Repentance کے بارے میں احادیث

۲۳۲ مستند احادیث ملیں

سنن نسائی : ۱۲۱
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌عُبَيْدُ ​اللَّهِ ‌بْنُ ‌سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، حَدَّثَهُ ح، وَأَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ لَهُمَا ‏{‏ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ‏}‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ فَاعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَدِيثِ حِينَ أَفْشَتْهُ حَفْصَةُ إِلَى عَائِشَةَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ قَالَ ‏"‏ مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا ‏"‏ ‏.‏ مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حِينَ حَدَّثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَدِيثَهُنَّ فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَبَدَأَ بِهَا فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ إِنَّكَ قَدْ كُنْتَ آلَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّا أَصْبَحْنَا مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً نَعُدُّهَا عَدَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ ‌بن ​عباس ‌رضی ‌الله عنہما کہتے ہیں مجھے برابر اس بات کا اشتیاق رہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «إن تتوبا إلى اللہ فقد صغت قلوبكما» ”اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لو ( تو بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں“ ( التحریم: ۴ ) میں کیا ہے، پھر پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے انتیس راتوں تک اس بات کی وجہ سے جو حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ظاہر کر دی تھی کنارہ کشی اختیار کر لی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ نے اپنی اس ناراضگی کی وجہ سے جو آپ کو اپنی عورتوں سے اس وقت ہوئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے ان کی بات آپ کو بتلائی یہ کہہ دیا تھا کہ میں ان کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا، تو جب انتیس راتیں گزر گئیں تو آپ سب سے پہلے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو ایک مہینے تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی، اور ہم نے ( ابھی ) انتیسویں رات کی ( ہی ) صبح کی ہے، ہم ایک ایک کر کے اسے گن رہے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے“۔
It Was سنن نسائی #۲۱۳۲ Sahih
سنن نسائی : ۱۲۲
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
أَخْبَرَنَا ​مُحَمَّدُ ​بْنُ ​سَلَمَةَ، ‌وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ كِلاَهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلُ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْقَاتِلِ فَيُقَاتِلُ فَيُسْتَشْهَدُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ ​رضی ​الله ​عنہ ‌سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے۔ ( دونوں لڑتے ہیں ) ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے۔ لیکن دونوں جنت میں جاتے ہیں، ایک اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، تو وہ قتل ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ مارنے والے کو توبہ کی توفیق دیتا ہے اور اس کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے۔ پھر وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور شہادت پا جاتا ہے“۔ ( اس طرح دونوں جنت کے مستحق ہو جاتے ہیں ) ۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سنن نسائی #۳۱۶۶ Sahih
سنن نسائی : ۱۲۳
عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا ​قُتَيْبَةُ، ​عَنْ ‌حَجَّاجٍ، ​عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً فَتَوَاصَيْتُ وَحَفْصَةَ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ - وَقَالَ - لَنْ أَعُودَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَنَزَلَ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ ‏}‏ ‏{‏ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ ‏}‏ لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ ‏{‏ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا ‏}‏ لِقَوْلِهِ ‏"‏ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاَ ‏"‏ ‏.‏ كُلُّهُ فِي حَدِيثِ عَطَاءٍ ‏.‏
ام ​المؤمنین ​عائشہ ‌رضی ​الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پی کر آتے تو ہم نے اور حفصہ نے آپس میں صلاح و مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ ( کیا بات ہے ) مجھے آپ کے منہ سے مغافیر ۱؎ کی بو آتی ہے، آپ ہم میں سے ایک کے پاس آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہی۔ آپ نے کہا: ”میں نے تو کچھ کھایا پیا نہیں بس زینب کے پاس صرف شہد پیا ہے ( اور جب تم ایسا کہہ رہی ہو کہ اس سے مغافیر کی بو آتی ہے ) تو آئندہ نہ پیوں گا“۔ چنانچہ عائشہ اور حفصہ کی وجہ سے یہ آیت: «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“ ( التحریم: ۱ ) اور «إن تتوبا إلى اللہ» ” ( اے نبی کی دونوں بیویو! ) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) “۔ ( التحریم: ۴ ) نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول: میں نے تو شہد پیا ہے کی وجہ سے یہ آیت: «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» ”اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی“ ( التحریم: ۳ ) نازل ہوئی ہے، اور یہ ساری تفصیل عطا کی حدیث میں موجود ہے۔
عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۳۴۲۱ Sahih
سنن نسائی : ۱۲۴
عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنِي ​مُحَمَّدُ ​بْنُ ​جَبَلَةَ، ​وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، - قَالَ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ - يُحَدِّثُ قَالَ أَرْسَلَ إِلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِلَى صَاحِبَىَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْتَزِلُوا نِسَاءَكُمْ ‏.‏ فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ أُطَلِّقُ امْرَأَتِي أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ قَالَ لاَ بَلْ تَعْتَزِلُهَا فَلاَ تَقْرَبْهَا ‏.‏ فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِي الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَكُونِي فِيهِمْ فَلَحِقَتْ بِهِمْ ‏.‏
عبدالرحمٰن ​بن ​عبداللہ ​بن ​کعب بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے ( اور وہ ان تینوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول ہوئی ہے ۱؎، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور میرے دونوں ساتھیوں ۲؎ کے پاس ( ایک شخص کو ) بھیجا ( اس نے کہا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیویوں سے الگ رہو، میں نے قاصد سے کہا: میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں، طلاق نہ دو بلکہ اس سے الگ تھلگ رہو، اس کے قریب نہ جاؤ۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور انہیں کے ساتھ رہو، تو وہ ان کے پاس جا کر رہنے لگی۔
عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۳۴۲۳ Sahih
سنن نسائی : ۱۲۵
عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌الْحَسَنُ ‌بْنُ ​مُحَمَّدٍ ​الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ لاَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَنَزَلَتْ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ ‏}‏ إِلَى ‏{‏ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ ‏}‏ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ ‏{‏ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا ‏}‏ لِقَوْلِهِ ‏"‏ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً ‏"‏ ‏.‏
ام ‌المؤمنین ‌عائشہ ​رضی ​اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے، میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ ( کے منہ ) سے مغافیر ۱؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، آپ نے مغافیر کھائی ہے۔ آپ ان دونوں میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے آپ سے یہی کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ اسے نہیں پیوں گا ۔ تو آیت کریمہ «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» سے ( آیت کا سیاق یہ ہے کہ ) اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں ( التحریم: ۱ ) «‏إن تتوبا إلى اللہ» ( آیت کا سیاق یہ ہے کہ ) ( اے نبی کی بیویو! ) اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہتر ہے ) ( التحریم: ۴ ) تک نازل ہوئی، اس سے عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما مراد ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: میں نے تو شہد پیا ہے ( مگر اب نہیں پیوں گا ) کی وجہ سے آیت کریمہ «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے چپکے سے ایک بات کہی ( التحریم: ۳ ) نازل ہوئی۔
عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۳۷۹۵ Sahih
سنن نسائی : ۱۲۶
عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​يُونُسُ ​بْنُ ​عَبْدِ ​الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الزُّهْرِيُّ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ وَمِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ تَوْبَةُ كَعْبٍ ‏.‏
کعب ​بن ​مالک ​رضی ​اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اللہ اور اس کے رسول کے نام پر صدقہ کر کے اپنے مال سے علیحدہ ہو جاتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنا کچھ مال روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ۱؎ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ہو سکتا ہے کہ زہری نے اس حدیث کو عبداللہ بن کعب اور عبدالرحمٰن دونوں سے سنا ہو اور انہوں نے ان ( کعب رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ہو ۲؎۔ اسی لمبی حدیث میں کعب رضی اللہ عنہ کی توبہ کا بھی ذکر ہے
عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۳۸۲۳ Sahih
سنن نسائی : ۱۲۷
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌سُلَيْمَانُ ‌بْنُ ‌دَاوُدَ، ‌قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ ‏.‏ مُخْتَصَرٌ ‏.‏
کعب ‌بن ‌مالک ‌رضی ‌اللہ عنہ اپنا وہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے، وہ کہتے ہیں: جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ، میں نے عرض کیا: اچھا تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے، یہ حدیث مختصر ہے۔
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۳۸۲۴ Sahih
سنن نسائی : ۱۲۸
عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌يُوسُفُ ‌بْنُ ‌سَعِيدٍ، ​قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَمْسِكْ عَلَيْكَ مَالَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ عَلَىَّ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ ‏.‏
کعب ‌بن ‌مالک ‌رضی ​اللہ عنہ اپنا اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ ( کہتے ہیں: ) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا ( کچھ ) مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ، میں نے عرض کیا: تو میں اپنے پاس اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔
عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۳۸۲۵ Sahih
سنن نسائی : ۱۲۹
عبید اللہ بن کعب رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌مُحَمَّدُ ‌بْنُ ​مَعْدَانَ ‌بْنِ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمِّهِ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا نَجَّانِي بِالصِّدْقِ وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ ‏.‏
کعب ‌بن ‌مالک ​رضی ‌اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے مجھے صرف سچ کی وجہ سے نجات دی تو میری توبہ میں سے یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں۔ آپ نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے پاس روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ، میں نے عرض کیا: تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔
عبید اللہ بن کعب رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۳۸۲۶ Sahih
سنن نسائی : ۱۳۰
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌الْحَسَنُ ​بْنُ ​مُحَمَّدٍ ‌الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ لاَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَنَزَلَتْ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ ‏}‏ ‏{‏ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ ‏}‏ لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ ‏{‏ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا ‏}‏ لِقَوْلِهِ ‏"‏ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً ‏"‏ ‏.‏
ام ‌المؤمنین ​عائشہ ​رضی ‌الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اور ان کے ہاں شہد پی رہے تھے، میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے باہم مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ۱؎ کی بو آ رہی ہے، آپ نے مغافیر کھایا ہے۔ آپ ان میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے یہی کہا، آپ نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب آئندہ نہیں پیوں گا“۔ تو عائشہ اور حفصہ ( رضی اللہ عنہما ) کی وجہ سے یہ آیت «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی! جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“۔ ( التحریم: ۱ ) اور «إن تتوبا إلى اللہ» ” ( اے نبی کی دونوں بیویو! ) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) “۔ ( التحریم: ۴ ) نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول: میں نے تو شہد پیا ہے کی وجہ سے یہ آیت: «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» ”اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی“ ( التحریم: ۳ ) نازل ہوئی ہے۔
عائشہ (رضی اللہ عنہا) سنن نسائی #۳۹۵۸ Sahih
سنن نسائی : ۱۳۱
سالم بن ابی جعد رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا ​قُتَيْبَةُ، ​قَالَ ​حَدَّثَنَا ​سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، سُئِلَ عَمَّنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ يَجِيءُ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِ تَشْخُبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْزَلَهَا اللَّهُ ثُمَّ مَا نَسَخَهَا ‏.‏
ہم ​سے ​قتیبہ ​نے ​بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے عمار دہنی نے سالم بن ابی الجعد سے بیان کیا کہ ابن عباس سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی مومن کو قتل کیا؟ جان بوجھ کر، پھر اس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل صالح کیا، پھر وہ ہدایت پا گیا۔ پھر ابن عباس نے کہا: وہ کیسے توبہ کرے؟ میں نے آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’وہ قاتل سے لپٹتا ہوا آئے گا، اس کی رگوں سے خون ٹپک رہا ہوگا، اور وہ کہے گا، ’’اے رب، یہ پوچھو کہ اس نے مجھے کیوں مارا؟‘‘ پھر اس نے کہا، ’’خدا کی قسم، اس نے اسے اتارا ہے۔‘‘ پھر خدا نے اسے منسوخ نہیں کیا۔
سالم بن ابی جعد رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۳۹۹۹ Sahih
سنن نسائی : ۱۳۲
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌مُحَمَّدُ ​بْنُ ‌رَافِعٍ، ​قَالَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ فِي يَدِهِ وَأَوْدَاجُهُ تَشْخُبُ دَمًا يَقُولُ يَا رَبِّ قَتَلَنِي حَتَّى يُدْنِيَهُ مِنَ الْعَرْشِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَذَكَرُوا لاِبْنِ عَبَّاسٍ التَّوْبَةَ فَتَلاَ هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا ‏}‏ قَالَ مَا نُسِخَتْ مُنْذُ نَزَلَتْ وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ
ہم ‌سے ​محمد ‌بن ​رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ بن سوار نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ورقہ نے بیان کیا، وہ عمرو کے واسطہ سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل کرنے والا قیامت کے دن قاتل کو پیشانی کے بال اور اس کا سر ہاتھ میں اور اس کے کولہوں سے خون ٹپکائے ہوئے لائے گا اور کہے گا کہ اے رب اس نے مجھے قتل کیا۔ یہاں تک کہ وہ اسے تخت کے قریب لے آئے۔" آپ نے فرمایا: ابن عباس سے توبہ کا ذکر کرو، تو انہوں نے یہ آیت پڑھی: {اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے} آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب سے یہ نازل ہوئی ہے منسوخ نہیں ہوئی تو وہ کیسے توبہ کرے گا؟
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سنن نسائی #۴۰۰۵ Sahih
سنن نسائی : ۱۳۳
It Was
Sahih Isnaad
أَخْبَرَنَا ‌مُحَمَّدُ ​بْنُ ‌عَبْدِ ‌اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ أَنْبَأَنَا دَاوُدُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَسْلَمَ ثُمَّ ارْتَدَّ وَلَحِقَ بِالشِّرْكِ ثُمَّ تَنَدَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَى قَوْمِهِ سَلُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ فَجَاءَ قَوْمُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِنَّ فُلاَنًا قَدْ نَدِمَ وَإِنَّهُ أَمَرَنَا أَنْ نَسْأَلَكَ هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ فَنَزَلَتْ ‏{‏ كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ غَفُورٌ رَحِيمٌ ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأَسْلَمَ ‏.‏
ہم ‌سے ​محمد ‌بن ‌عبداللہ بن باز نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید نے بیان کیا اور وہ ابن زرعی ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں داؤد نے عکرمہ کی سند سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ انصار میں سے ایک شخص تھا جس نے اسلام قبول کیا، پھر مرتد ہو گیا، اور شرک کیا، پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، اور اس نے لوگوں کو ندامت کی اور اللہ کے رسول کو بھیجا۔ وہ، میرے لیے. کیا مجھے کوئی توبہ ہو سکتی ہے؟ پھر ان کی قوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو انہوں نے کہا کہ فلاں کو اس پر افسوس ہوا اور آپ نے ہمیں حکم دیا کہ آپ سے پوچھیں کہ کیا اس کی توبہ ہے؟ توبہ، تو "خدا ایسے لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے"، اس کے اس قول پر نازل ہوا، "بخشش کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا۔" چنانچہ اس کے پاس بھیجا۔ چنانچہ اس نے اسلام قبول کر لیا...
It Was سنن نسائی #۴۰۶۸ Sahih Isnaad
سنن نسائی : ۱۳۴
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌مُحَمَّدُ ​بْنُ ​الْمُثَنَّى، ​قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ثُمَّ التَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ ‏"‏ ‏.‏
ہم ‌سے ​محمد ​بن ​مثنیٰ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی عدی نے شعبہ کی سند سے بیان کیا، وہ سلیمان بن سیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ بن عثمان نے ابو حمزہ سے، انہوں نے ابو عمش کی سند سے، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیار، خدا کی دعا اور سلام، اور احمد نے کہا ان کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زنا کرنے والا مومن ہونے کی حالت میں زنا نہیں کرتا، اور جب وہ مومن ہوتا ہے تو چوری کرتا ہے اور نہ شراب پیتا ہے۔ "جب وہ شراب پیتا ہے اور وہ مومن ہوتا ہے تو اس کے بعد توبہ کی جاتی ہے۔"
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سنن نسائی #۴۸۷۱ Sahih
سنن نسائی : ۱۳۵
It Was
Munkar
أَخْبَرَنَا ​مُحَمَّدُ ‌بْنُ ‌يَحْيَى ‌الْمَرْوَزِيُّ أَبُو عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادٍ - عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَذَكَرَ رَابِعَةً فَنَسِيتُهَا فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ خَلَعَ رِبْقَةَ الإِسْلاَمِ مِنْ عُنُقِهِ فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏.‏
ہم ​کو ‌محمد ‌بن ‌یحییٰ المروازی ابو علی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے عبداللہ بن عثمان نے ابوحمزہ کی سند سے، وہ یزید کی سند سے اور وہ ابو زیاد کے بیٹے ہیں، ابو صالح سے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: زنا کرنے والا زنا نہیں کرتا، جب کہ وہ مومن نہ ہو اور شراب پینے والا نہ ہو۔ شراب وہ مومن ہے اور اس نے چوتھی نماز کا ذکر کیا لیکن میں اسے بھول گیا۔ چنانچہ جب اس نے ایسا کیا تو اس نے اپنی گردن سے اسلام کا گریبان اتار دیا اور اگر وہ توبہ کرے گا تو خدا اس سے توبہ کرے گا۔
It Was سنن نسائی #۴۸۷۲ Munkar
سنن نسائی : ۱۳۶
ابو امیہ المخزومی رضی اللہ عنہ
Daif
أَخْبَرَنَا ​سُوَيْدُ ​بْنُ ‌نَصْرٍ، ​قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ، مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِلِصٍّ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ ثُمَّ جِيئُوا بِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَطَعُوهُ ثُمَّ جَاءُوا بِهِ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ قُلْ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
ہم ​سے ​سوید ‌بن ​نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، انہوں نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، وہ ابو المنذر کی سند سے جو ابوذر کے خادم تھے، انہوں نے ابو امیہ المخزومی رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چور جس نے اعتراف کیا. اس کے پاس کوئی سامان نہیں تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: مجھے نہیں لگتا کہ تم نے چوری کی ہے۔ اس نے کہا ہاں۔ اس نے کہا اس کے ساتھ جاؤ اور اسے کاٹ دو، پھر وہ اسے لے آئے، وہ اسے کاٹ کر لے آئے، اس نے اس سے کہا: "کہو، میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور اس سے توبہ کرتا ہوں" تو اس نے کہا: میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔ اس سے، اس نے کہا، "اے اللہ، اسے معاف کر دو۔"
ابو امیہ المخزومی رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۴۸۷۷ Daif
سنن نسائی : ۱۳۷
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌الْقَاسِمُ ​بْنُ ​زَكَرِيَّا ‌بْنِ دِينَارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، ح وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَقِيَّةَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، - وَهُوَ الأَوْزَاعِيُّ - عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ بِالطَّائِفِ يُقَالُ لَهُ الْوَهْطُ وَهُوَ مُخَاصِرٌ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ يُزَنُّ ذَلِكَ الْفَتَى بِشُرْبِ الْخَمْرِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ شَرْبَةً لَمْ تُقْبَلْ لَهُ تَوْبَةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ لَمْ تُقْبَلْ تَوْبَتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ اللَّفْظُ لِعَمْرٍو ‏.‏
ہم ‌سے ​القاسم ​بن ‌زکریا بن دینار نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے الاوزاعی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ربیعہ بن یزید نے بیان کیا، مجھ سے عمرو بن عثمان بن سعید نے بقیہ کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ عوبی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے کہ کون ہے؟ رابعہ بن یزید نے عبداللہ بن الدیلمی کی روایت سے کہا: میں عبداللہ بن عمرو بن العاص کے پاس اس وقت داخل ہوا جب وہ طائف میں اپنے صحن میں تھے جسے الوہت کہتے ہیں۔ وہ قریش کے ایک نوجوان کے ساتھ نشہ آور ہے۔ وہ نوجوان شراب پی کر زنا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے شراب پی۔ اس نے شراب پی، چالیس صبح تک اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، اور اگر وہ توبہ کرے گا تو خدا اس کی توبہ کرے گا۔ اگر اس نے دوبارہ ایسا کیا تو چالیس صبح تک اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ خدا اس سے توبہ کرتا ہے اور اگر وہ واپس آجاتا ہے تو خدا کا فرض ہے کہ وہ اسے قیامت کے دن غنیمت کی مٹی پلائے۔ کلام عمرو کا ہے۔
It Was سنن نسائی #۵۶۷۰ Sahih
جامع ترمذی : ۱۳۸
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
Sahih
حَدَّثَنَا ​ابْنُ ​أَبِي ​عُمَرَ، ​حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْجُدُ فِي ص ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَلَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَنْ يَسْجُدَ فِيهَا ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّهَا تَوْبَةُ نَبِيٍّ وَلَمْ يَرَوُا السُّجُودَ فِيهَا ‏.‏
ہم ​سے ​ابن ​ابی ​عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سے، وہ عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔ ابن عباس نے کہا: یہ سجدہ کے ستونوں میں سے نہیں ہے۔ ابو عیسیٰ نے کہا: یہ حدیث حسن اور صحیح ہے۔ اہل علم نے اس میں اختلاف کیا تو اس نے دیکھا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض اہل علم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے کی تلقین کی۔ یہ سفیان ثوری اور ابن المبارک کا قول ہے۔ الشافعی، احمد، اور اسحاق۔ ان میں سے بعض نے کہا کہ یہ ایک نبی کی توبہ تھی لیکن انہوں نے اس میں سجدہ نہیں دیکھا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما جامع ترمذی #۵۷۷ Sahih
جامع ترمذی : ۱۳۹
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Munkar
حَدَّثَنَا ‌أَبُو ​كُرَيْبٍ، ‌مُحَمَّدُ ‌بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ وَيَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ فَيُرَبِّيهَا لأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَصِيرُ مِثْلَ أُحُدٍ ‏"‏ ‏.‏ وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏(‏وهُوَ الَّذِي يَقبَلُ التَّوبَةَ عَنْ عِبَادِهِ ‏)‏ ويَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ‏‏ ‏(يَمْحَقُ الله الرَّبَا ويُرْبِي الصَّدَقَاتِ‏)‏‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا. وَقَدْ قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَمَا يُشْبِهُ هَذَا مِنَ الرِّوَايَاتِ مِنَ الصِّفَاتِ وَنُزُولِ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا قَالُوا قَدْ تَثْبُتُ الرِّوَايَاتُ فِي هَذَا وَيُؤْمَنُ بِهَا وَلاَ يُتَوَهَّمُ وَلاَ يُقَالُ كَيْفَ هَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَالِكٍ وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ أَنَّهُمْ قَالُوا فِي هَذِهِ الأَحَادِيثِ أَمِرُّوهَا بِلاَ كَيْفٍ. وَهَكَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ. وَأَمَّا الْجَهْمِيَّةُ فَأَنْكَرَتْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ وَقَالُوا هَذَا تَشْبِيهٌ. وَقَدْ ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كِتَابِهِ الْيَدَ وَالسَّمْعَ وَالْبَصَرَ فَتَأَوَّلَتِ الْجَهْمِيَّةُ هَذِهِ الآيَاتِ فَفَسَّرُوهَا عَلَى غَيْرِ مَا فَسَّرَ أَهْلُ الْعِلْمِ وَقَالُوا إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَخْلُقْ آدَمَ بِيَدِهِ. وَقَالُوا إِنَّ مَعْنَى الْيَدِ هَاهُنَا الْقُوَّةُ. وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ إِنَّمَا يَكُونُ التَّشْبِيهُ إِذَا قَالَ يَدٌ كَيَدٍ أَوْ مِثْلُ يَدٍ أَوْ سَمْعٌ كَسَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَمْعٍ. فَإِذَا قَالَ سَمْعٌ كَسَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَمْعٍ فَهَذَا التَّشْبِيهُ وَأَمَّا إِذَا قَالَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى يَدٌ وَسَمْعٌ وَبَصَرٌ وَلاَ يَقُولُ كَيْفَ وَلاَ يَقُولُ مِثْلُ سَمْعٍ وَلاَ كَسَمْعٍ فَهَذَا لاَ يَكُونُ تَشْبِيهًا وَهُوَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ: {لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ}.
ہم ‌سے ​ابو ‌کریب ‌نے بیان کیا، ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے عباد بن منصور نے بیان کیا، ہم سے القاسم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابو بلیطن رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کا صدقہ قبول کرتا ہے اور تمھارے حق کے بدلے میں اسے قبول کرتا ہے۔ ’’تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کو اس حد تک اٹھاتا ہے کہ لقمہ احد کے برابر ہو جاتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اس کی تصدیق ہے (اور وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرنے والا ہے) اور صدقہ لیتا ہے (خدا سود کو ختم کرتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے)۔ ابو عیسیٰ نے کہا: یہ حدیث حسن اور صحیح ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت سے کچھ ایسا ہی مروی ہے۔ اس حدیث اور اس جیسی دوسری روایتوں میں ایک سے زیادہ علماء نے رب العزت کی صفات اور نزول کے بارے میں کہا ہے کہ تمام رات آسمان نچلے تک۔ انہوں نے کہا کہ اس روایت کی تصدیق ہو سکتی ہے۔ وہ اس پر یقین رکھتا ہے اور اس کا تصور نہیں کرتا، اور یہ نہیں کہا جاتا کہ "کیسے؟" مالک، سفیان بن عیینہ اور عبداللہ بن المبارک سے مروی ہے کہ انہوں نے ان احادیث میں کہا کہ بغیر کسی شرط کے اس کا حکم دیا۔ اور علماء اہل سنت والجماعت کا یہی قول ہے۔ جہاں تک جہمیہ کا تعلق ہے تو انہوں نے انکار کیا۔ یہ روایتیں اور انہوں نے کہا یہ قیاس ہے۔ خداتعالیٰ نے اپنی کتاب میں ایک سے زیادہ مقامات پر ہاتھ، سماعت اور بصارت کا ذکر کیا ہے، اس لیے جہمیہ نے ان آیات کی تفسیر اور مختلف انداز میں کی۔ اہل علم نے اس کی وضاحت نہیں کی ہے اور کہا ہے کہ خدا نے آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا۔ اور کہنے لگے کہ ایک معنی ہے۔ ہاتھ ہی طاقت ہے۔ اسحاق بن ابراہیم نے کہا: تشبیہ صرف اس وقت بنتی ہے جب ہاتھ کہا جائے ہاتھ کی طرح یا ہاتھ کی طرح یا سماعت سننے کی طرح ہو یا سماع کی طرح ہو۔ لہٰذا اگر وہ کہے کہ سننے کی طرح سماع یا سننے کی طرح تو یہ تمثیل ہے لیکن اگر وہ کہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھ اور کان اور بصارت سے کہا اور وہ نہیں کہتا۔ کیسے؟ وہ سننے کی طرح نہیں کہتا یا سننے کی طرح نہیں کہتا۔ یہ کوئی تشبیہ نہیں ہے اور یہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے: {اس جیسا کوئی نہیں اور وہ سننے والا ہے۔ البصیر}۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) جامع ترمذی #۶۶۲ Munkar
جامع ترمذی : ۱۴۰
عمران بن حسین رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​الْحَسَنُ ‌بْنُ ‌عَلِيٍّ، ​حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ جُهَيْنَةَ اعْتَرَفَتْ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالزِّنَا فَقَالَتْ إِنِّي حُبْلَى ‏.‏ فَدَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلِيَّهَا فَقَالَ ‏"‏ أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا فَأَخْبِرْنِي ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا فَشُدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ وَهَلْ وَجَدْتَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ہم ​سے ‌حسن ‌بن ​علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، وہ ابوقلابہ سے، وہ ابو المحلب سے، وہ عمران بن حصین سے کہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اقرار کیا، میں نے کہا کہ میں نے ان کی بالغ ہونے کا اقرار کیا۔ تو اس نے بلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ولی تھے، آپ نے فرمایا: اس کے ساتھ حسن سلوک کرو، اور جب وہ جنم دے تو مجھے اطلاع دینا۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا، اور یہ اس کے لیے مشکل ہو گیا۔ پھر آپ نے اسے رجم کا حکم دیا، پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: یا رسول اللہ، آپ نے اسے سنگسار کیا، پھر آپ اس پر نماز پڑھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے شہر کے ستر لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے تو ان کے لیے کافی ہے، کیا اس نے اپنی قربانی سے بہتر کوئی چیز پائی ہے؟ "خود ہی، خدا کے لیے۔" ابو عیسیٰ نے کہا: یہ حدیث حسن اور صحیح ہے۔
عمران بن حسین رضی اللہ عنہ جامع ترمذی #۱۴۳۵ Sahih