة ويعتذرون إليه ويحلفون له. وكان عددهم يزيد عن ثمانين. قبل رسول الله صلى الله عليه وسلم اعترافاتهم العلنية. بايعهم واستغفر لهم. كما أوكل خفاياهم إلى الله. أخيرًا، جئت إلى هنا. عندما سلمت... ابتسم له ابتسامة غاضبة، ثم قال: جئتُ ماشيًا وجلستُ في حضرته. فقال لي: هل تخلفتَ عن المعركة؟ وسألني: ألم تشترِ دابتك؟ فأجبته: يا رسول الله، والله، لو كنتُ جالسًا مع أحدٍ من أهل الدنيا غيرك، لأظننتُ أنني نجوتُ من غضب الله بعذر. لقد أُعطيتُ الفصاحة، ولكن والله، أعلم أنني لو كذبتُ عليك اليوم كذبةً تُرضيك، لَسأواجه غضب الله قريبًا. ولو قلتُ لك الحق، لَأغضبتَ مني. إني أطلب أجر الله على كلامي. والله، ليس لي عذر. والله، ما كنتُ يومًا أقوى ولا أغنى مما كنتُ عليه حين تخلفتُ عنك. فلما جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: صدقتَ، فقم حتى يقضي الله بك! فقمتُ. فجاءت مجموعة من قام رجال من بني سليمة وتبعوني، فقالوا لي: والله ما نعلم أنك ارتكبت ذنبًا قبل هذا. قالوا: بل لم تستطع أن تقدم لرسول الله صلى الله عليه وسلم نفس العذر الذي قدمه الذين لم يشاركوا في المعركة. كان يكفي رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يستغفر لك. فأجبت: والله لقد وبخوني حتى كدت أرجع إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأكذب عليه. ثم سألتهم: هل أصاب أحدٌ مثلي؟ قالوا: نعم! أصاب رجلان مثلك. قالا ما قلت، وقيل لهما ما قيل لك. سألت: من هما؟ قالوا: مَرّة بن ربيعة العامري وهلال بن أمية الواقفي. وأخبراني عن رجلين صالحين. رجالٌ شاركوا في غزوة بدر وكانوا جديرين بالاتباع. بعد أن أخبروني بذلك، انصرفت. نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم المسلمين عن التحدث إلينا نحن الثلاثة الذين انفصلنا عنه. ولهذا السبب، تجنبنا الناس. تغيرت نظرتهم إلينا. حتى المكان الذي عرفته تغير في عيني. لم يعد هو المكان الذي عرفته. مكثنا على هذه الحال خمسين ليلة. جلس رفيقيّ في بيتيهما، مطأطئي الرؤوس يبكان. أما أنا: فكنت أصغر الناس وأكثرهم ثباتًا. كنت أخرج من بيتي، وأصلي الصلاة، وأتجول في الأسواق. لكن لم يكن أحد يكلمني. بعد الصلاة، وأنا جالس في مكاني، كنت أقترب من رسول الله صلى الله عليه وسلم وأسلم عليه؛ وأتساءل في نفسي: "هل حركت شفتي لأرد عليه السلام أم لا؟" ثم أصلي قربه، أنظر إليه سرًا. إذا التفت إلى صلاتي، نظر إليّ؛ وإذا التفت إليه، أعرض عني مني. ولما استمر هذا الاضطهاد من المسلمين مدة طويلة، تسلقتُ تدريجيًا سور حديقة أبي قتادة. أبو قتادة هو عمي وأحب الناس إليّ. سلمتُ عليه، والله لم يردّ عليّ السلام. فقلتُ له: "يا أبا قتادة! بالله عليك، أخبرني، هل تعلم أنني أحب الله ورسوله؟" فصمت أبو قتادة. فسألته ثانيةً، بالله عليك، أن يخبرني، فصمت ثانيةً. فسألته ثانيةً (هذه المرة): "الله ورسوله يعلمان!" عندئذٍ امتلأت عيناي بالدموع، وعدتُ أدراجي. وتسلقتُ السور. وبعد ذلك، بينما كنتُ أسير في سوق المدينة، التقيتُ بفلاح من فلاحي دمشق الفرس، كان قد أتى إلى المدينة ليبيع الطعام. وكان يسأل: "من يدلني على كعب بن مالك؟" فبدأ الناس يشيرون إليّ ويدلونه عليّ. وأخيرًا، جاء إليّ وأعطاني رسالة من ملك غسان. كنتُ كاتبًا. قرأت الرسالة، فرأيت فيها ما يلي: "ثم (عليه أن يعلم) بلغنا أن زوجتك قد ظلمتك. لم يخلقك الله في أرض ذل، ولا في مكان تُفقد فيه حقوقك. انضم إلينا فورًا لنعينك." فلما قرأت هذا قلت: "هذا أيضًا نوع من المصائب"، فذهبت إلى الفرن وأحرقت الرسالة هناك. وأخيرًا، بعد انقضاء أربعين ليلة من الخمسين ليلة، وانقطاع الوحي، جاءني رسول رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فجأة، فقال: "يأمرك رسول الله (صلى الله عليه وسلم) بالابتعاد عن زوجتك." فقلت: "أطلقها، أم ماذا أفعل؟" فقال: "لا! ابتعد عنها ولا تقترب منها أبدًا!" وكان قد أرسل رسائل مماثلة إلى اثنين من أصحابي. فقلت لزوجتي: "ارجعي إلى أهلك واسكني معهم حتى يأمر الله في هذا الأمر!" ثم... أتت زوجة أمية إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقالت له: يا رسول الله، إن هلال بن أمية شيخ طاعن في السن، ليس له خادم، أتمانع أن أخدمه؟ فقال صلى الله عليه وسلم: ولكن لا ينبغي له أن يقترب منكِ أبدًا! فقالت المرأة: والله، ما لديه وقت لفعل شيء! والله، ما زال يبكي منذ أن أصابه هذا الأمر. فقال لي أحد أهلي: ما أترك رسول الله صلى الله عليه وسلم يستأذن في زوجتك؟ انظر، لقد أذن لزوجة هلال بن أمية أن تخدمه. فقلت: لا أستطيع أن أسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عنها، فأنا شاب. فلما سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عنه، قلت: ماذا سيقول؟ من يدري؟ وبقيت على هذه الحال عشر ليالٍ. وهكذا، انقضت خمسون ليلة منذ أن مُنعنا من الكلام. ثم في صباح الليلة الخمسين، صليت صلاة الصبح في أحد بيوتنا. وبينما كنت جالسًا في الحال الذي قدره الله تعالى لنا، انتابني حزن شديد. شعرتُ بضيق المكان رغم اتساعه. سمعتُ صوتًا ينادي من أعلى جبل سلع. كان يصيح بصوت عالٍ: "كعب بن مالك، بشرى!" فسجدتُ على الفور. وعرفتُ أن الشدوماني قد أتى. ثم بعد أن صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح، أخبر الناس أن الله قد قبل توبتنا. عندئذٍ، ذهب الناس ليبشرونا. ذهب اثنان من أصحابي ليبشرونا. حثّ رجل فرسه ليأتي إليّ. جاء رجل من قبيلة أسلم يركض نحوي. وصعد الجبل. كان صوته أسرع من صوت الفرس. عندما جاءني من سمعتُ صوته بالبشرى، خلعتُ على الفور اثنين من أعطيته ثيابي ابتهاجًا ببشارته. والله، لم يكن لي شيء آخر في ذلك اليوم. فاستعرت ثوبين وارتديتهما. ثم انطلقت في الطريق، راغبًا في رؤية رسول الله صلى الله عليه وسلم. فخرج الناس جماعاتٍ لاستقبالي، يهنئونني على توبتي قائلين: "بارك الله في قبول توبتك!". وأخيرًا، دخلت المسجد، فرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسًا فيه، محاطًا بالناس. ثم قام طلحة بن عبيد الله، فأسرع إليّ، فصافحني وهنأني. والله، لم يقم من المهاجرين سواه، ولم ينسَ كعب ما فعله طلحة. قال: إذا سلمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، كان وجهه يشرق فرحًا، ويقول: "بشارة لك، هذا أفضل يوم مضى منذ أن ولدتك!". فقلت: "هذا...". قال: «هذا منك أم من الله يا رسول الله؟» قال: «بل هو من الله!» وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا فرح أشرق وجهه كأنه قطعة من القمر، وكنا نعلم ذلك. فلما جلست قلت: يا رسول الله، من توبتي أن أتخلى عن بعض مالي صدقةً لله ورسوله صلى الله عليه وسلم. فقال: «احتفظ ببعضه، فهذا خير لك.» فقلت: «إني أحتفظ بنصيبي من خيبر»، وأضفت: يا رسول الله، إن الله قد أنقذني بالحق. ومن نذوري ألا أقول الحق ما حييت. ومنذ أن أخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم بذلك، لا أعرف مسلماً أنعم الله عليه بنعمة أعظم من نعمة قول الحق. والله، منذ أن أخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم بذلك (عليه السلام)، لم أكذب قط عن قصد. أدعو الله أن يحفظني ما تبقى من حياتي. قال كعب: عندئذٍ أنزل الله تعالى الآيتين ١١٧-١١٨ من سورة التوبة: "إن الله قد قبل توبة الرسول والمهاجرين والأنصار الذين تبعوه في شدائد قوم كادوا يضلون إن الله قد قبل توبتهم وكان بهم لطف ورحمة. وقبل توبة الثلاثة الذين تخلفوا وشعروا بضيق أنفسهم على الرغم من اتساع دنياهم." ووصل الأمر إلى الآية: "والذين آمنوا فاتقوا الله وكونوا مع الصادقين!" ثم: "والله ما أنعم عليّ بعد أن هداني إلى الإسلام بنعمة أعظم من الصدق الذي قلته لرسول الله صلى الله عليه وسلم." هلكوا كما هلك الكاذبون لكذبهم عليه! بل إن الله لما أنزل الوحي في الكاذبين، قال أسوأ ما يمكن أن يُقال لأحد. يقول الله تعالى: «إذا رجعتم إليهم أقسموا بالله ألا تقولوا لهم شيئًا، فأعرضوا عنهم إنهم نجسون ومأواهم جهنم بما كسبوا، يقسمون لك لعلكم ترضون عنهم، فإن رضيتم عنهم فإن الله لا يرضى عن القوم الفاسقين». (سورة التوبة، الآيتان 95-96). قال: «كنا ثلاثة قوم تخلفوا عن أمر الذين بايعهم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقبل أيمانهم وبايعهم واستغفر لهم، وأرجأ رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرنا حتى قضى الله، ولذلك قال الله تعالى: «وتوبة الثلاثة الذين تُركوا...» إن تركنا كما ذكر الله ليس يعني تركنا من المعركة، وإنما إن النبي صلى الله عليه وسلم أخّرنا وترك شؤوننا حتى بعد الذين أقسموا عليه واعتذروا، فقبل أعذارهم.
(ابو طاہر احمد بن عمرو بن عبد اللہ بن عمرو بن سیخ، بنو امیہ کے آزاد کردہ غلام نے مجھ سے بیان کیا:) مجھے ابن وہب نے خبر دی:) مجھے یونس نے ابن شہاب کے حوالے سے خبر دی۔ ابن شہاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کی مہم پر تشریف لے گئے۔ تاہم وہ شام میں رومیوں اور عیسائی عربوں کے خلاف جانا چاہتا تھا۔ شہاب نے کہا: عبدالرحمٰن بن۔ عبداللہ بی کعب ب۔ مالک نے مجھے خبر دی کہ جب کعب، عبداللہ بن کے بیٹوں میں سے ایک تھا۔ کعب، نابینا ہو گیا، اس کا نائب بن گیا۔ (میں نے کعب بن کو سنا۔ میں نے مالک کو اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے سنا جب وہ جنگ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے، کعب بن مالک نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بھی لڑائی نہیں چھوڑی، سوائے غزوہ تبوک کے! لیکن میں کبھی بھی غزوۂ بدک سے غائب نہیں ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے قریش کے قافلے کو نشانہ بنانے کے لیے نکلے تھے کہ آخرکار اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے دشمنوں کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا جب میں عقبہ کی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدعت کا عہد کر چکا تھا۔ غزوہ تبوک کے دوران میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی اختیار کی تھی، اس سے پہلے میں نے اس جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو اونٹوں کو اکٹھا نہیں کیا تھا۔ ایک لمبے سفر پر آپ نے مسلمانوں کو واضح طور پر بتا دیا کہ وہ اپنی جنگ کی تیاری کر سکتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسلمانوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ان کی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے کعب نے کہا: (فوج کی طرف سے) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس وقت تک علم نہیں ہوگا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی وحی نازل نہ ہو جب کہ پھل اور سایہ پوری طرح کھلے ہوئے تھے تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس مہم کا آغاز کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قیام کیا۔ up all night to prepare with them. But I returned without doing anything; I said to myself: I am capable of this whenever I want. This continued with me. The people continued to work. And the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him), with the Muslims with him, stayed up all night to set out. I had done nothing in terms of preparation. Then I stayed up all night and returned again having done nothing. This state continued. Even the Muslims hastened to their destination, and the میں نے ان کے ساتھ نکلنے کی خواہش محسوس کی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے بعد مجھے یہ افسوس ہوا کہ میں نے ان کی پیروی نہیں کی اور جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے احسان نہیں تھا۔ یہاں تک کہ جب وہ تبوک میں مجمع میں بیٹھے تو انہوں نے پوچھا کہ بنو سلیمہ کے ایک آدمی نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے کپڑے اور اس کے کالر کی طرف دیکھتے ہوئے اسے روک دیا، آپ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں خیر کے سوا کچھ نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید کپڑوں میں ایک شخص کو دیکھا جس سے معراج غائب ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ابو حیثمہ ہو!“ اور انہوں نے دیکھا کہ یہ ابو حیثیرہ الانصاری ہے، یہ منافق آدمی ہے، جس نے اسے ناپ تول کر کھجور دی تھی۔ صدقہ میں ب: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپس آرہے ہیں، میں نے جھوٹ بولنے کا سوچنا شروع کر دیا، میں سوچ رہا تھا کہ میں نے اپنے گھر والوں کے ہر علم والے سے مدد مانگی، جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں بتایا میں نے سمجھ لیا کہ میں کبھی بھی ان سے بچ نہیں سکتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا وقت تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے ملاقات کی اور ان سے ملاقات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیعت کر لی اور ان کے چھپے ہوئے پہلو بھی اللہ کے سپرد کر دیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا: ”میں نے اس کے پیچھے کھڑے ہو کر کہا۔ "کیا آپ نے اپنا جانور نہیں خریدا؟" میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم اگر میں آپ کے ساتھ دنیا والوں میں سے کسی اور کے پاس بیٹھتا تو مجھے لگتا ہے کہ میں اللہ کے غضب سے بچ جاتا، مجھے فصاحت دی گئی ہے، لیکن اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ اگر میں آج آپ سے جھوٹ بولوں گا تو میں جلد ہی آپ سے ناراض ہو جاؤں گا۔ میری طرف سے اللہ کی قسم، میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے جب میں آپ سے زیادہ طاقتور یا امیر تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تم نے سچ کہا ہے، جب تک کہ میں ان کی جماعت سے اٹھ نہ جاؤں“۔ وہ میرے پیچھے ہو گئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ اللہ کی قسم ہم اس سے پہلے کسی گناہ کے بارے میں نہیں جانتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عذر پیش کیا جو جنگ میں نہیں گئے تھے۔ مجھے اس قدر ملامت کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ بولا، پھر میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے وہی بات کہی ہے جو آپ نے کہی تھی، اور انہوں نے عرض کیا کہ آپ نے فرمایا ہلال بن امیہ وقفی رضی اللہ عنہ نے مجھے دو نیک آدمیوں کے بارے میں بتایا جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے اور ان کے یہ بتانے کے بعد میں وہاں سے چلا گیا۔ میری آنکھیں اب اس حالت میں نہیں تھیں کہ ہم پچاس راتوں تک اپنے گھروں میں بیٹھ کر روتے رہے: میں اپنے گھر سے نکلتا، نماز کے لیے آتا، اور میرے پاس بیٹھ کر کوئی دعا نہیں کرتا میں نے اپنے ہونٹوں کو سلام کا جواب دیا یا نہیں؟ the person I love most. I greeted him. By Allah, he did not return my greeting. I said to him: "O Abu Qatada! For God's sake, tell me, do you know that I love Allah and His Messenger?" Abu Qatada remained silent. I asked him again, for God's sake, to tell me. He remained silent again. I asked again (this time): "Allah and His Messenger know!" Upon this, my eyes filled with tears, and میں واپس پلٹ کر مدینہ کے بازار میں چلا گیا تو میں نے ایک آدمی سے ملاقات کی جو کھانا بیچنے کے لیے آیا تھا، وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ میں نے اس کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے دیکھا کہ اس میں درج ذیل لکھا تھا: "پھر ہم نے سنا کہ آپ کی بیوی نے آپ پر ظلم کیا ہے، اللہ نے آپ کو ذلت کے ملک میں نہیں بنایا اور نہ ہی ایسی جگہ جہاں آپ کا حق ختم ہو جائے، آپ ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں تاکہ ہم آپ کی مدد کریں، میں نے کہا کہ یہ بھی ایک آفت ہے" اور میں نے تندور کے پاس جا کر رات کو آگ لگا دی۔ وحی بند ہو گئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو اپنی بیوی سے دور رہنے کا حکم دیتے ہیں، میں نے کہا: "نہیں! میری بیوی سے کہا کہ تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ اور اس وقت تک ان کے ساتھ رہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس کا حکم نہ دے دے، پھر ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، بے شک ہلال بن امیہ ایک ضعیف آدمی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی خادم نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: "لیکن وہ آپ کے پاس کبھی نہ آئے! اور اللہ کی قسم جب سے اس کے ساتھ یہ معاملہ ہوا ہے وہ مسلسل رو رہا ہے، پھر مجھ سے کہا: تم اپنی بیوی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت کیوں نہیں مانگتے؟ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے بارے میں نہیں پوچھ سکتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے بارے میں اجازت طلب کی تو میں نے کہا کہ وہ کیا کہے گا، اور میں اس طرح دس راتیں رہا، پھر صبح کی نماز پڑھنے سے منع کیا گیا۔ اور جب میں اس حالت میں بیٹھا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی وسعت کے باوجود مجھے اس کی آواز سنائی دی تو وہ بلند آواز میں کہہ رہا تھا کہ میں نے فوراً سلام کیا۔ اس نے صبح کی نماز پڑھی تو لوگوں نے ہمیں خوشخبری سنائی اور اسلم قبیلہ کا ایک آدمی میری طرف بھاگا اور میں اس کی آواز سن کر فوراً اوپر پہنچا اللہ کی قسم میرے پاس کوئی چیز نہیں تھی اور میں نے انہیں پہنا کر فوراً راستے میں نکلا اور یہ کہتے ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مبارکباد دی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لوگوں سے گھیرا ہوا دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور مجھے مبارکباد دی، اور کعب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تھا۔ وہ خوشی سے کہے گا: یہ سب سے اچھا دن ہے جو میں نے آپ کو جنم دیا ہے، آپ نے فرمایا: "بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوتے تھے، تو میں نے کہا:" "اے اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے ایک یہ ہے کہ میں اپنے مال میں سے کچھ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صدقہ کر دوں۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس میں سے کچھ رکھ لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے، میں نے عرض کیا: "میں اپنا حصہ خیبر سے بچا رہا ہوں، اور میں نے کہا: اللہ کے رسول! جب تک میں نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتائی اس وقت تک مجھے اللہ تعالیٰ نے سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائی ہے، اس لیے میں نے جان بوجھ کر کبھی جھوٹ نہیں بولا اور اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت فرمائی اللہ تعالیٰ نے سورہ توبہ کی آیات 117-118 کا نزول فرمایا: "بے شک اللہ نے رسول اور مہاجرین و انصار کی توبہ قبول کی جنہوں نے مشکل کے وقت آپ کی پیروی کی، جن میں سے ایک گروہ قریب قریب گمراہ ہو چکا تھا، یقیناً اس نے ان کی توبہ قبول فرمائی، کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے، تینوں کی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ پیچھے، اور جنہوں نے اپنی دنیا کی وسعت کے باوجود اپنے آپ کو قید محسوس کیا۔" یہاں تک کہ یہ آیت ہے: "جو لوگ ایمان رکھتے ہیں، اللہ سے ڈرو اور سچ بولنے والوں کے ساتھ رہو!" اور پھر، "خدا کی قسم، اس نے مجھے اسلام کی طرف رہنمائی کرنے کے بعد، اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں دی جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہی تھی کہ وہ میرے لیے تباہی کا باعث ہے۔" جب اللہ تعالیٰ نے جھوٹوں کے بارے میں وحی نازل فرمائی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم ان کے پاس جاؤ گے تو ان سے کنارہ کش ہو جاؤ، اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ بدکار لوگوں سے راضی ہوں۔‘‘ (سورہ توبہ، آیات 95-96) آپﷺ نے فرمایا: ’’ہم تین ایسے لوگ تھے کہ جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی، آپ نے ان کی قسمیں قبول کیں اور ان کے لیے بیعت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت فرمائی اس نے ہمارے معاملات کو اس وقت تک ملتوی کر دیا جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا فیصلہ نہ کر دیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''اور ان تینوں کی توبہ جو اللہ تعالیٰ نے بیان کی ہے، ہمارا پیچھے رہ جانے کا مطلب صرف یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس وقت تک ملتوی کر دیا کہ جنہوں نے ہمیں چھوڑ دیا۔ اسے، اور اس نے ان کے بہانے قبول کر لیے۔"
صحیح مسلم : ۸۷
Sahih
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ مَوْلَى بَنِي أُمَيَّةَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ ثُمَّ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةَ تَبُوكَ وَهُوَ يُرِيدُ الرُّومَ وَنَصَارَى الْعَرَبِ بِالشَّامِ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ كَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا قَطُّ إِلاَّ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ غَيْرَ أَنِّي قَدْ تَخَلَّفْتُ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ وَلَمْ يُعَاتِبْ أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْهُ إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْمُسْلِمُونَ يُرِيدُونَ عِيرَ قُرَيْشٍ حَتَّى جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهُمْ عَلَى غَيْرِ مِيعَادٍ وَلَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِينَ تَوَاثَقْنَا عَلَى الإِسْلاَمِ وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَشْهَدَ بَدْرٍ وَإِنْ كَانَتْ بَدْرٌ أَذْكَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا وَكَانَ مِنْ خَبَرِي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ أَنِّي لَمْ أَكُنْ قَطُّ أَقْوَى وَلاَ أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْهُ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ وَاللَّهِ مَا جَمَعْتُ قَبْلَهَا رَاحِلَتَيْنِ قَطُّ حَتَّى جَمَعْتُهُمَا فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ فَغَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَرٍّ شَدِيدٍ وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا وَمَفَازًا وَاسْتَقْبَلَ عَدُوًّا كَثِيرًا فَجَلاَ لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ غَزْوِهِمْ فَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِمُ الَّذِي يُرِيدُ وَالْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَثِيرٌ وَلاَ يَجْمَعُهُمْ كِتَابُ حَافِظٍ - يُرِيدُ بِذَلِكَ الدِّيوَانَ - قَالَ كَعْبٌ فَقَلَّ رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَتَغَيَّبَ يَظُنُّ أَنَّ ذَلِكَ سَيَخْفَى لَهُ مَا لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ وَحْىٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تِلْكَ الْغَزْوَةَ حِينَ طَابَتِ الثِّمَارُ وَالظِّلاَلُ فَأَنَا إِلَيْهَا أَصْعَرُ فَتَجَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ وَطَفِقْتُ أَغْدُو لِكَىْ أَتَجَهَّزَ مَعَهُمْ فَأَرْجِعُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا . وَأَقُولُ فِي نَفْسِي أَنَا قَادِرٌ عَلَى ذَلِكَ إِذَا أَرَدْتُ . فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ يَتَمَادَى بِي حَتَّى اسْتَمَرَّ بِالنَّاسِ الْجِدُّ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَادِيًا وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ وَلَمْ أَقْضِ مِنْ جَهَازِي شَيْئًا ثُمَّ غَدَوْتُ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ يَتَمَادَى بِي حَتَّى أَسْرَعُوا وَتَفَارَطَ الْغَزْوُ فَهَمَمْتُ أَنْ أَرْتَحِلَ فَأُدْرِكَهُمْ فَيَا لَيْتَنِي فَعَلْتُ ثُمَّ لَمْ يُقَدَّرْ ذَلِكَ لِي فَطَفِقْتُ إِذَا خَرَجْتُ فِي النَّاسِ بَعْدَ خُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحْزُنُنِي أَنِّي لاَ أَرَى لِي أُسْوَةً إِلاَّ رَجُلاً مَغْمُوصًا عَلَيْهِ فِي النِّفَاقِ أَوْ رَجُلاً مِمَّنْ عَذَرَ اللَّهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ وَلَمْ يَذْكُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَلَغَ تَبُوكًا فَقَالَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْقَوْمِ بِتَبُوكَ " مَا فَعَلَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ " . قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَبَسَهُ بُرْدَاهُ وَالنَّظَرُ فِي عِطْفَيْهِ . فَقَالَ لَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ بِئْسَ مَا قُلْتَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ إِلاَّ خَيْرًا . فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَيْنَمَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ رَأَى رَجُلاً مُبَيِّضًا يَزُولُ بِهِ السَّرَابُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُنْ أَبَا خَيْثَمَةَ " . فَإِذَا هُو أَبُو خَيْثَمَةَ الأَنْصَارِيُّ وَهُوَ الَّذِي تَصَدَّقَ بِصَاعِ التَّمْرِ حِينَ لَمَزَهُ الْمُنَافِقُونَ . فَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ تَوَجَّهَ قَافِلاً مِنْ تَبُوكَ حَضَرَنِي بَثِّي فَطَفِقْتُ أَتَذَكَّرُ الْكَذِبَ وَأَقُولُ بِمَ أَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ غَدًا وَأَسْتَعِينُ عَلَى ذَلِكَ كُلَّ ذِي رَأْىٍ مِنْ أَهْلِي فَلَمَّا قِيلَ لِي إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَظَلَّ قَادِمًا زَاحَ عَنِّي الْبَاطِلُ حَتَّى عَرَفْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْهُ بِشَىْءٍ أَبَدًا فَأَجْمَعْتُ صِدْقَهُ وَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَادِمًا وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ جَاءَهُ الْمُخَلَّفُونَ فَطَفِقُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ وَيَحْلِفُونَ لَهُ وَكَانُوا بِضْعَةً وَثَمَانِينَ رَجُلاً فَقَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلاَنِيَتَهُمْ وَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ وَوَكَلَ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللَّهِ حَتَّى جِئْتُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ ثُمَّ قَالَ " تَعَالَ " . فَجِئْتُ أَمْشِي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لِي " مَا خَلَّفَكَ " . أَلَمْ تَكُنْ قَدِ ابْتَعْتَ ظَهْرَكَ " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا لَرَأَيْتُ أَنِّي سَأَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ بِعُذْرٍ وَلَقَدْ أُعْطِيتُ جَدَلاً وَلَكِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ حَدِيثَ كَذِبٍ تَرْضَى بِهِ عَنِّي لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يُسْخِطَكَ عَلَىَّ وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ حَدِيثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَىَّ فِيهِ إِنِّي لأَرْجُو فِيهِ عُقْبَى اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كَانَ لِي عُذْرٌ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَقْوَى وَلاَ أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْكَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ فَقُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيكَ " . فَقُمْتُ وَثَارَ رِجَالٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَاتَّبَعُونِي فَقَالُوا لِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْنَاكَ أَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَبْلَ هَذَا لَقَدْ عَجَزْتَ فِي أَنْ لاَ تَكُونَ اعْتَذَرْتَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا اعْتَذَرَ بِهِ إِلَيْهِ الْمُخَلَّفُونَ فَقَدْ كَانَ كَافِيَكَ ذَنْبَكَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَكَ . قَالَ فَوَاللَّهِ مَا زَالُوا يُؤَنِّبُونَنِي حَتَّى أَرَدْتُ أَنْ أَرْجِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُكَذِّبَ نَفْسِي - قَالَ - ثُمَّ قُلْتُ لَهُمْ هَلْ لَقِيَ هَذَا مَعِي مِنْ أَحَدٍ قَالُوا نَعَمْ لَقِيَهُ مَعَكَ رَجُلاَنِ قَالاَ مِثْلَ مَا قُلْتَ فَقِيلَ لَهُمَا مِثْلُ مَا قِيلَ لَكَ - قَالَ - قُلْتُ مَنْ هُمَا قَالُوا مُرَارَةُ بْنُ رَبِيعَةَ الْعَامِرِيُّ وَهِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيُّ - قَالَ - فَذَكَرُوا لِي رَجُلَيْنِ صَالِحَيْنِ قَدْ شِهِدَا بَدْرًا فِيهِمَا أُسْوَةٌ - قَالَ - فَمَضَيْتُ حِينَ ذَكَرُوهُمَا لِي . قَالَ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلاَمِنَا أَيُّهَا الثَّلاَثَةُ مِنْ بَيْنِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ - قَالَ - فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ - وَقَالَ - تَغَيَّرُوا لَنَا حَتَّى تَنَكَّرَتْ لِي فِي نَفْسِيَ الأَرْضُ فَمَا هِيَ بِالأَرْضِ الَّتِي أَعْرِفُ فَلَبِثْنَا عَلَى ذَلِكَ خَمْسِينَ لَيْلَةً فَأَمَّا صَاحِبَاىَ فَاسْتَكَانَا وَقَعَدَا فِي بُيُوتِهِمَا يَبْكِيَانِ وَأَمَّا أَنَا فَكُنْتُ أَشَبَّ الْقَوْمِ وَأَجْلَدَهُمْ فَكُنْتُ أَخْرُجُ فَأَشْهَدُ الصَّلاَةَ وَأَطُوفُ فِي الأَسْوَاقِ وَلاَ يُكَلِّمُنِي أَحَدٌ وَآتِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي مَجْلِسِهِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَأَقُولُ فِي نَفْسِي هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِرَدِّ السَّلاَمِ أَمْ لاَ ثُمَّ أُصَلِّي قَرِيبًا مِنْهُ وَأُسَارِقُهُ النَّظَرَ فَإِذَا أَقْبَلْتُ عَلَى صَلاَتِي نَظَرَ إِلَىَّ وَإِذَا الْتَفَتُّ نَحْوَهُ أَعْرَضَ عَنِّي حَتَّى إِذَا طَالَ ذَلِكَ عَلَىَّ مِنْ جَفْوَةِ الْمُسْلِمِينَ مَشَيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَىَّ السَّلاَمَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا قَتَادَةَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَنَّ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ فَسَكَتَ فَعُدْتُ فَنَاشَدْتُهُ فَسَكَتَ فَعُدْتُ فَنَاشَدْتُهُ فَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . فَفَاضَتْ عَيْنَاىَ وَتَوَلَّيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ الْجِدَارَ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي فِي سُوقِ الْمَدِينَةِ إِذَا نَبَطِيٌّ مِنْ نَبَطِ أَهْلِ الشَّامِ مِمَّنْ قَدِمَ بِالطَّعَامِ يَبِيعُهُ بِالْمَدِينَةِ يَقُولُ مَنْ يَدُلُّ عَلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - قَالَ - فَطَفِقَ النَّاسُ يُشِيرُونَ لَهُ إِلَىَّ حَتَّى جَاءَنِي فَدَفَعَ إِلَىَّ كِتَابًا مِنْ مَلِكِ غَسَّانَ وَكُنْتُ كَاتِبًا فَقَرَأْتُهُ فَإِذَا فِيهِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنَا أَنَّ صَاحِبَكَ قَدْ جَفَاكَ وَلَمْ يَجْعَلْكَ اللَّهُ بِدَارِ هَوَانٍ وَلاَ مَضْيَعَةٍ فَالْحَقْ بِنَا نُوَاسِكَ . قَالَ فَقُلْتُ حِينَ قَرَأْتُهَا وَهَذِهِ أَيْضًا مِنَ الْبَلاَءِ . فَتَيَامَمْتُ بِهَا التَّنُّورَ فَسَجَرْتُهَا بِهَا حَتَّى إِذَا مَضَتْ أَرْبَعُونَ مِنَ الْخَمْسِينَ وَاسْتَلْبَثَ الْوَحْىُ إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْتِينِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ . قَالَ فَقُلْتُ أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ قَالَ لاَ بَلِ اعْتَزِلْهَا فَلاَ تَقْرَبَنَّهَا - قَالَ - فَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَىَّ بِمِثْلِ ذَلِكَ - قَالَ - فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِي الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِي هَذَا الأَمْرِ - قَالَ - فَجَاءَتِ امْرَأَةُ هِلاَلِ بْنِ أُمَيَّةَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ شَيْخٌ ضَائِعٌ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ فَهَلْ تَكْرَهُ أَنْ أَخْدُمَهُ قَالَ " لاَ وَلَكِنْ لاَ يَقْرَبَنَّكِ " . فَقَالَتْ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا بِهِ حَرَكَةٌ إِلَى شَىْءٍ وَوَاللَّهِ مَا زَالَ يَبْكِي مُنْذُ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ إِلَى يَوْمِهِ هَذَا . قَالَ فَقَالَ لِي بَعْضُ أَهْلِي لَوِ اسْتَأْذَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي امْرَأَتِكَ فَقَدْ أَذِنَ لاِمْرَأَةِ هِلاَلِ بْنِ أُمَيَّةَ أَنْ تَخْدُمَهُ - قَالَ - فَقُلْتُ لاَ أَسْتَأْذِنُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا يُدْرِينِي مَاذَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اسْتَأْذَنْتُهُ فِيهَا وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ - قَالَ - فَلَبِثْتُ بِذَلِكَ عَشْرَ لَيَالٍ فَكَمُلَ لَنَا خَمْسُونَ لَيْلَةً مِنْ حِينَ نُهِيَ عَنْ كَلاَمِنَا - قَالَ - ثُمَّ صَلَّيْتُ صَلاَةَ الْفَجْرِ صَبَاحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عَلَى الْحَالِ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَّا قَدْ ضَاقَتْ عَلَىَّ نَفْسِي وَضَاقَتْ عَلَىَّ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَى عَلَى سَلْعٍ يَقُولُ بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ أَبْشِرْ - قَالَ - فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنْ قَدْ جَاءَ فَرَجٌ . - قَالَ - فَآذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ بِتَوْبَةِ اللَّهِ عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى صَلاَةَ الْفَجْرِ فَذَهَبَ النَّاسُ يُبَشِّرُونَنَا فَذَهَبَ قِبَلَ صَاحِبَىَّ مُبَشِّرُونَ وَرَكَضَ رَجُلٌ إِلَىَّ فَرَسًا وَسَعَى سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ قِبَلِي وَأَوْفَى الْجَبَلَ فَكَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ مِنَ الْفَرَسِ فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي فَنَزَعْتُ لَهُ ثَوْبَىَّ فَكَسَوْتُهُمَا إِيَّاهُ بِبِشَارَتِهِ وَاللَّهِ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهُمَا يَوْمَئِذٍ وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَيْنِ . فَلَبِسْتُهُمَا فَانْطَلَقْتُ أَتَأَمَّمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَلَقَّانِي النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا يُهَنِّئُونِي بِالتَّوْبَةِ وَيَقُولُونَ لِتَهْنِئْكَ تَوْبَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ . حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحَوْلَهُ النَّاسُ فَقَامَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي وَهَنَّأَنِي وَاللَّهِ مَا قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ غَيْرُهُ . قَالَ فَكَانَ كَعْبٌ لاَ يَنْسَاهَا لِطَلْحَةَ . قَالَ كَعْبٌ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهُوَ يَبْرُقُ وَجْهُهُ مِنَ السُّرُورِ وَيَقُولُ " أَبْشِرْ بِخَيْرِ يَوْمٍ مَرَّ عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ " . قَالَ فَقُلْتُ أَمِنْ عِنْدِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَقَالَ " لاَ بَلْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ " . وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ كَأَنَّ وَجْهَهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ - قَالَ - وَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ - قَالَ - فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ " . قَالَ فَقُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِيَ الَّذِي بِخَيْبَرَ - قَالَ - وَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ إِنَّمَا أَنْجَانِي بِالصِّدْقِ وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ لاَ أُحَدِّثَ إِلاَّ صِدْقًا مَا بَقِيتُ - قَالَ - فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَبْلاَهُ اللَّهُ فِي صِدْقِ الْحَدِيثِ مُنْذُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى يَوْمِي هَذَا أَحْسَنَ مِمَّا أَبْلاَنِي اللَّهُ بِهِ وَاللَّهِ مَا تَعَمَّدْتُ كَذْبَةً مُنْذُ قُلْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى يَوْمِي هَذَا وَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَحْفَظَنِيَ اللَّهُ فِيمَا بَقِيَ . قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ * وَعَلَى الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ} حَتَّى بَلَغَ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} قَالَ كَعْبٌ وَاللَّهِ مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنْ نِعْمَةٍ قَطُّ بَعْدَ إِذْ هَدَانِي اللَّهُ لِلإِسْلاَمِ أَعْظَمَ فِي نَفْسِي مِنْ صِدْقِي رَسُولَ اللَّهُ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ أَكُونَ كَذَبْتُهُ فَأَهْلِكَ كَمَا هَلَكَ الَّذِينَ كَذَبُوا إِنَّ اللَّهَ قَالَ لِلَّذِينَ كَذَبُوا حِينَ أَنْزَلَ الْوَحْىَ شَرَّ مَا قَالَ لأَحَدٍ وَقَالَ اللَّهُ { سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ * يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ} قَالَ كَعْبٌ كُنَّا خُلِّفْنَا أَيُّهَا الثَّلاَثَةُ عَنْ أَمْرِ أُولَئِكَ الَّذِينَ قَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ حَلَفُوا لَهُ فَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ وَأَرْجَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمْرَنَا حَتَّى قَضَى اللَّهُ فِيهِ فَبِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَعَلَى الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا} وَلَيْسَ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ مِمَّا خُلِّفْنَا تَخَلُّفَنَا عَنِ الْغَزْوِ وَإِنَّمَا هُوَ تَخْلِيفُهُ إِيَّانَا وَإِرْجَاؤُهُ أَمْرَنَا عَمَّنْ حَلَفَ لَهُ وَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَبِلَ مِنْهُ . وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَوَاءً .
عُقیل بن ابن شہاب سے یونس کی سند کے ساتھ زہری سے بالکل اسی طرح روایت کی ۔
صحیح مسلم : ۸۸
Sahih
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ مَوْلَى بَنِي أُمَيَّةَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ ثُمَّ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةَ تَبُوكَ وَهُوَ يُرِيدُ الرُّومَ وَنَصَارَى الْعَرَبِ بِالشَّامِ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ كَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا قَطُّ إِلاَّ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ غَيْرَ أَنِّي قَدْ تَخَلَّفْتُ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ وَلَمْ يُعَاتِبْ أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْهُ إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْمُسْلِمُونَ يُرِيدُونَ عِيرَ قُرَيْشٍ حَتَّى جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهُمْ عَلَى غَيْرِ مِيعَادٍ وَلَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِينَ تَوَاثَقْنَا عَلَى الإِسْلاَمِ وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَشْهَدَ بَدْرٍ وَإِنْ كَانَتْ بَدْرٌ أَذْكَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا وَكَانَ مِنْ خَبَرِي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ أَنِّي لَمْ أَكُنْ قَطُّ أَقْوَى وَلاَ أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْهُ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ وَاللَّهِ مَا جَمَعْتُ قَبْلَهَا رَاحِلَتَيْنِ قَطُّ حَتَّى جَمَعْتُهُمَا فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ فَغَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَرٍّ شَدِيدٍ وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا وَمَفَازًا وَاسْتَقْبَلَ عَدُوًّا كَثِيرًا فَجَلاَ لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ غَزْوِهِمْ فَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِمُ الَّذِي يُرِيدُ وَالْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَثِيرٌ وَلاَ يَجْمَعُهُمْ كِتَابُ حَافِظٍ - يُرِيدُ بِذَلِكَ الدِّيوَانَ - قَالَ كَعْبٌ فَقَلَّ رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَتَغَيَّبَ يَظُنُّ أَنَّ ذَلِكَ سَيَخْفَى لَهُ مَا لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ وَحْىٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تِلْكَ الْغَزْوَةَ حِينَ طَابَتِ الثِّمَارُ وَالظِّلاَلُ فَأَنَا إِلَيْهَا أَصْعَرُ فَتَجَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ وَطَفِقْتُ أَغْدُو لِكَىْ أَتَجَهَّزَ مَعَهُمْ فَأَرْجِعُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا . وَأَقُولُ فِي نَفْسِي أَنَا قَادِرٌ عَلَى ذَلِكَ إِذَا أَرَدْتُ . فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ يَتَمَادَى بِي حَتَّى اسْتَمَرَّ بِالنَّاسِ الْجِدُّ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَادِيًا وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ وَلَمْ أَقْضِ مِنْ جَهَازِي شَيْئًا ثُمَّ غَدَوْتُ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ يَتَمَادَى بِي حَتَّى أَسْرَعُوا وَتَفَارَطَ الْغَزْوُ فَهَمَمْتُ أَنْ أَرْتَحِلَ فَأُدْرِكَهُمْ فَيَا لَيْتَنِي فَعَلْتُ ثُمَّ لَمْ يُقَدَّرْ ذَلِكَ لِي فَطَفِقْتُ إِذَا خَرَجْتُ فِي النَّاسِ بَعْدَ خُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحْزُنُنِي أَنِّي لاَ أَرَى لِي أُسْوَةً إِلاَّ رَجُلاً مَغْمُوصًا عَلَيْهِ فِي النِّفَاقِ أَوْ رَجُلاً مِمَّنْ عَذَرَ اللَّهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ وَلَمْ يَذْكُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَلَغَ تَبُوكًا فَقَالَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْقَوْمِ بِتَبُوكَ " مَا فَعَلَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ " . قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَبَسَهُ بُرْدَاهُ وَالنَّظَرُ فِي عِطْفَيْهِ . فَقَالَ لَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ بِئْسَ مَا قُلْتَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ إِلاَّ خَيْرًا . فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَيْنَمَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ رَأَى رَجُلاً مُبَيِّضًا يَزُولُ بِهِ السَّرَابُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُنْ أَبَا خَيْثَمَةَ " . فَإِذَا هُو أَبُو خَيْثَمَةَ الأَنْصَارِيُّ وَهُوَ الَّذِي تَصَدَّقَ بِصَاعِ التَّمْرِ حِينَ لَمَزَهُ الْمُنَافِقُونَ . فَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ تَوَجَّهَ قَافِلاً مِنْ تَبُوكَ حَضَرَنِي بَثِّي فَطَفِقْتُ أَتَذَكَّرُ الْكَذِبَ وَأَقُولُ بِمَ أَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ غَدًا وَأَسْتَعِينُ عَلَى ذَلِكَ كُلَّ ذِي رَأْىٍ مِنْ أَهْلِي فَلَمَّا قِيلَ لِي إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَظَلَّ قَادِمًا زَاحَ عَنِّي الْبَاطِلُ حَتَّى عَرَفْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْهُ بِشَىْءٍ أَبَدًا فَأَجْمَعْتُ صِدْقَهُ وَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَادِمًا وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ جَاءَهُ الْمُخَلَّفُونَ فَطَفِقُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ وَيَحْلِفُونَ لَهُ وَكَانُوا بِضْعَةً وَثَمَانِينَ رَجُلاً فَقَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلاَنِيَتَهُمْ وَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ وَوَكَلَ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللَّهِ حَتَّى جِئْتُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ ثُمَّ قَالَ " تَعَالَ " . فَجِئْتُ أَمْشِي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لِي " مَا خَلَّفَكَ " . أَلَمْ تَكُنْ قَدِ ابْتَعْتَ ظَهْرَكَ " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا لَرَأَيْتُ أَنِّي سَأَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ بِعُذْرٍ وَلَقَدْ أُعْطِيتُ جَدَلاً وَلَكِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ حَدِيثَ كَذِبٍ تَرْضَى بِهِ عَنِّي لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يُسْخِطَكَ عَلَىَّ وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ حَدِيثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَىَّ فِيهِ إِنِّي لأَرْجُو فِيهِ عُقْبَى اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كَانَ لِي عُذْرٌ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَقْوَى وَلاَ أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْكَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ فَقُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيكَ " . فَقُمْتُ وَثَارَ رِجَالٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَاتَّبَعُونِي فَقَالُوا لِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْنَاكَ أَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَبْلَ هَذَا لَقَدْ عَجَزْتَ فِي أَنْ لاَ تَكُونَ اعْتَذَرْتَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا اعْتَذَرَ بِهِ إِلَيْهِ الْمُخَلَّفُونَ فَقَدْ كَانَ كَافِيَكَ ذَنْبَكَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَكَ . قَالَ فَوَاللَّهِ مَا زَالُوا يُؤَنِّبُونَنِي حَتَّى أَرَدْتُ أَنْ أَرْجِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُكَذِّبَ نَفْسِي - قَالَ - ثُمَّ قُلْتُ لَهُمْ هَلْ لَقِيَ هَذَا مَعِي مِنْ أَحَدٍ قَالُوا نَعَمْ لَقِيَهُ مَعَكَ رَجُلاَنِ قَالاَ مِثْلَ مَا قُلْتَ فَقِيلَ لَهُمَا مِثْلُ مَا قِيلَ لَكَ - قَالَ - قُلْتُ مَنْ هُمَا قَالُوا مُرَارَةُ بْنُ رَبِيعَةَ الْعَامِرِيُّ وَهِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيُّ - قَالَ - فَذَكَرُوا لِي رَجُلَيْنِ صَالِحَيْنِ قَدْ شِهِدَا بَدْرًا فِيهِمَا أُسْوَةٌ - قَالَ - فَمَضَيْتُ حِينَ ذَكَرُوهُمَا لِي . قَالَ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلاَمِنَا أَيُّهَا الثَّلاَثَةُ مِنْ بَيْنِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ - قَالَ - فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ - وَقَالَ - تَغَيَّرُوا لَنَا حَتَّى تَنَكَّرَتْ لِي فِي نَفْسِيَ الأَرْضُ فَمَا هِيَ بِالأَرْضِ الَّتِي أَعْرِفُ فَلَبِثْنَا عَلَى ذَلِكَ خَمْسِينَ لَيْلَةً فَأَمَّا صَاحِبَاىَ فَاسْتَكَانَا وَقَعَدَا فِي بُيُوتِهِمَا يَبْكِيَانِ وَأَمَّا أَنَا فَكُنْتُ أَشَبَّ الْقَوْمِ وَأَجْلَدَهُمْ فَكُنْتُ أَخْرُجُ فَأَشْهَدُ الصَّلاَةَ وَأَطُوفُ فِي الأَسْوَاقِ وَلاَ يُكَلِّمُنِي أَحَدٌ وَآتِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي مَجْلِسِهِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَأَقُولُ فِي نَفْسِي هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِرَدِّ السَّلاَمِ أَمْ لاَ ثُمَّ أُصَلِّي قَرِيبًا مِنْهُ وَأُسَارِقُهُ النَّظَرَ فَإِذَا أَقْبَلْتُ عَلَى صَلاَتِي نَظَرَ إِلَىَّ وَإِذَا الْتَفَتُّ نَحْوَهُ أَعْرَضَ عَنِّي حَتَّى إِذَا طَالَ ذَلِكَ عَلَىَّ مِنْ جَفْوَةِ الْمُسْلِمِينَ مَشَيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَىَّ السَّلاَمَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا قَتَادَةَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَنَّ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ فَسَكَتَ فَعُدْتُ فَنَاشَدْتُهُ فَسَكَتَ فَعُدْتُ فَنَاشَدْتُهُ فَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . فَفَاضَتْ عَيْنَاىَ وَتَوَلَّيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ الْجِدَارَ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي فِي سُوقِ الْمَدِينَةِ إِذَا نَبَطِيٌّ مِنْ نَبَطِ أَهْلِ الشَّامِ مِمَّنْ قَدِمَ بِالطَّعَامِ يَبِيعُهُ بِالْمَدِينَةِ يَقُولُ مَنْ يَدُلُّ عَلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - قَالَ - فَطَفِقَ النَّاسُ يُشِيرُونَ لَهُ إِلَىَّ حَتَّى جَاءَنِي فَدَفَعَ إِلَىَّ كِتَابًا مِنْ مَلِكِ غَسَّانَ وَكُنْتُ كَاتِبًا فَقَرَأْتُهُ فَإِذَا فِيهِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنَا أَنَّ صَاحِبَكَ قَدْ جَفَاكَ وَلَمْ يَجْعَلْكَ اللَّهُ بِدَارِ هَوَانٍ وَلاَ مَضْيَعَةٍ فَالْحَقْ بِنَا نُوَاسِكَ . قَالَ فَقُلْتُ حِينَ قَرَأْتُهَا وَهَذِهِ أَيْضًا مِنَ الْبَلاَءِ . فَتَيَامَمْتُ بِهَا التَّنُّورَ فَسَجَرْتُهَا بِهَا حَتَّى إِذَا مَضَتْ أَرْبَعُونَ مِنَ الْخَمْسِينَ وَاسْتَلْبَثَ الْوَحْىُ إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْتِينِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ . قَالَ فَقُلْتُ أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ قَالَ لاَ بَلِ اعْتَزِلْهَا فَلاَ تَقْرَبَنَّهَا - قَالَ - فَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَىَّ بِمِثْلِ ذَلِكَ - قَالَ - فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِي الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِي هَذَا الأَمْرِ - قَالَ - فَجَاءَتِ امْرَأَةُ هِلاَلِ بْنِ أُمَيَّةَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ شَيْخٌ ضَائِعٌ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ فَهَلْ تَكْرَهُ أَنْ أَخْدُمَهُ قَالَ " لاَ وَلَكِنْ لاَ يَقْرَبَنَّكِ " . فَقَالَتْ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا بِهِ حَرَكَةٌ إِلَى شَىْءٍ وَوَاللَّهِ مَا زَالَ يَبْكِي مُنْذُ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ إِلَى يَوْمِهِ هَذَا . قَالَ فَقَالَ لِي بَعْضُ أَهْلِي لَوِ اسْتَأْذَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي امْرَأَتِكَ فَقَدْ أَذِنَ لاِمْرَأَةِ هِلاَلِ بْنِ أُمَيَّةَ أَنْ تَخْدُمَهُ - قَالَ - فَقُلْتُ لاَ أَسْتَأْذِنُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا يُدْرِينِي مَاذَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اسْتَأْذَنْتُهُ فِيهَا وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ - قَالَ - فَلَبِثْتُ بِذَلِكَ عَشْرَ لَيَالٍ فَكَمُلَ لَنَا خَمْسُونَ لَيْلَةً مِنْ حِينَ نُهِيَ عَنْ كَلاَمِنَا - قَالَ - ثُمَّ صَلَّيْتُ صَلاَةَ الْفَجْرِ صَبَاحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عَلَى الْحَالِ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَّا قَدْ ضَاقَتْ عَلَىَّ نَفْسِي وَضَاقَتْ عَلَىَّ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَى عَلَى سَلْعٍ يَقُولُ بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ أَبْشِرْ - قَالَ - فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنْ قَدْ جَاءَ فَرَجٌ . - قَالَ - فَآذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ بِتَوْبَةِ اللَّهِ عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى صَلاَةَ الْفَجْرِ فَذَهَبَ النَّاسُ يُبَشِّرُونَنَا فَذَهَبَ قِبَلَ صَاحِبَىَّ مُبَشِّرُونَ وَرَكَضَ رَجُلٌ إِلَىَّ فَرَسًا وَسَعَى سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ قِبَلِي وَأَوْفَى الْجَبَلَ فَكَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ مِنَ الْفَرَسِ فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي فَنَزَعْتُ لَهُ ثَوْبَىَّ فَكَسَوْتُهُمَا إِيَّاهُ بِبِشَارَتِهِ وَاللَّهِ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهُمَا يَوْمَئِذٍ وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَيْنِ . فَلَبِسْتُهُمَا فَانْطَلَقْتُ أَتَأَمَّمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَلَقَّانِي النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا يُهَنِّئُونِي بِالتَّوْبَةِ وَيَقُولُونَ لِتَهْنِئْكَ تَوْبَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ . حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحَوْلَهُ النَّاسُ فَقَامَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي وَهَنَّأَنِي وَاللَّهِ مَا قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ غَيْرُهُ . قَالَ فَكَانَ كَعْبٌ لاَ يَنْسَاهَا لِطَلْحَةَ . قَالَ كَعْبٌ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهُوَ يَبْرُقُ وَجْهُهُ مِنَ السُّرُورِ وَيَقُولُ " أَبْشِرْ بِخَيْرِ يَوْمٍ مَرَّ عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ " . قَالَ فَقُلْتُ أَمِنْ عِنْدِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَقَالَ " لاَ بَلْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ " . وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ كَأَنَّ وَجْهَهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ - قَالَ - وَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ - قَالَ - فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ " . قَالَ فَقُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِيَ الَّذِي بِخَيْبَرَ - قَالَ - وَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ إِنَّمَا أَنْجَانِي بِالصِّدْقِ وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ لاَ أُحَدِّثَ إِلاَّ صِدْقًا مَا بَقِيتُ - قَالَ - فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَبْلاَهُ اللَّهُ فِي صِدْقِ الْحَدِيثِ مُنْذُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى يَوْمِي هَذَا أَحْسَنَ مِمَّا أَبْلاَنِي اللَّهُ بِهِ وَاللَّهِ مَا تَعَمَّدْتُ كَذْبَةً مُنْذُ قُلْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى يَوْمِي هَذَا وَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَحْفَظَنِيَ اللَّهُ فِيمَا بَقِيَ . قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ * وَعَلَى الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ} حَتَّى بَلَغَ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} قَالَ كَعْبٌ وَاللَّهِ مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنْ نِعْمَةٍ قَطُّ بَعْدَ إِذْ هَدَانِي اللَّهُ لِلإِسْلاَمِ أَعْظَمَ فِي نَفْسِي مِنْ صِدْقِي رَسُولَ اللَّهُ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ أَكُونَ كَذَبْتُهُ فَأَهْلِكَ كَمَا هَلَكَ الَّذِينَ كَذَبُوا إِنَّ اللَّهَ قَالَ لِلَّذِينَ كَذَبُوا حِينَ أَنْزَلَ الْوَحْىَ شَرَّ مَا قَالَ لأَحَدٍ وَقَالَ اللَّهُ { سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ * يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ} قَالَ كَعْبٌ كُنَّا خُلِّفْنَا أَيُّهَا الثَّلاَثَةُ عَنْ أَمْرِ أُولَئِكَ الَّذِينَ قَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ حَلَفُوا لَهُ فَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ وَأَرْجَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمْرَنَا حَتَّى قَضَى اللَّهُ فِيهِ فَبِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَعَلَى الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا} وَلَيْسَ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ مِمَّا خُلِّفْنَا تَخَلُّفَنَا عَنِ الْغَزْوِ وَإِنَّمَا هُوَ تَخْلِيفُهُ إِيَّانَا وَإِرْجَاؤُهُ أَمْرَنَا عَمَّنْ حَلَفَ لَهُ وَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَبِلَ مِنْهُ . وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَوَاءً .
عُقیل بن ابن شہاب سے یونس کی سند کے ساتھ زہری سے بالکل اسی طرح روایت کی ۔
صحیح مسلم : ۸۹
Sahih
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، - وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ حِينَ أُصِيبَ بَصَرُهُ وَكَانَ أَعْلَمَ قَوْمِهِ وَأَوْعَاهُمْ لأَحَادِيثِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ يُحَدِّثُ أَنَّهُ لَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا قَطُّ غَيْرَ غَزْوَتَيْنِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَاسٍ كَثِيرٍ يَزِيدُونَ عَلَى عَشْرَةِ آلاَفٍ وَلاَ يَجْمَعُهُمْ دِيوَانُ حَافِظٍ .
معقل بن عبیداللہ نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے اپنے چچا عبیداللہ بن کعب سے روایت کی اور جب حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی آنکھیں جاتی رہیں تو وہی ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کی رہنما کرتے تھے ۔ وہ اپنی قوم میں سب سے بڑے عالم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی احادیث کے سب سے بڑے حافظ تھے ، انہوں نے کہا : میں نے اپنے والد حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ ان تین لوگوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول کی گئی ، وہ حدیث بیان کرتے تھے کہ وہ دو غزووں کو چھوڑ کر کبھی کسی غزوے میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑا ، آپ سے پیچھے نہیں رہے ۔ انہوں نے ( سابقہ حدیث کی طرح ) حدیث بیان کی اور اس میں کہا : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی بہت بڑی تعداد کے ساتھ ، جو دس ہزار سے زیادہ تھے اور کسی محفوظ رکھنے والے کے دیوان ( رجسٹر ) میں ان سب کے نام درج نہ تھے ، اس جنگ کے لیے نکلے ۔
صحیح مسلم : ۹۰
Sahih
حبان ب. حدثنا موسى. (قال): عبد الله ب. أخبرنا مبارك. (قال): يونس ب. أخبرنا يزيد العيلي. إسحاق ب. إبراهيم الحنظلي، محمد ب. رافع، وعبد بن. وروى حميد أيضاً. (استخدم ابن رافع "حدسناً" وقال الآخرون: أخبرنا عبد الرزاق. قال): أخبرنا معمر. السياق حديث معمر من رواية عبد وابن رافع. وقال يونس ومعمر عن الزهري. (قال الزهري): سعيد بن. المسيب، عروة ب. الزبير، علقمة ب. وقاص، وعبيد الله ب. عبد الله ب. عتبة ب. روى مسعود عن عائشة رضي الله عنها، زوجة النبي صلى الله عليه وسلم، أنه لما قال لها المفترون ما قالوه، وبرأها الله من تهمهم، جاءني جميع الرواة بجزء من حديثها. وكان بعضهم أحفظ حديثها من بعض، فكانت روايته أصح. فحفظت الحديث الذي روته لي عن كل واحد منهم. وتؤيد الأحاديث بعضها بعضًا. وبحسب ما قالته عائشة رضي الله عنها، زوجة النبي صلى الله عليه وسلم، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أراد أن يخرج في غزوة، كان يقرع بين نسائه، فمن وقعت عليها القرعة خرج معها رسول الله صلى الله عليه وسلم. وقالت: لقد قرعت بيننا في غزوة كانت ستخوضها، فوقعت عليّ القرعة، فخرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم. وكان ذلك بعد نزول آية الحجاب. كنتُ راكبةً على الجمل داخل هودجي، ونزلتُ منه عند وصولنا. ولما انتهى رسول الله صلى الله عليه وسلم من حملته وعاد، وكنا نقترب من المدينة، أعلن عن مسيرة ليلية. فلما أعلن المسيرة، نهضتُ على الفور وسرتُ، حتى أنني سبقتُ الجيش. ولما قضيتُ حاجتي، ذهبتُ إلى أغراضي. لمستُ صدري فرأيتُ أن قلادتي المصنوعة من حبات الزعفران قد انقطعت. فالتفتُّ على الفور وبحثتُ عنها. وقد منعني البحث عنها من المضيّ. أما المجموعة التي حمّلت سرجي فقد حمّلت هودجي وانصرفت. وحمّلته على الجمل الذي كنتُ راكبةً عليه. ظنّوا أنني بداخله أيضًا. قال: في ذلك الوقت، كانت النساء ذوات بشرة فاتحة. لم يكنّ قد سمنّ، ولم تكن أجسادهنّ مغطاة باللحم. كنّ يأكلن القليل من الطعام. حمّل الجمع الهودج على الجمل ورفعوها دون أن يسألوا عن وزنها. كنتُ فتاةً صغيرةً رقيقة. طار الجمل بعيدًا. وجدتُ قلادتي بعد رحيل الجيش. ثم وصلتُ إلى المكان الذي كانوا فيه، فلم أجد أحدًا يناديني أو يجيبني. عدتُ إلى مكاني، ظنًا مني أن الجماعة ستبحث عني وتعود. وبينما كنتُ جالسة، شعرتُ بالنعاس وغفوت. استراح صفوان بن معطل السلام لاحقًا خلف جيش زكوان. وفي نهاية الليل، انطلق في الطريق، وقضى الليلة حيث كنتُ، فرأى خيال شخص نائم. فأتى إليّ على الفور وعرفني؛ بل إنه رآني قبل أن يُفرض عليّ ارتداء الحجاب. ولما عرفني، استيقظتُ على استرجائه. وغطيتُ وجهي على الفور بحجابي. والله، لم ينطق بكلمة. لم أسمع منه شيئًا سوى استرجائه. ثم أنزل جمله، وداس على رجله الأمامية، فركبتُ الجمل. وقادني على جملي وانطلقنا. وأخيرًا، لحقنا بالجيش بعد أن خيّموا حين اشتدّ حرّ الظهيرة. حينها، كان ما قُدّر لي قد تمّ. تولّى عبد الله بن أبيّ بن سلول معظم هذه المهمة. بعد ذلك، وصلنا إلى المدينة المنورة. ولما وصلنا، كنت مريضًا لمدة شهر. كان الناس ينشرون كلام المُفترين. لم أشعر بشيء من ذلك. لكن خلال مرضي، أثار شكوكي عدم رؤيتي نفس اللطف من رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي رأيته من قبل حين كنت مريضًا. كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدخل، يُسلّم، ثم يقول: [يقول شيئًا]. وهذا أيضًا أثار شكوكي. لكنني لم أشعر بأي ضغينة. أخيرًا، بعد أن شفيت، خرجت. وذهبت معي أم مسته إلى مناسي. كان هذا المكان مرحاضنا. كنا نخرج فقط في الليل. حدث هذا قبل أن نبني المراحيض قرب بيوتنا. كانت عادتنا في المراحيض عادة العرب الأوائل، وكنا نجد صعوبة في بنائها بجوار بيوتنا. مشينا أنا وأم مسته، وهي ابنة أبي رم بن مطلب بن عبدي مناف، وأمها ابنة سحر بن عامر، عمة أبي بكر الصديق. وابن أم مسته هو مسته بن أساسة بن عباد بن مطلفة. وبعد أن قضينا أنا وبنت أبي رم حاجتنا، توجهنا نحو بيتي. فدست أم مسته على نقابها وقالت: "لعنة مسته!" فقلت لها: "يا لكِ من امرأة عظيمة! أتلعنين رجلاً كان في بدر؟" فقالت: "يا امرأة، ألم تسمعي ما قاله؟" فسألتها: "ماذا قال؟" فأخبرتني بما قاله المفترون، فازداد مرضي سوءًا. عندما عدتُ إلى المنزل، دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم وسلم عليّ، ثم سألني: "أتأذنين لي بالذهاب إلى والديّ؟" فقلت: "أردتُ في تلك اللحظة أن أفهم الخبر منهما جيدًا". فأذن لي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذهبتُ إلى والديّ وقلتُ لأمي: "يا أمي! ما يقول الناس؟" فقالت أمي: "يا ابنتي، اهدئي! والله، ما أقلّ امرأة جميلة متزوجة من رجل يحبها، وإن كان لها أزواج، إلا وتكلمت عليهم بسوء". فقلت: "سبحان الله! هل يقول الناس هذا حقًا؟" ثم بكيتُ تلك الليلة، وقضيتُها أبكي بلا انقطاع، ولم أنم. ثم قضيتُها أبكي مرة أخرى. ولما انقطع الوحي، دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم علي بن أبي طالب وأسامة بن زيد ليستشيراه في أمر فراق أهله. قال أسامة بن زيد، مُظهِرًا معرفته ببراءة أهله ومحبته لهم، لرسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا رسول الله، هؤلاء أهلك، لا نعلم إلا الخير». أما علي بن أبي طالب فقال: «لن يُصيبك الله بضيق، فهناك نساء كثيرات غيرها، ولو سألت الجارية لصدقتك». عندئذٍ دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بريرة وسأله: «بريرة، هل رأيت في عائشة ما يُثير الشك فيك؟» فقال له بريرة: «والله الذي بعثك بالحق، ما رأيت فيه ما أُعيبه، ولكنه شاب يافع، ينام على عجينه الذي يعجنه لأهله، وتأتي الغنم فتأكله». عندئذٍ، قام رسول الله صلى الله عليه وسلم وصعد المنبر، طالباً الاعتذار من عبد الله بن أبي بن سلول. قالت عائشة رضي الله عنها: "بينما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر، قال: يا أيها المسلمون! من يقبل اعتذاري من رجل ألحق بأهلي أشد الأذى؟ والله، ما أعلم بأهلي إلا خيراً، إنما دخل عليهم معي." فقام سعد بن معاذ الأنصاري وقال: "أنا أقبل اعتذارك منه يا رسول الله!" فإن كان من قبيلة الأوس، قطعنا عنقه. قال: "إن كان من إخواننا الخزرج، فأصدر الأمر وسنطيعه". ثم قام سعد بن عبادة، وكان شيخ الخزرج ورجلاً صالحاً، إلا أن حماسته أضلته. فقال لسعد بن معاذ: "لقد أخطأت! والله لا تستطيع قتله، ولا أنت قادر على قتله!". ثم قام أسيد بن حضير، وكان ابن عم سعد بن معاذ. فقال لسعد بن عبادة: "لقد أخطأت! والله لا بد أن نقتله. إنك منافق حقاً". «أنتم تقاتلون في سبيل المنافقين». فثارت القبيلتان (الأوس والخزرج)، بل وعزمتا على القتال. وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم واقفًا على المنبر، يُهدئهما حتى سكتتا، فسكت هو أيضًا. قالت عائشة: «بكيتُ ذلك اليوم، ولم تتوقف دموعي، ولم أستطع النوم. ثم بكيتُ في الليلة التالية، ولم تتوقف دموعي، ولم أستطع النوم. ظنّ والداي أن بكائي سيُفطر قلبي. وبينما كانا جالسين بجانبي وأنا أبكي، استأذنت امرأة من الأنصار بالدخول، فأذنتُ لها. فجلست المرأة وبدأت تبكي. وبينما كنا على هذه الحال، دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم وسلم علينا، ثم جلس. لم يكن قد جلس بجانبي منذ أن قيل ما قيل عني، فقد انتظر شهرًا ولم يُوحَ إليه شيء عني». لما جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم، تشهد. ثم قال: يا عائشة، إن الأمر هو أنكِ قد أتيتني بتهم كذا وكذا. فإن كنتِ بريئة، برأكِ الله. وإن كنتِ قد ارتكبتِ ذنبًا، فاستغفري الله! توبي إليه! فإن العبد إذا اعترف بذنبه ثم تاب، قبل الله توبته. قالت عائشة: لما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم من الكلام، انقطعت دموعي، ولم أشعر بقطرة واحدة. فقلت لأبي: أجب عني فيما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم! فقال أبي: والله، ما أدري ما أقول لرسول الله صلى الله عليه وسلم. ثم قلت لأمي: «أجيبيني عما قاله رسول الله صلى الله عليه وسلم!» فقلت: «والله ما أدري ما أقول لرسول الله صلى الله عليه وسلم». فقلت، مع أنني كنت صغيرًا لا أعرف الكثير من القرآن: «والله أعلم أنكِ سمعتِ ما قيل، بل ترسخ في حصونكِ وآمنتِ به. ولو قلت لكِ إني بريء - والله يعلم براءتي - لما صدقتني. ولو اعترفت لكِ بشيء - والله يعلم براءتي - لأثبتِ لي. والله ما أجد لكِ مثلاً أضربه لكِ. ولكن كما قال أبو يوسف، فإن أمري من صبر جميل. والله هو الذي يُستعان به فيما قلت». فقال: «ثم انقلبتُ على فراشي». والله، علمتُ في تلك اللحظة أنني بريئة وأن الله سيبرئني. ولكن والله، لم يخطر ببالي أن ينزل الوحي (القرآن) في شأني. لم تكن حالتي النفسية وتوقعاتي توحي بأن الله (جل جلاله وعظمته) سينزل آية عني. بل كنتُ أتوقع أن يرى رسول الله (صلى الله عليه وسلم) رؤيا في منامه، وأن الله سيبرئني من خلالها. والله، لم يكن رسول الله (صلى الله عليه وسلم) قد غادر مجلسه، ولم يخرج أحد من أهل البيت حين أنزل الله (جل جلاله وعظمته) الوحي على نبيه (صلى الله عليه وسلم). فعادت إليه تلك الشدة التي غمرته لحظة الوحي. ومن ثقل الكلمات التي أُنزلت عليه، انهمرت حبات العرق من جبينه في ذلك اليوم البارد. ولما انقضى الوحي، ابتسم رسول الله (صلى الله عليه وسلم). وكانت أولى كلماته: "يا عائشة! قال لي الله: «لقد برأك». فقالت لي أمي: «قم واذهب إليه». فقلت: «والله لا أستطيع الذهاب إليه، ولا أستطيع أن أمدح أحدًا غير الله! فهو الذي أنزل براءتي». فأنزل الله تعالى عشر آيات، بدءًا من سورة النور، الآية 11. هذه الآيات أنزلها الله تعالى بشأن براءتي. فقال أبو بكر، الذي كان ينفق على مستة لقرابتهما وفقرهما: «والله، بعد ما قاله عن عائشة، لن أعطيه شيئًا بعد الآن!». فأنزل الله تعالى الآية: «ولا يحلف أهل البيت والمال على أن لا ينصروا أهل القربى...» حتى الآية الكريمة: «ألا تحبون أن يغفر الله لكم؟». قال ابن موسى: «عبد الله بن...» قال مبارك: "هذه أكثر الآيات رجاءً في كتاب الله". قال بكر: "والله، ليغفر لي الله"، ثم عاد يُطعم مسته كما كان يُطعمه سابقًا، قائلاً: "لن أتوقف عن إطعامه أبدًا". قال: "سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم زوجته زينب بنت جحش عن أمري، فقال: هل كنتِ تعلمين أم ماذا رأيتِ؟ فأجابت: يا رسول الله، إني أحفظ أذني وعيني، والله ما أعلم إلا خيرًا". قال: "ومع ذلك، كانت هي التي تحدتني من زوجات النبي صلى الله عليه وسلم، فحفظها الله بالتقوى والصلاح. فبدأت أختها حنينة بنت جحش تُخاصمها، فماتت مع الذين هلكوا". قال: "هذا ما جاءنا من أمر هذه الأمة!". وفي الحديث، استخدم التعبير التالي: "أغضبه حماسه..."
حبان بی۔ موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ (اس نے کہا): عبداللہ بن مبارک نے ہمیں اطلاع دی۔ (اس نے کہا): یونس بن۔ ہمیں یزید العیلی نے اطلاع دی۔ اسحاق بی۔ ابراہیم الحنظلی، محمد بن۔ رافع اور عبد بن حمید نے بھی بیان کیا۔ (ابن رافع نے "حدیثنا" کا لفظ استعمال کیا، دوسروں نے کہا: ہمیں عبد الرزاق نے خبر دی، انہوں نے کہا: معمر نے ہمیں خبر دی۔ سیاق و سباق عبد اور ابن رافع کی روایت سے معمر کی حدیث ہے۔ یونس اور معمر دونوں نے زہری سے کہا۔ (زہری نے کہا): سعید بن مسیب، عروہ بی۔ زبیر، الکامہ بی۔ وقاص، اور عبید اللہ بن۔ عبداللہ بی عتبہ بی۔ مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جب طعن کرنے والوں نے وہی کہا جو انہوں نے ان سے کہا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے الزامات سے بری کر دیا تو تمام راویوں نے ان کی حدیث کا ایک حصہ مجھ سے بیان کیا۔ ان میں سے بعض نے ان کی حدیث کو دوسروں سے بہتر حفظ کیا تھا اور اس کی روایت زیادہ معتبر تھی۔ میں نے ان میں سے ہر ایک سے جو حدیث بیان کی تھی وہ مجھے یاد تھی۔ احادیث ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ ان کے کہنے کے مطابق، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر پر جانا چاہتے تو اپنی ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ ڈالتے تھے۔ جس پر بھی قرعہ اندازی ہوتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ غزوہ میں تشریف لے جاتے۔ اس نے کہا: اس نے ہمارے درمیان اس جنگ کے لیے قرعہ ڈالا جو وہ لڑنے والی تھی، اور قرعہ مجھ پر پڑا۔ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر نکلا۔ یہ پردہ کے بارے میں آیت کے نازل ہونے کے بعد ہوا۔ مجھے پالکی کے اندر اونٹ پر سوار کیا گیا، اور اس سے اپنی منزل پر اتار دیا گیا۔ آخر کار جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مہم ختم کر کے واپس تشریف لائے اور ہم مدینہ کے قریب پہنچ رہے تھے تو آپ نے رات کے مارچ کا اعلان کیا۔ جب اس نے مارچ کا اعلان کیا تو میں فوراً اٹھا اور چل پڑا، یہاں تک کہ فوج کو پیچھے چھوڑ دیا۔ جب میں نے خود کو فارغ کیا تو میں اپنے سامان کی طرف چلا گیا۔ میں نے اپنے سینے کو چھو کر دیکھا کہ زعفرانی موتیوں سے بنا میرا ہار ٹوٹ چکا تھا۔ میں فوراً پیچھے مڑا اور اپنا ہار تلاش کرنے لگا۔ اس کی تلاش نے مجھے جانے سے روک دیا۔ جس گروہ نے میری کاٹھی لادی تھی وہ میری پالکی لاد کر چلا گیا۔ انہوں نے اسے اس اونٹ پر لاد دیا جس پر میں سوار تھا۔ ان کا خیال تھا کہ میں بھی اس کے اندر ہوں۔ فرمایا: اس وقت عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں۔ وہ موٹے نہیں ہوئے تھے، ان کے جسم گوشت سے ڈھکے ہوئے نہیں تھے۔ وہ صرف تھوڑا سا کھانا کھا رہے تھے۔ جماعت نے پالکیوں کو اونٹ پر لاد کر وزن کا سوال کیے بغیر اٹھا لیا۔ میں ایک جوان، نرم لڑکی تھی۔ انہوں نے اونٹ کو بھگا دیا۔ مجھے اپنا ہار فوج کے جانے کے بعد ملا۔ پھر مَیں اُس جگہ پہنچا جہاں وہ تھے، صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ کوئی مجھے پکارتا یا جواب نہیں دیتا۔ میں وہیں واپس چلا گیا جہاں میں تھا، یہ سوچ کر کہ جماعت مجھے ڈھونڈے گی اور واپس آئے گی۔ وہیں بیٹھے بیٹھے مجھے نیند آئی اور نیند آ گئی۔ صفوان بن معطل السلم بعد میں ذکوان کی فوج کے پیچھے آرام کر لیا۔ رات کے آخر میں، وہ سڑک پر نکلا، رات وہیں گزاری جہاں میں تھا، اور ایک سوئے ہوئے شخص کا سایہ دیکھا۔ وہ فوراً میرے پاس آیا اور مجھے پہچان لیا۔ درحقیقت اس نے مجھ پر نقاب پہننے کے فرض ہونے سے پہلے مجھے دیکھا تھا۔ جب اس نے مجھے پہچان لیا تو میں اس کے استرجاء (حفاظت کی دعا) سے بیدار ہوا۔ اور میں نے فوراً اپنے چہرے کو نقاب سے ڈھانپ لیا۔ اللہ کی قسم اس نے مجھ سے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ میں نے ان سے استرجا کے علاوہ کچھ نہیں سنا۔ اس نے اپنے اونٹ کو گھٹنے ٹیک دیا۔ اس نے اپنی اگلی ٹانگ پر قدم رکھا اور میں نے اونٹ پر سوار کیا۔ اور اس نے مجھے اپنے اونٹ پر بٹھایا اور ہم روانہ ہوگئے۔ آخر کار، جب دوپہر کی گرمی شدید ہو گئی تو ہم نے فوج کے ساتھ ڈیرے ڈال لیے۔ تب تک جو میرے مقدر میں تھا وہ ہو گیا۔ عبداللہ بن ابی بن سلول نے اس کام کی اکثریت اپنے سر لے لی تھی۔ اس کے بعد ہم مدینہ منورہ پہنچے۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو میں ایک ماہ سے بیمار تھا۔ لوگ تہمت لگانے والوں کی باتیں پھیلا رہے تھے۔ مجھے اس سے کچھ محسوس نہیں ہوا۔ لیکن اپنی بیماری کے دوران یہ حقیقت کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ مہربانی نہیں دیکھی جو میں نے اس سے پہلے بیمار ہونے پر دیکھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف داخل ہوتے، سلام پھیرتے، پھر کہتے: [وہ کچھ کہتا]۔ اس نے مجھے بھی مشکوک بنا دیا۔ لیکن مجھے کوئی شرارت محسوس نہیں ہوئی۔ آخر کار صحت یاب ہونے کے بعد میں باہر چلا گیا۔ ام مسطح بھی میرے ساتھ مناسی کی طرف چلی گئی۔ یہ جگہ ہماری لیٹرین تھی۔ ہم صرف رات کو نکلے تھے۔ یہ واقعہ اس سے پہلے پیش آیا جب ہم نے اپنے گھروں کے قریب بیت الخلا بنائے۔ لیٹرین کے حوالے سے ہمارا رواج ابتدائی عربوں کا رواج تھا۔ ہمیں اپنے گھروں کے قریب بیت الخلاء بنانے میں تکلیف محسوس ہوئی۔ ام مسطح اور میں چل پڑے۔ یہ عورت ابورحم بن کی بیٹی ہے۔ مطلب ب۔ عبدی مناف۔ اس کی والدہ سحر بی کی بیٹی ہیں۔ امیر ابوبکر صدیق کی خالہ۔ ام مستح کے بیٹے کا نام مسطح ہے۔ Usasa b. آباد بی۔ متلیفہ۔ پھر جب میں اور بنت ابو رحمہ نے آرام کیا تو ہم اپنے گھر کی طرف چل پڑے۔ پھر ام مسطح نے اپنے پردے پر قدم رکھا اور کہا: "مستعہ پر لعنت ہو!" میں نے اس سے کہا: "تم نے کیا بری بات کہی ہے! کیا تم بدر میں اس شخص پر لعنت بھیج رہے ہو؟" اس نے کہا: "عورت، کیا تم نے نہیں سنا کہ اس نے کیا کہا؟" میں نے پوچھا: اس نے کیا کہا؟ اس پر اس نے مجھے ان طعنوں سے آگاہ کیا۔ اور میری بیماری کئی گنا بڑھ گئی۔ جب میں گھر واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور مجھے سلام کیا۔ پھر پوچھا کہ کیا تم مجھے اپنے والدین کے پاس جانے کی اجازت دو گے؟ میں نے کہا، "اس وقت، میں نے ان کی خبروں کو ٹھیک طرح سے سمجھنا چاہا۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ چنانچہ میں اپنے والدین کے پاس گیا اور اپنی ماں سے کہا کہ اے میری ماں! لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟ میری والدہ نے کہا اے میری بیٹی، پرسکون ہو جا، اللہ کی قسم بہت کم ایسی خوبصورت عورتیں ہیں جن کی شادی ایسے مرد سے ہوئی ہے جو ان سے محبت کرتا ہو، چاہے ان کے شریک ہوں، پھر بھی وہ ان کے بارے میں برا نہیں کہتیں۔ میں نے کہا، "سبحان اللہ! کیا واقعی لوگوں نے ایسا کہا؟" پھر میں اس رات رو پڑا۔ میں نے رات روتے ہوئے گزاری کہ میری آنکھیں نہیں رکیں اور بغیر نیند آئے۔ پھر میں نے رات روتے ہوئے گزاری۔ جب وحی کا سلسلہ بند ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ابن ابی طالب اور اسامہ بن زید کو اپنے اہل خانہ سے علیحدگی کے بارے میں مشورہ کرنے کے لیے بلایا۔ اسامہ بن زید نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ وہ اپنے گھر والوں کی بے گناہی کو جانتے تھے اور ان سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! وہ آپ کے اہل خانہ ہیں، ہم خیر کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ جہاں تک علی ابن ابی طالب کا تعلق ہے تو آپ نے فرمایا: "اللہ تمہیں تکلیف میں نہیں ڈالے گا، اس کے علاوہ اور بھی بہت سی عورتیں ہیں، اگر تم لونڈی سے پوچھو تو وہ تمہیں سچ بتائے گی۔" اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو بلایا اور پوچھا: بریرہ! کیا تم نے عائشہ کے بارے میں کوئی ایسی چیز دیکھی ہے جس سے تمہیں شک ہو؟ بریرہ نے اس سے کہا: "مجھے اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے اس میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس کی وجہ سے میں اس پر عیب لگا سکوں۔ البتہ وہ ایک جوان ہے، محض جوانی ہے۔ وہ اپنے گھر والوں کے لیے جو آٹا گوندھتا ہے اس پر سوتا ہے، اور بھیڑیں آ کر اسے کھا جاتی ہیں۔" اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور عبداللہ بن ابی بن سلول سے معافی مانگتے ہوئے منبر پر تشریف لے گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے مسلمانوں کی جماعت، اس شخص کی طرف سے میری معافی کون قبول کرے گا جس نے میرے اہل و عیال کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہو، اللہ کی قسم میں اپنے اہل و عیال کے بارے میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتی، وہ صرف میرے ساتھ ان کی موجودگی میں داخل ہوا۔“ اس پر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کی طرف سے یا رسول اللہ! اگر وہ اوس قبیلہ سے ہے تو ہم اس کی گردن کاٹ دیں گے۔ اگر وہ ہمارے بھائی خزرج میں سے ہے تو آپ حکم دیں، ہم آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے، اس کے بعد سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اٹھے، یہ شخص قبیلہ خزرج کا سردار اور نیک آدمی تھا، لیکن اس کے جوش نے اسے جاہل بنا دیا تھا، اس نے سعد بن معاذ سے کہا: تم نے غلطی کی ہے! میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم اسے قتل نہیں کر سکتے اور نہ ہی تم اسے قتل کرنے پر قادر ہو!" اس کے بعد اسید بن حضیر اٹھے، یہ شخص سعد بن معاذ کا چچا زاد بھائی تھا، اس نے سعد بن عبادہ سے کہا: "تم نے غلطی کی! میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہم اسے ضرور قتل کریں گے۔ تم واقعی منافق ہو۔ تم منافقین کی طرف سے لڑ رہے ہو" اور دو قبیلے (یعنی اوس اور خزرج) اٹھ کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ انہوں نے لڑنے کا ارادہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تسلی دیتے رہے، یہاں تک کہ وہ خاموش ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاموش ہو گئے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس دن روئی تھی۔ میرے آنسو نہیں رکے، اور میں سو نہیں سکا۔ پھر اگلی رات میں پھر رو پڑا۔ میرے آنسو نہیں رکے، اور میں سو نہیں سکا۔ میری ماں اور باپ نے سوچا کہ میرا رونا میرا دل پھاڑ دے گا۔ جب وہ میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میں رو رہا تھا کہ انصار کی ایک عورت نے اندر جانے کی اجازت چاہی۔ میں نے اسے اجازت دے دی۔ عورت بیٹھ گئی اور رونے لگی۔ ہم اسی حالت میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمیں سلام کیا۔ پھر وہ بیٹھ گیا۔ جب سے میرے بارے میں کہا گیا تھا وہ میرے پاس نہیں بیٹھا تھا۔ اس نے ایک مہینہ انتظار کیا تھا، اور میرے بارے میں اس پر کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے تو تشہد پڑھا، پھر فرمایا: "اے عائشہ، حال یہ ہے کہ مجھ پر تمہاری طرف سے فلاں فلاں الزام آیا ہے۔ اگر تم بے گناہ ہو تو اللہ تمہیں بری کر دے گا۔ اگر آپ نے کوئی گناہ کیا ہے تو اللہ سے معافی مانگیں! اس سے توبہ کرو! کیونکہ اگر کوئی بندہ گناہ کا اقرار کر کے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بات ختم کی تو میرے آنسو رک گئے۔ مجھے اب ایک قطرہ بھی محسوس نہیں ہوا۔ میں نے اپنے والد سے کہا: میری طرف سے جواب دو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا! میرے والد نے کہا: 'خدا کی قسم، میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کہوں؟' (پھر) میں نے اپنی والدہ سے کہا: میری طرف سے اس کا جواب دو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، میں نے کہا، تو انہوں نے جواب دیا، "خدا کی قسم، میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہوں" اس پر اگرچہ میں چھوٹا تھا اور قرآن کا زیادہ حصہ نہیں جانتا تھا، میں نے جو کہا، اللہ تعالیٰ نے جو کہا، میں نے اسے اچھی طرح سنا ہے۔ یہ تمہارے قلعوں میں بھی جڑ پکڑ چکا ہے، اور تم اس پر یقین کر چکے ہو۔ اگر میں تم سے کہوں کہ میں بے قصور ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں بے قصور ہوں تو تم میری بات پر یقین نہیں کرو گے۔ اگر میں آپ کے سامنے کسی بات کا اقرار کروں اور اللہ جانتا ہے کہ میں بے قصور ہوں تو آپ میری تصدیق کریں گے۔ اللہ کی قسم مجھے آپ کے لیے کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم، جیسا کہ جوزف کے والد نے کہا، میرا معاملہ ایک خوبصورت صبر کا ہے۔ اللہ ہی ہے جس سے آپ کی باتوں کے بارے میں مدد مانگی جاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں پلٹا اور اپنے بستر پر لیٹ گیا۔ اور اللہ کی قسم میں اس وقت جانتا تھا کہ میں بے گناہ ہوں اور اللہ مجھے بری کر دے گا۔ لیکن خدا کی قسم میں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ میرے بارے میں وحی نازل ہو گی۔میری حالت اور توقعات ایسی نہ تھیں کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کوئی آیت نازل فرماتا بلکہ میں یہ توقع کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند میں خواب دیکھیں گے اور اس خواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بری نہیں فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل فرمائی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے الفاظ کے وزن سے پسینے کے موتی لوٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسکراہٹ کا پہلا منظر آپ پر نازل ہوا۔ الفاظ تھے: "اے عائشہ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں بری کر دیا ہے۔‘‘ اس پر میری والدہ نے مجھ سے کہا: ’’اٹھو اور اس کے پاس جاؤ۔‘‘ میں نے کہا: ’’اللہ کی قسم میں اس کے پاس نہیں جا سکتی۔ میں اللہ کے سوا کسی کی تعریف نہیں کر سکتا! وہی ہے جس نے میری معصومیت کو نازل کیا۔" پھر اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی آیت نمبر 11 سے شروع ہونے والی دس آیات نازل کیں۔ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری بے گناہی کے بارے میں نازل ہوئیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ جو ان کی قرابت کی وجہ سے مستحب کا انتظام کیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "بعد میں نے فرمایا: اسے پھر کبھی کچھ نہیں دیں گے!‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی، ’’جو لوگ بڑے مرتبے اور مال والے ہیں وہ قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں کی مدد نہیں کریں گے...‘‘ تک آیت کریمہ ’’کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے؟‘‘ ابن موسیٰ نے کہا: ’’عبداللہ بن ابی طالب۔ مبارک نے کہا کہ یہ اللہ کی کتاب میں سب سے زیادہ امید والی آیت ہے۔ بکر نے کہا، "خدا کی قسم، میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کر دے،" اور اس نے مسطح کو وہ رزق دینا شروع کیا جو اس نے پہلے دیا تھا، اور کہا، "میں اسے دینا کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ محترمہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ سے میرے معاملہ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: کیا تم جانتے ہو (یا) تم نے کیا دیکھا؟ اس نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول! اس نے کہا، 'پھر بھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک تھیں جنہوں نے مجھے للکارا، اللہ نے ان کی حفاظت تقویٰ اور نیکی سے کی۔' اس کی بہن حنینہ بنت جحش اس سے جھگڑنے لگی اور وہ ہلاک ہونے والوں میں سے ہو گئی۔ اس نے کہا کہ اس جماعت کے معاملہ سے ہمارے پاس یہی آیا ہے! اور حدیث میں، اس نے یہ لفظ استعمال کیا، "اس کے جوش نے اسے ناراض کیا..."
صحیح مسلم : ۹۱
Sahih
حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، الأَيْلِيُّ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَالسِّيَاقُ، حَدِيثُ مَعْمَرٍ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدٍ وَابْنِ رَافِعٍ قَالَ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَعَلْقَمَةُ بْنِ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا وَبَعْضُهُمْ كَانَ أَوْعَى لِحَدِيثِهَا مِنْ بَعْضٍ وَأَثْبَتَ اقْتِصَاصًا وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا ذَكَرُوا أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُ - قَالَتْ عَائِشَةُ - فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَخَرَجَ فِيهَا سَهْمِي فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ فَأَنَا أُحْمَلُ فِي هَوْدَجِي وَأُنْزَلُ فِيهِ مَسِيرَنَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَزْوِهِ وَقَفَلَ وَدَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ آذَنَ لَيْلَةً بِالرَّحِيلِ فَقُمْتُ حِينَ آذَنُوا بِالرَّحِيلِ فَمَشَيْتُ حَتَّى جَاوَزْتُ الْجَيْشَ فَلَمَّا قَضَيْتُ مِنْ شَأْنِي أَقْبَلْتُ إِلَى الرَّحْلِ فَلَمَسْتُ صَدْرِي فَإِذَا عِقْدِي مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ قَدِ انْقَطَعَ فَرَجَعْتُ فَالْتَمَسْتُ عِقْدِي فَحَبَسَنِي ابْتِغَاؤُهُ وَأَقْبَلَ الرَّهْطُ الَّذِينَ كَانُوا يَرْحَلُونَ لِي فَحَمَلُوا هَوْدَجِي فَرَحَلُوهُ عَلَى بَعِيرِيَ الَّذِي كُنْتُ أَرْكَبُ وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنِّي فِيهِ - قَالَتْ - وَكَانَتِ النِّسَاءُ إِذْ ذَاكَ خِفَافًا لَمْ يُهَبَّلْنَ وَلَمْ يَغْشَهُنَّ اللَّحْمُ إِنَّمَا يَأْكُلْنَ الْعُلْقَةَ مِنَ الطَّعَامِ فَلَمْ يَسْتَنْكِرِ الْقَوْمُ ثِقَلَ الْهَوْدَجِ حِينَ رَحَلُوهُ وَرَفَعُوهُ وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةَ السِّنِّ فَبَعَثُوا الْجَمَلَ وَسَارُوا وَوَجَدْتُ عِقْدِي بَعْدَ مَا اسْتَمَرَّ الْجَيْشُ فَجِئْتُ مَنَازِلَهُمْ وَلَيْسَ بِهَا دَاعٍ وَلاَ مُجِيبٌ فَتَيَمَّمْتُ مَنْزِلِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ وَظَنَنْتُ أَنَّ الْقَوْمَ سَيَفْقِدُونِي فَيَرْجِعُونَ إِلَىَّ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسَةٌ فِي مَنْزِلِي غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ ثُمَّ الذَّكْوَانِيُّ قَدْ عَرَّسَ مِنْ وَرَاءِ الْجَيْشِ فَادَّلَجَ فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِي فَرَأَى سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ فَأَتَانِي فَعَرَفَنِي حِينَ رَآنِي وَقَدْ كَانَ يَرَانِي قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ الْحِجَابُ عَلَىَّ فَاسْتَيْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِهِ حِينَ عَرَفَنِي فَخَمَّرْتُ وَجْهِي بِجِلْبَابِي وَوَاللَّهِ مَا يُكَلِّمُنِي كَلِمَةً وَلاَ سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ حَتَّى أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَوَطِئَ عَلَى يَدِهَا فَرَكِبْتُهَا فَانْطَلَقَ يَقُودُ بِي الرَّاحِلَةَ حَتَّى أَتَيْنَا الْجَيْشَ بَعْدَ مَا نَزَلُوا مُوغِرِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ فَهَلَكَ مَنْ هَلَكَ فِي شَأْنِي وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَاشْتَكَيْتُ حِينَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ شَهْرًا وَالنَّاسُ يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَهْلِ الإِفْكِ وَلاَ أَشْعُرُ بِشَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ يَرِيبُنِي فِي وَجَعِي أَنِّي لاَ أَعْرِفُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللُّطْفَ الَّذِي كُنْتُ أَرَى مِنْهُ حِينَ أَشْتَكِي إِنَّمَا يَدْخُلُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُولُ " كَيْفَ تِيكُمْ " . فَذَاكَ يَرِيبُنِي وَلاَ أَشْعُرُ بِالشَّرِّ حَتَّى خَرَجْتُ بَعْدَ مَا نَقِهْتُ وَخَرَجَتْ مَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ وَهُوَ مُتَبَرَّزُنَا وَلاَ نَخْرُجُ إِلاَّ لَيْلاً إِلَى لَيْلٍ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنَّ نَتَّخِذَ الْكُنُفَ قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الأُوَلِ فِي التَّنَزُّهِ وَكُنَّا نَتَأَذَّى بِالْكُنُفِ أَنْ نَتَّخِذَهَا عِنْدَ بُيُوتِنَا فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ وَهِيَ بِنْتُ أَبِي رُهْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَأُمُّهَا ابْنَةُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ خَالَةُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنُهَا مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَبِنْتُ أَبِي رُهْمٍ قِبَلَ بَيْتِي حِينَ فَرَغْنَا مِنْ شَأْنِنَا فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ . فَقُلْتُ لَهَا بِئْسَ مَا قُلْتِ أَتَسُبِّينَ رَجُلاً قَدْ شَهِدَ بَدْرًا . قَالَتْ أَىْ هَنْتَاهُ أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ قُلْتُ وَمَاذَا قَالَ قَالَتْ فَأَخْبَرَتْنِي بِقَوْلِ أَهْلِ الإِفْكِ فَازْدَدْتُ مَرَضًا إِلَى مَرَضِي فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ " كَيْفَ تِيكُمْ " . قُلْتُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ آتِيَ أَبَوَىَّ قَالَتْ وَأَنَا حِينَئِذٍ أُرِيدُ أَنْ أَتَيَقَّنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا . فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجِئْتُ أَبَوَىَّ فَقُلْتُ لأُمِّي يَا أُمَّتَاهْ مَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّةُ هَوِّنِي عَلَيْكِ فَوَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِيئَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا وَلَهَا ضَرَائِرُ إِلاَّ كَثَّرْنَ عَلَيْهَا - قَالَتْ - قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهَذَا قَالَتْ فَبَكَيْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَصْبَحْتُ لاَ يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ ثُمَّ أَصَبَحْتُ أَبْكِي وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْىُ يَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ - قَالَتْ - فَأَمَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَأَشَارَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ وَبِالَّذِي يَعْلَمُ فِي نَفْسِهِ لَهُمْ مِنَ الْوُدِّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُمْ أَهْلُكَ وَلاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَيْرًا . وَأَمَّا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لَمْ يُضَيِّقِ اللَّهُ عَلَيْكَ وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ وَإِنْ تَسْأَلِ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْكَ - قَالَتْ - فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَرِيرَةَ فَقَالَ " أَىْ بَرِيرَةُ هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَىْءٍ يَرِيبُكِ مِنْ عَائِشَةَ " . قَالَتْ لَهُ بَرِيرَةُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا قَطُّ أَغْمِصُهُ عَلَيْهَا أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ - قَالَتْ - فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ ابْنِ سَلُولَ - قَالَتْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ " يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَ أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلاَّ خَيْرًا وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلاً مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلاَّ خَيْرًا وَمَا كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلاَّ مَعِي " . فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ أَنَا أَعْذِرُكَ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ مِنَ الأَوْسِ ضَرَبْنَا عُنُقَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَكَ - قَالَتْ - فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ وَكَانَ رَجُلاً صَالِحًا وَلَكِنِ اجْتَهَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لاَ تَقْتُلُهُ وَلاَ تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ . فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِينَ فَثَارَ الْحَيَّانِ الأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَقْتَتِلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا وَسَكَتَ - قَالَتْ - وَبَكَيْتُ يَوْمِي ذَلِكَ لاَ يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ ثُمَّ بَكَيْتُ لَيْلَتِي الْمُقْبِلَةَ لاَ يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ وَأَبَوَاىَ يَظُنَّانِ أَنَّ الْبُكَاءَ فَالِقٌ كَبِدِي فَبَيْنَمَا هُمَا جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا أَبْكِي اسْتَأْذَنَتْ عَلَىَّ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَأَذِنْتُ لَهَا فَجَلَسَتْ تَبْكِي - قَالَتْ - فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ - قَالَتْ - وَلَمْ يَجْلِسْ عِنْدِي مُنْذُ قِيلَ لِي مَا قِيلَ وَقَدْ لَبِثَ شَهْرًا لاَ يُوحَى إِلَيْهِ فِي شَأْنِي بِشَىْءٍ - قَالَتْ - فَتَشَهَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ جَلَسَ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا وَكَذَا فَإِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبٍ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ " . قَالَتْ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِي حَتَّى مَا أُحِسُّ مِنْهُ قَطْرَةً فَقُلْتُ لأَبِي أَجِبْ عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيمَا قَالَ . فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لأُمِيِّ أَجِيبِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ لاَ أَقْرَأُ كَثِيرًا مِنَ الْقُرْآنِ إِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ بِهَذَا حَتَّى اسْتَقَرَّ فِي نُفُوسِكُمْ وَصَدَّقْتُمْ بِهِ فَإِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي بَرِيئَةٌ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ لاَ تُصَدِّقُونِي بِذَلِكَ وَلَئِنِ اعْتَرَفْتُ لَكُمْ بِأَمْرٍ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ لَتُصَدِّقُونَنِي وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلاً إِلاَّ كَمَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ . قَالَتْ ثُمَّ تَحَوَّلْتُ فَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي - قَالَتْ - وَأَنَا وَاللَّهِ حِينَئِذٍ أَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ مُبَرِّئِي بِبَرَاءَتِي وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ يُنْزَلَ فِي شَأْنِي وَحْىٌ يُتْلَى وَلَشَأْنِي كَانَ أَحْقَرَ فِي نَفْسِي مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى وَلَكِنِّي كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ بِهَا قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا رَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَجْلِسَهُ وَلاَ خَرَجَ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ أَحَدٌ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَهُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ مِنَ الْبُرَحَاءِ عِنْدَ الْوَحْىِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنَ الْعَرَقِ فِي الْيَوْمِ الشَّاتِ مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ - قَالَتْ - فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَضْحَكُ فَكَانَ أَوَّلَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ " أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ بَرَّأَكِ " . فَقَالَتْ لِي أُمِّي قُومِي إِلَيْهِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لاَ أَقُومُ إِلَيْهِ وَلاَ أَحْمَدُ إِلاَّ اللَّهَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَاءَتِي - قَالَتْ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ} عَشْرَ آيَاتٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلاَءِ الآيَاتِ بَرَاءَتِي - قَالَتْ - فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ وَاللَّهِ لاَ أُنْفِقُ عَلَيْهِ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى} إِلَى قَوْلِهِ { أَلاَ تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ} قَالَ حِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ هَذِهِ أَرْجَى آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي . فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ وَقَالَ لاَ أَنْزِعُهَا مِنْهُ أَبَدًا . قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَمْرِي " مَا عَلِمْتِ أَوْ مَا رَأَيْتِ " . فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْمِي سَمْعِي وَبَصَرِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِلاَّ خَيْرًا . قَالَتْ عَائِشَةُ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِالْوَرَعِ وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُحَارِبُ لَهَا فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ . قَالَ الزُّهْرِيُّ فَهَذَا مَا انْتَهَى إِلَيْنَا مِنْ أَمْرِ هَؤُلاَءِ الرَّهْطِ . وَقَالَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ .
ابو ربیع عتکی نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں فلیح بن سلیمان نے حدیث سنائی ، نیز ہمیں حسن بن علی حلوانی اور عبد بن حمید نے حدیث سنائی ، دونوں نے کہا : ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے صالح بن کیسان سے حدیث سنائی ، ان دونوں ( فلیح بن سلیمان اور صالح بن کیسان ) نے زہری سے یونس اور معمر کی روایت کے مطابق انہی کی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ فلیح کی حدیث میں اسی طرح ہے جیسے معمر نے بیان کیا : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے جاہلیت ( کے دور ) میں گھسیٹ لیا ۔ اور صالح کی حدیث میں یونس کے قول کی طرح ہے : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے اکسا دیا ۔ اور صالح کی حدیث میں مزید یہ ہے : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ حسان ( بن ثابت رضی اللہ عنہ ) کو ان کے سامنے برا بھلا کہا جائے ۔ وہ فرماتی تھیں : انہوں نے یہ ( عظیم شعر ) کہا ہے : "" بےشک میرا باپ اور اس کا باپ اور میری عزت ، تم لوگوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو کی حفاظت کے لیے ڈھال ہیں ۔ "" اور انہوں نے مزید بھی کہا : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ کی قسم! جس شخص کے بارے میں وہ ساری باتیں ، جو گھڑی گئی تھیں ، وہ کہتا تھا : سبحان اللہ! ( یہ کیسی باتیں ہیں ) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے کبھی کسی عورت کے حجلہ عروسی 0تک کا ) پردہ بھی نہیں اٹھایا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : پھر بعد میں وہ اللہ کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہو گیا ۔ اور یعقوب بن ابراہیم کی حدیث میں موغرين في نحر الظهيرة ( لوگ دوپہر کے وقت بے سایہ بنجر راستے میں سفر سے بے حال ہو گئے تھے ۔ ) عبدالرزاق نے موغرين ( گرمی کی شدت سے بے حال ہوئے ) کہا ہے ۔ عبد بن حمید نے کہا : میں نے عبدالرزاق سے پوچھا : "" موغرين "" کا مطلب کیا ہے؟ کہا : الوغرة گرمی کی شدت ہوتی ہے ۔
صحیح مسلم : ۹۲
Sahih
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ اللَّيْثِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، - يَعْنِي شَيْبَانَ - عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ بِمَكَّةَ { وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ} إِلَى قَوْلِهِ { مُهَانًا} فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ وَمَا يُغْنِي عَنَّا الإِسْلاَمُ وَقَدْ عَدَلْنَا بِاللَّهِ وَقَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا} إِلَى آخِرِ الآيَةِ . قَالَ فَأَمَّا مَنْ دَخَلَ فِي الإِسْلاَمِ وَعَقَلَهُ ثُمَّ قَتَلَ فَلاَ تَوْبَةَ لَهُ .
ابو معاویہ شیبان نے منصور بن معتمر سے انھوں نے سعید بن جیبر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : یہ آیت : " جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے " سے لے کر " ذلت کے عالم میں ( ہمیشہ رہے گا ) تک مکہ میں نازل ہوئی ۔ مشرکوں نے کہا : ہمیں اسلام کس بات کا فائدہ دے گا ۔ جبکہ ہم اللہ کے ساتھ ( دوسروں کو ) شریک بھی ٹھہراچکے ہیں اور اللہ کی حرام کردہ جانوں کو قتل بھی کر چکے ہیں اور فواحش کا ارتکاب بھی کر چکے ہیں ؟اس پر اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : " سوائے اس شخص کے جس نے تو بہ کی ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے " آیت کے آخری حصے تک ۔ انھوں نے ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : لیکن جو شخص اسلام میں داخل ہو گیا اور اس کو سمجھ لیا پھر اس نے ( عمداً کسی مومن کو ) قتل کیا تو اس کے لیے کوئی توبہ نہیں ۔
صحیح مسلم : ۹۳
Sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ أَلِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لاَ . قَالَ فَتَلَوْتُ عَلَيْهِ هَذِهِ الآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ { وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ . قَالَ هَذِهِ آيَةٌ مَكِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ { وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا} . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ هَاشِمٍ فَتَلَوْتُ هَذِهِ الآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ{ إِلاَّ مَنْ تَابَ}
عبد اللہ بن ہاشم اور عبد الرحمٰن بن بشر عبدی نے مجھے حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید قطان نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے قاسم بن ابی بزہ نے سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : کیا جس شخص نے کسی مومن کو عمدا قتل کر دیا اس کے لیے توبہ ( کی گنجائش ) ہے؟انھوں نے کہا : نہیں ( سعید بن جبیرنے ) کہا : پھر میں نے ان کے سامنے سورہ فرقان کی یہ آیت تلاوت کی ۔ " وہ لوگ جو اللہ کے سواکسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو جسے اللہ نے حرام کیا ہے حق کے بغیر قتل نہیں کرتے " آیت کے آخر تک انھوں نے کہا : یہ مکی آیت ہےاس کو اس مدنی آیت نے منسوخ کر دیا : " اور جو کسی مومن کو عمدا قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا ۔
سنن ابو داؤد : ۹۴
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" صَلاَةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلاَتِهِ فِي بَيْتِهِ وَصَلاَتِهِ فِي سُوقِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً وَذَلِكَ بِأَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ وَأَتَى الْمَسْجِدَ لاَ يُرِيدُ إِلاَّ الصَّلاَةَ وَلاَ يَنْهَزُهُ إِلاَّ الصَّلاَةُ لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلاَّ رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلاَةٍ مَا كَانَتِ الصَّلاَةُ هِيَ تَحْبِسُهُ وَالْمَلاَئِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ أَوْ يُحْدِثْ فِيهِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی جماعت کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز گھر یا بازار میں اکیلے کی نماز سے پچیس درجے زیادہ افضل ہے۔ یہ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرتا ہے اور بالکل ٹھیک کرتا ہے اور مسجد کی طرف نکلتا ہے اور نماز کے سوا کوئی نیت نہیں کرتا اور اسے نماز کے علاوہ کوئی چیز حرکت میں نہیں آتی تو اس (چلنے) کی وجہ سے ہر قدم پر اس کا درجہ ایک درجہ بلند ہوجاتا ہے اور اس (چلنے) سے اس سے ایک گناہ معاف ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہوجائے۔ جب وہ مسجد میں داخل ہو گا تو اسے نمازی شمار کیا جائے گا جب تک کہ وہ نمازی کی طرف سے روکا جائے گا۔ فرشتے تم میں سے کسی پر اس وقت تک درود بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ نماز کی جگہ پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے ہیں: اے اللہ اسے بخش دے۔ اے اللہ اس پر رحم فرما۔ اے اللہ اس کی توبہ اس وقت تک قبول فرما جب تک کہ وہ کسی کو تکلیف نہ دے اور نہ اس کا وضو ٹوٹ جائے۔
سنن ابو داؤد : ۹۵
علی بی علی طالب رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لاَ إِلَهَ لِي إِلاَّ أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاَقِ لاَ يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلاَّ أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لاَ يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلاَّ أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " . وَإِذَا رَكَعَ قَالَ " اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي " . وَإِذَا رَفَعَ قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ " . وَإِذَا سَجَدَ قَالَ " اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ وَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ " . وَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلاَةِ قَالَ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ " .
(علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے پھر یہ دعا پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللهم أنت الملك لا إله لي إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بك وإليك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك» میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں تمام ادیان سے کٹ کر سچے دین کا تابع دار اور مسلمان ہوں، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہیں، میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا تابعدار ہوں، اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا میرا کوئی اور معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، مجھے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف ہے، تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت فرما، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کرنے والا کوئی نہیں، مجھے حسن اخلاق کی ہدایت فرما، ان اخلاق حسنہ کی جانب صرف تو ہی رہنمائی کرنے والا ہے، بری عادتوں اور بدخلقی کو مجھ سے دور کر دے، صرف تو ہی ان بری عادتوں کو دور کرنے والا ہے، میں حاضر ہوں، تیرے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تیری طرف برائی کی نسبت نہیں کی جا سکتی، میں تیرا ہوں، اور میرا ٹھکانا تیری ہی طرف ہے، تو بڑی برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑ ھتے: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت خشع لك سمعي وبصري ومخي وعظامي وعصبي» اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا تابعدار ہوا، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ، میری ہڈی اور میرے پٹھے تیرے لیے جھک گئے ) ، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ملء السموات والأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شىء بعد» اللہ نے اس شخص کی سن لی ( قبول کر لیا ) جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے لیے حمد و ثنا ہے آسمانوں اور زمین کے برابر، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کے برابر، اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے اس کے برابر ۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو کہتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت سجد وجهي للذي خلقه وصوره فأحسن صورته وشق سمعه وبصره وتبارك الله أحسن الخالقين» اے اللہ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا فرماں بردار و تابعدار ہوا، میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کا جس نے اسے پیدا کیا اور پھر اس کی صورت بنائی تو اچھی صورت بنائی، اس کے کان اور آنکھ پھاڑے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے وہ بہترین تخلیق فرمانے والا ہے ۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو کہتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم والمؤخر لا إله إلا أنت» اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے گناہوں کی مغفرت فرما، اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے درگزر فرما جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں ۔
سنن ابو داؤد : ۹۶
سعید خدری رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - عَنِ ابْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ { ص } فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَشَزَّنَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُمْ لِلسُّجُودِ " . فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدُوا .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ ص پڑھی، آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورۃ کی تلاوت کی، جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہو گئے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سجدہ دراصل ایک نبی ۱؎ کی توبہ تھی، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو ، چنانچہ آپ اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔
سنن ابو داؤد : ۹۷
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ طُلَيْقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو
" رَبِّ أَعِنِّي وَلاَ تُعِنْ عَلَىَّ وَانْصُرْنِي وَلاَ تَنْصُرْ عَلَىَّ وَامْكُرْ لِي وَلاَ تَمْكُرْ عَلَىَّ وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ هُدَاىَ إِلَىَّ وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَىَّ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي لَكَ شَاكِرًا لَكَ ذَاكِرًا لَكَ رَاهِبًا لَكَ مِطْوَاعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا أَوْ مُنِيبًا رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَاهْدِ قَلْبِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي " .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: «رب أعني ولا تعن علي، وانصرني ولا تنصر علي، وامكر لي ولا تمكر علي، واهدني ويسر هداي إلي، وانصرني على من بغى علي، اللهم اجعلني لك شاكرا لك، ذاكرا لك، راهبا لك، مطواعا إليك مخبتا أو منيبا، رب تقبل توبتي، واغسل حوبتي، وأجب دعوتي، وثبت حجتي، واهد قلبي، وسدد لساني، واسلل سخيمة قلبي» اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر، ایسی چال چل جو میرے حق میں ہو، نہ کہ ایسی جو میرے خلاف ہو، مجھے ہدایت دے اور جو ہدایت مجھے ملنے والی ہے، اسے مجھ تک آسانی سے پہنچا دے، اس شخص کے مقابلے میں میری مدد کر، جو مجھ پر زیادتی کرے، اے اللہ! مجھے تو اپنا شکر گزار، اپنا یاد کرنے والا اور اپنے سے ڈرنے والا بنا، اپنا اطاعت گزار، اپنی طرف گڑگڑانے والا، یا دل لگانے والا بنا، اے میرے پروردگار! میری توبہ قبول کر، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میری دلیل مضبوط کر، میرے دل کو سیدھی راہ دکھا، میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے حسد اور کینہ نکال دے ۔
سنن ابو داؤد : ۹۸
زید، پیغمبر کا گاہک
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الشَّنِّيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عُمَرُ بْنُ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ بِلاَلَ بْنَ يَسَارِ بْنِ زَيْدٍ، مَوْلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُنِيهِ عَنْ جَدِّي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" مَنْ قَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ غُفِرَ لَهُ وَإِنْ كَانَ فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ " .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے«أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» کہا تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اگرچہ وہ میدان جنگ سے بھاگ گیا ہو ۱؎ ۔
سنن ابو داؤد : ۹۹
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ . قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ " .
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوائے قرآن کے اور اس کے جو اس صحیفے ۱؎ میں ہے کچھ نہیں لکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ حرام ہے عائر سے ثور تک ( عائر اور ثور دو پہاڑ ہیں ) ، جو شخص مدینہ میں کوئی بدعت ( نئی بات ) نکالے، یا نئی بات نکالنے والے کو پناہ اور ٹھکانا دے تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ کوئی نفل، مسلمانوں کا ذمہ ( عہد ) ایک ہے ( مسلمان سب ایک ہیں اگر کوئی کسی کو امان دیدے تو وہ سب کی طرف سے ہو گی ) اس ( کو نبھانے ) کی ادنی سے ادنی شخص بھی کوشش کرے گا، لہٰذا جو کسی مسلمان کی دی ہوئی امان کو توڑے تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ نفل، اور جو اپنے مولی کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے ولاء کرے ۲؎ اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ نفل ۔
سنن ابو داؤد : ۱۰۰
Daif
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ هِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَجَاءَ مِنْ أَرْضِهِ عَشِيًّا فَوَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ رَجُلاً فَرَأَى بِعَيْنَيْهِ وَسَمِعَ بِأُذُنَيْهِ فَلَمْ يَهِجْهُ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي جِئْتُ أَهْلِي عِشَاءً فَوَجَدْتُ عِنْدَهُمْ رَجُلاً فَرَأَيْتُ بِعَيْنِي وَسَمِعْتُ بِأُذُنِي فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا جَاءَ بِهِ وَاشْتَدَّ عَلَيْهِ فَنَزَلَتْ { وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ } الآيَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَبْشِرْ يَا هِلاَلُ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا " . قَالَ هِلاَلٌ قَدْ كُنْتُ أَرْجُو ذَلِكَ مِنْ رَبِّي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرْسِلُوا إِلَيْهَا " . فَجَاءَتْ فَتَلاَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَكَّرَهُمَا وَأَخْبَرَهُمَا أَنَّ عَذَابَ الآخِرَةِ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِ الدُّنْيَا فَقَالَ هِلاَلٌ وَاللَّهِ لَقَدْ صَدَقْتُ عَلَيْهَا فَقَالَتْ قَدْ كَذَبَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَعِنُوا بَيْنَهُمَا " . فَقِيلَ لِهِلاَلٍ اشْهَدْ . فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قِيلَ لَهُ يَا هِلاَلُ اتَّقِ اللَّهَ فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكَ الْعَذَابَ . فَقَالَ وَاللَّهِ لاَ يُعَذِّبُنِي اللَّهُ عَلَيْهَا كَمَا لَمْ يَجْلِدْنِي عَلَيْهَا . فَشَهِدَ الْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ثُمَّ قِيلَ لَهَا اشْهَدِي . فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قِيلَ لَهَا اتَّقِي اللَّهَ فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكِ الْعَذَابَ . فَتَلَكَّأَتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ لاَ أَفْضَحُ قَوْمِي فَشَهِدَتِ الْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا وَقَضَى أَنْ لاَ يُدْعَى وَلَدُهَا لأَبٍ وَلاَ تُرْمَى وَلاَ يُرْمَى وَلَدُهَا وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا فَعَلَيْهِ الْحَدُّ وَقَضَى أَنْ لاَ بَيْتَ لَهَا عَلَيْهِ وَلاَ قُوتَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلاَقٍ وَلاَ مُتَوَفَّى عَنْهَا وَقَالَ " إِنْ جَاءَتْ بِهِ أُصَيْهِبَ أُرَيْصِحَ أُثَيْبِجَ حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِهِلاَلٍ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِيًّا خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الأَلْيَتَيْنِ فَهُوَ لِلَّذِي رُمِيَتْ بِهِ فَجَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِيًّا خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الأَلْيَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْلاَ الأَيْمَانُ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ " . قَالَ عِكْرِمَةُ فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَمِيرًا عَلَى مُضَرَ وَمَا يُدْعَى لأَبٍ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ ( جو کہ ان تین اشخاص میں سے ایک تھے جن کی اللہ تعالیٰ نے ( ایک غزوہ میں پچھڑ جانے کی وجہ سے سرزنش کے بعد ) توبہ قبول فرمائی تھی، وہ ) اپنی زمین سے رات کو آئے تو اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو پایا، اپنی آنکھوں سے سارا منظر دیکھا، اور کانوں سے پوری گفتگو سنی، لیکن صبح تک اس معاملہ کو دبا کر رکھا، صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کو میں گھر آیا تو اپنی بیوی کے پاس ایک مرد کو پایا، اپنی آنکھوں سے ( سب کچھ ) دیکھا، اور کانوں سے ( سب ) سنا، ان کی ان باتوں کو آپ نے ناپسند کیا اور ان پر ناگواری کا اظہار فرمایا، تو یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم فشهادة أحدهم» اور جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس کوئی گواہ بجز ان کی ذات کے نہ ہو تو ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کا ثبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وہ سچوں میں سے ہیں اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو ( سورۃ النور: ۷، ۶ ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب وحی کی کیفیت دور ہوئی تو آپ نے فرمایا: ہلال! خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی کا راستہ نکال دیا ہے ، ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اپنے پروردگار سے اسی کی امید تھی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بلواؤ ، تو وہ آئی تو آپ نے دونوں پر یہ آیتیں تلاوت فرمائیں، اور نصیحت کی نیز بتایا کہ: آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے بہت سخت ہے ۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی میں نے اس کے متعلق جو کہا ہے سچ کہا ہے، وہ کہنے لگی: یہ جھوٹے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے درمیان لعان کراؤ ، چنانچہ ہلال رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ وہ گواہی دیں تو انہوں نے چار بار اللہ کا نام لے کر گواہی دی کہ وہ سچے ہیں، پانچویں کے وقت کہا گیا: ہلال! اللہ سے ڈرو کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت آسان ہے، اور اس بار کی گواہی تمہارے لیے عذاب کو واجب کر دے گی، وہ بولے: اللہ کی قسم! جس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے کوڑوں سے بچایا ہے اسی طرح عذاب سے بھی بچائے گا، چنانچہ پانچویں گواہی بھی دے دی کہ اگر وہ جھوٹے ہوں تو ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر عورت سے گواہی دینے کے لیے کہا گیا، تو اس نے بھی چار بار گواہی دی کہ وہ جھوٹے ہیں، پانچویں بار اس سے بھی کہا گیا کہ اللہ سے ڈر جا کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت آسان ہے، اور اس دفعہ کی گواہی عذاب کو واجب کر دے گی، یہ سن کر وہ ایک لمحہ کے لیے ہچکچائی پھر بولی: اللہ کی قسم میں اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی، چنانچہ پانچویں بار بھی گواہی دے دی کہ اگر وہ سچے ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان تفریق کرا دی، اور فیصلہ فرمایا کہ اس کا لڑکا باپ کی طرف نہ منسوب کیا جائے، اور لڑکے اور عورت کو تہمت نہ لگائی جائے جو اس پر یا اس کے لڑکے پر اب تہمت لگائے گا تو اس پر تہمت کی حد جاری کی جائے گی، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اسے نان نفقہ اور رہائش نہیں ملے گی، کیونکہ ان کی جدائی نہ تو طلاق کی بنا پر ہوئی ہے اور نہ شوہر کے انتقال کی وجہ سے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ بھورے بالوں والا، پتلی سرین والا، چوڑی پیٹھ والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو وہ ہلال کا ( نطفہ ) ہے، اور اگر مٹیالے رنگ والا، گھنگرالے بالوں والا، موٹی پنڈلیوں والا، اور بھاری سرین والا جنے تو اس کا جس کے نام کی تہمت لگائی گئی ہے ، چنانچہ اس عورت کا بچہ مٹیالے رنگ کا گھنگرالے بالوں والا، موٹی پنڈلیوں والا اور بھاری سرین والا پیدا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر قسمیں نہ ہوتیں تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہوتا ۔ عکرمہ کہتے ہیں: یہی بچہ آگے چل کر مضر کا امیر بنا، اسے باپ کی جانب منسوب نہیں کیا جاتا تھا۔